تازہ ترین
جموں میں دو روز کی بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی
میدانی اور بالائی علاقوں میں سیلابی پانی سے فصلوں اور تعمیرات کو نقصان
خبراردو:-
سرینگر:جموں میں دو روزتک جاری رہنے والی بارشوں نے میدانی اور بالائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر،فصلوں،پلوں مکانات اور گاؤں خانوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔جبکہ علاقے کے ندی نالوں میں سیلانی صورت ھال برقرار بنا ہوا ہے جس کے نتیجے میں کئی علاقوں کی آبادی خوفزدہ ہو رہی ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جموں میں مسلسل دو روز تک جا ری رہنے والی بارشوں نے صوبے میدانی و بالائی علاقوں میں تباہی مچا دی ہے۔تیز بارشوں کے بعد ندی نالوں میں سیلابی صورت ھال بنا ہوا ہے جس نے جموں کے متعدد علاقوں میں رابطہ پل، رابطہ سڑکوں،مکانات کوشدید نقصان نْقصان پہنچا یا ہے۔
جموں سے نامہ نگار نے اطلع دی ہے بدھ کی صبح سے جاری بارشوں نے جموں، کھٹوعہ، راجوری، پونچھ اور دیگر اضلاع میں بارش نے تباہی مچائی ہے۔ جموں کے نانک نگر، گنگیال، جیون نگر، ڈیگیانہ اور گاندھی نگر کے علاقوں میں بارشوں سے سیلابی ریلے سے پانی رہائشی مکانوں میں داخل ہوا ہے جس کی وجہ سے کئی مکانوں کو نْقصان ہوا ہے۔
جس کی وجہ سے کئی گھرانے کْھلے آسمان کے نیچے زند گی بسر کر رہے ہیں نمائندے نے بتایاسیلابی ریلے سے جموں کے گاڈی گڈ علاقے میں پْل ڈھہہ گیا۔
گاڈی گڈھ پْل کو پانچ ماہ قبل ہی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا لیکن بھاری بارشوں سے پْل پوری طرح بہہ گیا ہے جس کی وجہ سے مزکورہ علاقے کے علاوہ درجنوں دیہات کا سڑک رابطہ منقطع ہوگیا ہے جبکہ بارشوں اور سیلابی ریلے سے جموں کے کئی علاقوں میں رابطہ سڑکوں کو بھی نْقصان پہنچا ہے۔
جس کے سبب عام لوگوں کو کافی دْشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ راجوری ضلع میں بھی بارشوں سے سوکتا اور درہالی نالوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگیا ہے جس کے سبب راجوری کے کئی نالے خطرے کے نشان کے اوپر سے بہہ رہے ہیں۔ اْدھر راجوری کے کوٹلی علاقے میں شوکت احمد نامی مقامی شخص زمین کھسکنے سے ملبے کے نیچے دب گیا ہے۔
پونچھ ضلع کے مینڈھر اور سورنکوٹ علاقوں میں بھی مْسلسل بارشوں کے سبب ندی نالوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جموں کے توی اور دیگر کئی ندی نالوں میں بارشوں کے سبب پانی کی سطح میں کافی اضافہ ہوا ہے جس کے سبب جموں کے کئی نچلے علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ادھربارش سے جموں صوبے کے بیشتر علاقوں میں کھڑی فصلوں کو بھی بھاری نقصان ہوا ہے۔
جموں و کشمیر
کشمیر کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری، میدانی علاقوں میں بارش
سری نگر، کشمیر کے کئی بالائی علاقوں میں منگل کو تازہ برف باری ہوئی، جبکہ سری نگر سمیت میدانی علاقوں میں بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر میں جمعرات تک بڑے پیمانے پر بارش اور دیگر موسمی سرگرمیوں کی پیش گوئی کی ہے۔
حکام کے مطابق، مغربی ہواؤں کے زیر اثر سیاحتی مقامات گلمرگ اور سونا مرگ کے علاوہ زوجیلا محور پر بھی تازہ برف باری ریکارڈ کی گئی۔ ادھر جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سمیت میدانی علاقوں میں بارش ہوئی، جو آخری اطلاعات موصول ہونے تک جاری تھی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بونداباندی کا امکان ہے۔ محکمہ نے آئندہ چند روز کے لیے بھی اسی طرح کے موسمی حالات کی پیش گوئی کی ہے۔
14 اکتوبر کی پیش گوئی کے مطابق، بعض علاقوں میں گرج چمک اور آسمانی بجلی کے ساتھ 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔ کچھ مقامات پر تیز بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کے ساتھ اسی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
موجودہ موسمی حالات کے باعث بالائی علاقوں میں سردی اور نمی برقرار رہنے کا امکان ہے، جب کہ میدانی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جاری رہ سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ موجودہ موسمی حالات کے پیش نظر 13 سے 15 اکتوبر کے درمیان سیب، دھان اور دیگر فصلوں کی کٹائی کے بعد انہیں محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کے انتظامات کریں۔
خراب موسم کے امکان کے پیش نظر مسافروں، ٹرانسپورٹروں اور عام لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفر کی منصوبہ بندی احتیاط سے کریں اور کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے ٹریفک سے متعلق جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔
یواین آئی۔ ط ا
ہندوستان
اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی، سینسیکس 1,100 پوائنٹس سے زیادہ بڑھا
