تازہ ترین
کشمیر میں اَن۔لاک کا عمل طویل عرصے کے بعد شروع
شہرمیں معاشی سرگرمیاں بحال
بازاروں اور سڑکوں کی کھوئی ہوئی رونقیں لوٹ آئیں،ایس او پیز کیساتھ گہما گہمی
خبراردو:-
سرینگر:وادی بھر میں اَن۔لاک عمل طویل عرصے کے بعد شروع ہو ا،جس دوران سوموار کو سرینگر میں معاشی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔دارالحکومت سرینگر میں 5ماہ کے بعد کاروبارہ اور تجارتی سرگرمیاں بحال کردی گئیں جبکہ سڑکوں اور شاہراہوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی چلتا رہا ہے۔
تاہم یہ سبھی سرگرمیاں حکومتی گائیڈ لائنز اور ایس او پیز کے تحت بحال ہوئیں۔ادھر کپوارہ میں کورونا بندشوں میں 31اگست تک توسیع کی گئی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق دارالحکومت سرینگر میں طویل ترین5ماہ کورونا لاک داؤن کے بعد اب کشمیر بھی اَن۔لاک کی طرف گامزن ہوا۔تجارتی وکاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کے ساتھ ہی ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔
ضلع انتظامیہ سرینگر نے لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔اس سلسلے میں ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر،ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری کا کہنا ہے کہ آج(سوموار) سے شہر میں بازاروں میں 50فیصد دکانیں کھلیں گی جبکہ مسافر بردار گاڑیوں کے ساتھ ساتھ آٹو رکشا اور سومو گاڑیوں کواپنی معمول کی سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت ہے۔
تاہم مسافر بردار اور سومو میں صرف 50فیصد مسافروں کو ہی بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر سرینگر نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر من وعن عمل کریں اور کسی بھی شہری کو بغیر ماسک کے دکان کے اندر شاپنگ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔سوموار کی علی الصبح لوگ گھروں سے باہر آئے اور روزمرہ کی مصروفیات میں جٹ گئے۔دارالحکومت کے سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک کے سبھی بازاروں میں 5ماہ بعدکھوئی ہوئی رونقیں لوٹ آئیں۔
یہاں ہر طرح کی دکانیں کھل گئی جبکہ لوگوں نے بھی ضروری چیزوں کی خریداری کیلئے بازاروں کا رخ کیا جسکی وجہ سے بازاروں میں گہما گہمی بھی دیکھنے کو ملی۔اس دوران نجی ٹرانسپورٹ کیساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر دوڑتا ہوا نظر آیا جسکی وجہ سے کئی مقامات پر لمبے لمبے ٹریفک جام کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔اس دوران شہرخاص میں بھی سبھی تاریخی اور قدیم بازار بھی کھل گئے۔اس سے قبل شہر میں عائد پابندیاں،بندشیں اور رکاوٹیں ہٹائی گئی تھیں۔صبح سے بازاروں میں الگ ہی گہمار گہمی دیکھنے کو ملی۔
ادھر وادی کشمیر کے شمال وجنوب کے7 اور وسطی کشمیر کے مزید2اضلاع میں بھی سوموار کو کاروباری وتجارتی سرگرمیاں حکومتی گائیڈ لائنز کیساتھ بحال ہوئیں۔گاندر بل،بڈگام،کپوارہ،بارہمولہ،بانڈی پورہ،پلوامہ،اننت ناگ،کولگام اور شوپیان میں بھی سوموار کو کہیں بازار کھلے رہے اور کہیں بند۔ایک اطلاع کے مطابق کپوارہ میں کورونا بندشوں میں 31اگست تک توسیع کی گئی۔یاد رہے کہ جموں و کشمیر میں اتوار کے روز قریب پانچ ماہ کے بعد تمام عبادت گاہیں دوبارہ کھول دی گئیں۔
انتظامیہ نے کورونا وبا کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے یونین ٹریٹری میں تمام عبادت گاہوں کو بند کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔انتظامیہ نے عقیدت مندوں سے تاکید کی ہے کہ وہ عبادت گاہوں پر حاضری کے دوران کورونا گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کریں نیز اآروگیا سیتو ایپ کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔عقیدت مندوں سے کہا گیا ہے کہ وہ عبدات گاہوں میں حاضری کے دوران بتوں، مجسموں یا مقدس کتابوں کا بوسہ کرنے سے اجتناب کریں۔
وادی کشمیر میں اتوار کے روز سرکاری اعلان کے مطابق تمام عبادت گاہیں کھل گئیں۔اس دوران جموں و کشمیر کے 2 اضلاع گاندربل اور ادھمپور میں اتوار کی رات سے4۔ جی موبائل انٹرنیٹ خدمات زائد از ایک سال بعد تجرباتی طور پر بحال کر دی گئیں۔ تاہم باقی 18 اضلاع کو ان خدمات کے لئے ابھی اور انتظار کرنے پڑے گا۔جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ داخلہ کے مطابق گاندربل اور ادھمپور اضلاع میں اتوار کی رات9 بجے فور۔جی انٹرنیٹ خدمات تجرباتی طور پر بحال کر دی گئیں جبکہ باقی اضلاع میں اگلے حکامات تک 2۔ جی انٹرنیٹ خدمات ہی جاری رہیں گی۔
