تازہ ترین
کورونا لاک ڈاءون کاکشمیر میں 72واں روز : معمو لات زندگی ہنوز مفلوج ،نجی گاڑیوں کی آوا جاہی میں اضافہ
وادی کشمیر میں منگلوار کوکورونا لاک ڈاءون کے 72ویں روز بھی جملہ معمولات زندگی مفلوج رہے ۔ تاہم نجی گاڑیوں کی آوا جاہی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ طویل عرصے کے بعد اکا دکا آٹو رکھشا بھی کہیں کہیں نظر آئے ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق ملک لاک ڈاءون کے پانچویں مرحلے کے دوسرے دن اور کشمیر وادی میں 72ویں روز بھی ہر طرح کے معمولات زندگی ٹھپ رہے ۔ شہر ودیہات میں منگلوار کو بھی دکانیں ،کاروباری ادارے تجارتی مراکز ،تعلیمی ادارے مقفل رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں اور شاہراہوں سے غائب رہا ۔
شبانہ کرفیو کے نفاذ کے بیچ منگل کی صبح سے ہی شہر سرینگر کے سبھی علاقوں اور وادی کے دیگر قصبوں میں بندشیں سوموار کی طرح نرم کی گئیں اور نجی گاڑیوں کی آمد و رفت میں کوئی خلل نہیں ڈالا گیا ۔ سڑکوں پر بچھائی گئیں خاردار تاریں ہٹا دی گئیں ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی آمد و رفت میں اضافہ ہوا ۔ نجی گاڑیوں کی معمول کی آمد و رفت میں پچھلے کئی روز سے بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔
شہر میں کہیں کہیں اکا دکا آٹو رکھشا بھی اب نظر آنے لگے ہیں اور پائین شہر کیساتھ ساتھ سیول لائنز میں بھی ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک موٹر سائیکلوں ، پرائیویٹ گاڑیوں اور آٹو رکھشا کا استعمال کررہے ہیں ۔
وادی کشمیر میں جاری لاک ڈاءون کی وجہ سے اقتصادیات پر منفی اثرارت مرتب ہورہے ہیں ۔ پہلے سیکیورٹی لاک ڈاءون کی وجہ سے کشمیر میں اقتصادیات کو شدید نقصان سے دوچار ہونا پڑا جبکہ اب کورونا لاک ڈاءون سے وادی میں اقتصادی کمر ٹوٹ رہی ہے ۔
اگرچہ صبح کے اوقات محلہ سطح کی دکانیں کھلنی شروع ہوگئی ہیں ،تاہم پولیس کی کارروائی سے خاءف ہو کر یہ دکانیں چند گھنٹوں کےلئے ہی کھلتی ہیں ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے پورے ملک میں گزشتہ دو مہینوں سے زیادہ وقت سے جاری لاک ڈاوَن کو اب صرف کنٹنمنٹ زون تک محدود کرکے اس کی مدت میں 30 جون تک توسیع کردی گئی ہے ۔
کنٹنمنٹ زون سے باہر کے علاقوں میں مختلف سرگرمیوں پر چوتھے مرحلہ میں نافذ پابندیوں کو مرحلہ وار طریقہ سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مرکزی داخلہ سکریٹری نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت قائم قومی ایگزیکٹیو کمیٹی کے صدر کی حیثیت سے اس بارے میں احکامات جاری کئے ۔
احکامات کے ساتھ کنٹنمنٹ زون کے لئے خصوصی رہنما ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں ۔ پہلے مرحلہ میں آئندہ 8جولائی سے مذہبی مقامات، ہوٹلوں ، ریستورانوں اور دیگر مہمان نواز ی کے مراکز اور شاپنگ مال کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ دوسرے مرحلہ میں ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام ریاستوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد اسکول، کالج، تعلیمی، تربیتی اور کوچنگ سنٹر وغیرہ کھولے جائیں گے ۔
ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام ریاستیں اداروں ، والدین اوردیگر فریقین کے ساتھ بھی صلاح ومشورہ کریں گی ۔ ان صلاح و مشوروں کی بنیاد پر ان اداروں کو کھولنے کے بارے میں فیصلہ جولائی میں کیا جائے گا ۔
اس کے بارے میں بھی تمام متعلقہ فریقین اور ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ایس او پی جاری کیا جائے گا ۔ تیسرے مرحلہ میں حالات کے وسیع جائزہ کے بعد بین الاقوامی فضائی سفر، میٹرو ریل، سنیما ہال، جم، سوئمنگ پول، تفریحی پارک، تھیٹر، بار، آڈیٹوریم، اسمبلی ہال اور اسی طرح کے دیگر مقامات کو کھولنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا ۔
سماجی، سیاسی، کھیل، تفریح، تعلیمی، ثقافتی، مذہبی تقاریب اور بھیڑ بھاڑ والی تقریبات کے انعقاد کے بارے میں فیصلہ صورتحال کے جائزہ کے بعد ہی کیا جائے گا ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
