تازہ ترین
سوپور حملے میں 2لشکر طیبہ جنگجوملوث،مسجد میں چھپے تھے
جوابی کارروائی میں گولی نہیں چلائی،الزامات بے بنیاد
امسال 67نوجوان جنگجوؤں کی صف میں شامل ہوئے،24مار گئے،12گرفتار:آئی جی پی
خبراردو:-
سرینگر:شمالی قصبہ سوپور کے ماڈل ٹاؤن میں بدھ کی صبح سی آر پی ایف پر ہوئے حملے کیلئے لشکر طیبہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون نے کہا کہ ملی ٹنٹوں نے حملے کیلئے مسجد میں پناہ لی تھی اور اُنکی نشاندہی ہوچکی ہے جبکہ عام شہری کی ہلاکت فورسز فائرنگ سے نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جاں بحق شہری کے لواحقین کے الزامات بے بنیاد ہیں جبکہ تین سالہ معصوم کو فورسز نے ہی بچالیا۔
ان کا کہناتھا کہ امسال 67مقامی نوجوان جنگجوؤں کی صف میں شامل ہوئے جن میں 24مارے گئے،12گرفتار کئے گئے اور باقی ابھی بھی سرگرم ہیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق پولیس کنٹرول روم سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف
پولیس،وجے کمار نے کہا کہ سوپور حملے میں لشکر طیبہ کے جنگجو ملوث ہیں،جنکی نشاندہی کی گئی ہے۔ا
نہوں نے کہا کہ سی آر پی ایف کی ناکہ پارٹی پر حملہ کرنے کیلئے عسکریت پسندوں نے مسجد میں پناہ لی تھی۔ان کا کہناتھا کہ حملے میں سی آر پی ایف اہلکار اور عام شہری جاں بحق ہوئے جبکہ کمسن بچے کو بچالیا گیا۔انہو ں نے عسکریت پسندوں کی فائرنگ کے جواب میں فورسز نے ایک بھی گولی نہیں چلائے۔انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے فورسز پر30گولیاں چلائیں کیونکہ مسجد کے احاطے سے2میگزین برآمد کئے گئے جن میں ایک میں پوری گولیاں تھیں جبکہ ایک میں 30گولیاں تھیں۔
ان کا کہناتھا کہ حملے میں جہاں فورسز کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہیں عام شہری کو بھی گولی لگی اور بعد ازاں زندگی کی جنگ ہار گیا۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن سوپور حملے کی کارروائی لشکر طیبہ کے2جنگجوؤں نے انجام دی جنکی نشاندہی غیر مقامی عثمان بھائی اور مقامی ملی ٹنٹ عادل کے بطور ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ حملے کے دورن3سالہ معصوم بچے کو بچالیا گیا،جو اپنے نانا کیساتھ تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ محسوس کیا ہے کہ جہاں کہیں بھی لوگوں کی بھیڑ ہوتی ہے،وہیں پر ملی ٹنٹ حملے کرتے ہیں تاکہ امن وقانون کی صورتحال میں رخنہ ڈالا جاسکے۔آئی جی پی نے
کہا ’ہم نے جان بوجھ کر واقعہ کے بعد انٹر نیٹ سروس بند نہیں کی،کیونکہ ہم دیکھنا چاہتے تھے لوگوں کا کیا ردِ عمل رہتا ہے‘۔
https://www.facebook.com/Khabarurdu/videos/304015423979988/?t=178
انہوں نے کہا ’جاں بحق شہری کے بیٹے اور بیٹی کے جو ویڈ یو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی وہ سراسر بے بنیاد ہیں‘۔ان کا کہناتھا ’انہوں نے ملی ٹنٹوں کے خطرے کے پیش نظر فورسز پر الزامات عائد کئے،میں اُن سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ واقعہ کے وقت جائے واردات پر موجود تھے؟‘۔آئی جی نے کہا’کیا آپ نے گولی چلانے والے کو خود دیکھا؟،انہوں نے جو الزامات فورسز پر لگائے وہ سراسر غلط ہیں‘۔ان کا کہناتھا’اگر کوئی عینی شاہد وہاں موجود تھا،تو وہ آگے آئے،ہم اسی طرح کارروائی کریں گے‘۔
ان کا کہناتھا ’فورسز نے جوابی کارروائی میں فائرنگ نہیں کی حملہ آؤروں کو ڈھونڈنکالنے کے لئے علاقے میں تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی‘۔جب آئی جی سے پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا پر تصاویر کیسے وائرل ہوئیں؟تو انہوں نے جواب میں کہا ’آپریشن والے علاقے میں موبائیل فون کیساتھ جانا غلط ہے،میں یہ یقینی بناؤں گا جب پولیس ٹیم کوئی آپریشن انجام دے گی وہ اپنے ساتھ مو بائیل ساتھ نہ لیجائیں،یہ اُنکی جان کیلئے خطرہ ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ سال 2018میں ڈیوٹی کے دوران فون استعمال کرنے کی وجہ سے کئی اہلکار مار ے گئے۔
