جموں و کشمیر
کوروناوائرس: کشمیر میں لوگوں کی اکثریت کو اپنی جان اور صحت کی پروا نہیں، ماسک کے بغیر گھوم پھر رہے ہیں لوگ
لوگ اکثر ماسک کے بغیر ہی اپنےگھروں سے باہر آتے ہیں ۔لوگ اپنی جان اور صحت کی پرواہ کئے بغیر گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔
منیر حسین حرہ:-
سری نگر۔ عالمی ادارہ صحت نے نئے اصول جاری کرتے ہوئے کورونا وائرس کی وبا روکنے کے لئے بارہ سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو بڑوں کی طرح ماسک پہننےکا مشورہ دیا اور تاکید بھی کی ہے۔ تاہم وادی کشمیر میں عالمی ادارہ صحت اور دو سرے طبی ماہرین کے مشوروں کے باوجود لوگ ماسک پہننے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔
لوگ اکثر ماسک کے بغیر ہی اپنےگھروں سے باہر آتے ہیں ۔لوگ اپنی جان اور صحت کی پرواہ کئے بغیر گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ادھر وادی کشمیرمیں کورونا وائرس کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔ ماہرین کی جانب سے عوام کو سماجی فاصلے کا بھی خاص خیال رکھنے کی تاکیدکی گئی ہے۔
نیوز 18اردو کی ٹیم نے وسطی ضلع بڈگام کے ماگام اور بارہمولہ کے پٹن بازاروں کا جائزہ لیا تو بازاروں میں دکانداروں، ڈرائیوروں، راہگیروں اور دیگردوسرے لوگوں کی اکثریت ماسک پہنے بغیر گھروں سے باہرآ کرچلتی پھرتی نظر آئی۔ یہاں تک کہ گاڑیوں میں سوار لوگ بھی ماسک کا کوئی خیال نہیں رکھتے ہیں۔ اکثر لوگ اپنے جیب اور ہاتھوں میں ماسک رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔
کچھ لوگوں سے جب نیوز 18اردوکی ٹیم نے پوچھا بھی تو انہوں نےحیلہ بہانے بنا کر بات کو ٹال مٹول کرکے پیش کیا۔ کچھ لوگ ماسک پہننے کو مذاق سے تعبیر کرتے ہیں تو کچھ لوگ گرمی کے اس موسم میں ماسک پہننے سے دم گھٹنےکا بہانہ بناتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت اور طبی ماہرین کی طرف سے لوگوں سے اپیل کی جارہی ہے کہ وہ کوروناوائرس سے بچنے کے لئے ماسک اورسماجی فاصلے کا خاص خیال رکھیں۔ لیکن لوگ کوروناوائرس سے بچنے میں سنجیدہ نظرنہیں آتےہیں۔
بازاروں میں کچھ لوگ اپنےچھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ لئے ہوئےبھی بغیرماسک کے گھومتے پھرتےہیں۔ بیشترمقامات پر دکاندار بھی گراہکوں کو ماسک کے بغیر ہی اپنی دکانوں پر آنے دیتے ہیں۔ سب ڈسٹرکٹ اسپتال ماگام کے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر ڈاکٹر طاہر سجاد نے نیوز18اردو کو بتایاکہ اسپتالوں میں بھی بہت سے لوگ ماسک کے بغیر داخل ہوتےہیں۔
انہوں نے کہاکہ لوگوں کی جانب سے اس غفلت کو دیکھتےہوئے اب اسپتالوں کے دروازوں پر ہی ایک ملازم کو تعینات رکھا گیا ہے جو آنے والے کسی بھی فردکو اسپتال میں داخل ہونے سے پہلے ماسک چیک کرتا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ماسک کا لازمی طور پر استعمال کریں۔ یہ بات طے ہے کہ جب لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا نہ ہونگے تب تک یہ وائرس ختم نہیں ہوگا۔(نیوز 18 اردو)
جموں و کشمیر
کشمیر کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری، میدانی علاقوں میں بارش
سری نگر، کشمیر کے کئی بالائی علاقوں میں منگل کو تازہ برف باری ہوئی، جبکہ سری نگر سمیت میدانی علاقوں میں بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر میں جمعرات تک بڑے پیمانے پر بارش اور دیگر موسمی سرگرمیوں کی پیش گوئی کی ہے۔
حکام کے مطابق، مغربی ہواؤں کے زیر اثر سیاحتی مقامات گلمرگ اور سونا مرگ کے علاوہ زوجیلا محور پر بھی تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی۔ ادھر جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سمیت میدانی علاقوں میں بارش ہوئی، جو آخری اطلاعات موصول ہونے تک جاری تھی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بونداباندی کا امکان ہے۔ محکمہ نے آئندہ چند روز کے لیے بھی اسی طرح کے موسمی حالات کی پیش گوئی کی ہے۔
