پاکستان
کرونا وائرس: پاکستان کو درپیش معاشی چیلنجز
ڈاکٹر محمد آصف احسان
پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے احتیاطی تدابیر اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے بروقت اقدامات کیے ہیں،اسی لیے وائرس سے ہونے والی اموات کی شرح دوسرے ملکوں کی نسبت بہت کم ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے زیادہ تر حصے میں کئی ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن کے باعث معیشت بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مختلف صنعتوں کے بند ہونے اور نقل و حمل پر پابندیوں کی بنا پر قریب قریب ایک کروڑ 90 لاکھ افراد بے روزگار ہوئے ہیں ان میں سے 70 فی صد افراد صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔
لاک ڈاؤن کی پابندیوں سے جو لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، ان میں چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں ، کاروباروں اور کمپنیوں (SMEs) کے ملازمین اور محنت و مشقت کر کے روزانہ اُجرت پانے والے مزدور سر فہرست ہیں۔ حکومت نے بے روزگار افراد کی مالی معاونت کے لیے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت 144 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ مذکورہ رقم آٹھ کروڑ سے زائد افراد میں مرحلہ وار تقسیم کی جائے گی۔ احساس پروگرام بلاشبہ ایک مستحسن اقدام ہے۔تاہم یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ حکومت کی اولین ترجیح مختلف معاشی اشاروں کی روشنی میں معیشت کا استحکام ہونا چاہیے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2019ء میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.3 فی صد تھی جو 2020ء میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب کم ہو کر 2.6 فی صد تک ہوچکی ہے۔ اگر لاک ڈاؤن اسی شدت کے ساتھ برقرار رہتا ہے تو پاکستانی معیشت کوآیندہ تین ماہ کے دوران میں اڑھائی کھرب روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سچ یہ ہے کہ مسائل کی کثرت، وسائل کی قلّت اور بے تحاشا غُربت کی وجہ سے بائیس کروڑ افراد پر مشتمل ملک طویل عرصے تک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق فروری 2020ء میں وفاقی حکومت کے اندرونی اور بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 33 کھرب اور 421 ارب روپے کی ہوشربا سطح کو چھو رہا تھا۔ کرونا وائرس کی ہلاکت خیزی نے ترقی یافتہ ممالک کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں پاکستانی معیشت جو بہت حد تک قرضوں کے سہارے زندہ ہے،اس کا تو دکھڑا ہی ناگفتہ بہ ہے۔
دنیا میں شعبہ صحت پر خرچ کرنے کے حوالے سے امریکا سرفہرست ہے جو اس شعبے پر اپنی جی ڈی پی کا 17 فی صد خرچ کرتا ہے دیگر مغربی ممالک میں بھی جی ڈی پی کا معتد بہ حصہ طبی آلات و سہولیات کی فراہمی اور مریضوں کی نگہداشت کے لیے مختص ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ سرمایہ کاری کے فقدان اور حکومت کی عشروں پر محیط عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے۔
حکومت پاکستان آبادی کی کثرت اور لوگوں میں علاج کی عدم استطاعت کے باوجود صحت کے شعبے پر سالانہ جی ڈی پی کا صرف 2 سے 3 فی صد خرچ کرتی ہے۔ کرونا وائرس کے روزافزوں پھیلاؤ کے باعث یورپ اور امریکا بھی حفاظتی سازوسامان (PPE) کی قلت سے دوچار ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ادویہ اور طبی آلات و سہولیات جیسے ماسک، حفاظتی لباس اور وینٹی لیٹر کی مقامی سطح پر بین الاقوامی معیار کے مطابق تیاری کو یقینی بنائے۔ اس سے نہ صرف پاکستان اپنی طبی اور صحت سے متعلق ضروریات میں خود کفیل ہو گا بلکہ روزگار کے ان گنت مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ مخصوص تعلیم، صلاحیت اور مہارت کا متقاضی ہے۔چناں چہ لوگوں کا تعلیمی معیار بھی بلند ہو گا اور ان کی ہُنرمندی کو بھی جلا ملے گی۔
اسٹیٹ بینک نے موجودہ حالات میں معیشت کو سہارا دینے اور برآمدات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے چند ہفتے قبل شرح سُود کو 11 فی صد سے کم کر کے 9 فی صد کر دیا ہے۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک مثلاً جرمنی، فرانس، سپین اور سویڈن وغیرہ میں سود کی شرح 0 فی صد ہے۔ اقتصادی نقطہ نظر سے شرح سود جتنی کم ہو گی اتنی سرمایہ کاری زیادہ ہو گی، نت نئی ملازمتوں کے در وا ہوں گے اور لوگوں کے پاس دولت کی ریل پیل ہو گی۔ ضرورت سے زائد نقدی سے لوگ قیمتی اشیاء اور گھر وغیرہ خریدیں گے، ان کی طلب میں اضافہ ہو گا تو قیمتیں چڑھیں گی اور ان لوگوں کی مالی حیثیت مزید مستحکم ہو گی جو پہلے ہی ان بیش قیمت اور نفیس اشیاء کے مالک ہیں۔ اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور معیشت کے استحکام کے لیے شرح سُود میں مزید کمی کرے۔
پاکستانی معیشت موسمی تبدیلیوں سے بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان کو 1999ء سے 2018ء تک 150 سے زائد شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے ملکی معیشت کو 3.8 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ موسمی تبدیلیوں سے نبردآزما ہونے کے لیے حکومت پاکستان نے 2018ء میں 10 ارب درخت لگانے کی مہم شروع کی تھی۔ حکومت کو چاہیے کہ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بے روزگار ہونے والے لاکھوں افراد کو درخت لگانے کی مہم کے لیے استعمال کرے۔ اس سے موسمی تبدیلیوں کے مضر اثرات کا خاطر خواہ سدباب بھی ہو گا اور لوگوں کے لیے روزی کمانے کا ذریعہ بھی پیدا ہو گا۔
آئی ایم ایف، یورپی یونین اور ایشیائی ترقیاتی بینک وغیرہ نے پاکستان کو اگلے پندرہ ماہ کے دوران میں 4.4 ارب ڈالر کی مالی امداد کی یقین دہانی کروائی ہے۔تاہم حکومت کو چاہیے کہ بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود کفالت کی کوشش کرے اور تعلیم، تعمیرات، توانائی، زراعت، صحت اور نقل و حمل ایسے شعبوں کو ترقی دے کر لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ ہر مسئلے میں اصلاح اور بہتری کا موقع موجود ہوتا ہے۔حکومت پاکستان کو کرونا وائرس کے مسئلے کو اجتماعی اور عوامی فلاح و بہبود کے موقع سے تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
دل کی آزادی شہنشاہی، شکم سامان موت
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