مبئی، گھریلو اسٹاک مارکیٹوں میں منگل کو زبردست تیزی دیکھی گئی، بی ایس ای سینسیکس 1,100 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ سینسیکس 71,951.73 پوائنٹس پر کھلا، جو پچھلے کاروباری دن سے 27 پوائنٹس زیادہ ہے۔ یہ 71,703.56 پر ریڈ زون میں گرا لیکن پھر تیزی سے سبز ہو گیا۔ سینسیکس 1,109.10 پوائنٹس (1.54 فی صد) بڑھ کر 73,033.78 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس سے قبل یہ 73,045.67 پوائنٹس کی اونچائی پر پہنچ گیا تھا۔ اس طرح آج اس میں 1,342 پوائنٹس کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی 50 انڈیکس صبح فلیٹ کھلنے کے بعد بالآخر 358.60 پوائنٹس یا 1.60 فی صد بڑھ کر 22,721.95 پر آگیا۔ گزشتہ کاروباری دن دونوں بڑے انڈیکس سرخ رنگ میں بند ہوئے تھے۔ روپے کے مسلسل دوسرے دن مسلسل اضافے سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے جذبات کو تقویت ملی ہے۔ مضبوط سہ ماہی نتائج کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں کو زیادہ فائدہ ہوا۔ وسیع بازار میں بھی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری تھا۔
نفٹی مڈ کیپ 50 انڈیکس میں 0.87 فیصد اضافہ ہوا اور سمال کیپ 100 انڈیکس میں 0.11 فی صد اضافہ ہوا۔
بہتر سہ ماہی نتائج کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں میں بھی بڑے پیمانے پر خریداری ہوئی۔ نفٹی آئی ٹی انڈیکس 5.22 فی صد بڑھ گیا۔ رئیلٹی سیکٹر 2.46 فی صد بڑھ کر بند ہوا۔ آٹو، بینکنگ، فائنانس، ایف ایم سی جی، میٹل، اور کنزیومر ڈیریبل سیکٹر کے انڈیکس میں بھی ایک فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ سینسیکس کمپنیوں میں، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز کا اسٹاک آٹھ فیصد سے زیادہ بڑھ گیا۔
کمپنی نے پیر کو اطلاع دی کہ اس کا خالص منافع سال بہ سال 21.2 فی صد بڑھ کر Rs5,132 کروڑ ہو گیا اور موجودہ مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی میں آمدنی 11.5 فیصد بڑھ کر Rs35,620 کروڑ ہو گئی۔ دیگر آئی ٹی کمپنیوں میں، ٹی سی ایس کے حصص میں 6.5 فی صد، ٹیک مہندرا کے تقریباً 5 فی صد اور انفوسس کے حصص میں 4.5 فیصد اضافہ ہوا۔ ہندوستان یونی لیور، ٹرینٹ، بجاج فنسر اور بجاج فائنانس کے حصص میں 2 سے 3 فی صد اضافہ ہوا۔ ٹائٹن، مہندرا اینڈ مہندرا، بی ای ایل، بھارتی ایئرٹیل، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، الٹرا ٹیک سیمنٹ، ایچ ڈی ایف سی بینک، ٹاٹا اسٹیل، آئی ٹی سی، ایل اینڈ ٹی، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایشین پینٹس، اور ایکسس بینک کے حصص میں 1 سے 2 فی صد اضافہ ہوا۔ ریلائنس انڈسٹریز، سن فارما، اڈانی پورٹس اور پاور گرڈ کے حصص بھی سبز رنگ میں رہے۔ کوٹک مہندرا بینک، ایٹرنل اور ماروتی سوزوکی کے حصص میں کمی ہوئی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
ہندوستان
راجیو چوک پر این ایس یو آئی کا مظاہرہ، جاکھڑ سمیت متعدد کارکنان حراست میں
نئی دہلی، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کرتے ہوئے منگل کے روز کنالٹ پلیس میں واقع راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 7 پر اچانک احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرے کی قیادت این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کی۔ مظاہرین نے انتخابی بے ضابطگیوں اور مبینہ ‘ووٹ چوری’ کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے جواب دہی اور شفافیت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے کے مدنظر کنالٹ پلیس میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ دہلی پولیس نے مسٹر جاکھڑ سمیت سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
مسٹر جاکھڑ نے کہا کہ طالب علم رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے کر انتخابی شفافیت سے جڑے سوالات کو دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرے کو روکنے کے بجائے حکومت کو سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ ‘ووٹ چوری’ کے خلاف ان کی تحریک جمہوری اور پرامن طریقے سے جاری رہے گی۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر سے تقریباً 150 بنگلہ دیشی شہری ملک بدر
-
دنیا1 week agoیمن کی سرکاری فوج کا حوثیوں کے خلاف بڑا حملہ، باب المندب کے قریب ذباب پر قبضہ
-
پاکستان1 week agoعمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
-
ہندوستان1 week agoسی ای سی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی درخواست پر سپریم کورٹ غور کرے گی
-
ہندوستان1 week agoجے شنکر گھانا، کوٹ ڈی آئیوائر اور ایتھوپیا کے چھ روزہ دورے پر
-
ہندوستان1 week agoجی ایس ٹی میں اگلی نسل کی اصلاحات سے کاروبار میں آسانی بڑھے گی، اعتماد مضبوط ہوگا: مودی
-
ہندوستان1 week agoفارم-6 میں ہوئی غیر قانونی تبدیلی، گیانیش کمار نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا: راہل
-
ہندوستان5 days agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
ہندوستان1 week agoراہل نے مدھیہ پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کی آسامیوں میں اضافہ اور دوسرے مرحلے کی کونسلنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا
-
دنیا5 days agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا6 days agoوسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے:ٹرمپ کا دعویٰ
