تازہ ترین
ڈی ڈی سی انتخابات کا ساتواں مرحلہ اختتام پذیر،ووٹنگ شرح 50فیصد سے زیادہ ریکارڈ
298امیدواروں کی قسمت پر قریب 7لاکھ رائے دہند گان نے اپنی مہر ثبت کی
280حلقوں میں سے252حلقو ں میں انتخابی عمل مکمل،آخری مرحلے میں ہوگی28حلقوں میں ووٹنگ
سرینگر: شدید سردی،کورونا وبا اور سخت ترین سیکیورٹی بندوبست کے بیچ جموں وکشمیر میں بدھ کے روز ضلعی ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) انتخابات کے ساتویں مرحلے کے تحت31حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔اس دوران 298امیدواروں کی قسمت پر قریب 7لاکھ رائے دہند گان نے اپنی مہر ثبت کی۔
ادھر کل 280حلقوں میں سے اب تک252حلقوں میں انتخابی عمل مکمل ہوگیا جبکہ آٹھویں اور آخری مرحلے میں 28حلقوں میں 19دسمبر کو ووٹنگ ہوگی۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق جموں و کشمیر میں ضلعی ترقیاتی کونسل انتخابات کے ساتویں مرحلے کے تحت ووٹ ڈالے گئے۔ساتویں مرحلے کی پولنگ بھی حسب سابق صبح کے ساتھ7 بجے شروع ہوئی اور دن کے ٹھیک 2 بجے ختم ہوئی۔جموں اور کشمیر کے بیشتر پولنگ مراکز پر ساتویں مرحلے کی پولنگ میں حصہ لینے کے لئے بھی لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں جن میں زن و مرد رائے دہنگان کو اپنی اپنی باریوں کا انتظار کرتے دیکھا گیا۔
پولنگ مراکز پر سردی کے باوجود بھی رائے دہند گان قطاروں میں کھڑے تھے اور ان میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین رائے دہندگان بھی موجود تھیں۔رائے دہندگان میں بزرگ ووٹر بھی شامل تھے اور عمر رشیدہ رائے دہندگان نے بھی اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔
ایک اطلاع کے مطابق شمالی ضلع بارہمولہ کے سنگھ پورہ علاقے میں ایک پولنگ مرکز پر ایک115 سالہ رائے دہندہ اور ان کی 100 سالہ اہلیہ نے آکر اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالے۔اسی طرح ربی تار گاندر بل میں قریب90سال کی ایک خاتون ووٹر نے بھی ان ڈی ڈی سی انتخابات کے دوران اپنی رائے دہی کا استعمال کیا۔
جموں وکشمیر کے الیکشن کمشنر کے کے شرما نے دن کے ایک بجے تک کی پولنگ تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے ساتویں مرحلے میں دن کے ایک بجے تک مجموعی طور پر ووٹنگ کی شرح 47.43 فیصد درج ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دن کے ایک بجے تک کشمیر میں ووٹنگ کی شرح 32.41 فیصد جبکہ صوبہ جموں میں 59.90 فیصد شرح ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کے ساتویں مرحلے کی پولنگ کے لئے بدھ کے روز 31 انتخابی حلقوں میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ساتویں مرحلے کی پولنگ میں کل 298 امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں جن میں سے148 کا تعلق کشمیر سے جبکہ150 امیدوار صوبہ جموں کے ہیں۔ان امیداروں کی قسمت پر رائے دہندگان نے اپنی مہر ثبت کی۔
ساتویں مرحلے کی پولنگ کے لئے جموں وکشمیر میں کل1852 پولنگ مراکز قائم کئے ہیں جن میں سے کشمیر میں 1068 جبکہ جموں میں 785 پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ کل6.87لاکھ رائے دہندگان اپنی رائے دہی کا استعمال کریں گے۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں پہلی بار منعقد ہونے والے ڈی ڈی سی انتخابات سال گذشتہ کے مرکزی حکومت کے فیصلوں کے بعد جہاں یہاں یہ پہلی بڑی سیاسی سرگرمی ہے وہیں مغربی پاکستان کے مہاجروں کو بھی پہلی بار ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوا ہے۔
ان انتخابات سے جہاں جموں و کشمیر میں تھری ٹائر پنچایتی راج سسٹم رائج ہوگا وہیں 20اضلاع میں 280 نمائندے منتخب ہوں گے۔ ضلع ترقیاتی کونسلوں کو پانچ برس کی مدت کے لئے منتخب کیا جائے گا۔جموں و کشمیر میں گذشتہ پنچایتی انتخابات نومبر۔ دسمبر سال2018 میں منعقد ہوئے تھے جن میں 3ہزار459سرپنچ جبکہ 22ہزار214 پنچ منتخب ہوئے تھے۔
ہر ضلع ترقیاتی کونسل میں 14 منتخب نمائندے ہوں گے اور پانچ اسٹینڈنگ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی جو ضلع کی کلہم تعمیر ترقی پر کام کریں گی۔جموں وکشمیر میں کل280 ڈی ڈی سی حلقوں میں انتخابات ہورہے ہیں جن میں سے252 حلقوں کے لئے انتخابات مکمل ہوچکے ہیں۔
بقیہ28 حلقوں میں 8ویں اور آخری مرحلے میں 19دسمبر پولنگ ہوگی۔22دسمبر کو ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج ظاہر کئے جائیں گے۔(کے این ایس)
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا23 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا19 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر20 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا4 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر9 minutes agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
جموں و کشمیر20 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