دنیا
ٹرمپ کا دورۂ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کا امکان
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اپنے آئندہ دورۂ ایشیا کے دوران شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ اپنے دورے کے دوران کم جونگ اُن سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، تو انہوں نے کہا، ”ممکن ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، ”یہ دلچسپ ہوگا، ہے نا؟ لیکن میرے ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔”
ٹرمپ 18 اور 19 نومبر کو چین کے شہر شینزن میں ہونے والی ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (اے پیک) سربراہی کانفرنس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز اوہائیو میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ کم جونگ اُن کے ساتھ ان کے ”بہت اچھے تعلقات” ہیں۔ انہوں نے جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ خوش گوار تعلقات برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کو کوئی ”رعایت” نہیں سمجھتے اور اگر اس سے امریکی قومی مفادات کو فائدہ پہنچتا ہے تو وہ پیانگ یانگ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان جنوبی کوریا کی فوج کی جانب سے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاع کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے مطابق، پیر کو پیانگ یانگ کے علاقے سے داغا گیا ایک میزائل 900 کلومیٹر (559 میل) سے زیادہ فاصلے تک گیا۔ فوج نے میزائلوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی۔
جاپان کے نائب وزیر دفاع تاکاشی کویاری نے بتایا کہ کم از کم دو میزائل 17 منٹ کے وقفے سے داغے گئے اور جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر جا گرے۔
ان کے مطابق، پہلے میزائل نے تقریباً 220 کلومیٹر (137 میل) جبکہ دوسرے نے 910 کلومیٹر (565 میل) سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔ کویاری نے دوسرے میزائل کے غیر معمولی پروازی راستے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے شبہ ہوتا ہے کہ وہ ہائپرسونک ہتھیار ہو سکتا ہے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے میزائل تجربات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور پیانگ یانگ سے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ نے اگست کے اوائل میں بھی کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ وہ رواں سال کے اواخر میں کم جونگ اُن سے ملاقات کریں گے۔ اس بیان سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی تھی کہ وہ ذاتی سفارت کاری کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکتے ہیں، جس کے تحت ان کی پہلی مدتِ صدارت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تین براہِ راست ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کو چائے پر بلایا، طے کریں گے آگے کی حکمت عملی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کو منگل کی شام چار بجے چائے پر مدعو کیا ہے۔ اس میٹنگ میں الیکشن کمیشن کے خلاف چلائی جا رہی مہم کو آگے بڑھانے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
مسٹر گاندھی کی رہائش گاہ 5 سنہری باغ میں ‘ہائی ٹی’ کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں اتحاد کے آئندہ کے پروگراموں اور مبینہ ووٹ چوری کے معاملے پر احتجاج کی اگلی حکمت عملی پر غور و خوض کیا جا سکتا ہے۔
انڈیا اتحاد پچھلے کچھ دنوں سے ووٹر فہرستوں کے خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنے اور چیف الیکشن کمشنر گینیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کے حق میں مظاہرہ کر رہا ہے۔ مسٹر گاندھی نے ان مسائل پر پیر کے روز بارہ کھمبا روڈ سے سپریم کورٹ تک نکالے گئے مارچ کی کامیابی کے لیے کل دیر رات اس میں شامل تمام لوگوں کے ساتھ ساتھ اتحاد کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا تھا۔
کانگریس رہنما کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی اس چائے پارٹی میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان باہمی تال میل، آئندہ کے پروگراموں اور ان مسائل پر احتجاج کے طریقۂ کار پر تبادلہ خیال کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
