تازہ ترین
انڈونیشیا میں اندوہناک طیارہ حادثہ، 10 بچوں سمیت 62 افراد تھے سوار، غم میں ڈوبا ملک
انڈونیشیا کے افسروں نے سریوجیا ائیر فلائٹ کے حادثہ زدہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ایک ٹوئٹ میں ایجنسی نے انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ طیارہ میں کل 62 لوگ سوار تھے۔
انڈونیشیا کی راجدھانی جکارتہ سے طیارہ حادثہ کی ایک دردناک خبر سامنے آ رہی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق پرواز بھرنے کے بعد سے جو فلائٹ لاپتہ بتائی جا رہی تھی، وہ حادثہ کا شکار ہو گیا ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں سوار سبھی مسافر اور کرو ممبران ہلاک ہو گئے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق طیارہ میں 50 مسافر تھے جن میں 10 بچے شامل تھے۔ علاوہ ازیں 12 کرو ممبران موجود تھے، گویا کہ مجموعی طور پر طیارہ میں 62 افراد سوار تھے۔ اس حادثہ کی تصدیق کے بعد پورے ملک میں غم کا ماحول چھا گیا ہے۔
اناڈولو ایجنسی نے اس حادثہ کے تعلق سے ایک ٹوئٹ کیا جس میں لکھا ہے کہ ’’انڈونیشیا کے افسران نے سریوجیا ائیر فلائٹ کے حادثہ زدہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔‘‘ ایک دیگر ٹوئٹ میں ایجنسی نے انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ طیارہ میں کرو ممبران سمیت 62 لوگ سوار تھے۔ خبروں کے مطابق تباہ شدہ طیارہ کے ملبے کا کچھ حصہ سمندر سے دستیاب ہوا ہے جس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ طیارہ سمندر میں غرق ہو کر تباہ ہو گیا۔ ہلاک شدگان کی تلاش فی الحال جاری ہے۔ اس حادثہ کی خبر پھیلنے کے بعد انڈونیشیا میں غم کا ماحول ہے۔ سوشل میڈیا پر ہلاک شدگان کے لیے دعائیں اور متاثرین کے کنبہ کے لیے صبر پر مبنی پیغامات تیزی کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پرواز بھرنے کے بعد ہی طیارہ کا رابطہ کنٹرول روم سے ٹوٹ گیا تھا اور پھر اس کی تلاش زور و شور سے کی جا رہی تھی۔ انڈونیشیا کے افسران نے بتایا تھا کہ جکارتا سے پرواز بھرنے کے بعد شریوجیا ائیر جیٹ کا ہوائی ٹرانسپورٹ کنٹرول روم سے رابطہ ٹوٹ گیا۔ مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق یہ ہوائی جہاز انڈونیشیا کے پرووِنس مغربی کلیمنتان کے لیے روانہ ہوا تھا۔
پرواز کے بعد فلائٹ کا رابطہ کنٹرول روم سے ختم ہونے کے بعد فلائٹ راڈار 24 ٹریکنگ سروس نے ٹوئٹ کر یہ جانکاری دی تھی کہ طیارہ تقریباً 10 ہزار فیٹ ایلٹی ٹیوڈ پر اڑ رہا تھا۔ ہوائی جہاز پرواز بھرنے کے چار منٹ بعد ہی لاپتہ ہو گیا۔ بہر حال، بتایا جاتا ہے کہ یہ طیارہ تقریباً 27 سال پرانا ہے۔(بشکریہ قومی آواز)
ہندوستان
مودی نے جمہوریت کو آمریت میں بدل دیا ہے: پرینکا
نئی دہلی، کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکنِ پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر الزام لگایا ہے کہ ان کی حکومت نے ملک کو آمریت میں تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جمہوریت کو پوری طرح کچل دیا گیا ہے اور مسٹر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کے لیے مظاہرین پر تشدد کر رہی ہے اور انہیں حراست میں لے رہی ہے۔
محترمہ واڈرا نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ پہلے 254 ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ ہاتھا پائی کر کے انہیں پوری طرح غیر قانونی طریقے سے حراست میں لیا گیا اور ان کے بنیادی آئینی حقوق کی پامالی کی گئی۔ اس کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے دیگر مظاہرین کے ساتھ بھی ایسا ہی ظالمانہ رویہ اپنایا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ راجدھانی دہلی کا گھیراؤ کر کے اسے چاروں طرف سے بیریکیڈ لگا کر سیل کر دیا گیا ہے، ٹرینوں کی آمدورفت روکی گئی ہے، میٹرو کو ٹھپ کر دیا گیا ہے، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے اور جگہ جگہ چیک پوسٹیں بنا دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے آئینی حق کے تحت پرامن احتجاج کر رہے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ مار پیٹ کر کے انہیں حراست میں لیا گیا۔
کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ اگر اس بات کا کوئی اور ثبوت نہیں چاہیے کہ الیکشن کمیشن کی سازباز سے انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے اور حکومت اپنی پول کھلنے اور جوابدہی مانگے جانے سے ڈری ہوئی ہے، تو پھر اور کیا ثبوت چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں اب جمہوریت کا نام و نشان نہیں رہ گیا ہے، بلکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کی قیادت میں کھلی آمریت چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے میں حکومت کا ساتھ دینے والے اور اس میں ملی بھگت کرنے والے تمام لوگ ملک اور قوم کے ساتھ غداری کر رہے ہیں۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
روبیو کے ‘موت کے فرقے’ سے متعلق بیان پر ایران کا سخت ردعمل، امریکہ پر تہذیب کو نشانہ بنانے کا الز
تہران، ایران نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبائیو کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ امریکہ مغربی تاریخ میں مزاحمت کی تعریف کرتا ہے، لیکن ایران کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ قرار دیتا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام نے روبیو کے اس بیان کو چیلنج کیا ہے جس میں انہوں نے قدیم یونانی تاریخ کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ کشیدگی سے جوڑا تھا۔
ولایتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ روبیو کی حالیہ تقریر میں واضح تضاد ہے۔ ان کے مطابق قدیم یونان کے تناظر میں آخری دم تک ڈٹے رہنے کی تعریف کی جاتی ہے، لیکن عظیم ایرانی قوم کی ثابت قدمی کو ‘موت کا فرقہ’ کہہ کر بدنام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”مسٹر روبیو، آپ کا مسئلہ اسلامی انقلاب نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور خودمختار ایرانی تہذیب ہے۔”
ولایتی نے کہا کہ اپنے مفادات کے مطابق مزاحمت کی تعریف کرنا اور دوسروں کی جانب سے اسی طرز عمل کو اختیار کیے جانے پر اس کی مذمت کرنا دیانت داری نہیں ہے۔ انہوں نے ہیروشیما، ویتنام، عراق اور افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں ہونے والی جنگوں اور فوجی مداخلتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تباہ کاریوں کے ذمہ داروں کو دوسروں کو اخلاقیات کا درس دینے کا حق نہیں۔
دوسری جانب بقائی نے روبیو پر الزام لگایا کہ وہ قدیم یونان سے جدید امریکہ تک مغربی تہذیب کو ایک مسلسل تاریخی سلسلے کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یونانی فلسفے کا انتخابی استعمال کرکے طاقت اور قومی عزائم کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
بقائی نے ایکس پر لکھا کہ ایتھنز کے تاریخی مقام ایکروپولس میں روبائیو نے مغرب کی تاریخ کو قدیم یونان سے عصر حاضر کے امریکہ تک ایک غیر منقطع سلسلے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق، مختلف تاریخی ادوار اور تصورات کو اس طرح یکجا کرنا تاریخ کے تناظر کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے امریکہ نے یہ دریافت کر لیا ہو کہ تاریخ کے فلسفے کی روشنی میں دھمکی آمیز رویے کو پیش کرنا، روایتی سخت گیر زبان کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
بقائی نے مزید کہا کہ روبیو نے یونانی تصور ‘تھوموس’ کو اس کے تاریخی اور فلسفیانہ پس منظر سے الگ کرکے طاقت، مسابقت اور قومی ارادے کی تعریف کے طور پر پیش کیا ہے۔ ‘تھوموس’ کا تعلق جذبے، ولولے اور احساسِ وقار سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تشریح میں یونانی فکری ورثے کا ایک اہم پہلو نظرانداز کیا گیا ہے، کیونکہ قدیم یونانی فلسفہ صرف طاقت اور عظمت کے تصورات تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں سامراجی عزائم، جارحیت اور اقتدار کی حدود پر تنقید بھی شامل تھی۔
بقائی نے ہومر کی رزمیہ نظم ‘ایلیڈ’، ٹروئے کی داستان، تھوسی ڈائڈیز کی ‘پیلوپونیشین جنگ کی تاریخ’، افلاطون کی ‘ریپبلک’، ارسطو کی ‘پولیٹکس’ اور سوفوکلیز کے ڈراموں ‘اینٹی گون’ اور ‘اوڈیپس ریکس’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تصانیف میں طاقت کی حدود، اخلاقی ذمہ داری اور انسانی تقدیر جیسے موضوعات پر گہری بحث کی گئی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن اپنی موجودہ پالیسیوں اور فوجی طاقت کو جائز ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے منتخب پہلوؤں کو استعمال کر رہا ہے۔
