تازہ ترین
جموں و کشمیر: لیفٹیننٹ گورنر نے 73 منصوبوں کا آغاز کیا
مرکز کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو نے 6 اضلاع کے دورہ کے دوران 476 کروڑ روپئے کی لاگت کے 73 منصوبوں کا آغاز کیا اور ان کی جلد تکمیل کےلیے ہدایات دیں۔
لیفٹننٹ گورنر نے چھ اضلاع کے دورہ کے دوران 151.79 کروڑ روپئے کے 48 ترقیاتی پراجکٹس کا ای۔افتتاح انجام دیا اور 290.80 کروڑ روپئے کی لاگتی منصوبوں کا ای۔فاونڈیشن رکھا۔
ضلع کپواڑہ کے دورے کے دوران جی سی مرمو نے 24.80 کروڑ روپئے سے تعمیر کردہ ایس ڈی ایچ کپوڑا میں آئی پی ڈی بلاک، ڈسٹرکٹ اڈمنسٹریٹیو کامپلکس میں 23.9 لاکھ سے تعمیر کردہ ویڈیو کانفرنس ہال کا افتتاح انجام دیا اور 1.88 کروڑ روپئے لاگتی لولاب روڈ پراجکٹ کے تحت متوازی بائی پاس پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔
کولگام کے دورے پر لیفٹیننٹ گورنر نے چاولگام میں 7.40 کروڑ روپئے سے تعمیر ہونے والے 50 بیڈز پ مشتمل آیوش ہسپتال پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔انہوں نے اپنے دورہ بانڈی پورہ، کپواڑہ، کلگام، پلواما، شوپیان اور باراملا کے دوران افتتاح انجام دیئے گئے 48 منصوبوں میں 8 پل، 5 اسکول، 2 کالج، 3 ریزیونگ اسٹیشنز، 5 ہسپتال، 4 ہاسٹلز، 9 واٹر سپلائی اسکیمز، 7 بلڈنگز اور 5 دیگر پراجکٹس شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے 21 میگا پراجکٹس کا ای۔بنیاد رکھا جن میں کپواڑہ میں 50 بستروں پر مشتمل ایوش ہسپتال، گولگام اور سوپور میں 2 ہسپتال، شوپیان اور کپواڑہ میں 2 ٹرانزٹ رہائش گاہ، 5 سڑکیں، 2 پانی سربراہی کی اسکیمز، ایک 12 میگاواٹ ہائیڈروالیکٹرک پراجکٹ، 2 کالجز، 4 عمارتیں اور ایک انڈور اسٹیم وغیرہ شامل ہیں۔
جی سی مرمو کے دورہ کے دوران ایل جی بصیر احمد خان، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ، ڈویژنل کمشنر کشمیر، متعلقہ ڈی ایس پیز اور مختلف محکموں کے دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔(ای ٹی وی)
ہندوستان
راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کو چائے پر بلایا، طے کریں گے آگے کی حکمت عملی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کو منگل کی شام چار بجے چائے پر مدعو کیا ہے۔ اس میٹنگ میں الیکشن کمیشن کے خلاف چلائی جا رہی مہم کو آگے بڑھانے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
مسٹر گاندھی کی رہائش گاہ 5 سنہری باغ میں ‘ہائی ٹی’ کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں اتحاد کے آئندہ کے پروگراموں اور مبینہ ووٹ چوری کے معاملے پر احتجاج کی اگلی حکمت عملی پر غور و خوض کیا جا سکتا ہے۔
انڈیا اتحاد پچھلے کچھ دنوں سے ووٹر فہرستوں کے خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنے اور چیف الیکشن کمشنر گینیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کے حق میں مظاہرہ کر رہا ہے۔ مسٹر گاندھی نے ان مسائل پر پیر کے روز بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک نکالے گئے مارچ کی کامیابی کے لیے کل دیر رات اس میں شامل تمام لوگوں کے ساتھ ساتھ اتحاد کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا تھا۔
کانگریس رہنما کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی اس چائے پارٹی میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی تال میل، آئندہ کے پروگراموں اور ان مسائل پر احتجاج کے طریقۂ کار پر تبادلہ خیال کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
ایران کی برطانوی الزامات کی تردید، آر اے ایف فیئر فورڈ واقعے پر ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ
لندن، ایران نے منگل کو برطانیہ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ امریکی فوج کے زیر استعمال برطانوی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے پیچھے تہران کا ہاتھ تھا۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اس واقعے کے ایران میں منظم کیے جانے کا ”بہت زیادہ امکان” ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ہدایت تقریباً یقینی طور پر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کے الزامات کو ”بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”بہت زیادہ امکان” اور ”تقریباً یقینی” جیسی اصطلاحات مبہم ہیں اور ان کے حق میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، تہران نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرے۔
برنہم نے پیر کو ایوانِ نمائندگان میں کہا تھا کہ برطانیہ کے پاس 27 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ”مضبوط اشارے” موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع فضائی اڈے پر سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا اور امریکی بی ون بمبار طیاروں کو وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔
برنہم نے کہا، ”ہماری جانچ کے مطابق اس واقعے کو ایران میں منظم کیے جانے کا بہت زیادہ امکان ہے اور تقریباً یقینی طور پر اس کی ہدایت ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دی تھی۔ ہم اپنی سرزمین پر ایسے خطرات برداشت نہیں کریں گے۔”
برطانوی حکومت نے اس واقعے پر ایران کے سفیر علی موسوی کو طلب کیا، جبکہ وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دو ایرانی شہریوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان پر تہران کی جانب سے مخالفانہ سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
ملی بینڈ کے مطابق، پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندی اور کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہونے سے نااہل قرار دینا شامل ہے۔
برطانیہ نے جن دو افراد کے نام ظاہر کیے ہیں، ان میں روح اللہ بازغندی شامل ہیں، جنہیں برطانوی حکام نے آئی آر جی سی میں انسدادِ جاسوسی کارروائیوں کا سربراہ بتایا ہے۔ دوسرے شخص شہرام علی رضا تمرزادہ زکی ہیں، جن پر زندشتی جرائم پیشہ نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