ان کا کہناتھا کہ سال2019میں جون کے آخر تک129مقامی نوجوان جنگجوئیت کے راستے پر چلے گئے اور امسال اس مدت کے دوران 67نوجوان جنگجوئیت کی راہ پر نکلے جن میں سے24مار ے گئے اور12کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر اب بھی سر گرم ہیں۔ان کا کہناتھا کہ یکم جنوری سے جون کے آخر تک 118جنگجو مارے گئے جن میں 107مقامی اور11غیر مقامی ہیں۔انہوں نے اعداد وشمار ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ 57کا تعلق حزب المجاہدین،22کا تعلق لشکرطیبہ،7کا تعلق آئی ایس جے کے،7کا تعلق اے جی ایچ اور ایک کا تعلق البدر عسکری تنظیم سے ہے۔انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا مین اسٹریم دھارے میں لانے کیلئے اپنا رول ادا کریں۔
ہندوستان
ترکیہ کے صدر کو ہندوستان کی خود مختاری سے جڑے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے جموں و کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کی خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر کسی بیرونی فریق کو بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان اس ناپسندیدہ تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، “ترکیہ کے صدر کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران جموں و کشمیر کے بارے میں ناپسندیدہ تبصرے کو ہندستان مسترد کرتا ہے۔ یہ ہندوستان کی سالمیت نیز خود مختاری سے جڑا معاملہ ہے اور کسی بیرونی فریق کو اس پر بولنے کا حق نہیں ہے۔”
رپورٹوں کے مطابق مسٹر اردگان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) میں رکنیت کے بارے میں تمام اراکین مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی رکنیت کا موضوع آتا ہے تو اراکین کو اجتماعی طور پر اس بارے میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
ان سے میڈیا میں آئی ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ترکیہ کو ایس سی او کا مکمل رکن بنانے کے حق میں نہیں ہے۔
یواین آئی ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے احتجاج کے بعد عمر نے ارکان اسمبلی اور وزراء کی تنخواہوں میں اضافے کے بل واپس لیے
سری نگر، بی جے پی کے احتجاج کے بعد منگل کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزراء، وزرائے مملکت اور قانون ساز ادارے کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنس میں اضافے کی تجویز والے 2 بل واپس لے لیے۔
اتفاق سے جموں و کشمیر اسمبلی کی ایک ایوانی کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی کے رکن اسمبلی سرجیت سنگھ سلاتھیہ کر رہے تھے، مجوزہ اضافے کی منظوری دی تھی۔
بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے ایوان میں کہا کہ حکومت کو یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین اور معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین کو راحت فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
بل پیش کیے جانے کے بعد بی جے پی ارکان کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایوانی کمیٹی میں کوئی اختلافی نوٹ نہیں تھا، جس نے تنخواہوں اور الاؤنس میں مجوزہ اضافے کی سفارش کی تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کے ارکان ایک طرف تنخواہوں اور الاؤنس کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو درپیش مسائل کا حوالہ دے کر اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں کبھی اس کے حق میں نہیں تھا۔ اپنے ارکان اسمبلی سے پوچھ لیجیے۔ اگر ایک بھی رکن اس کی مخالفت کرتا ہے تو یہ کبھی منظور نہیں ہوگا۔ میں بل واپس لیتا ہوں۔‘‘
اس کے بعد ایوان نے اکثریت سے قانون سازی واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے یہ بل واپس لیے۔
