تازہ ترین
لاک ڈاؤن 5.0: ہندوستان میں ’اَن لاک-1‘ کا آغاز، جانیں کس ریاست میں مل رہی چھوٹ اور کہاں پابندی رہے گی جاری!
ہندوستان میں آج سے کورونا لاک ڈاؤن کا پانچواں مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً دو مہینے سے بند پڑے ملک کو دوبارہ کھولنے کی قواعد شروع ہو گئی ہے۔ مرحلہ وار طریقے سے بندشوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ 30 جون تک چلنے والے لاک ڈاؤن 5.0 کے دوران پابندیاں صرف کنٹنمنٹ زون میں نظر آئیں گی۔ اَن لاک-1 کے پہلے مرحلہ میں مرکزی وزارت داخلہ کی رہنما ہدایات کے مطابق 8 جون سے سبھی مذہبی مقامات، ہوٹل، ریستوران اور شاپنگ مال کھل سکیں گے۔ ہندوستان کی کچھ ریاستوں نے اَن لاک-1 کے تحت اپنے اپنے حساب سے رعایتیں دی ہیں۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ ہندوستان کی اہم ریاستوں میں آج سے کیا کیا کھلا ہے اور کن ریاستوں نے پابندیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ میں تشدد کی آگ وہائٹ ہاؤس تک پہنچی، ٹرمپ مع اہل خانہ بنکر میں چھپنے کو مجبور
اتر پردیش:
اتر پردیش میں اَن لاک-1 میں کئی شعبوں میں چھوٹ دی گئی ہے۔ ریاست میں آج سے سبھی ریاستی دفاتر کھل گئے ہیں۔ لیکن دفتر میں تین شفٹ میں کیے جائیں گے، یعنی 9 سے 5، 10 سے 6 اور 11 سے 7 بجے تک۔ ریاست میں صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک دکانوں کو کھولنے کی اجازت رہے گی اور اس درمیان سپر مارکیٹ کو کھولنے کی بھی اجازت ریاستی حکومت نے دی ہے۔ علاوہ ازیں مٹھائی کی دکانیں بھی کھلیں گی لیکن صرف پارسل کی سہولت دی گئی ہے۔
یو پی انتظامیہ کے ذریعہ جاری گائیڈ لائنس کے مطابق بینکوئٹ ہال بھی کھل سکیں گے لیکن صرف 30 لوگوں کو ایک ساتھ جمع ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ سیلون، بیوٹی پارلر بھی کھلیں گے لیکن کورونا سے جڑی رہنما ہدایات پر عمل کرنا ان کے لیے ضروری ہے۔ ریاست میں آج سے پارک بھی کھلیں گے جس کا وقت صبح اور شام 5 بجے سے لے کر 8 بجے تک ہوگا۔ اسٹیڈیم کھولنے کی اجازت بھی انتظامیہ نے دی ہے لیکن ناظرین کے داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ٹو وہیلر اور فور وہیلر والوں کو آروگیہ سیتو ایپ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
بڑی بات یہ ہے کہ اتر پردیش میں 8 جون سے مذہبی مقامات، عبادت گاہوں، شاپنگ مال، ہوٹل اور ریستوراں کھولنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اس سلسلے میں بھی ریاستی حکومت نے رہنما ہدایات جاری کر دیئے ہیں جس پر سبھی کو عمل کرنا ہوگا۔
بہار:
بہار حکومت نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری رہنما ہدایات کو اپنی ریاست میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاک ڈاؤن 5.0 میں نتیش حکومت نے لوگوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے ریاست کے اندر بس سمیت سبھی پبلک ٹرانسپورٹ کو چلانے کی اجازت دی ہے۔ کنٹنمنٹ زون کو چھوڑ کر بہار کے سبھی اضلاع کی سبھی دکانیں، سرکاری اور نجی دفاتر، ہوٹل اور ریستوراں آج سے پوری طرح کھل جائیں گے۔ حالانکہ یہاں بیٹھ کر کھانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ یہ صبح 7 بجے سے رات 9 بجے تک کھلی رہ سکیں گی۔ ریاست میں رات کا کرفیو نافذ رہے گا۔ اس مدت میں صرف میڈیکل سامانوں کی دکانیں، دوا دکانیں اور میڈیکل کلینک ہی کھل سکیں گی۔ 8 جون سے کئی مزید معاشی اور سماجی سرگرمیاں شروع ہوں گی۔ تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ جولائی میں ہوگا۔ 21 کنٹنمنٹ زون کو چھوڑ کر لوگ کہیں بھی آمد و رفت کر سکیں گے۔
مہاراشٹر:
