تازہ ترین
لاوے پورہ سرینگر مسلح تصادم آرائی 20گھنٹے بعد ختم
3 جنگجوؤں جاں بحق،اسلحہ برآمد
بارودی دھماکے سے ایک رہائشی مکان کو شدید نقصان،گولیوں کی گن گرج سے علاقہ لرز اٹھا
سرینگر:سرینگر کے مضافاتی علاقہ عمر آباد ہوکر سر میں منگل کی شام فورسزاور جنگجوؤں کے ساتھ شروع ہونے والی مسلح تصادم آرائی قریب 20گھنٹے بعدبدھ کے روز بعد دو پہر ختم ہوئی۔اس جھڑپ میں 3مقامی جنگجوجاں بحق ہوئے ہیں۔آپریشن کے دوران اس مکان کو بارود سے اڑا لیا گیا جس میں جنگجومحصور تھے۔
اس دوران گولیوں کی گن گرج سے علاقہ لرزاٹھا ہے،جبکہ سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر ٹریفک کو معمول کے مطابق بحال کیا گیا۔اس دوران انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون وجے کمار نے بتایا محاصرے میں آئے تینوں جنگجوؤں کو مار گرایا گیا ہے جن کی قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
ادھر جی او سی کلو فورسز نے بتایا مارے گئے جنگجوعلاقے میں ایک بڑے حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے کشمیر نیوز سروس (کشمیرنیوز سروس) کے مطابق شہر سرینگر کے مضافاتی علاقے عمر آباد ہو کر سرکو منگل کی شام پانچ بجے کے قریب فوج کے 2آر آر،پولیس اور سی آر پی ایف نے علاقے میں جنگجوؤں کی موجود گی کے حوالے سے اطلاع موصول ہونے کے بعد بستی کو محاصرے میں لے کر تلاشی کارروائی شروع کی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ شام سوا پانچ بجے جب فورسز کی پارٹی تلاشیاں لے رہی تھیں تو اس دوران ایک رہائشی عمارت سے جنگجوؤں نے ان پر فائرنگ کردی جس کے فوراً بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا۔ابتدائی طور پر پولیس نے بتایا کہ یہاں کم سے کم ایک اعلیٰ کمانڈر سمیت 3جنگجو موجود ہونے کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد اس بستی کو محاصرے میں لیا گیا تھا۔اس دوران مقامی لوگوں نے بتایا علاقے میں رات دیر گئے تک وقفے وقفے سے فائرنگ جاری تھی جس دوران یہاں زوردا دھماکوں کی آواز بھی سنائی دی ہے۔
فورسز نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کرلی ہے اور یہاں روشنی کا انتظام کرکے چاروں اطراف سے تیز روشنی دینے والے آلات کو یہاں نصب کیا گیا ہے،تاہم رات دیر ہونے کی وجہ سے آپریشن کوصبح ملتوی کیا گیا ہے تاہم سخت محاصرہ جاری رہا ہے جبکہ ٹریفک کو بھی محفوظ راستوں کی طرف موڈ دیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا بدھ کی صبح سویرے پھر ایک بارجنگجوؤں مخالف آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جس دوران یہاں کچھ مدت تک فائرنگ چلتی رہی جبکہ اس مکان کو بھی بارودی دھماکوں سے اڑا لیا گیا ہے جس میں جنگجوؤں موجود تھے۔ عین شاہدین نے بتایا جب مکان کے نذدیک بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا تو یہاں دور دور تک مکان ہل گئے ہیں جبکہ فائرنگ کی وجہ سے یہاں پوار علاقہ گزشتہ شام سے ہی لرز اٹھا ہے۔
دن کے بارہ بجے کے قریب یہ جھڑپ ختم ہوئی ہے اور پولیس نے یہاں ملبے سے3 جنگجوکی لاشوں کو برآمد کر کے قانونی اور طبی لوازمات پورے کرنے کے لئے تحویل میں لیا۔غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق جھڑپ میں جاں بحق ہوئے تینوں جنگجوؤں مقامی ہیں۔اس دوران ابتدائی طور آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے بتایا جھڑپ میں 3جنگجوجاں بحق ہوئے ہیں جن کی فوری طور شناخت نہیں ہوئی ہے انہوں نے بتایا بدھ کے صبح طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا جس کے دوران تینوں جنگجو جاں بحق ہوگئے۔
مارے گئے جنگجوؤں کے قبضے سے اسلحہ اور گولی بارود برآمد کر لیا گیا ہے۔گزشتہ شام جھڑپ جاری رہنے کی وجہ سے سرینگر سے کپوارہ اور بارہمولہ جانے والی گاڑیوں کو ملورہ کی طرف موڑ دیا گیا جبکہ بارہمولہ اور کپوارہ سے آنے والی گاڑیوں کو ماگام بڈگام کے راستے آنے کی اجازت دی گئی۔اس دوران جھڑپ ختم ہونے کے ساتھ ہی یہاں گاڑیوں کو معمول کے مطابق چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔(کے این ایس)
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
