تازہ ترین
نوائے حق صدائے دل – الطاف جمیل ندوی
جس شخصیت کا تعارف کرانے جارہا ہوں میرے استاد ہیں استاد محترم کی ایک طویل نظم جو کرؤنا وائرس کے سلسلے میں منصہ شہود پر آئی ہے کے سلسلے میں کچھ لب کشائی کرنے کی جسارت کررہا ہوں تاکہ امت مسلمہ بلخصوص اور وطن عزیز کے مکین بالعموم اس سے استفادہ کر سکیں
کرؤنا وائرس جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر اب تک ہزاروں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ہر صاحب دل پریشان ہے ہر آنکھ اشک بار ہے ہر چہار جانب سے موت جیسی خاموشی دنیا کے بڑے بڑے ممالک بے کسی کے حال میں پریشان و سرگرداں اسی طرح وطن عزیز کا حال بھی دن بہ دن پریشان کن ہے
آئے روز کہیں نہ کہیں سے اس موذی مرض کے شکار افراد کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے جس کا تدراک کرنے کے لئے صاحب اقتدار و ذی شعور لوگ مختلف بچاؤ کے طریقے بتا رہے ہیں ایسے میں بارہمولہ ضلع کے توحید گنج محلہ کے مشہور ادراے دارلعلوم المصطفوی کے صدر مفتی شیخ الحدیث السید مفتی عبد الرحیم الحسنی مدظلہ العالی بھی خاموش نہ رہ سکے ویسے ان کا اپنا طریقہ تعلیم و تعلم ہے اسی سے ۱۹۹۲ سے وابستہ ہیں اپنی سند فراغت کے بعد سے پر کبھی کبھار کسی موضوع پر نظم نثر پر بھی لب کشائی کرتے ہیں جب کہ اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ میں کوئی شاعر نہیں ہوں پر جب بھی کوئی افتاد آتی ہے تو دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے اور میں کچھ لکھ لیتا ہوں اس غرض سے کہ امت کا فائدہ ہو ہر صاحب ایمان کی کیفیت یہی ہے کہ امت کا غم اٹھائے دل آزردہ رہتا ہے گرچہ زمانہ طالب علمی سے ہی کبھی کبھار اشعار کہتے تھے پر پہلی بار
پہلی بار مولانا اپنے استاد و مرشد کی وفات پر ایک طویل نظم لکھی جو النور دارلعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ میں شائع بھی ہوئی تھی جس کے کچھ اشعار یوں تھے
برق بن کر یہ خبر ہم پے گری ہے ناخدا
کہ آج حضرت تھانوی کا خلف صادق چل بسا
حضرت مدنی کا اک تلمیذ راشد چل بسا
ضامن و قاسم گنگوہی کا نائب چل بسا
سارے ہند و پاک کا شیخ طریقت چل بسا
یورپ افریقہ کا تاج شریعت چل بسا
ختم نبوت کے ایمانی عقیدہ پر ایک بڑی نظم بھی لکھی جب قادیانی فتنہ اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے ساتھ امت کے اجتماعی عقیدے پر ضرب لگانے کے لئے مشغول ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت و عقیدت رکھنے والے ہر صاحب ایمان کا دل تڑپ جانا اس مسئلہ پر کامل ایمان کی علامت ہے ویسے ہی مفتی عبد الرحیم صاحب بھی تڑپ اٹھے اور زبان و دل سے ایک ہدیہ عقیدت منسہ شہود پر آیا جس کا ایک بندھ کچھ یوں ہے
ہم ختم نبوت کے پروانے باطل کو جھکا کر دم لیں
یا ختم نبوت کی خاطر سر اپنا کٹا کر دم لیں گئے
سانحہ بابری مسجد ہوا تو مفتی عبد الرحیم صاحب نے اس پر بھی ایک طویل نظم لکھی جس کے کچھ اشعار یوں تھے
بابری مسجد نہیں ہے یہ ہے بیت ذوالجلال
کیوں ہے تو ہندی مسلماں پابہ زنجیر ملال
کیا نہیں ہے یاد تجھ کو فیل بانوں کا وہ حال
جس کا ناطق سورہ الفیل میں قرآن ہے
استاد محترم مفتی عبد الرحیم صاحب کہتے ہیں کہ
