تازہ ترین
سال نو کی آمد پر وادی کشمیر میں درمیانہ درجے کی برف باری
معمو لات زندگی متاثر،کئی رابطہ سڑکیں بند
ہوائی سروسز میں خلل، جموں ائر پورٹ سے کئی اڑانیں منسوخ،مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا
سرینگر:’سال نو کی آمدپر وادی کشمیر میں درمیانہ درجے کی برفباری‘سے معمولات زندگی متاثر ہوگئے جبکہ کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔ادھر گہری دھند اور خراب موسم کی وجہ سے سرینگر اور جموں میں ہوائی سروسز میں بھی خلل پڑا جسکی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق وادی کشمیر میں منگل کے روز دارالحکومت سرینگر سمیت شمال وجنوب کے سبھی 10اضلاع میں برفباری ہوئی۔برفباری سے اگرچہ مفی درجہ حرارت سے لوگوں نے کسی حد تک راحت کا سانس لیا،تاہم برفباری سے ہر طرح کے معمولات زندگی متاثر ہوگئے۔
سرینگر میں منگلوار کی علی الصبح سے ہلکی برفباری شروع ہونے لگی اور یہ سلسلہ دوپہر تک جاری رہا۔برفباری کے سبب سرینگر بھی سفید رنگ میں رنگ گیا۔سٹی رپورٹر کے مطابق سرینگر میں منگلوار کی صبح 7بجے برفباری کا سلسلہ شروع ہوا،جو مسلسل کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔سرینگر میں برف کی ہلکی چادر بچھ گئی جسکے نتیجے میں قدرتی نظارے دلفریب تو ہوئے لیکن معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
اس دوران وادی کے دیگر اضلاع سے بھی برفباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔حکام کے مطابق شمالی کشمیر میں عالمی شہرت یافتہ سکینگ مرکز گلمرگ میں کم و بیش7 انچ تازہ برفباری ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ جنوبی کشمیر میں واقع سیاحتی مقام پہلگام میں 3 انچ کے آس پاس برف باری درج کی گئی۔
ادھر شمالی کشمیر کے گریز میں بھی برف باری ہوئی اور وہاں 3 انچ تازہ برف ریکارڈ کی گئی ہے۔پیر پنچال خطے میں بھی برفباری ہوئی۔جواہر ٹنل کے آس پاس اور پتنی ٹاپ میں برفباری ہونے کی اطلاعات ہیں۔حکام نے کہا کہ اگر چہ جواہر ٹنل کے آس پاس بھی تازہ برف باری ہوئی ہے تاہم وادی کشمیر کو جموں سے ملانے والی شاہراہ پر ٹریفک کا نقل و حمل جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی3ڈگری سیلشیس اورگلمرگ میں منفی7.5ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا ہے۔سرینگر میں رات کا درجہ حرارت 0.0ڈگری سیلشیس،گیٹ وے آف کشمیر میں رات کا درجہ حرارت منفی0.4ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا،سیاحتی مقام جوکہ امرناتھ یاتریوں کا بیس کیمپ بھی ہے،میں کم سے کم درجہ حرارت منفی3.0ڈگری سیلشیس درج کیا گیا۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.0ڈگری سیلشیس،کوکرناگ میں منفی3.0ڈگری سیلشیس،جموں میں کم سے کم درجہ حرارت 3.7ڈگری سیلشیس،بانہال میں 0.4ڈگری سیلشیس،بٹوت میں رات کا درجہ حرارت منفی1.5ڈگری سیلشیس،کٹرا میں کم سے کم درجہ حرارت میں 4.5ڈگری سیلشیس اوربھدرواہ میں منفی1.9ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔یہ رواں چلہ کلان کی پہلی وادی گیر برف باری ہے۔
وادی کشمیر میں منگل کی صبح چلہ کلان کے نویں روز جب لوگ گھروں سے باہر نکلے تو میدانی و بالائی علاقوں میں جم کر برف باری ہورہی تھی۔ بالائی علاقوں میں اگر چہ برف باری کا سلسلہ منگل کی علی الصبح ہی شروع ہوا تھا تاہم سری نگر میں قریب سات بجے صبح سے برف باری شروع ہوئی۔