بقائی نے کہا کہ اس طرح تاریخ کو تحقیق اور تنقیدی غوروفکر کے بجائے سیاسی مقاصد کے جواز کے آلے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس سے ایسا بیانیہ تشکیل پاتا ہے جس میں موجودہ سیاسی پالیسیوں کو ناگزیر اور تاریخ کے طے شدہ راستے کا حصہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تاریخ کو غیر قانونی اور غیر منصفانہ طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا مقصد ماضی کو سمجھنا نہیں، بلکہ طاقت کی عظمت کا جشن منانا رہ جاتا ہے۔
بقائی نے روسی مصور واسیلی ویریشچاگن کی پینٹنگ ‘دی اپوتھیوسس آف وار’ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انسانی کھوپڑیوں کا ایک ڈھیر دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فن پارہ فتوحات کی شان و شوکت کے بیانیے کے برعکس جنگ اور فتح کے تباہ کن نتائج کو نمایاں کرتا ہے۔
انہوں نے مغربی مفکرین پر زور دیا کہ وہ مغربی تہذیب کی فکری اور تاریخی روایات کی انتخابی تشریح کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ان کے مطابق، خطرہ صرف ماضی کو غلط سمجھنے میں نہیں، بلکہ موجودہ دور میں طاقت کے بے لگام استعمال کو جائز قرار دینے کے لیے تاریخ کو اپنے مقاصد کے مطابق ڈھالنے میں بھی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان یہ لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بدستور تناؤ کا شکار ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین پر روسی حملوں میں 15 افراد ہلاک، جنگ بندی کے لیے امریکہ میں ‘مثبت’ مذاکرات
کیف، یوکرین کے جنوب مشرقی شہر زاپوریژیا پر روسی فضائی حملوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ اطلاع یوکرین کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے دی ہے۔ ادھر امریکہ نے روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے یورپی اور یوکرینی حکام کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہفتہ کو اس سے قبل کہا تھا کہ شہر پر روسی حملوں میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا، ”آج روس نے رہائشی عمارتوں پر پانچ گلائیڈ بم گرا کر ڈیزل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹانے پر اپنے انداز میں شکریہ ادا کیا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کیف سے الجزیرہ کی نامہ نگار آڈری میکالپائن نے کہا کہ یوکرین بھر میں دن کے وقت حملوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ رواں ہفتے ایک بس اسٹاپ پر گلائیڈ بم گرنے سے 30 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ کیف میں بھی دن کے وقت جیٹ انجن والے ڈرون تیزی سے اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شخص کو اسکول کے سامنے کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جو جیٹ طیارے جیسی آواز سن کر عمارت سے بھاگتا ہے اور محض چند سیکنڈ کے فرق سے جان بچانے میں کامیاب رہتا ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعات یوکرین میں شہریوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ایک روز قبل امریکہ، یوکرین اور یورپ کے حکام نے فلوریڈا کے شہر میامی میں روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات میں موسم سرما سے قبل جنگ میں کشیدگی کم کرنے، اسے ختم کرنے اور پائیدار امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے ممکنہ راستوں پر غور کیا گیا۔
وٹکوف کے مطابق، اجلاس میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل گروپ ‘ای تھری’، یورپی کمیشن، یوکرین اور نیٹو کے نمائندے شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں توانائی کے تحفظ، اناج کی برآمدات، سلامتی کی ضمانتوں اور مستقبل میں تنازعات کی روک تھام کے لیے یوکرین اور یورپ کی سلامتی سے متعلق طویل مدتی انتظامات پر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ جنگ کے بعد یوکرین کی تعمیر نو، اقتصادی خوشحالی اور یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو کہا تھا کہ جنگ ایک خطرناک تعطل کا شکار ہو چکی ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے میں ناکامی سے تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں خبردار کیا کہ تعطل ختم ہونے کا ایک راستہ کشیدگی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، جس سے جنگ نیٹو کے پڑوسی ممالک تک پھیلنے کا خطرہ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoمتحدہ عرب امارات کا فلائی دبئی کے طیارے میں کاک پٹ چاقو زنی کی تحقیقات کا حکم
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
