تازہ ترین
ہم ختم رسل کے پروانے

مصنف: الطاف جمیل
ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا عقیدہ ہے جس کے بارے میں امت میں کوئی تضاد نہیں کوئی تفریق نہیں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جسکے بارے میں امت مسلمہ جسے دنیا میں ہزاروں افتراق انتشار کے مسائل میں الجھایا گیا ہے پر ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اب بھی پوری یکسوئی اور پورے عظم کے ساتھ کھڑی ہے اس میں کوئی سمجھوتہ ہی نہیں کوئی تفریق ہی نہیں بلکہ اس کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے اس عقیدے سے ہلکا سا بھی چھیڑو تو تڑپ اٹھے گا دل پوری امت مسلمہ کا اجتماعی عقیدہ احادیث کی روشنی میں جو اس نے اختیار کیا ہے کہ ہماری آنکھوں کا نور دل کا سکون ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا انا خاتم النبی اور امت نے عقیدہ دل میں بسا لیا دلیل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
ختم نبوت کے منکر کو بلکہ امت مسلمہ کا اس مسئلہ میں شرح صدر ہے اور لافانی عقیدہ بھی کہ مر جائیں گے مگر ایمان کا سودا نہ کریں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا کہ میرے بعد جو نبوت کا دعوی کریں گئے وہ کذاب ہیں اب کب کس نے کیا ہے یہ الگ بات ہے پر سب سے اول جب مسلمہ کذاب نے دعوی کیا تو اصحاب نبوی علیہ السلام نے اس ملعون کو اپنے نیزوں کی نوک پر رکھ لیا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی نے مدینہ منورہ کے تحفظ کے بجائے اس ملعون کو سزا دینا ضروری مانا وہ حفاظ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو مچلتے رہے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوتے رہے جب بھی ایسا ہوا کہ کوئی ملعون کھڑا ہوگیا تو امت مسلمہ نے اس کی خبر لی اور آج تک یہ عقیدہ اپنی اصل ہیئت پر موجود ہے جس میں ذرا کو بھی چھیڑو تو دنیا میں امت مسلمہ ایک جان ہوکر تڑپ جاتی ہے
ایسا کیا ہے اس میں
یہ بات بہت کم لوگوں کی سمجھ میں آئے گی کہ ایک ایسی قوم جسے خاک و خون میں ملایا جارہا ہے جس کی بقائے دوام کا مسئلہ دم توڑ رہا ہے جس کے مقدس مقامات مٹی میں ملایئے جارہئے ہیں جس کی عزت و احترام کو دھول میں ملایا جارہا ہے جس کے وقار کو ہر لمحہ مجروح کیا جارہا ہے جس کی دنیا میں اب کوئی خاص طاقت بھی نہیں رہی ہے جو خاموشی سے اپنے اوپر ہورہے مظالم سہہ رہی ہے جو اپنی دنیا کے اجڑنے پر سوائے آنسوؤں بہانے کے کچھ کرنے سے قاصر ہے جو اب کچھ اس انداز سے جی رہی ہے کہ لگتا ہے آخری سانسیں لے رہی ہے جس کا انگ انگ رس رہا ہے اور اسے کوئی قوت بھی اس مدہوشی کے عالم سے نہیں جنجھوڑ پاتی لگتا ہے یہ مر گئی ہے اب اس میں کوئی جان نہیں یہ مردہ جسم کی مانند ہوچکی ہے اب جیسے چاہئیں اسے مسل سکتے ہیں یہ تر نوالہ بن چکی ہے مگر عقیدہ ختم نبوت کو چھیڑو تو تڑپ اٹھتی ہے اور پوری قوت سے ایمانی حمیت و غیرت سے اٹھ جاتی ہے اور سینہ تان کر کھڑی ہوجاتی ہے یہ جان آتی کہاں سے ہے کوئی نہیں سمجھ سکتا تو سنو یہ صرف امت کا عقیدہ نہیں ہے بلکہ یہ محبت کا تعلق ہے تسکین قلب و جگر کا تعلق ہے یہ ایسا تعلق ہے کہ امت مسلمہ جسے دنیا کا ہر ذی جاہ و جلال روند رہا ہے جس کے جنازوں کا شمار نہیں جس پر ٹوڑے جارہے مصائب کی انتہا نہیں پر یہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تک رہا ہے تحمل بردباری پاکیزگی کی مثال پیش کئے جارہا ہے پر جوں ہی ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات آئی ناموس رسالت کے سلسلے میں گستاخی سنی تو بپھرے ہوئے شیر کی طرح دھاڑتا ہے اپنی جان اپنے اسباب اپنی اولاد کسی کی فکر نہیں کرتا یہ تعلق جاننا ہو تو عقل کو چھوڑئے چلے صدیق اکبر کی صداقت فاروق اعظم کا جلال و کمال عثمان کی سخاوت علی کی شجاعت حسین کی شہادت بلال کی استقامت اصحاب نبوی کی قربانیاں یہ سب تاریخ کے پنوں میں ملے گا خاتمہ نہیں ہوا آگئے چل کر بھی امت بانجھ نہیں ہوئی نہ بخل کیا ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانے فراہم کرنے میں یہ ایسی سعادت ہے جہاں والدین اپنے لخت جگر کو بن سنور کر جانے کو کہتی ہیں تو آئے دنیا کے فاجرو سنو کسی گنہگار سے گنہگار مسلمہ کو روضہ اطہر پر کھڑا کردو نظر پڑتے ہی اس کی نگاہیں نیچے جھک کر اپنا بچا کچا پانی قربان کردیں گئیں یہ تعلق دل کا ہے ایمان کا ہے عقیدہ کا ہے بڑے سے بڑے لیڈر کو اٹھاؤ بڑے سے بڑے مزہبی پیشوا کو لاؤ بس کچھ لوگ دکھا دو جو ان کے نام پر خود کو قربان کرنے پر آمادہ ہو جائیں تو کہنا
آئے اہل دنیا تم نے کیا خاک سمجھا ہے اس آتش دل کو جو مسلسل اپنے ہونے کا احساس دلا رہی ہے کہ چنگاری اب بھی باقی ہے جو کافی ہے گستاخوں کے جرمن کو بھسم کرنے کے لئے یہاں جان قربان بھی کی جاتی ہے اور اس اسم منورہ پر کوئی ملعون زبان دراز کرے تو کھینچ بھی لی جاتی ہے کوئی عالم نہیں فقیہ نہیں محدث نہیں صاحب علم و عرفان نہیں کسی ایسے مسلم کو دیکھ لیں جو انتہا کا گنہگار لگتا ہو جس کا ہر پل چرس افین کی نظر ہورہا ہو اس کو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر چھیڑ کے دیکھ لو اپنے حواس کس قدر تیزی سے مجتمع کرکے جھپٹ پڑے گا
اور دنیا دیکھتی ہی رہ جائے گئی
کیوں کر امت یہ سوچتی ہے
تو سوچو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب چھوٹی چھوٹی باتوں سے مطلع کیا تو کیا اس قدر حساس اور ضروری معاملہ میں رہنمائی نہیں فرماتے کیوں نہیں انہوں نے کی ہے اور امت اس عقیدے کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتی ہے
امت کا مجموعی عقیدہ
نبی کر یمﷺ اپنی امت کو خلفائے راشدین کے اقتداء کا حکم فرماتے ہیں ،ائمہ دین اور امراء کی اطاعت کی تعلیم دیتے ہیں؛ بلکہ ایک حبشی غلام کی بھی (جب کہ وہ امیر بن جائے )اطاعت امت پر واجب قرار دیتے ہیں ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور عمار بن یاسرؓ کی اقتداء کی دعوت دیتے ہیں ، حضرت زبیرؓ ، ابو عبیدۃ بن الجراح، معاذ بن جبلؓ عبداللہ بن عباس ؓ وغیرہ صحابہ کرامؓ کے نام لے لے کر انہیں واجب التکریم اور قابل اقتداء فرماتے ہیں، اویس قرنی کے آنے کی خبر اور ان سے استغفار کرانے کی تعلیم دیتے ہیں، مجددینِ امت کا ہر صدی پر آنا، ابدال کا ملک شام میں پیدا ہونا، اور اُن کا مستجاب الدعوات ہونا وغیرہ وغیرہ مفصل بیان فرماتے ہیں۔