برنہم نے کہا کہ برطانیہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور ان کی مالی معاونت کے ذرائع کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے گی۔
27 ستمبر کو آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ برطانوی شہریوں کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں سخت شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جبکہ چند روز بعد ایک اور گرفتاری عمل میں آئی۔
پولیس نے بتایا تھا کہ وہ کسی غیر ملکی ریاست کے ملوث ہونے کے امکان کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ اس سے قبل ایک مقامی کسان نے فضائی اڈے کے قریب چند افراد اور کئی سفید وینوں کی مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، تفتیش کاروں کو گاڑیوں میں پیٹرول سمیت آتش گیر مادے ملے تھے، تاہم دھماکہ خیز مواد سے متعلق مبینہ منصوبے کی حقیقت اور اس کی عملی حیثیت ابھی واضح نہیں تھی۔
اس واقعے کے بعد امریکی بی ون بمبار طیاروں کو آر اے ایف فیئر فورڈ سے ہٹا لیا گیا، جبکہ بی 52 بمبار طیارے فضائی اڈے پر موجود رہے۔
دریں اثنا، 29 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ایران پر ان کے اور ان کے شراکت داروں کے خلاف پُرتشدد حملوں، مبینہ مہلک سازشوں، آتش زنی، تخریب کاری اور سائبر حملوں سمیت دیگر مخالفانہ سرگرمیوں کی مذمت کی۔ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اسپین اور آئرلینڈ شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ کا اصرار، روس اور یوکرین کے درمیان توانائی سے متعلق جنگ بندی برقرار، کیف کا روسی حملوں کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ روس اور یوکرین نے ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں سے ”مضحکہ خیز جنگ” ختم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان پیر کو ایسے وقت سامنے آیا جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے اتوار کو جنگ بندی کا اعلان کیے جانے کے بعد سے روسی افواج نے یوکرین کی توانائی کی کم از کم چھ تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن اور زیلنسکی کے حوالے سے کہا، ”انہوں نے اتفاق کیا ہے۔ کیونکہ میں نے کہا تھا، ‘آپ اتفاق کرتے ہیں۔’ اسی لیے انہوں نے اتفاق کیا، کیونکہ میں نے کہا کہ وہ متفق ہیں۔”
روسی حملوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا، ”مجھے اس کا جائزہ لینا ہوگا اور دیکھنا ہوگا، کیونکہ دونوں جانب سے خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔”
امریکی صدر نے فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے سے شروع ہونے والی جنگ کو ”تباہ کن” قرار دیا۔ انہوں نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے دعویٰ کیا کہ صرف رواں ماہ میں کم از کم 32 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا، ”میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ زیلنسکی اور پوتن کو مل کر اس مضحکہ خیز جنگ کو ختم کرنا ہوگا۔”
ٹرمپ نے اتوار کو توانائی سے متعلق جنگ بندی کا اعلان کرکے یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں کو اچانک حیران کر دیا تھا۔ یہ اعلان روسی ڈیزل پر امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی کے دو دن بعد سامنے آیا، جس پر یورپ اور یوکرین میں شدید ناراضی ظاہر کی گئی تھی۔
زیلنسکی نے کہا تھا کہ اس اقدام سے روسی معیشت کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مغربی ممالک کی برسوں کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا اور پوتن کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ارکانِ کانگریس نے بھی کہا ہے کہ روسی ڈیزل سے متعلق فیصلہ امریکی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔ متعدد ریپبلکن ارکان نے اعتراض کیا کہ یہ اقدام اس قانون کو کمزور کرتا ہے جس پر خود ٹرمپ نے دستخط کیے تھے اور جس کا مقصد ماسکو پر پابندیاں سخت کرنا تھا۔
زیلنسکی نے پیر کو کہا کہ یوکرین توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کی جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے اور اس نے رات کے دوران روسی آئل ریفائنریوں پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق، کیف اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ”ضمانتوں پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہے کہ ان پر بھروسا کیا جا سکے”۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ بات ”روز بروز واضح ہوتی جا رہی ہے” کہ ماسکو اس معاہدے کی پابندی نہیں کرے گا۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”صرف آج روسیوں نے یوکرین میں توانائی کی چھ تنصیبات پر حملے کیے۔ ملک بھر میں 33 افراد زخمی ہوئے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب روس کو اپنی جنگی مشین کے لیے زیادہ آمدنی حاصل ہونے کے امکانات نظر آتے ہیں۔”
دوسری جانب، روس نے لڑائی روکنے کے کسی بھی اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے فوجی کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
زیلنسکی کے بارے میں بات کرتے ہوئے لاوروف نے کہا، ”میرے خیال میں وہ کسی مہلت کے مستحق نہیں ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم دوبارہ یقین دہانیوں اور وعدوں پر بھروسا کریں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ روس یوکرین میں اپنی نام نہاد ”خصوصی فوجی کارروائی” کے مقاصد کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
دنیا6 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: بارہمولہ میں پولیس نے موبائل، سم اور جراثیم کش دوا کی دکانوں پر جانچ مہم چلائی