وقت وقت پر یہ کیفیت رہتی ہے کہ دل اداس ہوجائے کسی بات پر تو دل زبان و قلم کا رفیق بن کر مجھ سے کہلواتا ہے اس سے مجھے یک گونہ سکون ملتا ہے کہ امت پر آئی مصیبت پر میرے جذبات میری زبان پر آجاتے ہیں اور میں انہیں نوک قلم کے سپرد کردیتا ہوں صرف اس غرض سے کہ شاید امت کے کام آجائیں اور میرا نام بھی ان پاک سیرت و پاکیزہ خصائل صالح مزاج لوگوں میں شامل ہوجائے جو امت کے لئے تڑپتے رہتے ہیں میری تمنا ہے کہ امت مسلمہ ہر حال میں ہر مصیبت سے محفوظ رہے اور میں اپنے جذبات و تاثرات امت تک پہنچانے کی سعی کرتا ہی رہتا ہوں
میری اوقات ایک عام سی طالب علم کی سی ہے پر امت مسلمہ کے غم سے دل آباد ہے اور اسی کیفیت کا نتیجہ اب بھی سامنے آیا کہ اس مصیبت کے وقت جب پوری دنیا حیرت زدہ ہے کہ اب کیا کیا جائے تو حضرت استاد محترم نے رجوع الی اللہ کی ترغیب دے دی اپنی اس نظم میں جو اس کرؤنا وائرس کی وبائی صورت حال میں ان کی زبان پے آئی جس میں تعلق باللہ کی دعوت دی گئی ہے اس
نظم پر لب کشائی کا حکم ہے اس لئے اپنے مربی و محترم کے حکم کا احترام کرتے ہوئے اس پر لب کشائی کی جرآت کر رہا ہوں ورنہ میری اپنی اتنی اوقات ہی نہیں
نظم عربی زبان میں ہے اس کا ترجمہ بھی شامل ہے اس کے علاوہ قوسین میں کہیں کہیں پر ہلکا پھلکا سا تبصرہ کرنے کی جسارت کررہا ہوں
نظم بحوالہ کورونا وائرس
از مولانا مفتی سیّد عبدالرحیم صاحب الحسنی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عِبادَاللہ اَماءَالله مُنادِاللہِ یَدعُونَا
لَئِنْ عُدنَا اِلَی الٳسلام لَانُھْلک بِکَورُونا
اَما آنَ لَکُم اَن تَقرَؤُوْا دَومًا کِتابَ اللہ؟
اَمَاحَانَ لَکُم اَنْ تَسمعُوْا قَولَ نَبِیِّ اللہﷺ؟
اَمَا آنَ لَکُم اَنْ تَسلُکُوْا دَرْبَ رَسُولِ اللہﷺ؟
اَمَاحَانَ لَکُم اَن تَنتَھُوا عَنْ مَّا نَھَاہُ اللہ؟
خدا نے ہم کو پھر لوگو پکارا اپنی رحمت سے
مسلمانو! ذرا اٹھ جاؤ اب تو خوابِ غفلت سے
لگاؤ دل ہمیشہ میرے قرآن کی تلاوت سے
رسول اللہ کی باتوں سے نبیّ اللہ ﷺ کی سنت سے
کبھی ہرگز بھٹکنا مت عبادت اور طاعت سے
کبھی نزدیک مت جانا گناہوں اور بغاوت کے
مسلمانو! چلو احکام پر، رب کے منادی کے
تمہیں پھر وہ بچائے گا کرونا کی تباہی سے
( نظم کے پہلے ہی بند میں استاد محترم لوگوں کو اس جانب توجہ دلا رہے ہیں تعلق باللہ ہی اس مصیبت سے چھٹکارا دلا سکتا ہے جس کا طریقہ اللہ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ میں پوشیدہ ہے کبھی کسی بھی صورت میں اس سے منہ نہ پھیرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے یہ ضامن ہے ہماری بقاء و کامیابی کے لئے )
اَلَمْ نَبکِ بِمَا نَسمَع بِتَھدِیدَاتِ کَورُونَا؟
اَلمْ نُخبَر بِاَمرِاللہِ قَد ھزَّا بِہِ الصِّینَا؟
اَلم نُنذَر بِمَاحَاقَ بِاُورُوبَا وَ اَمرِیکَا؟
اَلم نُؤمِن بِقُرآنٍ وَّصَدَّقنَاہُ تَصدِیقًا؟
کرونا کی تباہی نے نہیں تم کو رُلایا کیا؟
نہیں وُوہان و چینا میں فساد اس نے مچایا کیا؟
یوروپ و امرِکا ایراں نہیں اس نے ہلایا کیا؟
نہیں عبرت پکڑنا ہم کو قرآں نے سکھایا کیا؟
( یہاں استاد محترم اس کی تباہ کاریاں بتا رہے ہیں جس سے کہ ہم پوریطرح واقف ہیں کہ اس نے دنیا کی بادشاہت اور چودراہٹ کو کیسے بے بس و لاچار کردیا عبرت کا مقام ہے )
مِنَ الکَعبَة مِنَ الرَّوضَة مِنَ الآثَارِ اُخرِجنَا
مِنَ الآیَاتِ وَالاَھوَالِ وَالاَزمَاتِ اُنذِرنَا
مِنَ الاَیَّامِ ذُکِّرنَا مِنَ العِصیَانِ زُجِّرنَا
وَلکِنْ! لَلاَسَفْ اِنَّا لَمَا زِلنَا کَمَا کُنَّا
