تازہ ترین
آئے ملت مسلم تیرا اللہ نگہبان
تحریر:الطاف جمیل ندوی
خبراردو:-
قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام
کشمیر دنیا کا ایک حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے جہاں اب تلک گرچہ مسلکی منافرت یا مذہبی چپقلش کے نام پر کوئی ہنگامہ آرائی نہ ہوئی بلکہ اکثر صبر و تحمل اس قوم کا خاصہ رہا ہے جو اپنی نسبت وادی سے کرتی ہے
پرالمیہ یہ ہے کہ اب یہاں بھی دیدہ و دانستہ ایسے کام کئے جارہے ہیں جس سے کم از کم اسلامی تعلیمات آشناء نہ تھیں آج تک پر اب جب کہ دنیا میں ہر چہار سو یہ مصیبت دندنا رہی ہے اپنی تمام تر غلاظت کے ساتھ تو وادی کشمیر کا علاقہ بھی اس کی لپیٹ میں آہی گیا آئے روز اسلام کے نام پر مساجد میں مقابلہ آرائی مناظرہ بازی کے نام کی دکانوں کو آراستہ کیا جارہا ہے اور کچھ من چلے بڑی ہی چابک دستی سے خود کو بحیثیت مناظر اسلام منوانے میں کامیاب بھی ہورہے ہیں اور ہر کسی کا چہیتا سب سے قابل سب سے بڑا اہل علم تقوی شعار اور محب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بنا پھر رہا ہے اور یہ مشغلہ روز بروز پروان چڑھتا جارہا ہے یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ اکثر کبار علماء کرام جو یہاں کی مختلف فکر و افکار کے روح رواں ہیں ایسی مجالس سے دور ہی رہتے ہیں
ہوتی نہین جو قوم، حق بات پہ یکجا،
اس قوم کا حاکم ہی بس انکی سزا ہے.
غنی شیخ کا نیا فتنہ اور سوشل میڈیا کے مفکر
ویسے تو تب سے جب سے یہاں ہنگاموں نے اپنا بسیرا بنا لیا ہے اس قوم کو ایسے پاسبانوں نے دکھ اور الم کے سوا کچھ بھی نہ دیا جو ان حالات کی پیدا وار ہیں جو یہاں پچھلے تیس پینتیس سال سے بنے ہوئے ہیں حالات نے جہاں یہاں پر طرف ماتم غم کرب یتیم بیوہ قتل دہشت وحشت درندگی بھوک پیاس لاش جیسے الفاظ کو عملی جامہ پہنا دیا وہیں یہاں علوم اسلامیہ کے بارے میں بھی ہنگاموں نے اپنی جگہ بنانے کے لئے کوشاں و سرگرداں رہے تصوف عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کچھ زیادہ ہی تجار پیدا ہوتے رہے جو بجائے اس کے کہ قوم و ملت کے لئے کچھ کرتے بلکہ ان درندہ صفت اور شیطان کے پجاریوں نے یہاں کی قوم کے لئے ایک نہ ختم ہونے والا درد اور کرب پوری قوم کو دیا مثال ہم گلزار پیر نامی اس مبلغ کی دے سکتے ہیں جو اسلام کے نام پر ہزاروں لوگوں کی گمراہی کا سبب بنا جس کے مریدین اسے ڈاکٹر ذاکر نائک کے ہم پلہ ہونے کا سکالر کہتے ہوئے مسرور ہوا کرتے تھے پر تماشہ تب ہوا جب اس پر کچھ خواتین نے جنسی ہراسگی کا دعوی کردیا اور اسے قانون کے محافظ کلمہ یا آیت الکرسی دعائے قنوت سنانے کو کہتے ہیں تو یہ شخص ہاں ہوں کرنے اپنی علمی بصیرت کا چراغ جلانے کے لئے کوشاں ہوجاتا ہے جس کے جواب میں اسے کچھ اس کے لائق الفاظ کا تحفہ ملتا ہے قوم نے اپنا شعور کہاں برباد نہ کیا یہاں ان سالوں میں مختلف ایسے حادثات و واقعات رونما ہوتے گئے جہاں ہماری بیٹیوں کو جاڑ پھونک کے نام پر عزت و رفت کی قیمت ادا کرنی پڑی یہ سلسلہ گر چہ ہر طرف اپنی ابلیسیت کا راج کر رہا ہے پر ہماری وادی اب اس کی زد پر کچھ زیادہ ہی آگئے بڑھ رہی ہے
یہاں آئے روز کوئی نشہ باز خود کو کرامات دیکھانے والا کہتا ہے کوئی صاحب خود کو محافظ جنات کہلانا پسند کرتا ہے تو کوئی کسی اور نام سے اسلام کا لبادہ اوڑ کر قوم کے لئے درد سر بنا پھر رہا ہے یقین کریں کہ یہ من چلے کچھ اس قدر ذہین ہیں کہ بیٹھے بٹھائے لاکھوں کروڑوں کے مالک بن جاتے ہیں بس کچھ ابلیسیت کے کارنامے انجام دینے ہیں جو گر چہ ان کے نافلق ان متوالوں کی افواہ ہی کیوں نہ ہو جسے ہر خاص و عام تک پہنچانے کے لئے یہ ہر طرح سے تیار ہوتے ہیں
کہ اپنے پیر خاص کے بارے میں کچھ اس قسم کے افسانے سناتے پھرتے رہتے ہیں کہ آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو ایک بار دیکھنے کی تمنا کر لیتا ہے
