تازہ ترین
نوائے حق صدائے دل – الطاف جمیل ندوی
جس شخصیت کا تعارف کرانے جارہا ہوں میرے استاد ہیں استاد محترم کی ایک طویل نظم جو کرؤنا وائرس کے سلسلے میں منصہ شہود پر آئی ہے کے سلسلے میں کچھ لب کشائی کرنے کی جسارت کررہا ہوں تاکہ امت مسلمہ بلخصوص اور وطن عزیز کے مکین بالعموم اس سے استفادہ کر سکیں
کرؤنا وائرس جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر اب تک ہزاروں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ہر صاحب دل پریشان ہے ہر آنکھ اشک بار ہے ہر چہار جانب سے موت جیسی خاموشی دنیا کے بڑے بڑے ممالک بے کسی کے حال میں پریشان و سرگرداں اسی طرح وطن عزیز کا حال بھی دن بہ دن پریشان کن ہے
آئے روز کہیں نہ کہیں سے اس موذی مرض کے شکار افراد کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے جس کا تدراک کرنے کے لئے صاحب اقتدار و ذی شعور لوگ مختلف بچاؤ کے طریقے بتا رہے ہیں ایسے میں بارہمولہ ضلع کے توحید گنج محلہ کے مشہور ادراے دارلعلوم المصطفوی کے صدر مفتی شیخ الحدیث السید مفتی عبد الرحیم الحسنی مدظلہ العالی بھی خاموش نہ رہ سکے ویسے ان کا اپنا طریقہ تعلیم و تعلم ہے اسی سے ۱۹۹۲ سے وابستہ ہیں اپنی سند فراغت کے بعد سے پر کبھی کبھار کسی موضوع پر نظم نثر پر بھی لب کشائی کرتے ہیں جب کہ اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ میں کوئی شاعر نہیں ہوں پر جب بھی کوئی افتاد آتی ہے تو دل میں اک ہوک سی اٹھتی ہے اور میں کچھ لکھ لیتا ہوں اس غرض سے کہ امت کا فائدہ ہو ہر صاحب ایمان کی کیفیت یہی ہے کہ امت کا غم اٹھائے دل آزردہ رہتا ہے گرچہ زمانہ طالب علمی سے ہی کبھی کبھار اشعار کہتے تھے پر پہلی بار
پہلی بار مولانا اپنے استاد و مرشد کی وفات پر ایک طویل نظم لکھی جو النور دارلعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ میں شائع بھی ہوئی تھی جس کے کچھ اشعار یوں تھے
برق بن کر یہ خبر ہم پے گری ہے ناخدا
کہ آج حضرت تھانوی کا خلف صادق چل بسا
حضرت مدنی کا اک تلمیذ راشد چل بسا
ضامن و قاسم گنگوہی کا نائب چل بسا
سارے ہند و پاک کا شیخ طریقت چل بسا
یورپ افریقہ کا تاج شریعت چل بسا
ختم نبوت کے ایمانی عقیدہ پر ایک بڑی نظم بھی لکھی جب قادیانی فتنہ اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے ساتھ امت کے اجتماعی عقیدے پر ضرب لگانے کے لئے مشغول ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت و عقیدت رکھنے والے ہر صاحب ایمان کا دل تڑپ جانا اس مسئلہ پر کامل ایمان کی علامت ہے ویسے ہی مفتی عبد الرحیم صاحب بھی تڑپ اٹھے اور زبان و دل سے ایک ہدیہ عقیدت منسہ شہود پر آیا جس کا ایک بندھ کچھ یوں ہے
ہم ختم نبوت کے پروانے باطل کو جھکا کر دم لیں
یا ختم نبوت کی خاطر سر اپنا کٹا کر دم لیں گئے
سانحہ بابری مسجد ہوا تو مفتی عبد الرحیم صاحب نے اس پر بھی ایک طویل نظم لکھی جس کے کچھ اشعار یوں تھے
بابری مسجد نہیں ہے یہ ہے بیت ذوالجلال
کیوں ہے تو ہندی مسلماں پابہ زنجیر ملال
کیا نہیں ہے یاد تجھ کو فیل بانوں کا وہ حال
جس کا ناطق سورہ الفیل میں قرآن ہے
استاد محترم مفتی عبد الرحیم صاحب کہتے ہیں کہ
