تازہ ترین
کورونا لاک ڈاءون:لوگوں کی آزاد نقل وحرکت پر پابندی برقرار
وادی کشمیر کورونا متاثرین میں مسلسل اضافے کے بیچ گذشتہ 29روز سے جاری کورونالاک ڈاءون میں مزید سخت کردیا گیا ہے ،جس دوران ریڈ اور بفر زونز میں بھی اضافہ ہوا ۔ سخت ترین بندشوں اور پابندیوں کیساتھ پوری وادی میں جہاں ہر طرح کی سرگر میاں مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں ،وہیں ہر سو دہشت ،خاموشی ،سنا ٹا ،اضطراب اور ہو کا عالم بھی ہے ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جان لیواء کورونا وائرس کے پھیلاوَ کو روکنے کےلئے وادی کشمیر میں جمعرات کومسلسل 29 ویں روز بھی مکمل لاک ڈاوَن جاری رہنے سے تمام تر معمولات زندگی ٹھپ رہے ۔ دارالحکومت سرینگر کے سبھی علاقوں کے بازار بے رونق اور سڑکیں سنسان ہیں ،لوگ گھروں میں ہی سہمے ہوئے بیٹھے ہیں ۔
وادی کے دیگر ضلع و تحصیل صدر مقامات سے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات ہیں ، جہاں دفعہ144 سختی سے نافذ ہے اور لوگ گھروں میں ہی محصور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ کورونا وائرس متاثرین میں مسلسل اضافہ کے نتیجے میں خانیارسے خادنیار تک سراسمگی،تناءو اور کشیدگی کا ماحول جاری ہے،جس میں ہر گزرتے دن کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے ۔
لوگوں میں خوف اور اضطرابی کیفیت پائی جارہی ہے،اور لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے کترا رہے ہیں ۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں جہاں لاک ڈاءون کو کامیاب بنا کر سماجی دوری کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرر ہے ہیں ، وہیں کئی جگہوں سے فورسز اور پولیس پر لوگوں کو بے جا تنگ وطلب اور ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کئے جا رہے ہیں ۔ سڑکوں ،بازاروں ،تجارتی مراکز،مالیاتی اداروں ،نجی و سرکاری دفاتروں ،تعلیمی اداروں حتیٰ کہ مساجدوں اور خانقاہوں کے علاوہ دیگر عبادتگاہوں میں بھی خاموشی کا عالم ہے ۔
لاک ڈاوَن کو ممکن بنانے کے لئے سڑکوں اور گلی کوچوں میں لگائی گئی پابندیاں سخت ترین کرفیو کا منظر پیش کررہی ہیں ۔ تاہم لوگ بھی وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے خود بھی گھروں تک ہی محدود ہیں اور دوسروں کو بھی گھروں میں ہی بیٹھنے کی تاکید کررہے ہیں ۔ شہر میں ہر سو خوف وخاموشی کا ماحول چھایا ہوا ہے، کرفیو جیسی پابندیاں برابر نافذ ہیں ، سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے جگہ جگہ ناکے بٹھارکھے ہیں ،جہاں پر آنے جانے والوں خواہ وہ موٹر سائیکل پر سوار ہو یا گاڑی میں ہو، کو روک کر پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔ پولیس اور فورسز نے اندرونی سڑکوں کو بھی سیل کیا تھا،جبکہ خار دار تاروں اور بکتر بند گاڑیوں سے سڑکوں پرکسی بھی طرح کی آمد ورفت کو مسدود کرکے رکھ دیا ہے ۔
اس صورتحال کے نتیجے میں ہر گلی اور سڑک ویران اور بازار صحرائی مناظر پیش کر رہے ہیں ۔ سرینگر شہر میں ہر سو عجیب و غریب ماحول اور کیفیت میں خاموشی دیکھنے کو ملی ۔ پیچیدہ صورتحال کی وجہ سے ہو کا عالم ہے ۔ ادھرانتظامیہ وادی میں ریڈ زون قرار دیے جارہے ،علاقوں کو مکمل سیل کررہی ہے اور لوگوں کو گھروں میں ہی بیٹھے رہنے کے لئے اپیلوں اور لاٹھیوں کے استعمال کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔
جن علاقوں کو اب تک ریڈ زون قرار دیا گیا ہے ان میں داخل ہونے والے راستوں کو لوہے کی موٹی سلاخوں سے سیل کیا گیا ہے اور کسی کو اندر جانے یا باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جبکہ ان علاقوں میں ایک ہی راستہ کھلا رکھا گیا ہے اور ڈرون سے بھی نگرانی کی جارہی ہے ۔ ادھر کورونا کیسز میں اضافے کے نتیجے میں ریڈ اور بفر زون علاقوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جسکی وبہ سے عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے ۔
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
آر بی آئی نے ‘ان فیڈنگ ورلڈ بینک’ کے خلاف عوام کو کیا خبردار، کہا کہ ادارے کے پاس بینکنگ لائسنس نہیں
نئی دہلی، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ایک عوامی نوٹس جاری کرکے لوگوں کو ‘ان فیڈنگ ورلڈ بینک’ نامی ادارے کے ساتھ لین دین کرنے سے خبردار کیا ہے۔ آر بی آئی نے کہا ہے کہ اس ادارے کے پاس بینکنگ لائسنس نہیں ہے اور اس میں جمع کی گئی رقم ملک کے ڈپازٹ انشورنس نظام کے تحت محفوظ نہیں ہے۔
آر بی آئی کے شعبۂ نگرانی، کانپور کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق، اس ادارے کی جانب سے لفظ ‘بینک’ کا استعمال بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 کی دفعہ 7 کی خلاف ورزی ہے۔
نوٹس میں اس ادارے کی ویب سائٹ unfeedingworldbank.com بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک نے اسے بینکنگ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے، ”مذکورہ ادارے کو نہ تو ریزرو بینک نے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 کے تحت کوئی بینکنگ لائسنس جاری کیا ہے اور نہ ہی اسے ریزرو بینک کی جانب سے بینکنگ کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔”
آر بی آئی نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر صارفین نے اس ادارے میں کوئی رقم جمع کی ہے تو وہ ڈپازٹ انشورنس اینڈ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن (ڈی آئی سی جی سی) کے بیمہ تحفظ کی اہل نہیں ہوگی۔ ڈپازٹ انشورنس نظام کے تحت بیمہ شدہ بینکوں میں اہل جمع شدہ رقوم کو مقررہ شرائط کے مطابق ہر جمع کنندہ کے لیے 5 لاکھ روپے تک تحفظ حاصل ہے۔ تاہم، یہ تحفظ غیر مجاز بینکنگ اداروں پر نافذ نہیں ہوتا۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے ساتھ مالی لین دین کرنے والے افراد ایسا اپنی ذمہ داری اور خطرے پر کریں گے۔ اس کے علاوہ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بینکنگ یا مالی خدمات فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والے اداروں کی پیش کشوں پر عمل کرنے سے پہلے احتیاط برتیں اور ضروری جانچ پڑتال کرلیں۔
آر بی آئی نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ کوئی ادارہ بینکنگ سرگرمیاں انجام دینے کا مجاز ہے یا نہیں۔ اس کے لیے وہ آر بی آئی کی ویب سائٹ پر موجود بینکوں اور رجسٹرڈ غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں کی سرکاری فہرست دیکھ سکتے ہیں۔
یو این آئی ۔ ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
