تازہ ترین
وادی میں ”ہارٹ اٹیک“ میں تشویش ناک حد تک اضافہ
بانڈی پورہ میں 30سالہ نوجوان فوت،فورسز اہلکار بھی دم توڑ بیٹھا
خبراردو
سرینگر:شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں ایک 30سالہ نوجوان دل کا دورپ پڑنے سے فوت ہوا ہے۔اس دوران گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کم سے کم5نوجوان اس طرح سے لقمہ اجل بن گئے ہیں۔اور اس صورت حال سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڈ گئی ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق شمالی ضلع بانڈی پورہ کے قوئل مقام نامی گاؤں میں سنیچر کے روز اس وقت صف ماتم بیچھ گئی ہے جب علاقے میں ایک30سالہ نوجوان عرفان احمد میر حرکت قلببند ہونے سے فوت ہوگیا۔افراد خانہ کے مطابق عرفان گھر میں بیٹھا تھا جس دوران انہیں ضلع اسپتال بانڈی پورہ پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اْسے مردہ قرار دیدیا۔اس دوران جب نوجوان کے وفات کی خبر ان کے آبائی گاؤں میں پہنچی تو یہاں کہرام مچ گیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے وادی کشمیر گزشتہ کئی ماہ سے درجنوں افراد اس طرح کے موت کی شکار ہوئے ہین۔جبکہ سال رواں کے صرف چند روز کے دوران،ترال،بڈگام،بارہمولہ پور اور بانڈی پورہ کے علاوہ جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں نصف درجن کے قریب نوجوان دل کا دورہ پڑنے کے باعث لقمہ اجل بن گئے ہیں۔
اس طرح کے واقعات سے عوامی حلقوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔اس دوران 215بٹالین سی آر پی ایف سے وابستہ اہلکار سوپور ہیڈ کواٹر پر دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی۔(کے این ایس)
دنیا
روبیو کے ‘موت کے فرقے’ سے متعلق بیان پر ایران کا سخت ردعمل، امریکہ پر تہذیب کو نشانہ بنانے کا الز
تہران، ایران نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبائیو کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ مغربی تاریخ میں مزاحمت کی تعریف کرتا ہے، لیکن ایران کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ قرار دیتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام نے روبیو کے اس بیان کو چیلنج کیا ہے جس میں انہوں نے قدیم یونانی تاریخ کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ کشیدگی سے جوڑا تھا۔
ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ روبیو کی حالیہ تقریر میں واضح تضاد ہے۔ ان کے مطابق قدیم یونان کے تناظر میں آخری دم تک ڈٹے رہنے کی تعریف کی جاتی ہے، لیکن عظیم ایرانی قوم کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”مسٹر روبیو، آپ کا مسئلہ اسلامی انقلاب نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور خودمختار ایرانی تہذیب ہے۔”
ولایتی نے کہا کہ اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کی تعریف کرنا اور دوسروں کی جانب سے اسی طرز عمل کو اختیار کیے جانے پر اس کی مذمت کرنا دیانت داری نہیں ہے۔ انہوں نے ہیروشیما، ویتنام، عراق اور افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں ہونے والی جنگوں اور فوجی مداخلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تباہ کاریوں کے ذمہ داروں کو دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے کا حق نہیں۔
دوسری جانب بقائی نے روبیو پر الزام لگایا کہ وہ قدیم یونان سے جدید امریکہ تک مغربی تہذیب کو ایک مسلسل تاریخی سلسلے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یونانی فلسفے کا انتخابی استعمال کرکے طاقت اور قومی عزائم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ایتھنز کے تاریخی مقام ایکروپولس میں روبائیو نے مغرب کی تاریخ کو قدیم یونان سے عصر حاضر کے امریکہ تک ایک غیر منقطع سلسلے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق، مختلف تاریخی ادوار اور تصورات کو اس طرح یکجا کرنا تاریخ کے تناظر کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے امریکہ نے یہ دریافت کر لیا ہو کہ تاریخ کے فلسفے کی روشنی میں دھمکی آمیز رویے کو پیش کرنا، روایتی سخت گیر زبان کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ روبیو نے یونانی تصور ‘تھوموس’ کو اس کے تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر سے الگ کرکے طاقت، مسابقت اور قومی ارادے کی تعریف کے طور پر پیش کیا ہے۔ ‘تھوموس’ کا تعلق جذبے، ولولے اور احساسِ وقار سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تشریح میں یونانی فکری ورثے کا ایک اہم پہلو نظرانداز کیا گیا ہے، کیونکہ قدیم یونانی فلسفہ صرف طاقت اور عظمت کے تصورات تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں سامراجی عزائم، جارحیت اور اقتدار کی حدود پر تنقید بھی شامل تھی۔
بقائی نے ہومر کی رزمیہ نظم ‘ایلیڈ’، ٹروئے کی داستان، تھوسی ڈائڈیز کی ‘پیلوپونیشین جنگ کی تاریخ’، افلاطون کی ‘ریپبلک’، ارسطو کی ‘پولیٹکس’ اور سوفوکلیز کے ڈراموں ‘اینٹی گون’ اور ‘اوڈیپس ریکس’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تصانیف میں طاقت کی حدود، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی تقدیر جیسے موضوعات پر گہری بحث کی گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن اپنی موجودہ پالیسیوں اور فوجی طاقت کو جائز ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے منتخب پہلوؤں کو استعمال کر رہا ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس طرح تاریخ کو تحقیق اور تنقیدی غوروفکر کے بجائے سیاسی مقاصد کے جواز کے آلے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں موجودہ سیاسی پالیسیوں کو ناگزیر اور تاریخ کے طے شدہ راستے کا حصہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تاریخ کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا مقصد ماضی کو سمجھنا نہیں، بلکہ طاقت کی عظمت کا جشن منانا رہ جاتا ہے۔
