تازہ ترین
وباکا فائدہ اٹھا کر حکومتیں انسانی نگرانی کا کڑا سسٹم لاگو کرکے ہماری زندگی کو کنٹرول کریں گی: مشہور مورخ اور مصنف یوول نوح ہراری
مشہور مورخ اور مصنف یوول نوح ہراری نے کہا ہے کہ کورونا وبا کو سمجھنے کے لئے سائنس کی چند بنیادی چیزیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی آڑ میں نگرانی کا سسٹم بنایا جارہا ہے جس سے آپ کا دماغ اور جسم مطلق العنان قوتوں کے کنٹرول میں ہوگا جبکہ معلوم ہوسکے گا کہ آپ کے جسم میں کیا چل رہاہے۔
آپ کا بخار، اس کے بعد آپ کا بلڈ پریشر، آپ کے دل کی دھڑکن کا ریٹ،آپ کی دماغی سرگرمی، اس طرح آپ ایک ایسے مطلق العنان نظام حکومت کو پیدا کریں گے جو پہلے کبھی بھی نہیں تھا۔کے این ایس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق یوول نوح ہراری ایک اسرائیلی مورخ اور یروشلم یونیورسٹی کے عبرانی یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ میں پروفیسر ہیں۔ وہ مشہور سائنس بیسٹ سیلرز سیلینز کے مصنف ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ وائرس خود اتنا بڑا خطرہ نہیں ہے۔ انسان کے پاس اس وائرس پر قابو پانے کے لیے سائنسی علم اور فنی ذرائع بھی ہیں۔اصل مسئلہ ہمارے اندر کے عفریت، اندر کی نفرت، لالچ اور جہالت ہے۔پروفیسر ہراری نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ وائرس خود اتنا بڑا خطرہ نہیں ہے، انسان ذات کے پاس اس وائرس پر قابو پانے کے لیے سائنسی علم اور فنی ذرائع بھی ہیں۔
اصل مسئلہ ہمارے اندر کے عفریت، اندر کی نفرت، لالچ اور جہالت ہے۔مجھے یہ خوف ہے کہ لوگ اس بحران پر عالمی یکجہتی، مشترکہ ذمہ داری کے طور پر کوئی ردعمل نہیں دکھا رہے، بلکہ وہ نفرت سے دوسرے ممالک کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وبا سے عوام دہشت زدہ ہوکر چاہتی ہے کہ مضبوط لیڈر آگے بڑھ کر ٹیک اوور کرے تو ایسا کرنا ایک ڈکٹیٹر کے لیے تو بہت آسان ہوگا۔لیکن دوسری جانب آپ کو پبلک کی پشت پناہی حاصل ہے تو سیاستدان بہت آگے جا کر خطرناک چیزیں ہونے سے روک سکتا ہے۔ آپ کو ماضی کا تجربہ ہے اگر آپ کو کچھ سالوں سے ان کے ساتھ ہونے کا تجربہ ہے تو ایسی ایمرجنسی میں ان پر اعتماد کرنے کا جوازہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ دوسرا یہ کہ آپ ان نظریوں کے متعلق سوالات کریں جو آپ کو لوگ بتا رہے ہوتے ہیں اگر کرونا وائرس کی پیدائش اور پھیلنے کے متعلق کوئی سازشی نظریہ کے ساتھ آتاہے تو اس شخص سے وضاحت پوچھیں کہ یہ بیماری کا سبب کیسے بنا؟ اگر اس شخص کو یہ پتہ نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے پاس بنیادی سائنسی معلومات ہی نہیں ہے اور اس لیے آپ کو اس شخص کی بات پر یقین کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے جو آپ کو کرونا وائرس کے متعلق بتا رہا ہے۔
