تازہ ترین
کورونا لاک ڈاءون
ایک طرف جہاں لوگ کورونا وائرس سے نبر د آزما ہیں،وہیں 21روز جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔انتظامیہ نے چاؤل اور آٹا کی ہوم ڈیلوری تک اپنی ذمہ داریاں محدود کر رکھی ہیں،جسکی وجہ سے لوگ تازہ سبزیوں،پھلوں کیساتھ ساتھ دودھ اور روٹی سے محروم ہورہے ہیں جبکہ بچوں کی ڈبہ بند غذا ء بھی بازاروں سے نایاب ہو گئی۔
اس دوران مریض بھی ضروری ’سوپ‘ سے محروم ہورہے ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے پوری دنیا میں بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی،وہیں لوگوں کو اب مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے اہلیان کشمیر کو اب طرح طرح کی مشکلات کا مسائل کا سامنا ہے کہ۔گذشتہ برس ماہ اگست میں جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلہ جات کے بعد مسلسل4ماہ تک لاک داؤن جاری رہا جبکہ مسلسل 7ماہ تک بندشوں،پابندیوں اور ہڑتال کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ رہا۔اب گذشتہ21دنوں سے کورونا لاک ڈاؤن ہے۔ملک بھر میں یہ لاک ڈاؤن 24مارچ کو شروع کیا گیا،تاہم کشمیر میں 18مارچ کو پہلے کورونا وائرس کیس کی تصدیق کیساتھ ہی کورونا لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا۔
گزشتہ21روز سے اہلیان کشمیر گھروں میں محصور ہیں اور کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔تاہم گھروں میں مقید لوگوں کو زب طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔ایک طرف ذہنی دباؤ میں اضافہ ہور ہا ہے،وہیں بنیادی سہولیات کے فقدان کے نتیجے میں مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔شہر خاص کیساتھ سیول لائنز کے کئی علاقوں جن میں ریڈ زون والے علاقے بھی شامل ہیں،کے رہائشیوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ ایک طرف انتظامیہ کورونا سے بچنے کیلئے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اپنا نے کیلئے کہہ رہی ہے،لیکن دوسری طرح لوگ گھروں میں بھوک پیاس سے مررہے ہیں۔
عالی کدل سے تعلق رکھنے والے غلام محمد نامی شہری نے بتایا کہ لوگوں کے گھروں میں تازہ سبزیاں اور پھل نہیں ہیں جبکہ بازار مکمل طور پر بند ہیں اور اب صبح وشام لازمی دکانیں بھی نہیں کھلتی ہیں۔ان کا کہناتھا کہ یہاں تک اب دودھ اور روٹی کی پہنچ بھی عام آدمی سے دور ہوتی جارہی ہے،کیونکہ دودھ کی ہوم ڈیلوری نہیں ہورہی ہے اور نانوائیوں نے بھی اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں۔مذکورہ شہری نے ایک سوال کے جواب میں ہر کوئی گھر میں روٹی نہیں بنا تا؟۔تاہ سبزیوں کیلئے بازار جانا ضروری ہوتا ہے کیونکہ تین ہفتوں تک سبزیاں تازہ نہیں رہ سکتی۔چھانہ پورہ کے محمد رمضان نامی شہری نے بتایا کہ دالیں اور خشک سبزیاں کھانے پر مجبور ہیں اور اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،کیونکہ بازاروں میں لازمی دکانیں کھلی نہیں ہوتی۔
ادھر عابد احمد نامی شہری نے بتایا کہ لازمی خدمات کی دکانوں سے بچوں کی ڈبہ بند غذا کا اسٹاک ختم ہوچکا ہے اور اب بچے کو بھی کورونا سے لڑتے لڑتے بھوک پیٹ ہی مقابلہ کرنا پڑتا ہے اور بھوکے پیٹ کورونا سے مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔راجہ اعجاز نامی شہری کا کہناتھا کہ چاؤل اور آٹا کی ہوم ڈیلوری تک انتظامیہ نے اپنی ذمہ داریاں محدود کرکے رکھ دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تازہ سبزیاں نہیں،مرگ اور گوشت نہیں،ایسے میں اُن مریضوں کا کیا ہوگا؟جن کیلئے ’سوپ‘ لازمی ہوتا ہے۔لاک ڈاؤن کے لئے چاؤل چند کلو تقسیم کرنے سے کورونا وائر س کے خلاف جنگ نہیں جیت جاسکتی ہے،لوگوں گھروں میں یہ سوچ کر قید ہیں کہ وبا آئی ہے اور چلی جائیگی،لیکن انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہیں کہ وہ لوگوں تک لازمی غذائی اشیاء ضروری پہنچا ئیں،جن میں تازہ سبزیاں اور پھل وغیرہ کیساتھ ساتھ بچوں کی غذائیں اور مریضوں کیلئے ’سوپ‘ ناگزیر ہے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
