تازہ ترین
کسانوں کے 2 مطالبات ماننے کو حکومت تیار، لیکن زرعی قوانین پر نہیں بن رہی بات!
مودی حکومت کے ساتھ مذاکرہ کے دوران کسان لیڈران زرعی قوانین کو منسوخ کیے جانے کے مطالبہ پر قائم رہے، لیکن اس کے لیے حکومت رضامند نظر نہیں آ رہی ہے۔
خبراردو
مرکزی حکومت اور کسان لیڈروں کے درمیان آج کا مذاکرہ گزشتہ مذاکرات کے مقابلے کافی امید افزا ثابت ہوا۔ آج ہوئی میٹنگ میں حالانکہ زرعی قوانین کو منسوخ کیے جانے سے متعلق کوئی پیش قدمی نہیں ہو سکی، لیکن 2 اہم ایشوز پر دونوں فریقین کے درمیان اتفاق قائم ہونے کی باتیں سامنے آئی ہیں۔ میٹنگ ختم ہونے کے بعد کسان لیڈر راکیش ٹکیت بھی آج کے مذاکرے سے خوش نظر آئے۔ انھوں نے آج حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ہوئی بات چیت کو پہلے کی میٹنگوں کے مقابلے کافی بہتر قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’آج کی بات چیت سے ہم خوش ہیں۔ لیکن جب تک سبھی مسائل کا حل نہیں نکل جاتا، ہماری تحریک جاری رہے گی۔‘‘
क़ानून के विषय में और MSP के विषय में चर्चा पूरी नहीं हुई है, चर्चा जारी है। हम लोग 4 तारीख (4 जनवरी 2021) को 2 बजे फिर से इकट्ठा होंगे और चर्चा को आगे बढ़ाएंगे: केंद्रीय कृषि मंत्री नरेंद्र सिंह तोमर https://t.co/qPS3RCii8q
— ANI_HindiNews (@AHindinews) December 30, 2020
قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے مطالبہ پر کسان گزشتہ 35 دنوں سے دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دے رہے ہیں۔ اس دھرنا و مظاہرہ کو ختم کرنے کے لیے کسانوں اور حکومتی نمائندوں کے درمیان کئی دور کی گفتگو ہو چکی ہے، لیکن آج سے پہلے تک ہوئی سبھی میٹنگیں بے نتیجہ ثابت ہوئی تھیں۔ آج کچھ ایشوز پر دونوں فریقین کےد رمیان اتفاق قائم ہونے سے ایسا لگ رہا ہے کہ مودی حکومت نے اپنی ضد کو چھوڑا ہے۔ حالانکہ اب بھی مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کا یہی کہنا ہے کہ زرعی قوانین کو منسوخ کیے جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
30 دسمبر کو ہوئی میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر زراعت نریندر تومر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’دونوں فریق کے درمیان دو ایشوز پر اتفاق قائم ہوا ہے۔ دونوں فریق میں مجوزہ بجلی قانون اور پرالی جلانے سے متعلق ایشوز پر مثبت بات چیت ہوئی ہے اور اس کا حل تلاش کر لیا گیا ہے۔‘‘ میٹنگ کے بعد کسان لیڈر بلکرن سنگھ براڑ نے کہا کہ ’’حکومت اور کسان یونینوں کے درمیان اب اگلے دور کا مذاکرہ 4 جنوری کو ہوگا۔ آج کی میٹنگ اہم طور پر بجلی اور پرالی جلانے کے ایشوز پر مرکوز رہی۔ اگلی میٹنگ میں ایم ایس پی گارنٹی اور تینوں زرعی قوانین پر بات ہوگی۔‘‘
सरकार ने बिजली के प्रस्तावित बिल को वापिस ले लिया है। पराली के मामले में सरकार ने अध्यादेश जारी किया था, उसे भी वापिस ले लिया है। MSP और कृषि क़ानूनों पर 4 तारीख को बात होगी: बलकरण सिंह बराड़, ऑल इंडिया किसान सभा पंजाब #FarmersProtests pic.twitter.com/nXNxSRAc8y
— ANI_HindiNews (@AHindinews) December 30, 2020
میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق آج کی میٹنگ میں حکومت نے کسانوں سے کہا کہ تینوں زرعی قوانین معاملہ پر گفت و شنید کے لیے ایک کمیٹی بنائی جا سکتی ہے۔ اس درمیان حکومت نے کسان لیڈروں کو اس عمل سے روشناس کرایا جو قانون بنانے اور اسے واپس لینے میں اختیار کیا جاتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آج کی میٹنگ میں جو چار ایشوز سامنے رکھے گئے تھے، وہ اس طرح ہیں: 1. تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کیا جائے، 2. ایم ایس پی کو قانونی جامہ پہنایا جائے، 3. این سی آر میں آلودگی روکنے کے لیے بنے قانون کے تحت کارروائی کے دائرے سے کسانوں کو باہر رکھا جائے، 4. الیکٹرسٹی ترمیمی بل 2020 کے مسودے کو واپس لیا جائے۔ ان چاروں ایشوز میں سے تیسرے اور چوتھے ایشوز پر مودی حکومت نے قدم پیچھے کھینچنے کا بھروسہ کسانوں کو دلایا ہے، لیکن پہلے اور دوسرے ایشو پر تفصیلی گفتگو آئندہ 4 جنوری کو ہونے کا امکان ہے۔
(قومی آواز)
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
