پاکستان
عسکری قیادت کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، ‘فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے’
اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے انعقاد سے چند دن قبل حکومتی اور اپوزیشن سیاسی رہنماؤں کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات ہوئی جس میں فوجی قیادت نے سیاسی رہنماؤں سے کہا کہ سیاست آپ کا کام ہے لہٰذا فوج کوسیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 16ستمبر کو ہونے والی اس ملاقات میں اپوزیشن کے تقریباً 15 رہنماؤں نے شرکت کی جن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیر حیدر ہوتی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اسد محمود، مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمٰن اور کچھ حکومتی وزرا نے شرکت کی۔
اس اجلاس میں شرکت کرنے والے کچھ رہنماؤں کے مطابق اجلاس کے طے شدہ اصولوں کے مطابق اسے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کرنا تھا۔
تحریر جاری ہے
رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے سیاسی اتفاق رائے کے لیے تھی مگر یہ ملاقات اس وقت مختلف شکل اختیار کر گئی جب اس میں گلگت بلتستان انتخابات، قومی احتساب بیورو (نیب) سمیت دیگر سیاسی معاملات بھی زیر بحث آئے۔
تاہم اپوزیشن نے اس موقع کو دیگر معاملات پر اپنے تحفظات پیش کرنے کے لیے استعمال کیا بالخصوص فوج کی سیاست میں مبینہ مداخلت اور احتساب کے بہانے اس کے رہنماؤں پر ظلم و ستم کے الزامات وغیرہ۔
مشاہدہ کرنے والوں نے اس ملاقات کے وقت اور اسے منظر عام پر لانے کو اپوزیشن کی اتوار کے روز ہونے والی ملٹی پارٹیز کانفرنس سے منسلک کیا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے فوج پر یہ کہتے ہوئے تنقید کی تھی کہ ‘یہ ریاست کے اندر ریاست ہے’۔
نجی ٹی وی چینل ‘جیو نیوز’ کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ عسکری قیادت نے مولانا فضل الرحمٰن کے بیٹے سے کہا کہ جب اسمبلی سے صدر کا ووٹ لینا ہو تو آپ کے والد کے لیے یہ اسمبلی حلال ہوتی ہے اور جب وہ ناکام ہو جائیں تو یہ اسمبلی حرام ہو جاتی ہے، اگر وہ صدر منتخب ہو جاتے تو یہ اسمبلی ٹھیک تھی، اب وہ ہار گئے ہیں تو یہ اسمبلی حرام ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ عسکری قیادت نے واضح کیا کہ ہمیں کسی مسئلے میں نہ لائیں، آپ جانیں اور آپ کا کام جانے، نیب کا چیئرمین، الیکشن کمشنر آپ نے لگایا ہے، اصلاحات آپ نے کرنی ہیں، معاملات آپ نے طے کرنے ہیں، ہمیں کوئی سول حکومت بلائے گی تو ہم لبیک کہیں گے، ہمیں بھاشا ڈیم، نیلم جہلم، فاٹا، ٹڈی دل، سیلاب اور نالوں کی صفائی میں حکومت بلائے گی تو فوج اس کا فیصلہ مانے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ اگر کل آپ کی حکومت ہوئی تو آپ بھی ہمیں جو کہیں گے وہ ہمیں کرنا ہو گا کیونکہ اس یونیفارم میں ہم سول گورنمنٹ کی جانب سے دیے گئے آرڈر پر لبیک کہنے کے پابند ہیں، یہ آرمی چیف نے سب کے سامنے کہا تو لوگوں نے کہا کہ یہ بات سن کر بڑی حیرانی ہوئی، انہوں نے کہا کہ حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے، ہم برسر اقتدار حکومت کے حکم پر لبیک کہیں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ کل اگر آپ کی حکومت ہوگی تو فوج آپ کا بھی فیصلہ مانے گی لیکن فوج کو خواہ مخواہ مسائل میں مت گھسیٹیں اور یہ یاد رکھیں کہ جمہوریت ناصرف پاکستان کی ضرورت بلکہ اشد ضرورت ہے، اگر جمہوریت کو نقصان پہنچا تو یہ بات بہت دور جاتی ہے’۔
