پاکستان
پاکستان میں آج کل شادیاں کیسے ہو رہی ہیں؟
کورونا بحران کے دوران سادگی سے ہونے والی شادیوں کی لاگت میں نمایاں طور پر کمی واقع ہو گئی ہے لیکن بعض نوجوانوں کا کہنا ہے کہ کورونا بحران کی وجہ سے شادی کے حوالے سے ان کے ارمان پورے نہیں ہو سکے۔
خبراردو:-
ایک جائزے کے مطابق پہلے سے طے شدہ شادیوں کی تقریبات کی بڑی تعداد کو کورونا بحران کی وجہ سے شادی ہالوں اور ہوٹلوں پر لگائی جانے والی حکومتی پابندی کی وجہ منسوخ کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود گھروں کے اندر سادگی سے شادی کی تقریبات منعقد کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
ایک خاتون رخسانہ طاہر کے مطابق پاکستان میں عام طور پر شادی سے متعلقہ تقریبات کی تعداد ایک درجن کے قریب ہوتی ہے، اس میں شادی کی تاریخ طے کرنے کی تقریب، ڈھولکی، مایوں، مہندی، بارات، ولیمہ اور مکلاوہ وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ لیکن کورونا کے دنوں میں شادی کی تقریبات مہندی، بارات اور ولیمے کے بہت مختصر اجتماعات تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان کے بقول بعض گھرانے تو مسجد میں جا کر نکاح پڑھاتے ہیں اور نئے شادی شدہ جوڑے کو دعائیں دیتے ہوئے مہمانوں کو لنچ بکس تھما کر رخصت کر دیتے ہیں۔
نوبیاہتا جوڑوں کو اچھے ریسٹورنٹس میں فیملی ڈنرز پر مدعو کرنے کی روایت بھی پاکستان میں موجود رہی ہے۔ لیکن کورونا بحران کے زمانے میں ریسٹورانٹس اور ہوٹل تو بند ہیں، اس لئے ایک طرف نئے شادی شدہ جوڑوں کو ریسٹورانٹس میں رشتہ داروں کی طرف سے کھانا کھلانے کی سہولت میسر نہیں ہے اور دوسری طرف نہ ہی ہنی مون پر جانا آسان ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب شادی ہالوں کے مالکان پاکستان میں شادی ہالوں کو کھولنے کے لیے احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں۔ کئی سفید پوش فیملیز نے اس صورتحال میں اپنے بچوں کی شادیوں کی تاریخیں مقرر کرنا شروع کر دی ہیں۔ ٹاؤن شپ کے اشفاق احمد نے اپنے ایک بیٹے کی شادی کرنا تھی اس نے سادگی سے اپنے دو بیٹوں کو بیاہ کے شادی کی تقریب سے بچنے والے لاکھوں روپے انہی بچوں کے کاروبار کے لیے دے دیے۔
ایک نوجوان حافظ حسنین لاہور کے رہائشی ہیں۔ کورونا سے پہلے ان کے گھر میں ان کے بھائی کی شادی کی جو تقریب ہوئی تھی اس میں چار سو سے زائد مہمان مدعو کیے گئے تھے۔ اب دو روز پہلے سادگی سے ہونے والے ان کے نکاح میں صرف چند لوگوں نے شرکت کی۔ مختصر بارات کے لیے دلہن کے گھر کی چھت پر تقریب کا اہتمام کیا گیا، ” ہمارا تعلق بہاولپور سے ہے لیکن ہم نے وہاں سے کسی کو نہیں مدعو کیا، لاہور سے بھی میرے چاچو اور بہت قریبی رشتے دار ہی شرکت کر رہے ہیں۔ میں نے اپنے صرف چار دوستوں کو بلایا‘‘