وقت وقت پر یہ کیفیت رہتی ہے کہ دل اداس ہوجائے کسی بات پر تو دل زبان و قلم کا رفیق بن کر مجھ سے کہلواتا ہے اس سے مجھے یک گونہ سکون ملتا ہے کہ امت پر آئی مصیبت پر میرے جذبات میری زبان پر آجاتے ہیں اور میں انہیں نوک قلم کے سپرد کردیتا ہوں صرف اس غرض سے کہ شاید امت کے کام آجائیں اور میرا نام بھی ان پاک سیرت و پاکیزہ خصائل صالح مزاج لوگوں میں شامل ہوجائے جو امت کے لئے تڑپتے رہتے ہیں میری تمنا ہے کہ امت مسلمہ ہر حال میں ہر مصیبت سے محفوظ رہے اور میں اپنے جذبات و تاثرات امت تک پہنچانے کی سعی کرتا ہی رہتا ہوں
میری اوقات ایک عام سی طالب علم کی سی ہے پر امت مسلمہ کے غم سے دل آباد ہے اور اسی کیفیت کا نتیجہ اب بھی سامنے آیا کہ اس مصیبت کے وقت جب پوری دنیا حیرت زدہ ہے کہ اب کیا کیا جائے تو حضرت استاد محترم نے رجوع الی اللہ کی ترغیب دے دی اپنی اس نظم میں جو اس کرؤنا وائرس کی وبائی صورت حال میں ان کی زبان پے آئی جس میں تعلق باللہ کی دعوت دی گئی ہے اس
نظم پر لب کشائی کا حکم ہے اس لئے اپنے مربی و محترم کے حکم کا احترام کرتے ہوئے اس پر لب کشائی کی جرآت کر رہا ہوں ورنہ میری اپنی اتنی اوقات ہی نہیں
نظم عربی زبان میں ہے اس کا ترجمہ بھی شامل ہے اس کے علاوہ قوسین میں کہیں کہیں پر ہلکا پھلکا سا تبصرہ کرنے کی جسارت کررہا ہوں
نظم بحوالہ کورونا وائرس
از مولانا مفتی سیّد عبدالرحیم صاحب الحسنی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عِبادَاللہ اَماءَالله مُنادِاللہِ یَدعُونَا
لَئِنْ عُدنَا اِلَی الٳسلام لَانُھْلک بِکَورُونا
اَما آنَ لَکُم اَن تَقرَؤُوْا دَومًا کِتابَ اللہ؟
اَمَاحَانَ لَکُم اَنْ تَسمعُوْا قَولَ نَبِیِّ اللہﷺ؟
اَمَا آنَ لَکُم اَنْ تَسلُکُوْا دَرْبَ رَسُولِ اللہﷺ؟
اَمَاحَانَ لَکُم اَن تَنتَھُوا عَنْ مَّا نَھَاہُ اللہ؟
خدا نے ہم کو پھر لوگو پکارا اپنی رحمت سے
مسلمانو! ذرا اٹھ جاؤ اب تو خوابِ غفلت سے
لگاؤ دل ہمیشہ میرے قرآن کی تلاوت سے
رسول اللہ کی باتوں سے نبیّ اللہ ﷺ کی سنت سے
کبھی ہرگز بھٹکنا مت عبادت اور طاعت سے
کبھی نزدیک مت جانا گناہوں اور بغاوت کے
مسلمانو! چلو احکام پر، رب کے منادی کے
تمہیں پھر وہ بچائے گا کرونا کی تباہی سے
( نظم کے پہلے ہی بند میں استاد محترم لوگوں کو اس جانب توجہ دلا رہے ہیں تعلق باللہ ہی اس مصیبت سے چھٹکارا دلا سکتا ہے جس کا طریقہ اللہ کی کتاب اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ میں پوشیدہ ہے کبھی کسی بھی صورت میں اس سے منہ نہ پھیرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے یہ ضامن ہے ہماری بقاء و کامیابی کے لئے )
اَلَمْ نَبکِ بِمَا نَسمَع بِتَھدِیدَاتِ کَورُونَا؟
اَلمْ نُخبَر بِاَمرِاللہِ قَد ھزَّا بِہِ الصِّینَا؟
اَلم نُنذَر بِمَاحَاقَ بِاُورُوبَا وَ اَمرِیکَا؟
اَلم نُؤمِن بِقُرآنٍ وَّصَدَّقنَاہُ تَصدِیقًا؟
کرونا کی تباہی نے نہیں تم کو رُلایا کیا؟
نہیں وُوہان و چینا میں فساد اس نے مچایا کیا؟
یوروپ و امرِکا ایراں نہیں اس نے ہلایا کیا؟
نہیں عبرت پکڑنا ہم کو قرآں نے سکھایا کیا؟
( یہاں استاد محترم اس کی تباہ کاریاں بتا رہے ہیں جس سے کہ ہم پوریطرح واقف ہیں کہ اس نے دنیا کی بادشاہت اور چودراہٹ کو کیسے بے بس و لاچار کردیا عبرت کا مقام ہے )
مِنَ الکَعبَة مِنَ الرَّوضَة مِنَ الآثَارِ اُخرِجنَا