ایران کی برطانوی الزامات کی تردید، آر اے ایف فیئر فورڈ واقعے پر ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ
لندن، ایران نے منگل کو برطانیہ کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ امریکی فوج کے زیر استعمال برطانوی فضائی اڈے آر اے ایف فیئر فورڈ میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے پیچھے تہران کا ہاتھ تھا۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے اس واقعے کے ایران میں منظم کیے جانے کا ”بہت زیادہ امکان” ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ہدایت تقریباً یقینی طور پر ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دی تھی۔
ایران کی وزارت خارجہ نے برطانیہ کے الزامات کو ”بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”بہت زیادہ امکان” اور ”تقریباً یقینی” جیسی اصطلاحات مبہم ہیں اور ان کے حق میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گئے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، تہران نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کرے۔
برنہم نے پیر کو ایوانِ نمائندگان میں کہا تھا کہ برطانیہ کے پاس 27 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کے ”مضبوط اشارے” موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع فضائی اڈے پر سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا تھا اور امریکی بی ون بمبار طیاروں کو وہاں سے ہٹا لیا گیا تھا۔
برنہم نے کہا، ”ہماری جانچ کے مطابق اس واقعے کو ایران میں منظم کیے جانے کا بہت زیادہ امکان ہے اور تقریباً یقینی طور پر اس کی ہدایت ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دی تھی۔ ہم اپنی سرزمین پر ایسے خطرات برداشت نہیں کریں گے۔”
برطانوی حکومت نے اس واقعے پر ایران کے سفیر علی موسوی کو طلب کیا، جبکہ وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دو ایرانی شہریوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا۔ ان پر تہران کی جانب سے مخالفانہ سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
ملی بینڈ کے مطابق، پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندی اور کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہونے سے نااہل قرار دینا شامل ہے۔
برطانیہ نے جن دو افراد کے نام ظاہر کیے ہیں، ان میں روح اللہ بازغندی شامل ہیں، جنہیں برطانوی حکام نے آئی آر جی سی میں انسدادِ جاسوسی کارروائیوں کا سربراہ بتایا ہے۔ دوسرے شخص شہرام علی رضا تمرزادہ زکی ہیں، جن پر زندشتی جرائم پیشہ نیٹ ورک کو سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
برنہم نے کہا کہ برطانیہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور ان کی مالی معاونت کے ذرائع کو نشانہ بنانے کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے گی۔
27 ستمبر کو آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ برطانوی شہریوں کو دہشت گردی اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں سخت شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جبکہ چند روز بعد ایک اور گرفتاری عمل میں آئی۔
پولیس نے بتایا تھا کہ وہ کسی غیر ملکی ریاست کے ملوث ہونے کے امکان کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ اس سے قبل ایک مقامی کسان نے فضائی اڈے کے قریب چند افراد اور کئی سفید وینوں کی مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، تفتیش کاروں کو گاڑیوں میں پیٹرول سمیت آتش گیر مادے ملے تھے، تاہم دھماکہ خیز مواد سے متعلق مبینہ منصوبے کی حقیقت اور اس کی عملی حیثیت ابھی واضح نہیں تھی۔
اس واقعے کے بعد امریکی بی ون بمبار طیاروں کو آر اے ایف فیئر فورڈ سے ہٹا لیا گیا، جبکہ بی 52 بمبار طیارے فضائی اڈے پر موجود رہے۔
دریں اثنا، 29 ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے ایران پر ان کے اور ان کے شراکت داروں کے خلاف پُرتشدد حملوں، مبینہ مہلک سازشوں، آتش زنی، تخریب کاری اور سائبر حملوں سمیت دیگر مخالفانہ سرگرمیوں کی مذمت کی۔ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اسپین اور آئرلینڈ شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان5 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے بارہمولہ میں افضل گورو کے خاندان سے مبینہ طور پر وابستہ ڈیری شیڈ منہدم
-
دنیا5 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