14 اکتوبر کی پیش گوئی کے مطابق، بعض علاقوں میں گرج چمک اور آسمانی بجلی کے ساتھ 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ کچھ مقامات پر تیز بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے ساتھ اسی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
موجودہ موسمی حالات کے باعث بالائی علاقوں میں سردی اور نمی برقرار رہنے کا امکان ہے، جب کہ میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہ سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر 13 سے 15 اکتوبر کے درمیان سیب، دھان اور دیگر فصلوں کی کٹائی کے بعد انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کے انتظامات کریں۔
خراب موسم کے امکان کے پیش نظر مسافروں، ٹرانسپورٹروں اور عام لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفر کی منصوبہ بندی احتیاط سے کریں اور کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے ٹریفک سے متعلق جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
وقف بورڈ کی جانب سے جمعہ کے خطبات کے لیے مشترکہ موضوعات کی تجویز پر این سی، پی ڈی پی اور ایم ایم یو کی تنقید
سری نگر، جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی مساجد اور زیارت گاہوں میں جمعہ کے خطبات کے لیے مشترکہ موضوعات متعین کرنے کی تجویز پر متحدہ مجلس علما (ایم ایم یو)، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے مذہبی خطابات کے موضوعات طے کرنے کے وقف بورڈ کے اختیار پر سوال اٹھائے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے ریاستی ترجمان عمران ڈار نے کہا کہ اس اقدام سے بی جے پی کو کشمیر میں جمعہ کے خطبات کے مواد پر اثر انداز ہونے کا موقع ملے گا۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر وقف بورڈ کی سربراہی بی جے پی رہنما درخشاں اندرابی کر رہی ہیں۔
ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ”اب بی جے پی کشمیر کی مساجد میں جمعہ کے خطبات کا مسودہ تیار کرے گی۔ وہ طے کرے گی کہ ہمارے خطیب کن موضوعات پر بات کریں گے، انہیں کس انداز میں پیش کریں گے اور کن معاملات کو قالین کے نیچے چھپا دیا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہاکہ ”مواد ان کا ہوگا، الفاظ ان کے ہوں گے اور مقصد بھی انہی کا ہوگا۔” ڈار نے کہا کہ وہ کوئی بنیاد پرست نہیں ہیں، لیکن اس اقدام کو قبول نہیں کرسکتے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ کشمیر کے میر واعظ عمر فاروق سمیت مذہبی رہنما اس فیصلے کی پوری قوت سے مخالفت کریں گے۔
پی ڈی پی کے رہنما اور رکن اسمبلی منتظر مہدی نے بھی اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کی ذمہ داری مذہبی اداروں کا انتظام سنبھالنا ہے، نہ کہ مذہبی رہنماؤں کو یہ بتانا کہ انہیں کیا وعظ کرنا چاہیے۔
مہدی نے کہاکہ ”وقف کا کام انتظام و انصرام ہے، خطبات کے موضوعات مسلط کرنا نہیں۔ ائمہ اور خطیبوں کو اپنی برادریوں کی رہنمائی کے لیے کسی طے شدہ ایجنڈے کی ضرورت نہیں ہے۔”
جمعہ کے خطبات کے ذریعے ایک مخصوص بیانیہ مسلط کرنے کی مبینہ کوشش کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مہدی نے وقف بورڈ پر زور دیا کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ دے اور مذہبی علما اور متحدہ مجلس علما کے کردار کا احترام کرے۔
انہوں نے کہا، ”اداروں کا انتظام سنبھالیے، مذہبی مباحثے اور خطابات کو کنٹرول نہ کیجیے۔”
