تازہ ترین
راجستھان میں درماندہ کشمیری طلاب کا معاملہ
راجستھان میں درماندہ 53کشمیری طلبہ نے اُنکی کشمیر واپسی متعلق خبروں کو بے بنیاد اور حقیقت سے بعید قرار دیا ۔
یاد رہے کہ یہ طلبہ ایران سے لائے گئے اور جیسلمیر راجستھان کے قرنطینہ مرکز میں رکھے گئے ۔ ادھر لکھن پور ،پٹھان کوٹ اور دیگر کئی مقامات پر رہا شدہ وقیدیوں سمیت سینکڑوں کشمیری بلا وجہ محصور ہیں ،جنہیں طرحطرح کی مشکلات کا سامنا ہےں ۔ کشمیر نیوز سروس کیساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بعض میڈیا اداروں نے غیر تصدیق شدہ خبریں شاءع یا نشر کیں ۔
ان کا کہناتھا کہ اُنکی گھر واپسی یعنی کشمیر واپسی سے متعلق میڈیا رپورٹس بے بنیاد اور من گھڑت ہیں جبکہ اس طرح کی سبھی خبریں حقیقت سے بعید ہیں ۔ طلبہ نے کہا’راجستھان میں درماندہ53کشمیری طلبہ میں سے ایک بھی طالب علم کو گھر واپس نہیں بھیجا گیا اور اس ضمن میں خبریں بے بنیاد ہیں ‘ ۔ ان کا کہناتھا ’ہم یہاں اب بھی درماندہ ہیں ،ہ میں نہیں معلوم ہمارے ساتھ کیا ہوگا;238; ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر جانے کے حوالے سے کوئی انتظام نہیں کیا جارہا ہے اور ہ میں یہاں خدا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جسلمیر میں انہوں نے افسران کیساتھ ملاقات کی اور واپسی کا معاملہ اٹھایا ،لیکن ہ میں گھر واپس بھیجنے کے حوالے سے کوئی تاریخ نہیں دی گئی ۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ غیر تصدیق شدہ خبریں شاءع نہ کریں ،کیونکہ ہمارے والدین مزید ذہنی کوفت کا شکار ہوتے ہیں ۔ ادھر بیرون ریاستوں اور بیرون ممالک سے آئے ہوئے سینکڑوں کشمیری جن میں رہا شدہ قیدی اور طالب علم بھی شامل ہیں ،لکھن پور ،پٹھان کوٹ اور دیگر کئی مقامات پردرماندہ ہو کر رہ گئے ہیں ۔
ان مقامات پر درماندہ کئی افراد کے والدین نے کے این ایس کو فون پر بتایا کہ قرنطینہ مراکز پر قرنطینہ کی مدت مکمل کر نے کے باوجود اُنہیں واپس گھروں کو بھیجنے کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ اسپیشل بس سروس سے بہ آسانی اُنہیں اپنے گھروں کو بھیجا جاسکتا ہے ،لیکن سمجھ میں نہیں آتا ہ میں گھر کیوں نہیں بھیجا جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اُنہیں مشکلات ومسائل کا سامنا ہے ۔ اس دوران پی ڈی پی کے راجیہ سبھا ممبر فیاض میر نے مطالبہ کیا ہے کہ سبھی درماندہ کشمیری طلبہ اور دیگر افراد جو بیرون ریاستوں اور دیگر کئی مقامات پر درماندہ ہیں ،کی واپسی کے حوالے سے مءوثر اقدامات اٹھائے جائیں ۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ اور مرکزی حکومت کو درماندہ کشمیریوں کی گھر واپسی کےلئے اقدامات کرنے چاہئے ۔ دریں اثناء ضلع تر قیاتی کمشنر سرینگر ،نے کہا ہے کہ کشمیر ی طلبہ کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ،بعض طلبہ راہ میں ہیں ۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