مِنَ الآیَاتِ وَالاَھوَالِ وَالاَزمَاتِ اُنذِرنَا
مِنَ الاَیَّامِ ذُکِّرنَا مِنَ العِصیَانِ زُجِّرنَا
وَلکِنْ! لَلاَسَفْ اِنَّا لَمَا زِلنَا کَمَا کُنَّا
نکالا ہم کو کعبہ سے نبیﷺ کے پاک روضے سے
ڈرایا خوف سے، بحراں سے، آثارِ قیامت سے
سنائے ہم کو عبرت کےلئے نبیوں کے سب قصے
نہیں سنبھلے جو پھر بھی ہم، تو ذلت کے پڑے ڈنڈے
خدائے پاک نے ہم کو جھنجھوڑا ہر طریقے سے
مگر افسوس ہم ویسے ہی ہیں، جیسے کہ پہلے تھے
( یہاں استاد محترم کہتے ہیں کہ امت مسلمہ کی اللہ کے تئیں غفلت کا انجام یہ ہوا کہ ہم کعبہ و روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بھی اب محروم ہوگئے ہیں جبکہ اللہ تعالی نے ہمیں بار بار اس سلسلے میں حکم سنایا تھا سابقہ اقوام کے قصص انبیاء کرام علیہ السلام سے دوری کے سبب آنے والے مصائب کا شکار ہونے والے لوگوں کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا جس کا گواہ کلام الہی ہے رب نے ہمیں مختلف طریقوں سے باخبر کیا تھا پر ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے وائے حسرتا)
فَیَا أََسَفا عَلیٰ مَنْ لَّم یَذُقْ طُعْمَ العِبَادَاتِ
وَیَا وَیْحٰى! لِمَن لّم یَنتَبِهْ رَغْمَ العَذَابَاتِ
وَیٰحَسرَةْ عَلی مَن عَاشَ فِی بَحرِ الضَّلَالَاتِ
وَطُوبٰى لِلَّذِی اِزدَادَ اِیمَانًابِاٰیَاتِی
وہ کیا بندہ ہوا جس نے نہ طاعت کا مزہ چکّھا
مصائب جھیل کر بھی جو نہیں سنبھلا نہیں بدلا
بہت افسوس اس پر جو گناہوں سے رہا چمٹا
اصل بندہ تو وہ ہے جس کا ایماں خوب تر چمکا
( اللہ تعالی کا بندہ کیسا ہونا چاہئے یہ ہم نہ سمجھ سکے کیا اسے بھی بندگی کہتے ہیں کہ معبود مژدہ حق و فلاح سنائے اور بندہ غفلت میں ہی پڑا رہے اصل بندہ وہی ہے اپنے معبود کا جو جلد سمجھ جائے رب کے احکام و فرامین کو غفلت میں نہ پڑا رہے اور ہر لمحہ باخبر رہے اپنے رب کے احکام و فرامین سے )
فَتُوبُوا یَا عِبَادَاللہ اِلی الرَّحْمٰنِ مَولٰکُمْ
وَعُضُّو بِاالنَّوَاجِذِ مَا رَسُولُ اللہِ اَوصٰکُمْ
یُثِبْکُمْ جَنَّتَ الْخُلدِ وَ رَبُّ العَرْشِ حَیَّاکُمْ
یُزَوِّجُکُمْ بِحُورِ العِینِ فَمَاذَا بَعْدُ اَعْیَاکُم؟
اسی رحمت کے مالک سے عفو کی بھیک تو مانگو
گرہ میں تم نبیﷺ کی ہر وصیت کو ذرا باندھو
رضائے حق کو پاکر خلد میں اس سے سلامیں لو
بیاھے گا تمہیں حوروں سے کیوں کیا اب بھی عاجز ہو؟
( اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے مالک تمہارا تمہیں اب بھی نوید فلاح سنا رہا ہے کہ پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف وہ عفو و درگزر کرنے والا ہے اپنے بندوں کی غلطیوں سے بس شرط ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کو اپنانا ہوگا ان کی سنن سے خود کو آراستہ کرنا ہوگا بدلے میں خلد کی کامیابی ملے گی
بُعِثْتُمْ اُمَّةً وّ سَطًا اِلَى النَّاسِ بِفُرقَانِ
لِتَدْعُوھُم اِلی الخَیْرِ بِمَوعِظَةٍ وَّ سُلطَانِ
وَتُنجُوْھُم مِنَ النَّارِ وَ اِھلَاکٍ وَّ خُسرَانِ
فَقُومُوْا کَی تَنَالُوا حَظَّ مَغفِرَةٍ وَّ رِضوَانِ
تم ہی تو خیرِ امت ہو خلائق پر نگہباں ہو
بچاؤگے جہنم سے سبھی کو وہ مہرباں ہو
ہدایت کی طرف دو سب کو دعوت حق کے پروانو
خدا راضی رہے گا اور بخشے گا مسلمانو