مہاراشٹر حکومت نے اَن لاک-1 کے تحت کسی بھی طرح کی نرمی دینے سے پرہیز کیا ہے۔ بین ریاستی ٹرانسپورٹیشن کی اجازت بھی ادھو حکومت نے نہیں دی ہے۔ مہاراشٹر حکومت نے کہا ہے کہ پھنسے ہوئے مہاجر مزدوروں وغیرہ کی بین ریاستی اور بین ضلعی آمد و رفت کو جاری رکھا جائے گا اور پورے مہاراشٹر میں لاک ڈاؤن 5.0 کی مدت کو 30 جون تک بڑھایا گیا ہے۔ حکومت نے مزید کہا کہ طبی اہلکاروں، صفائی اہلکاروں اور ایمبولنس کے لیے بین ریاستی آمد و رفت کی اجازت رہے گی اور گیراج، الیکٹریشین اور پلمبرس کو بھی کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس درمیان 5 جون سے ریاست میں بازار، دکانیں، کیب اور ٹیکسی چلانے کو منظوری دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 8 جون سے پرائیویٹ دفاتر 10 فیصد ملازمین کے ساتھ کھولے جا سکیں گے۔
گجرات:
گجرات میں رات 9 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو رہے گا۔ سبھی دکانیں شام 7 بجے تک کھلی رہیں گی۔ اس کے علاوہ گجرات ریاستی ٹرانسپورٹ کی بسیں سبھی ضلعوں میں چلیں گی۔ سبھی سرکاری دفاتر پیر سے کھل گئے ہیں۔ حالانکہ نئی گائیڈ لائن کے مطابق ہوٹل، ریستوران، مذہبی مقامات کو ضابطوں کی بنیاد پر کھولے جانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔
راجستھان:
نئی رہنما ہدایات کے مطابق راجستھان میں آج سے سبھی سیاحتی مقامات کھول دیئے گئے ہیں۔ پہلے ہفتہ تک مسافر مفت میں سیاحتی مقامات پر جا سکیں گے۔ تیسرے ہفتے میں نصف پیسہ دے کر سیاحتی مقامات کی سیر کر پائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : اروند کیجریوال نے دہلی بارڈر کو ایک ہفتہ تک مزید بند رکھنے کا کیا اعلان
چھتیس گڑھ:
ریاستی حکومت بین ضلعی اور بین ریاستی سفر کے لیے صرف ای-پاس والوں کو اجازت دے گی۔ ریاست 7 جون تک سبھی کھیل احاطوں، اسٹیڈیم اور عوامی پارک کو بھی بند رکھے گی۔
پنجاب:
پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے بھی مرکزی حکومت کی رہنما ہدایات کے مطابق لاک ڈاؤن 30 جون تک بڑھا دیا ہے۔ لیکن یہ لاک ڈاؤن کنٹنمنٹ زون تک ہی محدود رہے گا۔ محکمہ خوردنی اشیاء کو راشن کٹ میں ماسک بھی شامل کرنے کا حکم حکومت پنجاب نے دیا ہے، تاکہ کورونا انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
مدھیہ پردیش:
مدھیہ پردیش حکومت لاک ڈاؤن 15 جون تک بڑھانے کے حق میں ہے اور کنٹمنٹ علاقوں میں کوئی رعایت دینے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ حالانکہ گرین زون میں کچھ مزید راحت دینے پر غور ہو رہا ہے۔ ابھی حکومت اسکولوں کو بھی 13 جون کے بعد کھولنے کے حق میں ہے، لیکن کورونا انفیکشن کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی آخری فیصلہ لیا جائے گا۔
دہلی:
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے لاک ڈاؤن 5.0 کے مدنظر راجدھانی کے لیے کچھ نئی رہنما ہدایات کی جانکاری میڈیا کو دی۔ انھوں نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ایک ہفتے تک دہلی کے بارڈر سیل رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس دوران صرف ضروری خدمات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ نائی کی دکانیں اور سیلون کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن اسپا فی الحال بند رہیں گے۔
وزیر اعلیٰ کیجریوال نے میڈیا کو بتایا کہ آٹو رکشہ میں ایک سواری پر پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ پہلے دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں پر جو سواریوں کی پابندی تھی، وہ بھی ہٹا لی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم دکانوں کو کھولنے کے لیے طاق-جفت کے ضابطے پر عمل کر رہے تھے، لیکن مرکزی حکومت نے ایسا کوئی ضابطہ نہیں بنایا ہے، اس لیے اب سے سبھی دکانیں کھل سکتی ہیں۔
