تازہ ترین
خصوصی پوزیشن کی تنسیخ کا ایک سال مکمل ،ناکہ بندی،تار بندی،پابندیاں اور بندشیں برقرار
شہر ودیہات میں ہو کا عالم،پی ڈ ی پی کے کارکنان نے کی صدائے احتجاج بلند
خبراردو:-
سرینگر: آئینی دفعات 370اور35(اے) کی تنسیخ کا ایک سال مکمل ہونے پر بدھ کو کشمیر میں ناکہ بندی،تار بندی،پابندیاں اور بندشیں مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہیں،جس دوران شہر ودیہات میں ہو کا عالم رہا۔اس دوران پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے کارکنان نے خصوصی پوزیشن کی بحالی کے حق میں صدائے احتجاج بلند کی جبکہ5اگست کو یوم سیاہ کے بطور منا یا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم کو کے ایک سال مکمل ہونے کے موقعے پر بدھ کو وادی کشمیر میں مسلسل دوسرے روز بھی شہر ودیہات میں ناکہ بندی،تار بندی،پابندیاں اور بندشیں عائد رہیں۔اگرچہ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ دارالحکومت سرینگر میں آج یعنی بدھ کو کوئی کرفیو نافذ نہیں رہے گا،تاہم سیاسی پارٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر دارالحکومت میں پابندیاں اور بندشیں سختی کیساتھ نافذ رہیں۔
سیاسی پارٹیوں کے ہیڈ کواٹروں کو سیل کیا گیا تھا جبکہ عوامی نقل وحرکت کو روکنے کیلئے مسلسل دوسرے روز بھی خار دار تاریں استعمال کرکے گلی کوچوں کیساتھ ساتھ رابطہ سڑکوں اور پلوں کو مسدود کرکے رکھ دیا گیا۔احتجاجی مظاہروں کے خد شات کے پیش نظر دارالحکومت سرینگر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔
ادھر شہرسری نگرسمیت وادی کے سبھی10اضلاع میں مکمل پابندیاں عائد کرکے عوامی نقل وحمل،گاڑیوں کی آواجاہی اورجملہ کاروباری سرگرمیوں پررروک لگائی گئی۔بدھ کے روز بھی علی الصبح سے ہی شہرسری نگر کے سیول لائنز،شہر خاص اوردوسرے علاقوں میں کرفیوجیسی بندشیں اور پابندیاں نافذ رہیں جبکہ سڑکوں اورگلی کوچوں کے علاوہ اہم چوراہوں،پلوں اوربازاروں میں پولیس وفورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی،جنہوں نے جگہ جگہ خاردارتاریں بچھانے کے ساتھ ساتھ دیگررکاؤٹیں بھی کھڑی کردی تھیں۔اس دوران پولیس کی جپسیوں کے ذریعے بھی پابندیوں اور بندشوں سے متعلق اعلانات علی الصبح کئے گئے۔
اس دوران شمالی،وسطی اورجنوبی کشمیر کے سبھی اہم قصبہ جات میں بھی صبح سے بندشیں اورپابندیاں عائدرہیں۔پوری وادی کے سبھی چھوٹے بڑے بازار وں میں مکمل سناٹا چھایارہاجبکہ شہرسری نگرکومختلف اضلاع سے ملانے والی شاہراہیں اوربین ضلعی سڑکیں بھی سنسان نظرآرہی تھیں،کیونکہ شاذونادر ہی کوئی گاڑی چلتی یادوڑتی نظرآرہی تھی۔
خیال رہے پانچ اگست2019 کومرکزی سرکارکی جانب سے لئے گئے فیصلوں کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر صوبائی انتظامیہ نے وادی کشمیر میں منگل کی صبح سے بدھ یعنی 5 اگست کی شام تک سخت کرفیو نافذ کردیا ہے۔
اس دوران پی ڈی پی کے کارکنان نے مختلف مقامات پر آئینی دفعات 370اور35(اے) کی تنسیخ کے فیصلے کے خلاف خاموش احتجاج کیا۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے جن پر ’5اگست جموں وکشمیر کیلئے یوم سیاہ‘ کے نعرے درج تھے۔
اس دوران پارٹی کے ترجمان سید سہیل بخاری نے اپنے ایک بیان میں کہا ’جب جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال نہیں کیا جاتا یوم سیاہ منایا جائیگا‘۔انہوں نے 5اگست کے فیصلہ جات کو دھوکہ دہی سے تعبیر کیا۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