( آئے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیو تم کی اب آخری امت ہو تمہارے ذمہ ہے کہ دعوت دین کا فریضہ انجام دو جنت کی خوشخبری سناؤ اور جہنم کا ایندھن بننے سے لوگوں کو بچاؤ رب کی رحمت کے سایہ میں انسانیت کو لے آو آئے حق کے شیدائیو اسی سے رب کی رضا نصیب ہوگئی اور بخشش کی نوید بھی آئے گئی )
اُمِرنَا بِالطَّھُورِ وَ البَقَاءِ فِی مَنَازِلِنَا
اَطَعْنَا اَلرَّسُوْلَ اِذ عَبَدْنَا فِی مَعَازِلِنَا
وَصِرنَا حِلسَ بَیتٍ مَا حُرِمْنَا مِنْ مَّسَاجِدِنَا
اَخَذْنَا بَیْتَنَا کَھفًا وَّ نَتلُوْا مِن مَّصَاحِفِنَا
ہوا ہے حکم گھر میں بیٹھنے کا اور عبادت کا
الگ محتاط رہ کر خوب بچنے کا نظافت کا
ملا کیا خوب موقع اس سے اذکار و تلاوت کا
کہف میں رہ کے رونے کا ،نبی کی پاک سنت کا
( محکمہ صحت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گھروں میں رہو تو اس تنہائی میں تم رب سے لو لگا لو اور الگ رہے اس وبا کے دوران آپسی اختلاط سے اور خوب پاکیزگئی طہارت کا خیال رکھا یہ تنہائی کرون ٹائن ایک موقعہ ہے کہ اس میں اللہ کو یاد کیا جائے اور قرآن کریم سے استفادہ کرنے کا ایک موقعہ ہے غنیمت جان لو تنہائیوں میں آنسو بہا کر رب سے عفو مانگیں گناہوں پر اظہار ندامت کریں یہی طریقہ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے
فَعَ فوًا رَبَّنَا تُبنَا فَطَھِّرنَا وَ فَقِّھْنَا
وَاَرشِدنَا وَ ثَبِّتنَا عَلی الدِّینِ وَ وَفِّقنَا
وَبَارِک فِی مَعِیشَتِنَا عَلی الاَعدَاءِ فَانصُرْنَا
وَاَبعِدْنَا عَنِ الأَمرَاضِ وَ الآفَاتِ مَا دُمْنَا
بخشدے پاک کردے ہم کو یارب سب گناہوں سے
سمجھ دے دین کی توفیق دے کر استقامت دے
ہدایت دے بچا ہم کو سبھی مرضوں وباؤں سے
معیشت میں فراخی دے سبھی اعداء پہ نصرت دے
( آخر پر یہ دعائیہ اشعار اللہ تعالی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ہمیں زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے رب الکریم کہ ہم دعائیں کریں اپنے پیارے رب کے حضور کہ بخش دے مولا تیرے سوا ہمارا کون ہے جس کے در پے ہم فریاد کریں گئے کون ہے سوائے تیرے جو ہماری دستگیری فرمائے)
شروع میں تصور بندگی آخر پر تصور معبود کے ساتھ اپنے معبود پر کامل بندگی کا اظہار کرنے کی ترغیب بس یہی ہے اسلام کا آفاقی پیغام کہ رب الکریم کی بندگی کی جائے مصائب مشکلات میں مومن کو چاہئے کہ خوب تعلق باللہ مضبوط کرے اپنے مشکلات کا حال رب کے حضور بیان کرے وہی تو ہے جو بندوں کی ہر حال میں مدد و اعانت کرتا ہے اور اس درمیان جو بھی ہو اسے رب کا حکم جان کر رب سے تعلق مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے نہ کہ مصائب و آلام کے زمانے میں رب الکریم کا در چھوڑ کر بیھٹا جائے احتیاط تدبر تفکر اور توکل یہ سب باتیں جڑ جائیں تو اللہ تعالی عنقریب اس مصیبت سے نجات عطا فرمائیں گئے
آخر پر اپنے استاد محترم سے التماس ہے کہ میرے قلم کو رونق آپ کے ہی دم سے ملی ہے التماس ہے کہ دعا کریں کہ اس قلم کی نوک سدا بہار رہے اور استعمال رب کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے والسلام
الطاف جمیل ندوی
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