حافظ حسنین کہتے ہیں کہ کورونا کہ وجہ سے انہیں شادی کے اخراجات پر کوئی بہت زیادہ بچت نہیں ہو سکی۔ سونے کی قیمت ایک لاکھ روپے فی تولہ سے بھی اوپر چلی گئی ہے، دلہن کا عروسی لباس جو عام دنوں میں پچپن ہزار کا تھا اب اڑتالیس ہزار میں ملا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ اب انہیں چار سو مہمانوں کو کھانا نہیں کھلانا پڑے گا تو ان کا کہنا تھا کہ اس سے بھی فرق اس لیے نہیں پڑے گا کیونکہ اگر کھانا کھلاتے تو چار سو لوگوں کی سلامیوں سے تو محروم نہ ہوتے، ”میری بہت خواہش تھی کہ میں شادی کے فورا بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ عمرے پر جاتا لیکن ان حالات میں ایسا ممکن نہیں ‘‘
طلحہ نامی ایک نوجوان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کورونا کی شادیوں نے شادی والے گھروں میں لڑائیاں شروع کروا دی ہیں۔ ان کے بقول لوگ اس بات کو نہیں مانتے کہ ان کے خاندان سے مدعو کیے جانے والے ایک فرد کو ہی شادی میں شریک ہونا ہے اور وہ اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان میں بچیوں کے لیے شادی بیاہ کے فنکشز خوشی کا باعث ہوتے ہیں، نوجوان بھی ہلے گلے کے لیے دوستوں کی شادیوں کا انتظار کرتے ہیں،”اب نہ بینڈ باجا، نہ آتش بازی نہ ہوائی فائرنگ۔ اب چھپ چھپا کر خوف میں کی جانے والی شادیاں کورونا سے پہلے والی شادیوں کا متبادل کیسے ہو سکتی ہیں؟ ‘‘
بعض لوگوں کے نزدیک کورونا کی وجہ سے آنے والی اقتصادی بحالی جہیز کے تقاضوں میں کمی لانے کا بھی باعث بنی ہے۔ ان کے بقول شادی کی تقریبات کو سادہ اور فضول رسموں سے پاک ہونا چاہیے۔ایک تاثر یہ بھی ہے کہ چھوٹے گھروں میں ہونے والی شادی کی تقریبات میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھنا اور ایس او پیز پر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
شاد باغ کے محمد افضل نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں زیادہ تر مسائل کا سامنا غریب لوگوں کو ہے۔ ان کے بقول اس وقت شادی ہالوں کے متبادل کے طور پر ایک پوری انڈسٹری وجود میں آ چکی ہے،” کوئی بھی شخص ڈیڈھ لاکھ روپے رشوت دے کر کسی با اثر فارم ہاؤس میں شادی کی تقریب منعقد کر سکتا ہے۔‘‘ ان کے بقول ٹورازم کی کئی کمپنیاں نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے شمالی علاقوں کے دورے کا اہتمام بھی کر رہی ہیں۔
لاہور کے علاقے کینٹ میں واقع ایک شادی ہال کے مالک حاجی نعمت قادری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ شادی ہالوں کی بندش بڑی تعداد میں لوگوں کے روزگار کو ختم کرنے کا باعث بنی ہے۔ ان کے بقول شادی ہالز کے کاروبار سے وابستہ چالیس کے قریب کاروبار بھی اس وقت ٹھپ ہو چکے ہیں۔ ان میں گوشت، سبزیاں ،چاول، آٹا سپلائی کرنے والوں کے علاوہ جنریٹر، پالکی، فوٹوگرافی، بیوٹی پارلر، ساؤنڈ سسٹم، پارکنگ اور پھولوں والے بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد کے ایک بزنس مین عثمان علی نے بتایا کہ جن لوگوں نے شادی ہال کرائے پر لے رکھے تھے، ان کی آمدن ختم ہو جانے سے انہیں بہت نقصان ہوا ہے۔ ان کے بقول شادی ہالوں کی بندش کی وجہ سے حکومت کی ٹیکسوں کی وصولی بھی متاثر ہو رہی ہے۔(قومی آواز)
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
