تازہ ترین
‘حد بندی کمیشن کا حصہ نہیں بنوں گا‘
عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت قانون کا استعمال کرنا حتمی نتاءج پر اثر انداز ہونے کے مترادف:حسنین مسعودی
حد بندی کمیشن کے ممبر کے طور منتخب کئے جانے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمان حسنین مسعودی نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ اْس عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جس کو اْنہوں نے چیلنج کیاہے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے ’سریع الرفتار بھرتیوں ‘ کے اعلان کا مقصد بے روزگار نوجوانوں کو راحت دینا نہیں بلکہ یہاں ڈومیسائل نظام کو عملی جامہ پہنانے کا ایک منصوبہ ہے ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق لوک سبھا کے سپیکر اْوم برلا نے گذشتہ روز نیشنل کانفرنس کے ارکان پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبد اللہ، محمداکبر لون اور مسعودی کو اْس حد بندی کمیشن کے ارکان کے طور نامزد کیا تھا جس کو جموں کشمیر کی اسمبلی و پارلیمانی نشستوں کی نئی حد بندی عمل میں لانے کا کام سونپا گیا ہے ۔
پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے تاہم ابھی اس سلسلے میں کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمان حسنین مسعودی نے بھی اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اْن کی پارٹی نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ کمیشن کے ارکان کی نامزدگی سے پہلے اْنہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمان حسنین مسعودی نے کہا ’ اْن کی پارٹی اس ضمن میں صلاح مشورہ کررہی ہے تاہم وہ ذاتی طور اس کمیشن میں شامل نہیں ہونگے‘ ۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل کانفرنس کے ایک اور رکن پارلیمان اکبر لون نے بھی کہا ہے کہ نامزدگی سے قبل اْنہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔
لون کہنا تھا کہ اْن کی پارٹی کا یہی موقف ہے کہ وہ سیاسی قیدیوں کی رہائی سے قبل کسی سیاسی عمل کا حصہ نہیں بنے گی ۔ ادھر کے این ایس کو موصولہ تحریری بیان کے مطابق نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے کہا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے ’سریع الرفتار بھرتیوں ‘ کے اعلان کا مقصد بے روزگار نوجوانوں کو راحت دینا نہیں بلکہ یہاں ڈومیسائل نظام کو عملی جامہ پہنانے کا ایک منصوبہ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم نوایکٹ2019، جس کے تحت ریاست کا اپنا آئین ہونے کے باوجود جموں وکشمیر کا درجہ کم کرنے کے ساتھ ساتھ اسے منقسم کیا گیا،غیر آئینی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کیخلاف ہر سطح پر احتجاج ہو ا اور معاملہ عدالت عظمیٰ کے روبرو زیر سماعت ہے ۔
جموں و کشمیر تنظیم نوپر مشتمل ڈومیسائل نظام کے تحت (ریاستی قوانین کی اصلاح) آرڈر2020 ،جموں و کشمیر سول سروس2020اورجموں وکشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ (طریقہ کار) قواعد 2020،کا فریم ورک اور اس نظام کے تحت اٹھائے گئے تمام اقدامات غیر آئینی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اور ریاستی انتظامیہ آئینی سکیم سے جڑے ہوئے ہیں اور جس تنظیم نو ایکٹ کے تحت یہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ، وہ ابھی عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے اور سب سے اعلیٰ آئینی عدالت کے احترام میں اس کے اطلاق سے باز رہنا چاہئے ۔ ایساقانون، جس کی آئینی حیثیت عدالت عظمیٰ میں زیر بحث ہو، کے اختیارات کا استعمال کرنا حتمی نتاءج پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے ۔
حسنین مسعودی نے کہا کہ آئینی چیلنج ایک طرف، جموں وکشمیر کے باشندوں کیلئے10ہزار سریع الرفتار بھرتی عمل کو خوش آمد کرنے کی کوئی بھی وجہ موجود نہیں ہے کیونکہ جموں وکشمیر کے پشتینی باشندوں کے مخصوص ان 10ہزار اسامیوں کیلئے اب وہ ہزاروں غیر ریاستی اُمیدوار بھی شریک ہونگے جو یہاں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے اہل ہونگے ۔
انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل نظام سے نہ صرف جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے حقوق پر شب خون کے مترادف ہوگا بلکہ اس سے یہاں بے روزگاری کے گراف میں مزید اضافہ ہوگا ۔
انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ جموں وکشمیر کے 60ہزار سے زائد ڈیلی ویجروں ، کیجول لیبروں اور کنٹریکچول ملازمین کو مستقبل کیا جائے جو سالہاسال سے اپنی مستقلی کا انتظار کررہے ہیں ۔ حسنین مسعودی نے مرکزی حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ زمینی صورتحال کو تسلیم کرکے5اگست2019کو لئے گئے فیصلے کو فوری طور پر واپس لیں ۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