تاہم، ایوان نے سابق ارکان قانون ساز ادارے سے متعلق ایک بل منظور کرلیا۔ حکمراں اور اپوزیشن دونوں جانب کے ارکان نے کہا کہ چونکہ یہ بل سابق ارکان سے متعلق ہے، اس لیے اسے واپس نہیں لیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے بلدیاتی نظم و نسق، کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی، ٹیکس نظام، ٹیکسوں کو معقول بنانے اور جرائم کو غیر فوجداری بنانے سے متعلق وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیے گئے 4 بل منظور کر لیے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بل 24 ستمبر اور 28 ستمبر کو پیش کیے تھے اور متعلقہ تاریخوں پر ارکان میں تقسیم کیے گئے تھے۔ بعد ازاں اسمبلی کے جاری خزاں اجلاس کے دوران انہیں غور و خوض اور منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے پیش کیے گئے بلوں میں جموں و کشمیر میونسپل (ترمیمی) بل بھی شامل ہے، جسے انہوں نے مکان اور شہری ترقی کے انچارج وزیر کی حیثیت سے پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے انچارج وزیر کی حیثیت سے جموں و کشمیر کاروبار کرنے میں آسانی بل، 2026 پیش کیا۔
اس بل کا مقصد اجازت پر مبنی نظام کی جگہ ضابطوں پر مبنی نظم و نسق قائم کرنے کے لیے قانون کو یکجا اور اس میں ترمیم کرنا اور شہریوں اور کاروباری اداروں کو اعتماد کے ساتھ منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کاروبار کرنے میں آسانی اور زندگی گزارنے میں آسانی کو اس طرح فروغ دینا ہے کہ روزگار پیدا ہو، سرمایہ کاری راغب ہو اور طویل مدتی اقتصادی ترقی برقرار رہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر خزانہ کے طور پر اپنی حیثیت میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس (ترمیمی) بل، 2026 بھی پیش کیا، جس میں جموں و کشمیر اشیا و خدمات ٹیکس ایکٹ، 2017 میں ترمیم کی تجویز ہے۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کیا گیا ایک اور قانون سازی کا مسودہ جموں و کشمیر جرائم کو غیر فوجداری بنانے اور معقول بنانے سے متعلق بل، 2026 تھا۔ اس بل کا مقصد بعض قوانین میں ترمیم کرکے جرائم کو غیر فوجداری بنانا اور انہیں معقول بنانا ہے تاکہ زندگی گزارنے میں آسانی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ بعض قوانین کو منسوخ کرنے اور اس سے متعلق یا ضمنی معاملات کو نمٹانے کی بھی تجویز ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: سی آئی ایس ایف کیمپ میں فائرنگ، 4 اہلکاروں کی مبینہ موت
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے بسوہلی علاقے میں منگل کی شام آپسی فائرنگ کے ایک واقعے میں اسسٹنٹ کمانڈنٹ اور سب انسپکٹر سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکاروں کی مبینہ طور پر موت ہوگئی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ’’ابتدائی اطلاعات کے مطابق سی آئی ایس ایف اہلکاروں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔‘‘ بسوہلی کے مَشکا علاقے میں سیوا پروجیکٹ کے قریب واقع سی آئی ایس ایف کیمپ میں آج شام فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اہلکار پروجیکٹ کی حفاظت کے لیے تعینات تھے۔
اسسٹنٹ کمانڈنٹ، سب انسپکٹر اور 2 جوانوں سمیت سی آئی ایس ایف کے 4 اہلکار شدید زخمی ہوگئے اور انہیں پڑوسی ریاست ہماچل پردیش کے این ایچ پی سی اسپتال لے جایا گیا، لیکن انہوں نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
مرنے والے اہلکاروں کی شناخت اسسٹنٹ کمانڈنٹ انکِت کمار پانڈے، سب انسپکٹر لکشمن سنگھ، کانسٹیبل رفیق احمد اور کانسٹیبل سندیپ کمار کے طور پر ہوئی ہے۔مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
کٹھوعہ ضلع کی سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس موہیتا شرما نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا7 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان7 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
