تازہ ترین
موبائل مواصلاتی کمپنیوں کی من مانیاں عروج پر
4۔جی سروس کیلئے چارجز وصول،2۔جی رفتار کا بھی گلا گھونٹ دیا
طلبہ آن لائن پڑھائی سے مسلسل محروم،تاجروں کو مشکلات،ورک فرام ہوم بھی متاثر
خبراردو:-
سرینگر:وادی کشمیر میں ایک سال سے زائد عرصہ ہوگیا،لیکن اب بھی 4۔جی موبائل انٹر نیٹ خدما ت بحال نہیں ہوئیں جبکہ بھارت سنچار نگم لمیٹیڈ (بی ایس این ایل) سمیت سبھی مواصلاتی کمپنیاں صارفین سے4۔جی سروس کیلئے دام وصول تو کرتی ہیں،تاہم اب 2۔جی رفتار کا بھی گلا گھونٹ دیا گیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں وکشمیر خاص طور پر وادی کشمیر میں موبائل صارفین کو مایوس کن اور نا قص انٹر نیٹ سروس کی وجہ سے گونا گوں مشکلات کا سامنا ہے۔کئی صارفین نے بتایا کہ ایک تو آئے روز انٹر نیٹ سروس بند رہتی ہے،اُس پر ستم ظریفی یہ کہ صارفین سے 4۔جی انٹر نیٹ سروس کے نام پر چارجز وصول کئے جاتے ہیں،لیکن 2۔جی رفتار کی بھی سروس فراہم نہیں کی جاتی ہے۔
وادی کشمیر میں بھارت سنچار نگم لمیٹیڈ (بی ایس این ائل)،ائر ٹیل،جیو اور آئیڈیا سمیت کئی مواصلاتی کمپنیاں موبائیل سروس فراہم کرتی ہیں۔ایک تو صارفین سے جی ایس ٹی کے نام بھاری ٹیکسز وصول کئے جاتے ہیں جبکہ الگ الگ ’پیک‘ کیلئے صارفین سے موٹی موٹی رقومات وصول کی جاتی ہے،تاہم سروس کے وقت سبھی مواصلاتی کمپنیاں شکایت تو درج کرتی ہیں،لیکن سروس میں بہتری لانے کے بجائے مزید ناقص ہی بنتی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ جموں وکشمیر میں 35لاکھ انٹر نیٹ صارفین ہیں جبکہ90لاکھ سے زیادہ موبائیل صارفین ہیں،جو بھارت سنچار نگم لمیٹیڈ (ابی ایس این ایل) سمیت مختلف مواصلاتی کمپنیوں سے سروس حاصل کرتے ہیں۔عبید نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ بیرون ریاست ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں،تاہم کورونا بحران کی وجہ سے وہ واپس کشمیر لوٹ آئے ہیں اور کمپنی نے اُنہیں ’ورک فرام ہوم‘ کے تحت گھر سے کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ان کا کہناتھا ’2۔جی رفتار پر گھر سے کام کرنا ناممکن ہے،کیوں ہمیں روزانہ ہائی سپیڈ پر ڈاٹا ڈاؤن لورڈ اور اپ لورڈ کرنا ہوتا ہے،جسکے لئے 4سے بھی زیادہ انٹر نیٹ سپیڈ کی ضرورت ہوتی‘۔
عبید کا کہنا ہے کہ مجبورا ً اُنہیں لیز لائن کنیکشن لینا پڑا اور اسے اُنکے اخراجات پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے،اگر موبائیل پر4سروس فراہم ہوتی،تو اُنہیں اضافی اخراجات کا بوجھ نہیں پڑتا۔مسرت شوکت نامی گھریلو خاتون نے فون پر بتایا کہ اسکول انتظامیہ آن لائن کے ذریعے بچوں کو پڑھائی کا عمل جاری رکھی ہوئی،لیکن 2جی رفتار پر بچوں کی آن لائن پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ان کا کہناتھا ’اسکول انتظامیہ براڈ بینڈ یا لیز لائن پر بچوں کی مشق کیلئے ویڈ یوز اور تصاویر وغیر ہ سماجی رابطہ سائٹس کے ذریعے اُنکے تو پہنچا تی ہے،لیکن نہ تو ویڈ یو ڈاؤن لورڈ صحیح وقت ہو پاتے ہیں اور نہ ہی تصاویر جبکہ ہر گھر میں ہائی سپیڈ انٹر نیٹ مہیا نہیں ہوتا،حکومت کو اب مختلف سوچنا چاہئے‘۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ اُنہیں بھی ناقص انٹر نیٹ سروس کی وجہ سے طرح طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان کا کہناتھا کہ ایک تو آن لائن ادائیگی نہیں ہو پاتی ہے اور نہ ہی وقت پر ٹیکسز اور دیگر ادائیگی ہوتی ہیں،ایسے میں اُنہیں کورونا کے اس بحران میں بنکوں اور سرکار ی دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر انتظامیہ نے جموں وکشمیر کے20اضلاع میں سے 2اضلاع گاندر بل اور ادھمپور میں آزمائشی بنیادوں پر 4۔جی موبائیل انٹر نیٹ سروس بحال کردی تھی لیکن 18اضلاع کے صارفین اب اس سروس سے محروم ہیں۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