تمل ناڈو:
تمل ناڈو میں اَن لاک-1 کے تحت بین ریاستی بس ٹرانسپورٹیشن، میٹرو اور سَب اَربن ٹرین خدمات پر پابندی جاری رہے گی۔ ریاستی حکومت کے مطابق بین علاقائی اور بین ریاستی سفر کے لیے ای-پاس ضروری ہوگا۔ 40 فیصد اسٹاف کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ سبھی نان اے سی ریستوران کو 50 فیصد ملازم کے ساتھ کھانا دستیاب کرانے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ چنئی کے باہر کی صنعتیں اور نجی ادارے، جیسے آئی ٹی کمپنیاں 100 فیصد ملازمین کے ساتھ کام کر سکیں گی۔ شہری علاقوں کے اندر، آئی ٹی کمپنیوں کو دفاتر میں صرف 20 فیصد ملازم رکھنے کی اجازت ہے۔
شمال مشرق کی ریاستیں:
شمال مشرقی ریاستوں میں میگھالیہ نے لاک ڈاؤن کی مدت کو 6 جون تک بڑھا دیا ہے اور گاڑیوں کی بین ضلعی اور بین ریاستی آمد و رفت پر پابندی بھی جاری رکھی ہے۔ میزورم حکومت نے بھی کہا ہے کہ مسافروں کو لے جانے والی گاڑیوں کی سبھی بین ریاستی یا سرحدی آمد و رفت پر پابندی رہے گی۔ میگھالیہ میں کورونا وائرس کے 27 جب کہ میزوم میں ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔
دنیا
تبت میں شدید زلزلہ، کم از کم 16 افراد ہلاک
بیجنگ، چین کے خود مختار علاقے تبت میں 7 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام نے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کے مطابق، شمالی تبت کے ایک دور افتادہ علاقے میں جمعرات کی رات 10 بج کر 33 منٹ پر زلزلہ آیا۔ جمعہ کو بھی متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری رہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق، متاثرہ علاقے میں زلزلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل کی سطح دوم نافذ کردی گئی ہے۔ زلزلے کے باعث بجلی اور مواصلات کا نظام متاثر ہوا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، کم آبادی والے بلند پہاڑی شہر ناگچو کے حکام نے بتایا کہ زلزلے میں 65 افراد تک زخمی ہوئے ہیں، تاہم بعض دیگر رپورٹوں میں زخمیوں کی تعداد اس سے کچھ کم بتائی گئی ہے۔
یہ جنوری 2024 کے بعد چین میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔ حکام کے مطابق، کم از کم 339 مکانات اور مویشیوں کے 20 باڑے منہدم ہوگئے ہیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری ویڈیوز میں لوگوں کو اپنے مکانات سے باہر نکلتے اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں یا کھلی جگہوں پر پناہ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، زلزلے کا مرکز ایک پہاڑی علاقے میں تھا، جو ناگچو سے تقریباً 190 کلومیٹر مشرق شمال مشرق اور تبت کے دارالحکومت لہاسا سے تقریباً 390 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
الجزیرہ کی نامہ نگار کترینا یو نے بیجنگ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ چینی حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لیے 1,600 اہلکار تعینات کیے ہیں۔ تاہم، تقریباً 4,800 میٹر کی بلندی پر واقع متاثرہ علاقے تک پہنچنا مشکل ہے، کیونکہ متعدد سڑکیں بند ہیں یا چٹانیں کھسکنے سے متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ چند گھنٹوں اور دنوں میں برف باری کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔
کترینا یو کے مطابق، یہ خطہ زلزلوں کے لیے نیا نہیں ہے، کیونکہ یہ ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کے اتصال کے علاقے میں واقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے کی آبادی کم ہونے کی وجہ سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