کسی ماں کا لخت جگر غائب ہے یا کسی کا شوہر یا کسی معصوم بیٹی کا بھائی تو یہ مریدین اپنی حاضری لگا کر ان ستم رسیدوں پر اک اور ستم ڈھانے کے فراق میں اپنے پیر کے کمالات کی ڈائری لے کر آ ٹپکتے ہیں اور پھر وہی کام شروع ہوجاتا ہے جسے یہ چلہ کشی یا کسی ولی کامل کے سر تھوپنے کے لئے بکرے مینڈک کے ساتھ ساتھ نقدی بھی وصول کرتے رہتے ہیں جب اس سب سے دل کی تسلی نہیں ہوتی تو ان کی نگاہ و نفس میں حرام کی کمائی اپنی تسکین کے لئے وہ سب کر گزرتے ہیں جو اسلام ہی نہیں بلکہ بقیہ ادیان میں بھی قابل نفرت ہی کہلایا جاتا ہے پر کیا کرئے ایسے بد ضمیروں کا جو قوم کو تلوار کے سایہ میں دیکھ کر بھی اپنی نجاست بھری نگاہوں کی تسکین کے متمنی ہی رہتے ہیں
بات اس بوڑھے کی جس کے سبب کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ہنگامہ آرائی دیکھنے کو مل رہی ہے جب پہلی بار اس بوڑھے جس کا نام غنی شیخ بتایا جارہا ہے کو دیکھا تو میں نے ان دیکھا کردیا یہ سوچ کر کہ پتہ نہیں کیا بات ہوگی کیونکہ اکثر ایسی بیہودگیوں سے بچتا ہی رہنا اپنی عادت بنی ہوئی ہے پر ماتھا تب ٹنکا جب یہ سنا کہ موصوف مسجد کے خطیب اور امام بھی ہیں یہ سن کر حیرت کے ساتھ اس کی تلاش کی تو جو دیکھا بس یہ دل میں آیا کہ یا بری اس قوم کا اب کیا ہوگا جس کا رہبر اس قدر بد زبان اور دریدہ دہن ہو میرے لئے اول یہ تصور ہی عبث تھا کہ ایسا بد زبان شخص امام ہے اور ماتم کرنے کو جی چاہا جب اس ے سامنے بیٹھے لوگ مسکرا کر اس کی باتیں سن رہے تھے لفظ فقیری پر موصوف گفتگو کر رہے تھے شاید تصور دے رہے ہوں کہ موصوف فقیر قسم کے آدمی ہیں چلے اس فقیر لفظ کو تصوف کی نظر سے سمجھیں
تصوف میں ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو نفسی خواہشات کی بجائے صرف خدا کی رضآ کا طالب اور محتاج ہو۔ فقیر مسلمان صوفیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی کی بجائے صرف اللہ کے سامنے اپنا سر جھکایا۔ فقیر لوگ اکثر غریب ہوتے ہیں اور اپنا زیادہ وقت خدا کے ذکر میں گزارتے ہیں البتہ ان کے مریدوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے پچھلے ادوار میں بادشاہان وقت ان کے در کی سلامی دیتے تھے
یہ لفظ کتاب و سنت و فقہ کی کتب میں بھی استعمال ہوتا ہے جہاں اس کی اپنی افادیت اور معنی الگ ہیں پر المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر تبصروں کو دیکھیں اس لفظ پر تو اس کا حلیہ بگاڑا گیا ہے جبکہ اس پر توجہ ہی نہ دی گئی کہ موصوف ایک فتنہ گر ہیں نہ کہ کوئی داعیانہ کردار ادا کر رہے ہیں
چلے بڑا ہورہی تھی جناب کی جو کہ پیشہ سے ایک خطیب و امام ہیں امام کے اوصاف میں جہاں کتاب و سنت کا عالم ہونا اہم ہے وہیں اس کا کردار و گفتار بھی نیک اور پاکیزہ ہونا لازمی ہے اب جب امام ان اوصاف حمیدہ کے ساتھ ساتھ ہی کتاب و سنت سے بے بہرہ ہو تو اس صورت میں خطا ان کی بھی ہے جو انہیں سر کا تاج بنا کر رکھتے ہیں نہ صرف کسی جاہل ملا کی ہی یہ ایک ایسا حساس اور نازک کام ہے جہاں علم و عمل دونوں میں یکسانیت لازمی ہے پر کیا کرے کہ جب لوگ شعوری طور پر بے حسی اور فکری سطح پر زوال کا شکار ہوگئے ہوں تو پھر ایسے حادثات ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے بلکہ ہم یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں ہے بس ہنسی مذاق ہورہا تھا میرے پیار و کیا ہنسی مذاق کے لئے لازمی ہے کہ اسلامی تعلیمات کو ہی تختہ مشق بنایا جائے
نہیں بلکہ یہ ہماری دین و ایمان کے تئیں بے حسی و بے توجہی
کا ثبوت ہے کہ اب مسخرے ہمارے امام بنے ہوئے ہیں مجھے یاد آرہا ہے کہ تاریخ اسلامی میں اس کا شکار پہلی بار سنت صلاح الدین ایوبی کے زمانے میں ہوئی جب حشیش بھنگ کا استعمال کرنے والے افراد کو پہنچی شخصیت کیا جارہا تھا جب ایسے ہی فتنے آئے روز اٹھا کرتے تھے جب حکومت کو اس کی خبر ہوئی تو اس کا تدارک کیا گیا اور یہ فتنہ اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے ساتھ فنا ہوگیا جبکہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے بلکہ علی الاعلان اسلامی تعلیمات کا مذاق کا مذاق بنایا جاتا ہے اور ہم مسکرا کر شکریہ ادا کر دیتے ہیں
