تازہ ترین
عسکری کمانڈر کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہرے، پولیس فائرنگ میں ایک ہلاک
کشمیر میں سرگرم عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر ریاض احمد نائیکو عرف محمد بن قاسم کی ہلاکت کے خلاف پُر تشدد مظاہروں کا سلسلہ جمعرات کو دوسرے دن بھی جاری رہا۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ”بدھ کے مقابلے میں ان کی شدت نسبتا” کم تھی اور صورتِ حال مجموعی طور پر پُرامن رہی۔
بدھ کو جنوبی ضلع پُلوامہ میں سرکاری دستوں کے ساتھ ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران ریاض نائیکو اور ان کے ایک قریبی ساتھی کی ہلاکت کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
حٖفاظتی دستوں نے کئی مقامات پر پتھراؤ کرنے والے ہجوموں پر قابو پانے کے لیے طاقت استعمال کی۔ حفاظتی دستوں کی فائرنگ اور چھرے والی بندوقوں کے استعمال کے نتیجے میں ایک شخص جس کی شناخت جہانگیر یوسف وانی کے طور پر کی گئی ہے ہلاک اور تقریباً ڈیڑھ درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بتیس سالہ جہانگیر کے گردن میں گولی لگی تھی۔ زخمیوں میں سے کم سے کم ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
پُلوامہ کے بیگ پورہ علاقے میں جہاں عسکریت پسندوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جمعرات کو عوامی مظاہروں میں شامل نوجوانوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان وقفے وقفے سے تصادم ہونے کا سلسلہ جمعرات کو دوسرے دن بھی جاری رہا۔
وادی کشمیر کے کئی دوسرے علاقوں سے بھی اس طرح کے مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ تاہم، پولیس حکام نے انہیں “معمولی بلکہ ناقابلِ ذکر” واقعات قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیگ پورہ میں جمعرات کی صبح کو چند “شر پسند عناصر” نے امن و امان میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔
بیگ پورہ ریاض نائیکو کا آبائی علاقہ ہے۔ بدھ کو کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی میں کئی نجی گھر یا تو مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے یا انہیں شدید نقصان پہنچا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج اور دوسرے سرکاری دستوں نے علاقے میں محصور ہونے والے ریاض نائیکو اور ان کے ساتھی کو زیر کرنے کے لیے مارٹر بم داغے اور راکٹ لانچروں اور ہلکے اور درمیانی درجے کے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
وادی کشمیر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پچاس دن سے نافذ لاک ڈاؤن میں ریاض نائیکو کی ہلاکت سے پیدا شدہ کشیدگی اور کئی علاقوں میں پھوٹ پڑنے والے عوامی مظاہروں کے پیشِ نظر اسے نہ صرف سخت کر دیا گیا ہے بلکہ بعض علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستے کرفیو یا کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ وادی میں انٹرنیٹ سروسز کو مکمل طور پر اور موبائل فون سروسز کو جزوی طور پر بند کردیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع نے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ ریاض نائیکو کے ساتھ ہلاک ہونے والا دوسرا عسکریت پسند استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعت ‘تحریکِ حریت’ کے سربراہ محمد اشرف صحرائی کا بیٹا جیند اشرف ہے۔ ذرائع نے ہلاک کیے گیے اس نوجوان کی شناخت عادل بٹ کے طور پر کی ہے اور کہا ہے کہ بُدھ کے روز پُلوامہ ہی کے شرشالی کھریو علاقے میں اسی طرح کی ایک جھڑپ کے دوران مارے جانے والے مشتبہ عسکریت پسندوں عادل وانی اور رفیق ڈار کا تعلق کالعدم لشکرِ طیبہ سے تھا۔
پیشے کے لحاظ سے ریاض نائیکو ریاضی کے استاد تھے۔ لیکن وہ 2012 میں اپنی ملازمت چھوڑ کر عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوگیے تھے۔ پولیس نے انہیں فوری طور پر عسکریت پسندوں کے ‘اے پلس پلس’ زمرے میں ڈال دیا تھا۔
اُن کا شمار معروف کشمیری عسکری کمانڈر برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ 8 جولائی 2016 کو بھارتی فوج نے ضلع اننت ناگ کے کوکر ناگ علاقے میں کیے گیے ایک آپریشن کے دوران مظفر وانی کو ہلاک کیا تو اُن کی جگہ ذاکر رشید بٹ عرف ذاکر موسیٰ کو حزب المجاہدین کا آپریشنل کمانڈر بنایا گیا۔ لیکن ذاکر موسیٰ نے بہت جلد حزب المجاہدین سے علحیدگی اختیار کرلی اور ایک نیا عسکری گروپ انصار غزوۃ الہند تشکیل دیدیا جسے القاعدہ نے بھارت میں اپنی سیل یا شاخ کے طور پر تسلیم کیا۔ حزب المجاہدین میں ان کہ جگہ ریاض نائیکو نے لے لی۔