نکالا ہم کو کعبہ سے نبیﷺ کے پاک روضے سے
ڈرایا خوف سے، بحراں سے، آثارِ قیامت سے
سنائے ہم کو عبرت کےلئے نبیوں کے سب قصے
نہیں سنبھلے جو پھر بھی ہم، تو ذلت کے پڑے ڈنڈے
خدائے پاک نے ہم کو جھنجھوڑا ہر طریقے سے
مگر افسوس ہم ویسے ہی ہیں، جیسے کہ پہلے تھے
( یہاں استاد محترم کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کی اللہ کے تئیں غفلت کا انجام یہ ہوا کہ ہم کعبہ و روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بھی اب محروم ہوگئے ہیں جبکہ اللہ تعالی نے ہمیں بار بار اس سلسلے میں حکم سنایا تھا سابقہ اقوام کے قصص انبیاء کرام علیہ السلام سے دوری کے سبب آنے والے مصائب کا شکار ہونے والے لوگوں کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا جس کا گواہ کلام الہی ہے رب نے ہمیں مختلف طریقوں سے باخبر کیا تھا پر ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے وائے حسرتا)
فَیَا أََسَفا عَلیٰ مَنْ لَّم یَذُقْ طُعْمَ العِبَادَاتِ
وَیَا وَیْحٰى! لِمَن لّم یَنتَبِهْ رَغْمَ العَذَابَاتِ
وَیٰحَسرَةْ عَلی مَن عَاشَ فِی بَحرِ الضَّلَالَاتِ
وَطُوبٰى لِلَّذِی اِزدَادَ اِیمَانًابِاٰیَاتِی
وہ کیا بندہ ہوا جس نے نہ طاعت کا مزہ چکّھا
مصائب جھیل کر بھی جو نہیں سنبھلا نہیں بدلا
بہت افسوس اس پر جو گناہوں سے رہا چمٹا
اصل بندہ تو وہ ہے جس کا ایماں خوب تر چمکا
( اللہ تعالی کا بندہ کیسا ہونا چاہئے یہ ہم نہ سمجھ سکے کیا اسے بھی بندگی کہتے ہیں کہ معبود مژدہ حق و فلاح سنائے اور بندہ غفلت میں ہی پڑا رہے اصل بندہ وہی ہے اپنے معبود کا جو جلد سمجھ جائے رب کے احکام و فرامین کو غفلت میں نہ پڑا رہے اور ہر لمحہ باخبر رہے اپنے رب کے احکام و فرامین سے )
فَتُوبُوا یَا عِبَادَاللہ اِلی الرَّحْمٰنِ مَولٰکُمْ
وَعُضُّو بِاالنَّوَاجِذِ مَا رَسُولُ اللہِ اَوصٰکُمْ
یُثِبْکُمْ جَنَّتَ الْخُلدِ وَ رَبُّ العَرْشِ حَیَّاکُمْ
یُزَوِّجُکُمْ بِحُورِ العِینِ فَمَاذَا بَعْدُ اَعْیَاکُم؟
اسی رحمت کے مالک سے عفو کی بھیک تو مانگو
گرہ میں تم نبیﷺ کی ہر وصیت کو ذرا باندھو
رضائے حق کو پاکر خلد میں اس سے سلامیں لو
بیاھے گا تمہیں حوروں سے کیوں کیا اب بھی عاجز ہو؟
( اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے مالک تمہارا تمہیں اب بھی نوید فلاح سنا رہا ہے کہ پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف وہ عفو و درگزر کرنے والا ہے اپنے بندوں کی غلطیوں سے بس شرط ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو اپنانا ہوگا ان کی سنن سے خود کو آراستہ کرنا ہوگا بدلے میں خلد کی کامیابی ملے گی
بُعِثْتُمْ اُمَّةً وّ سَطًا اِلَى النَّاسِ بِفُرقَانِ
لِتَدْعُوھُم اِلی الخَیْرِ بِمَوعِظَةٍ وَّ سُلطَانِ
وَتُنجُوْھُم مِنَ النَّارِ وَ اِھلَاکٍ وَّ خُسرَانِ
فَقُومُوْا کَی تَنَالُوا حَظَّ مَغفِرَةٍ وَّ رِضوَانِ
تم ہی تو خیرِ امت ہو خلائق پر نگہباں ہو
بچاؤگے جہنم سے سبھی کو وہ مہرباں ہو
ہدایت کی طرف دو سب کو دعوت حق کے پروانو
خدا راضی رہے گا اور بخشے گا مسلمانو
( آئے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو تم کی اب آخری امت ہو تمہارے ذمہ ہے کہ دعوت دین کا فریضہ انجام دو جنت کی خوشخبری سناؤ اور جہنم کا ایندھن بننے سے لوگوں کو بچاؤ رب کی رحمت کے سایہ میں انسانیت کو لے آو آئے حق کے شیدائیو اسی سے رب کی رضا نصیب ہوگئی اور بخشش کی نوید بھی آئے گئی )