فکری دیوالیہ پن کے شکار لوگ کبھی بحیثیت ملت کبھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتے اور نہ ہی اس کی کوئی نظیر آج تک جہاں میں مل سکتی ہے کہ کوئی قوم فکری دیوالیہ پن کی شکار ہوکر کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکی ہو اقوام جہاں میں وہی پنپتی ہیں جن کی فکر بلند ہو جن کے حوصلے بلند ہوں جو مسخرون کی ماتحت رہ کر نہیں جیتی بلکہ بلند کردار بلند افکار رکھنے والوں کا استقبال کیا کرتی ہیں
جہاں تک مجھ سا کم علم سمجھتا ہے ایسے افراد کو توبہ کرنی چاہئے اور ان کا حق باطل ہے کہ وہ خطابت کا فریضہ انجام دیں نہ ہی ان کی اقتداء صحیح ہے جو عقل و خرد سے بے بہرہ اور پاکیزہ اخلاق و اوصاف سے عاری ہوں
چلتے چلتے
سوشل میڈیا پر جو لوگ متحرک ہیں اسلام کے نطریہ رحمت کی آبیاری کے لیئے ان کے لئے بھی صحیح نہیں ہے کہ ہر چیز کو عام کریں بلکہ بہتر ہے ایسے باتوں ایسے بچا جائے جن کے سبب اسلامی تعلیمات مجروح ہورہی ہوں اور نہ کہ ایسے افراد کو قابل توجہ سمجھتا جائے جو اسلامی تعلیمات کے برعکس کسی اور نحوست کے ساتھ جینے کی قسم کھائے ہوئے ہوں یہ کوئی خدمت دین نہیں ہے بلکہ صرف رزالت ہی رزالت ہے ارباب علم اس پر اپنی نگاہیں جمائے رکھیں یہ ہنسی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک ایسا ستم ہے کہ گر اس پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو کوئی پوچھنے والا بھی نہ رہے گا جب تک یہ ستم ظریفی کی مصیبت اپنی تمام سیاہ کاریوں کے ساتھ بام عروج پر ہوگئی اور پھر ہمارے لئے رحمتوں کے دروازے بند ہوجائیں گئے
آئے قوم تجھے کیا ہوا تیری داستان ہی ہے لٹ رہی
آئے قوم تجھے کیا کہوں تونے رہزنوں کو ہے خادم قوم بنا دیا
آئے قوم تیری سوچوں کا معیار کیا ہوا کہ تجھے منچلوں نے تباہ کیا
آئے قوم تیری فکر کا یہ زوال کیا ہوا کہ تونے محراب و منبر گرا دیا
آئے قوم تیری کیا بنے گا کہ تیرا رہنما کوئی اب نہیں
آئے قوم للہ اپنا تعلق اہل بصیرت سے جوڑ فسانہ گروں کے طلسم سے نکل جا
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
فورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
واشنگٹن، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ عام لوگ امریکی فوج کے ایک سابق میجر کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کو دیکھ سکیں گے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ندال حسن کو دی جانے والی سزائے موت کی ‘لائیو اسٹریمنگ’ کی جائے گی۔ حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 نہتے امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
مانا جا رہا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں دی جانے والی پہلی عوامی سزائے موت ہوگی۔ موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اس کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ “جدید دور میں غیر معمولی” ہے اور یہ “قانونی طور پر غیر یقینی صورتحال” والا معاملہ ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا، “ہم یہ بات یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، تاکہ یہ عوامی ہو۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔”
پینٹاگن نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ وہ حسن کو سزائے موت دے گا، جو 60 سے زائد برسوں میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ہیگسیتھ نے کنزرویٹو ٹی وی چینل ‘ریئل امریکاز وائس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو “فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔”
جب ہیگسیتھ سے پوچھا گیا کہ کیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: “کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اسے 3 دسمبر کو دیکھیں گے۔”
پینٹاگن کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کو کہا تھا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور ٹرمپ نے اسے منظوری دے دی ہے۔ بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے اس بارے میں تبصرہ مانگا ہے کہ کیا ٹرمپ لائیو اسٹریم کے ذریعے عوامی سطح پر سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زائد افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، لیکن صرف دو ممالک نے ہی اسے عوامی طور پر انجام دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں گیارہ اور افغانستان میں چھ افراد کو عوامی طور پر سزائے موت دی گئی تھی۔