صبح کے دس بجنے تک پوری وادی، میدانوں، پارکوں، صحنوں، اشجار سے لے کر مکانوں کے چھتوں تک، نے سفید چادر اوڑھ لی تھی تاہم میدانی علاقوں میں بارہ بجنے سے قبل ہی برف باری کا سلسلہ تھم گیا۔
اس قبل بالائی علاقوں میں کہیں کہیں درمیانہ درجے کی برف باری ہوئی تھی لیکن میدانی علاقوں موسم خشک ہی رہا تھا۔منگلوار کو وادی کے دیگر9اضلاع پلوامہ،کولگام،شوپیان،اننت ناگ،بڈگام،گاندر بل،کپوارہ،بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی برفباری ہوئی۔
اطلاعات کے پہاڑی علاقوں میں 6انچ سے لیکر ایک فٹ تک برفباری ہوئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر میں 30 دسمبر سے موسم بہتر ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں 30 دسمبر سے یکم جنوری تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔
ہوائی سروسز میں خلل:
ایک اطلاع کے مطابق سرمائی دارالحکومت جموں میں منگل کو گہری دھند کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوئے یہاں تک کہ ہوائی سروس بھی متاثر ہوئی اور کئی اڑانیں منسوخ جبکہ سات میں تاخیرہوئی۔
جموں ائر پورٹ ڈائریکٹر پریاوت رنجن بیوریا کے مطابق دھند کے نتیجے میں کم روشنی کے باعث جموں ہوائی اڈے پرہوائی سروس پوری طرح بحال نہیں ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ آج صبح چار اڑانوں کو منسوخ کیا گیا جبکہ کئی ایک میں تاخیر ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صبح نو بجے جموں ائر پورٹ پر روشنی بہت ہی کم تھی تاہم بعد میں ایک بجے اس میں کچھ بہتری آئی۔ اس دوران کئی مسافروں جن میں ریاض بٹ بھی شامل ہیں، نے بتایا کہ وہ جموں سے سرینگر ”گو۔ائر“ نامی ہوائی جہاز سے سفر کرنے والے تھے اور اُنکی پرواز کا وقت 2بجکر20منٹ تھا،لیکن ائر پورٹ پر کئی گھنٹوں تک انتظار کرنے کے بعد پرواز منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔
ایک مسافر شو کت جان نے بتایا کہ وہ جموں سے سرینگر وستارا نامی پرواز سے سفر کرنے والے تھے،تاہم پرواز کے نمائندے نے ائر پورٹ کے مرکزی در وازے پر آکر قطار میں بیٹھے مسافر وں کو بتایا کہ جو مسافر اُنکی پرواز دوپہر2جموں سے سرینگر کی طرف سفر کرنے والے ہیں،اُنہیں اطلاع دی جاتی ہے کہ پرواز منسوخ کی گئی کیوں کہ دہلی ائر پورٹ سے پرواز نے اُڑان نہیں بھری۔
انہوں نے کہا کہ اس پرواز سے درجنوں افراد جموں سے سرینگر کی طرف سفر کرنے والے تھے،تاہم اُنہیں یہاں سے مایوس ہو کر واپس ہوٹلوں اور دیگر مقامات کی طرف رخ کرنا پڑا۔ادھر ذرائع سے معلوم کہ سرینگر ائرپورٹ سے بھی کئی پروازوں میں یا تو تاخیر ہوئی یا پھر منسوخ کی گئیں۔تاہم سرینگر ائر پورٹ کے ڈائریکٹر شرد کمار نے کوئی تفصیلات دینے سے احتراض کیا۔دریں اثناء کئی علاقوں سے لوگوں نے بتایا کہ برقی رو کی سپلائی متاثر ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق کئی سرحدی اضلاع کے سرحدی علاقے ہیڈ کواٹروں سے کٹ کر رہ گئے کیوں کہ برفباری سے پیدا شدہ پھسلن کے باعث کئی رابطہ سڑکیں ٹریفک کی آواجاہی کے حوالے سے بند کی گئیں۔جن رابطہ سڑکوں کو بند کیا گیا،اُن گریز۔بانڈی پورہ،مژھل۔کپوارہ وغیرہ شامل ہے۔(کے این ایس)
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