اُمِرنَا بِالطَّھُورِ وَ البَقَاءِ فِی مَنَازِلِنَا
اَطَعْنَا اَلرَّسُوْلَ اِذ عَبَدْنَا فِی مَعَازِلِنَا
وَصِرنَا حِلسَ بَیتٍ مَا حُرِمْنَا مِنْ مَّسَاجِدِنَا
اَخَذْنَا بَیْتَنَا کَھفًا وَّ نَتلُوْا مِن مَّصَاحِفِنَا
ہوا ہے حکم گھر میں بیٹھنے کا اور عبادت کا
الگ محتاط رہ کر خوب بچنے کا نظافت کا
ملا کیا خوب موقع اس سے اذکار و تلاوت کا
کہف میں رہ کے رونے کا ،نبی کی پاک سنت کا
( محکمہ صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گھروں میں رہو تو اس تنہائی میں تم رب سے لو لگا لو اور الگ رہے اس وبا کے دوران آپسی اختلاط سے اور خوب پاکیزگئی طہارت کا خیال رکھا یہ تنہائی کرون ٹائن ایک موقعہ ہے کہ اس میں اللہ کو یاد کیا جائے اور قرآن کریم سے استفادہ کرنے کا ایک موقعہ ہے غنیمت جان لو تنہائیوں میں آنسو بہا کر رب سے عفو مانگیں گناہوں پر اظہار ندامت کریں یہی طریقہ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
فَعَ فوًا رَبَّنَا تُبنَا فَطَھِّرنَا وَ فَقِّھْنَا
وَاَرشِدنَا وَ ثَبِّتنَا عَلی الدِّینِ وَ وَفِّقنَا
وَبَارِک فِی مَعِیشَتِنَا عَلی الاَعدَاءِ فَانصُرْنَا
وَاَبعِدْنَا عَنِ الأَمرَاضِ وَ الآفَاتِ مَا دُمْنَا
بخشدے پاک کردے ہم کو یارب سب گناہوں سے
سمجھ دے دین کی توفیق دے کر استقامت دے
ہدایت دے بچا ہم کو سبھی مرضوں وباؤں سے
معیشت میں فراخی دے سبھی اعداء پہ نصرت دے
( آخر پر یہ دعائیہ اشعار اللہ تعالی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ہمیں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے رب الکریم کہ ہم دعائیں کریں اپنے پیارے رب کے حضور کہ بخش دے مولا تیرے سوا ہمارا کون ہے جس کے در پے ہم فریاد کریں گئے کون ہے سوائے تیرے جو ہماری دستگیری فرمائے)
شروع میں تصور بندگی آخر پر تصور معبود کے ساتھ اپنے معبود پر کامل بندگی کا اظہار کرنے کی ترغیب بس یہی ہے اسلام کا آفاقی پیغام کہ رب الکریم کی بندگی کی جائے مصائب مشکلات میں مومن کو چاہئے کہ خوب تعلق باللہ مضبوط کرے اپنے مشکلات کا حال رب کے حضور بیان کرے وہی تو ہے جو بندوں کی ہر حال میں مدد و اعانت کرتا ہے اور اس درمیان جو بھی ہو اسے رب کا حکم جان کر رب سے تعلق مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے نہ کہ مصائب و آلام کے زمانے میں رب الکریم کا در چھوڑ کر بیھٹا جائے احتیاط تدبر تفکر اور توکل یہ سب باتیں جڑ جائیں تو اللہ تعالی عنقریب اس مصیبت سے نجات عطا فرمائیں گئے
آخر پر اپنے استاد محترم سے التماس ہے کہ میرے قلم کو رونق آپ کے ہی دم سے ملی ہے التماس ہے کہ دعا کریں کہ اس قلم کی نوک سدا بہار رہے اور استعمال رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے والسلام
الطاف جمیل ندوی
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا11 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا7 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا14 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان12 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر5 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر5 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا4 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
