تازہ ترین
صحت یاب افراد کے پلازما سے علاج پر تحقیق جاری
سب لوگ ماسک پہنیں تو وبا تھم جائے گی: امریکی معالج ڈاکٹر ریڈفیلڈ
خبراردو:-
سرینگر: امریکہ کے سینٹرز فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سربراہ ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کہا ہے کہ سب لوگ ماسک پہنیں تو چند ہفتوں میں کرونا وائرس کی وبا تھم جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وائرس صورت بدل رہا ہے، لیکن ایک بار ویکسین بن گئی تو اسے نہیں بدلنا پڑے گا، البتہ بار بار لگوانی پڑ سکتی ہے ۔
کشمیر نیو زسروس ما نیٹر نگ ڈیسک کے مطابق امریکا کے معروف معالج ڈاکٹر ریڈفیلڈ نے کہا کہ وبا امریکہ کو پانچ سے سات ہزار ارب ڈالر کا نقصان پہنچائے گی، جبکہ امریکہ میں صحت کے شعبے کے لیے اتنی رقوم مختص نہیں کی جاتیں جتنی ضرورت ہے ۔
صحت عامہ کے شعبے پر توجہ دی جانی چاہیے اور اس میں زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے ۔ سی ڈی سی کے ڈائریکٹر نے وائس آف امریکہ کی خصوصی نمائندہ گریٹا وین سسٹیرن کو ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ ریمڈیسوئیر کام کی دوا ہے لیکن جب کوئی شخص وائرس میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اسے بیماری سے زیادہ خطرہ اپنے ہی مدافعتی نظام سے لاحق ہوتا ہے جو شدت سے کام شروع کردے تو اعضا خراب ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ ان کا کہناتھا کہ مدافعتی نظام میں شدت سے جسم میں سوزش پیدا ہوتی ہے ۔
ریمڈیسوئیر اس مرحلے پر کام نہیں آتی بلکہ اس وقت اسٹیروئیڈ یعنی ڈیگزامیتھاسون فائدہ پہنچاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحت یاب افراد کے پلازما سے علاج پر تحقیق جاری ہے جس میں کامیابی ملی تو بہت سے لوگوں کو بچانے میں مدد ملے گی ۔ ہائیڈرواءوکسی کلوروکوئن پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے مفید نہیں ۔ ڈاکٹر ریڈفیلڈ نے بتایا کہ جب انھوں نے ایچ آئی وی کے مریضوں کا علاج شروع کیا تو اس وقت مریض اوسطاً 10 ماہ زندہ رہتے تھے ۔ لیکن اب پوری عمر جی لیتے ہیں ۔
سائنس نے ترقی کی ہے اور بیماریوں کا علاج فراہم کررہی ہے ۔ کرونا وائرس کی ویکسین بنانے میں بھی کامیابی مل جائے گی ۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس سے پہلے کمزور اور خطرے کے شکار لوگوں کو کیسے بچایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہ میں امید تھی کہ موسم گرما میں وبا کا زور کم ہوجائے گا، جو نہیں ہوا ۔ اور اب موسم خزاں میں مسائل بڑھیں گے جب فلو وائرس بھی پھیلے گا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس وقت تک ویکسین دستیاب ہوجائے تاکہ پہلے کمزور افراد اور فرنٹ لائن کے طبی عملے کو فراہم کی جاسکے ۔
اس کے بعد امریکی عوام اور پوری دنیا میں لوگوں کو ویکسین فراہم کی جائے گی ۔ ڈاکٹر ریڈفیلڈ کا کہنا تھا کہ عام طور پر ویکسین کی تیاری میں کئی سال لگ جاتے ہیں اور تین بار کی آزمائش اور پھر وسیع پیمانے پر پیداوار میں طویل عرصہ صرف ہوتا ہے ۔ وہ وقت گھٹا کر تیزی سے ویکسین بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال ہم یہ نہیں جانتے کہ ویکسین سے تحفظ کتنے عرصے کے لیے ملے گا ۔
وائرس صورت بدل رہا ہے ۔ لیکن ویکسین بن جائے تو اسے نہیں بدلنا پڑے گا ۔ صرف یہ جاننا ہوگا کہ کتنے عرصے میں اسے دوبارہ لگوانا پڑے گا ۔ ڈاکٹر ریڈفیلڈ نے کہا کہ بچے کرونا وائرس سے کم متاثر ہو رہے ہیں اور اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے دس لاکھ بچوں میں سے ایک اس سے ہلاک ہو رہا ہے ۔ ان میں سے بھی کچھ کو پہلے سے طبی مسائل تھے ۔ لیکن یہ بچے بڑوں کو وائرس لگا سکتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ وہ تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حق میں ہیں ۔
لیکن یہ کام احتیاطی تدابیر اختیار کرکے کرنا چاہیے اور ان بچوں اور اساتذہ کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے جنھیں زیادہ خطرہ لاحق ہوگا ۔ اسکول نہ جانے سے بھی صحت کو خطرات ہوسکتے ہیں مثلا 71لاکھ بچوں کا اسکول جانے سے ذہنی علاج میسر آتا ہے ۔ بچوں کے اسکول نہ جانے سے حفظاں صحت کے مسائل ہوتے ہیں ۔ اس لیے ہ میں خطرہ بمقابلہ خطرہ جیسی صورتحال درپیش ہے ۔
ڈاکٹر ریڈفیلڈ نے کہا کہ وبا کے دوران سب سے بڑی ڈھال چہرے کا ماسک ہے ۔ اگر پوری قوم اگلے چھ آٹھ ہفتوں تک ماسک پہنے تو وبا تھم جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ70 فیصد بیماری اس لیے پھیلتی ہے کہ لوگ ماسک نہیں پہنتے ۔ باراز کو بھی بند کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہاں زیادہ وقت گزارنے والے سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھتے اور ماسک نہیں پہنتے ۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