شیخ رشید نے مزید بتایا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر قانون سازی پر عسکری قیادت نے کہا کہ آپ فیصلہ کر لیں کہ الیکشن سے پہلے کرنا ہے یا بعد میں، جس پر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے کہا کہ الیکشن کے بعد اس کو بنائیں گے اور اس میں ہر طرح کے الیکشن کرائیں گے۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے بتایا کہ آرمی چیف نے کہا کہ ہمیں اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں کہ آپ الیکشن سے پہلے کریں یا بعد میں لیکن شیعہ، سنی مسئلے پر آپ سب کی نظر ہونی چاہیے کیونکہ ملک فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا، کسی قیمت پر بھی ملک میں فسادات کی اجازت نہیں ہوگی، جو ملک کی سالمیت اور اس کے خلاف سازش میں شریک ہو گا فوج اس کے سامنے کھڑی ہوگی، باقی سیاست جانے اور آپ کا کام جانے، سیاست آپ کا کام ہے، ہمارا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دوستانہ ماحول میں باتیں ہوئیں، کوئی تناؤ نہیں تھا، کوئی تلخ بات نہیں ہوئی اور ہلکے پھلکے انداز میں ملاقات ہوئی۔
ملاقات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کا مؤقف
ملاقات میں شرکت کرنے والے ایک فرد نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیب کے اقدامات نے بیوروکریسی کو خوفزدہ کردیا ہے جس کی وجہ سے حکام اہم فیصلے نہیں کررہے، رپورٹس میں کہا گیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ بیوروکریسی ڈلیور نہیں کررہی۔
مسلم لیگ (ن) اپنے رہنماؤں کی اس ملاقات میں شرکت کے حوالے سے خاموش نظر آئی۔
دوسری جانب پی پی پی نے کہا کہ وہ منگل کو (آج) اپنے ترجمان فرحت اللہ بابر کے ذریعے باقاعدہ بیان جاری کرے گی تاہم ایک ٹی وی ٹاک شو میں پی پی پی رہنما شیری رحمٰن نے کہا کہ انکی پارٹی کے چیئرمین نے گلگت بلتستان کی حیثیت اور اس کے انتخابات کے حوالے سے بات کی۔
شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اس خطے کی حساسیت کے اعتبار سے گلگت بلتستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی ضرورت پر زور دیا۔
شیری رحمٰن نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی جماعت نے احتسابی عمل پر اپنے تحفظات پیش کیے۔
دوسری جانب پیر کے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات ہوئی تا ہم اس حوالے سے کوئی میڈیا بیان جاری نہیں کیا گیا۔
‘نواز شریف نے اپنی سیاست کو خود دفن کیا ہے’
آل پارٹیز کانفرنس کے سخت اعلامیے پر کیے گئے سوال پر شیخ رشید نے کہا کہ نواز شریف نے اپنا سیاسی گلا خود دبایا ہے، خود اپنے پاکستانی پاسپورٹ کو پھاڑا اور سیاست کو دفن کیا ہے، یہ وہی نواز شریف ہیں جو ضیاالحق کی گود میں پیدا ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے سندھی وزیر اعظم جونیجو کی پیٹھ میں چھڑا گھونپا اور خود آ کر عبوری حکومتیں اور عبوری وزرا بنائے، ان کی تقریر کی کوئی ریٹنگ نہیں کیونکہ لوگ پسند ہی نہیں کرتے کہ کوئی فوج کے خلاف بات کرے، فوج اور آئی ایس آئی اس ملک کا آخری سہارا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے زیر اثر ایجنٹ ہیں، جو کوئی بھی پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا وہ اس ملک کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے، جو کوئی بھی ایسا کرتا ہے ہم اسے نہیں بھولیں گے۔
شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان کی حکومت معاشی اعتبار سے بہتر ہونے جا رہی ہے، پاکستان کا سی پیک لوگوں کو کھٹک رہا ہے، سی پیک کا محور گلگت بلتستان ہے اور وہاں کے عوام کو شناخت ملنے جا رہی ہے لیکن اس کے برعکس بھارت کی معیشت 30 فیصد نیچے جا رہی ہے جہاں کورونا کے روزانہ ایک لاکھ کیسز آرہے ہیں، روز 1300 لوگ مر رہے ہیں، چین کے ساتھ لداخ میں وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ نواز شریف کی تقریر نشر کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ اکیلے عمران خان کا تھا، انہوں نے نظریے کی بدولت دیوار کے اس پار دیکھا کہ یہ ضرور کوئی حماقت کرے گا، اس ملک میں جب تک سیاست ہے، پاک فوج کے خلاف کوئی بات نہیں ہو سکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ سال کے آخر تک کچھ اہم واقعات ہوں گے کیونکہ سینیٹ الیکشن ہونے والے ہیں اور اپوزیشن چاہے گی کہ عمران خان کو سینیٹ میں اکثریت حاصل نہ ہو لیکن مارچ میں سینیٹ میں عمران خان کو اکثریت حاصل ہو جائے گی اس کے بعد یہ ایوان میں صرف بحث کرنے آیا کریں گے۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی اسمبلی سے استعفیٰ نہیں دے گی، وہ سندھ کی اسمبلی سے کبھی استعفیٰ نہیں دیں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے بتایا تھا کہ تین چار دن پہلے اپوزیشن کے پارلیمانی رہنماؤں کی عسکری قیادت سے ملاقات ہوئی تھی۔
انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ اس ملاقات میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، خواجہ آصف، فضل الرحمٰن کے بیٹے اسد الرحمٰن، شاہ محمود قریشی، پیپلز پارٹی کی شیری رحمٰن، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ نہ ہم نے نیب چیئرمین لگایا ہے، نہ الیکشن کمشنر لگایا ہے، یہ آپ لوگ لگاتے ہیں اور آپ لوگ اپنے کام خود کریں، ہمیں اس میں ملوث ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور جب کوئی منتخب حکومت ہمیں امدادی کام کے لیے بلائے گی تو ہم اس کی مدد کو آئیں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ عسکری قیادت نے واضح کیا تھا کہ خواہ مخواہ اداروں کوگھسیٹا نہ جائے اور یہ گھسیٹنے والے کسی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، فوج کسی معاملے میں ملوث نہیں ہے۔
سینئر سیاستدان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپ کے کام میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ سول حکومت ہمیں مدد کو بلائے اور ہم مدد کو نہ پہنچیں۔
شیخ رشید کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ فوج کو شوق نہیں کہ وہ پولنگ اسٹیشن کے باہر کھڑے ہوں، ہمیں تو آپ بلاتے ہیں، آپ آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ملاقات میں کسی نے بھی نیب کے کیسز کے سوا کسی بھی چیز پر فوجی قیادت سے تحفظات کا اظہار نہیں کیا جس پر آرمی چیف نے کہا تھا کہ نہ نیب کا بندہ ہم نے تعینات کیا، نہ الیکشن کمشنر ہم نے تعینات کیا ہے، یہ آپ کرتے ہیں اس لیے یہ آپ کا فرض ہے کہ دیکھیں کہ آپ ٹھیک بندہ تعینات کرتے ہیں یا غلط۔
عسکری قیادت سے سیاستدانوں کی ملاقات کا انکشاف اس وقت ہوا ہے جب ایک دن قبل ہی آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت اور اداروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اپوزیشن جماعتوں نے اے پی سی میں ‘پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ’ تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
اجلاس نے اپنی قرارداد میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے ملک کی سلامتی اور قومی اداروں کے لیے خطرہ قرار دیا تھا اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طور پر بند کرے۔(ڈان نیوز)
پاکستان
تحریک انصاف تحریک ختم کرکے مذاکرات کے لیے آگے آئے، شہباز شریف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کر کے مذاکرات کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل احتجاج ملک کی اقتصادی ترقی اور بین الاقوامی امیج کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان ٹریفک کو کم کرنے کے لیے بنائے جانے والے کشمیر چوک انڈر پاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جناب شریف نے کہا، “میں اب بھی ان سے کہتا ہوں کہ ہوش میں آجائیں، اپنے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے، یہ آپسی محنت اورپاکستانی قوم کی آواز ہے ۔”
تقریب میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین سہیل اشرف سمیت متعدد ارکان پارلیمنٹ اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ایک بار پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے تھے لیکن حتمی مسودہ تیار ہونے کے بعد تحریک انصاف کے آخری لمحات میں تبدیلی کے مطالبات کی وجہ سے یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست معیشت پر اثر پڑے گا، برآمدات، مینوفیکچرنگ اور درآمدات متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کارکن یا انجینئر وقت پر فیکٹری یا دفتر نہ پہنچ سکے تو پورے ملک کو نقصان پہنچے گا۔