لیکن ایک حدیث میں بھی یہ بیان نہیں فرماتے کہ ہمارے بعد فلاں نبی پیدا ہوگا، تم اس پر ایمان لانا اور اس کی اطاعت کرنا۔
اگر پہلو میں دل اور دل میں ایمان یا انصاف کا کوئی ذرہ بھی ہے تو تمام احادیثِ سابقہ کو چھوڑ کر صرف یہی احادیث ایک انسان کو اس پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہیں کہ آپﷺ کے بعد تا قیامت کسی قسم کا کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔
یہ دو سو دس احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن میں آںحضرتﷺ نے ختمِ نبوت کا قطعی اعلان فرماکر ہر قسم کی تاویل اورتخصیص کا راستہ بند کردیا ہے۔
جس کی آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سُنے۔ إن في ذلک لَعِبْرۃً لِمَنْ کان لہ قلبٌ أو القیٰ السمعَ وھو شھید۔ (ختم نبوت : ص۲۹۵ تا ۲۹۶)
اسی لیے علامہ انورشاہ کشمیری نوراللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں:
’’ختم نبوت کا مسئلہ شریعت محمدی میں متواتر ہے، قرآن و حدیث سے اجماع بالفعل سے اور یہ پہلا اجماع ہر وقت اور ہر زمانہ میں حکومت اسلامی نے اس شخص کو جس نے دعوئ نبوت کیا، سزائے موت دی ہے، ایک شاعر کو صلاح الدین ایوبیؒ نے بہ فتویٰ علماء دین، ایک شعر کہنے پر قتل کرادیا تھا ۔
کان مبدأ ھذا الدینِ من رَجُلٍ سَعٰی فأصبحَ یُدْعیٰ سیدُ الأُممٖ
(صبح الأعشی: ۳۰۵، ۱۳۹)
اس شعر سے اس شخص نے نبوت کو کسبی قرار دیا کہ نبوت ریاضتوں سے حاصل ہوسکتی ہے، اس لیے اسے قتل کروادیا۔ (احتساب قادیانیت: ج۴/ص۴۲)
اس سے آپ اندازہ لگایے کہ مسئلہ ختم نبوت کتنا حساس مسئلہ ہے۔
علامہ کشمیری قدس اللہ سرہٗ ’’ماکان محمد‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’نبی کریمﷺ اشخاص نبوت کے بھی خاتم ہیں، اور آپﷺ کے تشریف لانے کے بعد نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے
ہمارا ماننا ہے کہ ہمارے لئے کائنات میں جو قابل فخر قابل عقیدت زات ہے وہ بس اللہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہ عقیدے لامثال بھی ہے لافانی بھی ان جیسا نہ کائنات نے دیکھا نہ دیکھئے گی
مسخرہ پن چھوڑے حقائق تسلیم کیجئے
آج کل مادیت کے اس دور میں جہاں نفرت عناد تعصب ہی سب کچھ مانا جارہا ہے جہاں تہذیب کے نام پر تہذیب کا جنازہ اور حیا کے نام پر ردائے عفت امن کے نام پر قتل و غارت کی جاتی ہے جب شرافت پاکیزگئی کو قدیم تہذیب بتا کر ہوس کو تہذیب و تمدن بتایا جارہا ہے جہاں انسانیت انسانوں کے ہاں سسک رہی ہے جہاں قانون و سسٹم کے نام پر دلالی کی جاتی ہے ایسے میں کہیں کسی مسلمان سے کوئی خطا سرزد ہوئی اس نے ملکی قانون کے احترام کرنے کے بجائے خود ہی کوئی حرکت کی کسی گستاخ پر حملہ کیا دوسری طرف اسلامی علوم کے ماہرین نے اس چیز کی مذمت کی کہ ملکی قوانین کو مسمار کرنا صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی گنجائش ہے اسلام میں کیونکہ اسلام جزباتی قسم کے جنون کا خواہاں نہیں اور نہ ہی کسی قسم کے تشدد کا قائل مگر کیا قوانین میں اسلام کے احترام کے لئے کوئی گنجائش نہیں یا اسلامی شعائر پر حملہ کوئی جرم نہیں ہے یا اسلام پسندوں کا دل نہیں یا ان کے وجود کی کسی ملک کو فکر نہیں کیوں پھر کسی مسلمان کی طرف سے کئے گئے جزباتی عمل پر ہی