بھارت کی وزارتِ داخلہ نے جون 2019 میں نائیکو کو “سب سے زیادہ مطلوب دس دہشت گردوں” کی فہرست میں شامل کیا تھا اور جموں و کشمیر میں عسکریت مخالف سیکیورٹی گرڈ کو انہیں اور دوسرے مطلوب عسکریت پسندوں کو “جلد از جلد موت کے گھاٹ اتارنےکا ولین کام” سونپا تھا۔
بھارتی عہدیداروں نے کہا تھا کہ مطلوب افراد کی یہ فہرست جموں و کشمیر پولیس، فوج اور وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف اور دوسرے حفاظتی دستوں اور سراغرساں اداروں کی طرف سے موصول ہونے والی خفیہ رپورٹوں کی بنیاد پر تیار کی ہے۔ مطلوب افراد میں سے چھ کا تعلق حزب المجاہدین، دو کا جیشِ محمد اور ایک ایک کا لشکرِ طیبہ اور البدر مجاہدین سے تھا۔ مقامی پولیس نے ریاض نائیکو کے سر پر بارہ لاکھ روپے کا انعام مقرر کر رکھا تھا۔
سری نگر میں نامہ نگاروں کے ایک مخصوص گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے کہا کہ حٖفاظتی دستے ریاض نائیکو کو پچھلے چھہ ماہ سے شد و مد کے ساتھ تلاش کر رہے تھے۔ انہوں نے ریاض نائیکو کی ہلاکت کو حفاظتی دستوں کو ملنے والی ایک بڑی کامیابی اور عسکریت پسندوں بالخصوص حزب المجاہدین کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔
اس دوران پولیس نے ریاض نائیکو اور ان کے ساتھ ہلاک ہونے والے اُن کے ساتھی کی میتوں کو کسی نامعلوم مقام پر دفنا دیا ہے۔
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں حفاظتی دستوں کے ساتھ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی نعشوں کو اب ان کے رشتے داروں کو سونپنے کے بجائے انہیں پولیس اُن کے آبائی علاقوں سےدور ایسے قبرستانوں میں دفناتی ہے جہاں عمومی طور پر اس طرح کے واقعات میں مارے جانے والے غیر ملکی یا غیر شناخت شدہ عسکریت پسندوں کی آخری رسومات ادا کی جاتی تھیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے مقامی عسکریت پسندوں کی نعشوں کو ان کے لواحقین کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے لیا گیا تاکہ ان کی تجہیز و تکفین میں لوگ بڑی تعداد میں شریک نہ ہوں جیسا کہ پولیس کی طرف سے منع کرنے کے باوجود اپریل کے شروع میں شمال مغربی ضلع بارہمولہ میں ہوا تھا۔
حکام کا استدلال ہے کہ عسکریت پسندوں کی تدفین میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کرونا وائرس (کووڈ-19) کے خطرے سے نمٹنے کے لیے وادی کشمیر میں 19 مارچ سے نافذ لاک ڈاؤن کے مقصد کو فوت کر سکتی ہے۔ تاہم، پولیس عہدیدار وجے کمار نے بتایا کہ اگر مارے جانے والے کسی عسکریت پسند کی پہچان کرنے کے لیے اُس کے گھر والے آگے آتے ہیں تو ان میں سے چند ایک کو بھی تدفین میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں 1989 میں شورش کے آغاز کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہلاک شدہ عسکریت پسندوں کی نعشوں کو اُن کے گھر والوں کو سونپنے کے بجائے پولیس انہیں از خود دفن کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض کارکنوں نے اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہے، جبکہ حال ہی میں مارے گیے عسکریت پسندوں کے رشتے داروں کے مطابق یہ ایک غیر انسانی عمل ہے۔ انہوں نے اس پر احتجاج کیا اور حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کے انسانی پہلو کو نظر انداز نہ کرے۔
انسپکٹر جنرل وجے کمار سے استفسار کیا گیا کہ اس ہفتے کے شروع میں ہندوارہ کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ایک حملے کے جواب میں حفاظتی دستوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے جسمانی طور پر معذور ایک چودہ سالہ مقامی لڑکے کی نعش کو کیوں لواحقین کے بجائے پولیس نے خاموشی کے ساتھ کسی اور جگہ سپردِ خاک کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اس بات کا قوی امکان تھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس کی تدفین کے موقعے پر امڈ آتی۔ ہم نے اس خدشے کا اظہار اس لڑکے کے گھر والوں کے سامنے کیا تو وہ بات کو سمجھ گئے۔ اسی لیے، اسے آبائی علاقے کے بجائے کہیں اور دفنایا گیا”-
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