بقائی نے روسی مصور واسیلی ویریشچاگن کی پینٹنگ ‘دی اپوتھیوسس آف وار’ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انسانی کھوپڑیوں کا ایک ڈھیر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فن پارہ فتوحات کی شان و شوکت کے بیانیے کے برعکس جنگ اور فتح کے تباہ کن نتائج کو نمایاں کرتا ہے۔
انہوں نے مغربی مفکرین پر زور دیا کہ وہ مغربی تہذیب کی فکری اور تاریخی روایات کی انتخابی تشریح کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ان کے مطابق، خطرہ صرف ماضی کو غلط سمجھنے میں نہیں، بلکہ موجودہ دور میں طاقت کے بے لگام استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے تاریخ کو اپنے مقاصد کے مطابق ڈھالنے میں بھی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین پر روسی حملوں میں 15 افراد ہلاک، جنگ بندی کے لیے امریکہ میں ‘مثبت’ مذاکرات
کیف، یوکرین کے جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا پر روسی فضائی حملوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ اطلاع یوکرین کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے دی ہے۔ ادھر امریکہ نے روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی اور یوکرینی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہفتہ کو اس سے قبل کہا تھا کہ شہر پر روسی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا، ”آج روس نے رہائشی عمارتوں پر پانچ گلائیڈ بم گرا کر ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹانے پر اپنے انداز میں شکریہ ادا کیا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کیف سے الجزیرہ کی نامہ نگار آڈری میکالپائن نے کہا کہ یوکرین بھر میں دن کے وقت حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ رواں ہفتے ایک بس اسٹاپ پر گلائیڈ بم گرنے سے 30 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ کیف میں بھی دن کے وقت جیٹ انجن والے ڈرون تیزی سے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو اسکول کے سامنے کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جو جیٹ طیارے جیسی آواز سن کر عمارت سے بھاگتا ہے اور محض چند سیکنڈ کے فرق سے جان بچانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعات یوکرین میں شہریوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ایک روز قبل امریکہ، یوکرین اور یورپ کے حکام نے فلوریڈا کے شہر میامی میں روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات میں موسم سرما سے قبل جنگ میں کشیدگی کم کرنے، اسے ختم کرنے اور پائیدار امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا۔
وٹکوف کے مطابق، اجلاس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل گروپ ‘ای تھری’، یورپی کمیشن، یوکرین اور نیٹو کے نمائندے شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں توانائی کے تحفظ، اناج کی برآمدات، سلامتی کی ضمانتوں اور مستقبل میں تنازعات کی روک تھام کے لیے یوکرین اور یورپ کی سلامتی سے متعلق طویل مدتی انتظامات پر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ جنگ کے بعد یوکرین کی تعمیر نو، اقتصادی خوشحالی اور یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا تھا کہ جنگ ایک خطرناک تعطل کا شکار ہو چکی ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے میں ناکامی سے تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا کہ تعطل ختم ہونے کا ایک راستہ کشیدگی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، جس سے جنگ نیٹو کے پڑوسی ممالک تک پھیلنے کا خطرہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
سی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
سری نگر، کانگریس، نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پر مشتمل انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ہفتہ کو سری نگر میں ملک گیر مہم ”جمہوریت بچاؤ ہفتہ” اور ”ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ” کے تحت مشترکہ احتجاج کیا۔
مظاہرین نے کانگریس ہیڈکوارٹر سے مارچ نکالنے کی کوشش کی، تاہم وہاں بڑی تعداد میں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا، جس کے بعد انہوں نے دفتر کے احاطے میں علامتی احتجاج کیا۔ انڈیا اتحاد کے مظاہرین کے ہاتھوں میں کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے پرچم تھے۔
کانگریس رہنماؤں نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر آئین اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس کے ایک رہنما نے کہاکہ ”آج ہم نے مشترکہ طور پر پُرامن احتجاج کیا۔ جموں و کشمیر سے کنیا کماری تک ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ گنیش کمار، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو اپنے عہدوں سے ہٹ جانا چاہیے۔”
رہنماؤں نے دہلی میں عائد پابندیوں پر بھی تنقید کی، جن میں نقل و حرکت اور انٹرنیٹ خدمات پر قدغنیں شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوری آزادیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین اور جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے متحد ہوجائیں۔
یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