یہ سب آسمان سر پر اٹھانے والے مینڈک ٹپک پڑتے ہیں جبکہ کوئی اور کتنا بھی اخلاقیات سے عاری کام انجام دے یہ گندے مینڈک اچھل کود نہیں کرتے بس اسلام کے ماننے والوں سے انہیں دماغی مرض ہوتا ہے ہلکا سا کوئی معاملہ ہوا یہ اپنی زبان سے رال ٹپکانے نکل پڑتے ہیں اور اپنے دماغ میں بسی نحوست انڈیل دی آئے دنیا والو ہم اپنا حق مانگتے ہیں کوئی بھیک نہیں تو اگر ہم سے خائف ہی ہو تو پھر ہمارے معاملات میں بھی تم اپنی حاضری نہ لگاؤ ہمیں کسی کی حاجت نہیں یا تو برابری کی بات کرو یا خاموش تماشائی بن کر رہو
پچھلے کچھ سالوں میں کوئی کہیں مجمع سے اٹھا اور کسی حکمران کو جوتا دے مارا تو قانونی کارندے فوری حرکت میں آئے
اس کی مشکیں کس لیں اسے جیل ہوئی اس سے سزا ہوئی حتی کہ ہاتھا پائی کے دوران گر ایسا کوئی جوتا مارنے والا مر جائے تو اس کی سزا کسی کو نہیں دی جاتی کیونکہ یہ ملکی مفادات کے خلاف مانا جاتا ہے امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوا تو افغاستان کو قبرستان بنایا گیا کسی مسلمان نے کسی جگہ پر حملہ کیا تو دہشت گرد بنا کر اسے پھانسی دی گئی اسے قتل کیا گیا پاکستان میں بھی کئی بار ایسا ہوا کہ کسی کو دھشت گرد بتا کر ملکی مفادات کے تحفظ کے لئے پھانسی دی گئی اور ایسے معاملات کو جلد جلد نپٹایا گیا مسلمان جو دنیا میں دوسری بڑی اکثریت ہے کیا انہیں یہ حق نہیں کہ وہ اپنے عقیدے کے تحفظ کے لئے کوشاں رہیں
تو دوہرا معیار کیوں کیا امت مسلمہ کے اس پاک عقیدے کے تحفظ کے لئے قانون نہیں یا ان کے عقیدے کی اہمیت نہیں کیا دنیا کا کوئی مہذب معاشرہ ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ کسی طبقہ کے جذبات کو ہر بار مجروح کیا جاتا رہے کوئی بھنگی کوئی بدترین انسان اٹھے اور مخالف فکر یا مذہب کی ذی عزت شخصیات پر بکنا شروع کرے کوئی گلی کا غنڈہ جب چاہتا ہے تب آنحصور صلی اللہ علیہ وسلم پر تبصرہ کرتا ہے تو کیوں تم خاموشی کا روزہ رکھ لیتے ہو یہ کسی بھی مہذب قوم کو زیب نہیں دیتا کہ مذہبی تشخص بگھاڑنے کے لئے کسی بھی مذہبی پیشوا کی تذلیل و تحقیر کرے اور یہاں صرف مذہبی پیشوا ہی نہیں بلکہ یہ ایمان و عقیدے کی بات ہے اسی لئے امت مسلمہ نے ہمیشہ ایسے غلیظوں کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ امت مسلمہ کو گرچہ دہشت گرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے پر جس قدر احترام انسانیت اور قتل نا حق کی برائی اسلام کرتا ہے کوئی اور مذہب اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا
ہم کل بھی اجتماعی طور پر ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے محافظ و نگہبان تھے ہم تا قیامت اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے رہیں گئے دنیا چاہئے کچھ بھی کہئے ہم کہتے رہیں گے کہ ہم ختم نبوت کے پروانے دنیا کو دکھا کر دم لیں گئے
ہمارا نعرہ ہے احترام دو گئے تو احترام کیا جائے گا جو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرے گا اسے ذلیل کیا جائے گا اسے رسوا کیا جائے گا
آئے ختم نبوت کے پروانو سلام تم پر
آئے ختم نبوت کے شاہینو سلام تم پر
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