آپ کو بیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں آپ کو سائنس کی چند بنیادی چیزیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ جب بھی شہریوں کی نگرانی بڑھائیں گے تو ساتھ ساتھ وہ گورنمنٹ کی نگرانی ہوگی جو بڑھتی جائے گی۔اس بحران یا نازک صورتحال میں حکومتیں پانی کی طرح پیسے خرچ کر رہی ہیں امریکہ نے دو ٹرلین ڈالرز، جرمنی نے سینکڑوں بلین یورو خرچ کیے ہیں۔ایک شہری ہونے کے ناتے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایسے فیصلے کون کر رہاہے اور یہ پیسہ کہاں جا رھاہے؟کیا یہ پیسا ان بڑی کارپوریشنز کو بیل آوٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو اس وبا سے پہلے اپنے غلط فیصلوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں تھیں؟ اگر گورنمنٹ مزید نگرانی کی خواہش مند ہے تو یہ نگرانی دونوں طرف سے ہونی چاہیے اگر حکومت کہتی ہے کہ یہ بہت مشکل ہے، ہم سارے معاشی معاملات کھول نہیں سکتے، بتا نہیں سکتے تو آپ کہیں کہ’یہ اتنا محال نہیں ھے جس طرح آپ میرے روزانہ آنے جانے پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی کا ایک نظام بنا سکتے ہیں، تو آسانی سے ایسا سسٹم بھی بنا سکتے ہیں جو بتا سکے کہ آپ میرے ٹیکس کے پیسوں سے کیا کر رہے ہیں۔
ہمیں اس کے لیے خبردار رہنا چاہیے کہ آپ کی نگرانی کی جائے گی کہ آپ باہر کی دنیا میں کیا کرتے ہیں کس سے ملتے ہیں؟ کہاں جاتے ہیں،؟ کون سی ویب سائٹ دیکھتے ہیں،؟ اور کون سا ٹی وی دیکھتے ہیں؟ یہ نگرانی کا سسٹم تو آپ کے جسم کے اندر تو نہیں جاتا۔لیکن انڈر دی اسکن سرویلینس کا مطلب ہے کہ آپ کی وہ نگرانی کی جائے کہ آپ کے جسم میں کیا چل رہا ہے۔آپ کا بخار، اس کے بعد آپ کا بلڈ پریشر، آپ کے دل کی دھڑکن کا ریٹ،آپ کی دماغی سرگرمی،ایک بار آپ نے ایسا کیاتو آپ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے متعلق جانیں گے اور اس طرح آپ ایک ایسے مطلق العنان نظام حکومت کو پیدا کریں گے جو پہلے کبھی بھی نہیں تھا۔اگر آپ کو یہ پتہ ہو کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں، ٹی وی پر کیا دیکھ رہا ہوں، تو وہ آپ کو میرے فنی ٹیسٹ، میرے سیاسی خیالات، میری شخصیت کے متعلق آئیڈیا دے گا۔انہوں نے کہا کہ اب آپ سوچیں کہ آپ میرے باڈی ٹمپریچر کو مانیٹر کر رہے ہیں یا میرے بلڈ پریشر کو، میرے دل کی دھڑکن کواور جیسے میں کوئی آرٹیکل پڑھتا ہوں یامیں کوئی آن لائن پروگرام دیکھتا ہوں، ٹی وی پر دیکھتا ہوں توآپ کو معلوم ہو جائے گا کہ میں اس لمحے کیا محسوس کر رہا ہوں۔
اور یہ ہی چیز ایک خوفناک مطلق العنان حکومتوں کے نظام یا قیام کی طرف لے جا سکتی ہے۔لیکن ہم ایسا ہونے سے روک بھی سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم سے کم انڈسٹری کے سیکٹر میں تو منظم یا آرگنائزڈ لیبر برباد ہو جائے گا لیکن یہ ناگریز یا لاعلاج نہیں ھے یہ سیاسی فیصلہ ھے۔ہم ملک میں اور پوری دنیا میں ورکرز کے حقوق کو تحفظ دینے کے لیے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ایسی صورت حال میں حکومتیں انڈسٹریز اور کارپوریشنز کو بیل آوٹ کرتے معاشی مراعات دے رہی ہیں لیکن وہ اس کو ورکرز کے حقوق کے تحفظ سے مشروط بھی کر سکتی ہیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
