تازہ ترین
ڈاکٹروں کے خلاف تشدد پر7سال کی سزا اور جر مانہ
کورونا وائرس کیخلاف جنگ لڑ رہے ڈاکٹروں کے خلاف بڑھتے تشدد پر مرکزی حکومت نے بڑا فیصلہ لیتے ہوئے اس کیلئے 123 سالپرانے وبائی امراض ایکٹ میں بڑی ترمیم کرکے تشدد کے لئے سخت سزا کا التزام کیا ہے۔ مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ وبائی امراض ایکٹ میں تبدیلی کرکے آرڈیننس نافذ کرنیکا فیصلہ لیا جائیگا۔
ادھرانڈین میڈیکل ایسو سی ایشن نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ میٹنگ کے بعد مجموزہ احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس میٹنگ میں صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن بھی موجود تھے۔ کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ نے خاص طور پر کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں ڈاکٹروں کے رول کو سراہا اور یہ اعتماد ظاہر کیا کہ ڈاکٹر اِس مہم میں اْسی لگن اور پختہ عزم کے ساتھ کام کرتے رہیں گے جیسا کہ وہ اب تک کرتے آئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کووڈ۔19 جیسی بیماریوں سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کی خاطر ڈاکٹروں کی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔کورونا وائرس کے خلاف مہم میں طبی برادری کی سلامتی کے تعلق سے تشویش دور کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے انہیں یقین دلایا کہ نریندر مودی سرکار اْن کی بہبود اور تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گی۔ امت شاہ نے صحت کارکنوں اور ڈاکٹروں پر حالیہ حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ وزیر اعظم سبھی معاملات اور ڈاکٹروں کی تشویش پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اِس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے سبھی ضروری انتظامات کئے جائیں گے۔امت شاہ نے ڈاکٹروں سے اپیل کی کہ وہ کسی طرح کا علامتی احتجاج بھی نہ کریں جیسا کہ اْن کی تجویز تھی کیونکہ یہ نہ تو قومی اور نہ ہی عالمی مفاد میں ہے۔ادھرکورونا وائرس کیخلاف جنگ لڑ رہے ڈاکٹروں کے خلاف بڑھتے تشدد پر مرکزی حکومت نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بدھ کو ہی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں ایک آرڈیننس پاس کیا گیا ہے، جس کے بعد اب طبی اہلکاروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، اس میں 3 ماہ سے7 سال تک کی سزا کی تجویز ہے۔حکومت نے اس کیلئے 123 سال پرانے وبائی امراض ایکٹ میں بڑی ترمیم کرکے تشدد کے لئے سخت سزا کا التزام کیا ہے۔ مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے بدھ کو ہوئی کابینہ کی میٹنگ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے ڈاکٹروں اور طبی اہلکاروں پر ہورہے برداشت نہیں کی جائیگی۔ اس کے لئے مرکزی حکومت آرڈیننس لے کر آئی ہے جو صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد قانون میں بدل جائے گا۔
مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ وبائی امراض ایکٹ میں تبدیلی کرکے آرڈیننس نافذ کرنیکا فیصلہ لیا جائیگا۔ یہ نوٹس لینے اور غیر ضمانتی ہوگا۔30 دنوں میں کارروائی ہوگی، ایک سال میں فیصلہ آئیگا۔مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ طبی اہلکاروں پر تشدد کے لئے بھاری سزا اور بھاری بھرکم جرمانہ بھی لگایا جائے گا۔ ملزمین کو تین ماہ سے لے کر 5 سال کی سزا، 50 ہزارسے لے کر تین لاکھ تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ طبی اہلکاروں کے خلاف ہونے والے حملوں اور تشدد کو بالکل برداشت نہیں کیا جائیگا۔
ان کی سیکورٹی کیلئے حکومت پورا تحفظ دینے والا آرڈیننس جاری کرے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے دستخط کے بعد یہ فوری اثر سے جاری ہوگا۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے پیر کو انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا تھا کہ اگر ڈاکٹروں کے خلاف ہورہے تشدد کیلئے حکومت نے ضروری اقدامات نہیں کئے تو بدھ کو موم بتی جلا کر احتجاج کریں گے اور جمعرات کو وہ ’کالا دن‘(سیاہ دن) منائیں گے۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