امریکی فوج کے سکریٹری نے منگل کو بتایا کہ یہ سزا 3 دسمبر کو ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں دی جائے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ سے دی جانے والی یہ پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔
ورجینیا کے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے عدالت میں اعتراف کیا کہ امریکی فوجی اڈے پر ہوئے اب تک کے سب سے مہلک غیر جنگی حملے میں وہی بندوق بردار تھا۔
گولی باری 5 نومبر 2009 کو ایک بھیڑ بھاڑ والی میڈیکل عمارت میں ہوئی تھی، جہاں تعینات ہونے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کا انتظار کر رہے تھے۔
عدالت میں حسن نے “کسی بھی غلطی” کے لیے معافی مانگی۔ 2013 میں اپنے کورٹ مارشل کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ مسلمانوں اور افغانستان میں طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔
فوجی قانون کے مطابق، فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری ضروری ہے۔ اس کے لیے اپیل کی جائزہ کارروائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جس میں ایک ہائی کورٹ فیصلے کی جانچ کرتی ہے اور آگے بڑھنے کے لیے اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ لیتی ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے لیے اپیل کا عمل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اپنی سزا اور سزا پر نظرثانی کے لیے فیڈرل کورٹ میں اپیل کریں گے، جس سے شاید سزائے موت پر روک لگ سکتی ہے۔ اس لیے، ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت دی جاتی ہے تو انہیں حیرت ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ٹرمپ انتظامیہ کا فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کو لائیو اسٹریم کرنے کا خیال صرف توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ہونے کا امکان کم ہے، اور اس سے انصاف ملنے کی تو کوئی امید ہی نہیں ہے۔”
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست کی شرط بے تکی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے 10 دن پہلے درخواست دینے کی شرط پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی واقعے پر فوری احتجاج کے لیے لوگوں کو اتنے دن انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس کے اتر پردیش انچارج راجندر پال گوتم نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ خبر حیران کن ہے کہ جنتر منتر پر کسی بھی مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینی ہوگی۔ انہوں نے دہلی پولیس کے اس فرمان پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج کسی کے ساتھ ظلم ہو جائے، کسی کا بے رحمی سے قتل ہو جائے یا جمہوریت پر حملہ کر دیا جائے تو کیا لوگوں کو اس کے احتجاج کے لیے 10 دن انتظار کرنا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ یا کسی حکومت نے ایسا کوئی قانون بنایا ہے یا بنا سکتی ہے کہ ایک آزاد ملک میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کرنے کے لیے اتنے دن انتظار کریں۔
کانگریسی رہنما نے کہا کہ آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے اور دھرنا- مظاہرے کے ذریعے حکومت پر دباؤ بنانے کا حق بھی دیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی تحقیاقی ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ بنا دیا گیا ہے۔
مسٹر گوتم نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے کے لیے وزیرِ داخلہ امت شاہ پولیس کو آگے کر دیتے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ پولیس نے جس طرح کا سلوک کیا، وہ شرمناک ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
جموں و کشمیر1 week agoبڈگام کے یوسمرگ میں پاکستانی لشکر طیبہ کا جنگجو جھڑپ میں ہلاک
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