جموں و کشمیر کی ممتاز مذہبی اور سماجی و مذہبی تنظیموں کی مشترکہ تنظیم متحدہ مجلس علما نے بھی اس تجویز پر سخت اعتراض کیا۔ تنظیم نے کہا کہ کوئی قانونی طور پر قائم ادارہ اس بات کا تعین یا ضابطہ بندی نہیں کرسکتا کہ مسجد کے منبر سے کیا وعظ کیا جائے۔
ایم ایم یو نے ایک بیان میں کہاکہ ”منبر ایک امانت ہے اور مذہبی رہنمائی علما، ائمہ اور تسلیم شدہ مذہبی اداروں کا دائرۂ کار ہے۔ اس کی بنیاد اسلامی علوم اور مختلف مکاتب فکر کی روایات پر قائم ہے۔”
تنظیم نے کہا کہ ریاست یا حکومت نماز کے دوران دیے جانے والے خطابات کے لیے موضوعات مقرر کرکے یا ان کا مسودہ تیار کرکے مذہبی مباحثے پر اختیار نہیں جتا سکتی۔
ایم ایم یو نے اس معاملے میں دو صورتوں کے درمیان فرق واضح کیا۔ ایک صورت یہ ہے کہ مذہبی علما سماجی مسائل پر توجہ دینے کے لیے رضاکارانہ طور پر مشترکہ خطبات پر اتفاق کریں، جبکہ دوسری صورت میں ریاست سے وابستہ کوئی انتظامی ادارہ مذہبی خطابات کے موضوعات یا ان کے لیے ہدایات مقرر کرے۔
تنظیم کے مطابق، دوسری صورت ”مذہبی دائرے میں ریاست کی جبری مداخلت” کے مترادف ہے اور مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔
ایم ایم یو نے وقف بورڈ پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری تنازع پیدا کرنے کے بجائے وقف املاک کے انتظام، دیکھ بھال اور تحفظ تک اپنی سرگرمیاں محدود رکھے۔
واضح رہے کہ ایم ایم یو نے گزشتہ ہفتے الگ سے اعلان کیا تھا کہ سماجی مسائل پر توجہ دینے کے لیے اسی جمعہ سے مربوط خطبات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
ہفتے کے روز وقف بورڈ نے فیصلہ کیا تھا کہ ائمہ اور اسلامی علما پر مشتمل ایک بنیادی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو جمعہ اور دیگر مذہبی مواقع پر مساجد اور زیارت گاہوں میں دیے جانے والے خطبات کے لیے مشترکہ موضوعات کو حتمی شکل دے گی۔
وقف بورڈ کے مطابق، یہ فیصلہ ائمہ اور اسلامی علما کی تجاویز کے بعد منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور مصر سمیت کئی مسلم اکثریتی ممالک میں مرکزی سطح پر جمعہ کے خطبات کا نظام رائج ہے۔ ان ممالک میں مرکزی مذہبی حکام خطبات کے موضوعات یا مقررہ متن فراہم کرتے ہیں۔ عموماً اس کا مقصد مذہبی خطابات کو منظم کرنا اور سماجی و عوامی مسائل سے متعلق پیغامات کو فروغ دینا ہوتا ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: پونچھ میں دہشت گردوں کا ٹھکانہ تباہ، اے کے 47 اور دستی بم برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے سوجیاں سیکٹر میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے منگل کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پتہ لگاکر وہاں سے اے کے 47 رائفل، گولہ بارود اور دستی بم برآمد کیے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر فوج، نیم فوجی دستوں اور جموں و کشمیر پولیس نے ایک قدرتی غار میں قائم دہشت گردوں کے ٹھکانے کا پتہ لگایا۔
ذرائع کے مطابق، منڈی کے سوجیاں سیکٹر میں ستاربن ڈھوک کے مچپتری علاقے میں تلاشی کے دوران سکیورٹی فورسز نے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
برآمد شدہ سامان میں ایک اے کے 47 رائفل، ایک میگزین، گولہ بارود کے 30 کارتوس اور چھ دستی بم شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ علاقے میں تلاشی مہم جاری ہے۔ بعد ازاں بم ناکارہ بنانے والی ٹیم نے دستی بموں کو اسی مقام پر دھماکے سے تباہ کردیا۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان5 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
دنیا5 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا6 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