مسٹر شریف نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک استحکام کو بحال کیا ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے معاشی ترقی کی جانب کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ جیسے اشارے مثبت ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانا ریاست کے مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا، “ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اور ہم اسے ہر ممکن طریقے سے یقینی بنائیں گے۔”
مسٹر شریف نے کشمیر چوک پروجیکٹ کو ایک ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کرنے پر مسٹر نقوی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی۔ منصوبے کی لاگت 1.6 بلین پاکستانی روپے تھی، جبکہ ٹھیکہ 1.4 بلین روپے میں دیا گیا تھا۔ چار سلپ روڈ بنائے جائیں گے۔ اس چوراہے پر فی الحال تقریباً 107,000 گاڑیاں چلتی ہیں اور خاص طور پر وی آئی پی کی نقل و حرکت کے دوران یہ ٹریفک جام کا شکار ہوتا ہے۔
یو این آئی۔ الف الف ۔ م الف
پاکستان
عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر ہزاروں حامیوں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
پشاور، جیل میں قید پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ہزاروں حامیوں نے ان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق میں اضافے کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
لانگ مارچ اتوار کو پی ٹی آئی کے زیر اقتدار صوبہ خیبر پختونخوا سے شروع ہوا۔ شرکا اسلام آباد پہنچنے سے قبل راستے میں کئی مقامات پر قیام کریں گے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی جلوس کی قیادت کر رہے ہیں اور انہوں نے نوجوانوں سے اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ حکام مارچ کو دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ شہر کے اطراف ہزاروں پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اہم شاہراہوں اور سرکاری علاقے کے اطراف رکاوٹوں کے طور پر مال بردار کنٹینر بھی رکھے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پارلیمنٹ، وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں۔
تازہ کشیدگی ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر پی ٹی آئی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ یہ مارچ، جو پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات پر مذاکرات کی پیشکش کے بعد ملتوی کر دیا گیا تھا۔
عمران خان اور پاکستان کی سیاسی قیادت کے درمیان سیاسی تنازع 2022 میں پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے جاری ہے۔ خان نے اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام فوج پر عائد کیا تھا، جس کی فوج نے تردید کی ہے۔
مئی 2023 میں ان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد احتجاج کے نتیجے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جس کے بعد کریک ڈاؤن میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو بعد میں فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔
سابق بین الاقوامی کرکٹ اسٹار اور ملک کی اہم سیاسی شخصیت عمران خان خود کو ’’سیاسی قیدی‘‘ قرار دیتے رہے ہیں۔
فوج اور سویلین حکومت اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا حوالہ دیتی ہیں۔ عمران خان کو کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے، تاہم ان میں سے ایک کے سوا باقی تمام سزائیں بعد میں معطل یا کالعدم قرار دی جا چکی ہیں اور ان کے خلاف اپیلیں زیر سماعت ہیں۔
حکومت نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد سے متصل صوبے میں بڑھتے ہوئے عسکریت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کی جانب سے وضع کردہ حکمت عملی میں تعاون کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے مذاکرات کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی وضاحت مسترد کر دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبائی حکومت وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