تہران، صدرِ ایران مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ نے جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ترکمانستان میں اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے دوطرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو بڑھانے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق یہ ملاقات کامن ویلتھ آف انڈیپنڈنٹ سٹیٹس (سی آئی ایس) سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور توانائی، زراعت، نقل و حمل اور تجارت سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل اور حتمی منظوری میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کے مطابق جامع تعاون کو وسیع کرنے کے عزم کی تکرار کی۔
ایرانی طلبا کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے کنارہ کش نہیں ہوگا۔
“ہم بات چیت کر رہے ہیں، مگر جب بھی ہم امریکہ سے بات کرتے ہیں، وہ دوبارہ حملہ کر دیتے ہیں۔ تاہم ہم مذاکراتی میز اور گفت و شنید سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
پزشکیان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن نے دو طرفہ طور پر نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
“ہم نے ان تجاویز میں اپنی ترامیم کی ہیں۔ جب یہ حتمی ہو جائیں گی تو ہمیں موجودہ ثالثوں کے ذریعے بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔”
پزشکیان نے علاقائی امور اور اقوامِ متحدہ میں روس کے موقف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماسکو نے یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مدد کی۔انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی “تیزی اورمظبوطی کے ساتھ” آگے بڑھے گی، اور کہا کہ موجودہ حالات تعاون کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، بشرطیکہ ایرانی عوام کے حقوق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ رہیں۔
دونوں رہنماؤں کی آخری ذاتی ملاقات یکم ستمبر کو کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ہوئی تھی، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات اور امریکہ-ایران جنگ پر بات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران پوتن نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو “غیر مستحکم اور بہت نازک” قرار دیا اور تہران کی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مزید یہ کہ پزشکیان اور پوتن نے تاکہ ایران-امریکہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ کو فون پر بات کی تھی، جس میں روسی صدر نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں ماسکو کی آمادگی ظاہر کی۔
پوتن سی آئی ایس سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو دو روزہ دورے پر ترکمانستان پہنچے تھے۔
توقع ہے کہ سی آئی ایس اجلاس رکن ممالک کے درمیان تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
بحیرہ کیسپین ماحولیاتی اجلاس میں پانچ ساحلی ممالک – آذربائیجان، ایران، قازقستان، روس اور ترکمانستان – کے رہنما یکجا ہوئے ہیں ، اجلاس کے ایجنڈے میں خطے میں ماحولیاتی تعاون شامل ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
