تازہ ترین
حالیہ برفباری کے بعد یخ بستہ ہواؤں سے سردی کی شدت میں اضافہ
درجنوں علاقے اپنے اپنے ہیڈ کواٹروں سے الگ تھلگ،لوگوں کو ہنوز مشکلات ومسائل کا سامنا
زمینی رابطوں کی بحالی، بجلی،پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے گئے:حکام
سرینگر:وادی کشمیر میں حالیہ برفباری سے پیدا شدہ صورتِ حال کے نتیجے میں جہاں عام لوگوں کو مسائل ومشکلات کا سامنا ہے،وہیں ٹھٹھرتی اور زمینی رابطے منقطع رہنے سے عوامی مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ زمینی رابطوں کی بحالی کیساتھ ساتھ بجلی،پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق چلہ کلان کے ابتداء میں ہی توقعات کے برعکس ریکارڈ توڑ برفباری کے سببوادی اس وقت ٹھٹھر رہی ہے جبکہ اہلیان کشمیر کو طرح طرح کے مسائل ومشکلات کا سامنا ہے۔درجنوں بالائی علاقے ابھی بھی اپنے اپنے ہیڈ کواٹروں سے کٹے ہوئے ہیں اور لوگوں کو عبور ومرور میں مشکلا ت کا سامنا ہے۔
اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق وادی کشمیر میں حالیہ برفباری کے 8روز گذر نے کے باجود بھی کئی بالائی علاقے جہاں بجلی سے مسلسل محروم ہیں،وہیں ان علاقوں کی رابطہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل بھی برابر معطل ہے۔
عام لوگوں کا کہنا ہے کہ بجلی کی ترسیلی لائنوں کو ٹھیک کرنے اور رابطہ سڑکوں سے برف ہٹانے کے لئے اب محلہ سطح پر چندہ جمع کرکے مزدروں اور مشینوں کا بندوبست کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو یہ دو بنیادی اور اہم ترین سہولیات میسر ہوں۔
ان کا الزام ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے ان دو بنیادوں چیزوں کی بحالی کے لئے کئے گئے اقدام موثر و کار گر نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے بالائی علاقوں کو ان مشکلات سے نجات دلانے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ ضلع بڈگام کے کئی بالائی علاقوں میں جہاں بجلی ہنوز بحال نہیں ہوئی ہے وہیں ان علاقوں کی رابطہ سڑکوں پر ابھی بھی برف جمع ہے جسے ان پر ٹریفک کی نقل و حمل بحال نہیں ہوئی ہے۔
ادھر شمال وجنوب کے دیگر کئی علاقوں کے لوگوں نے بتایا کہ برفباری کے بعد بجلی اور زمینی رابطے بحال کر نے کے حوالے سے انتظامیہ کے دعوے اور وعدے ثراب ثابت ہورہے ہیں۔کیوں کہ زمینی سطح پر لوگوں کو کوئی راحت نہیں مل رہی ہےء۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اُنکے علاقہ جات بجلی سے ہنوز محروم ہے اور ہماری رابطہ سڑکوں سے برف کو ہٹانے کے بجائے دبایا گیا جس سے اس پر ٹریفک کی بحالی مزید مشکل بن گئی۔
انہوں نے کہا کہ مریضوں کو اسپتال تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ان کا کہناتھا کہ مریضوں کو اسپتال اور دیگر صحت مراکز تک پہنچنے میں پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ادھروادی کشمیر میں حالیہ برف باری کے بعد گذشتہ دو دنوں سے موسم خشک ہے اور مطلع ابر آلود رہنے سے شبانہ درجہ حرارت میں قدرے بہتری واقع ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی کشمیر میں آئندہ ایک ہفتے تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کی توقع ہے۔وادی کشمیر میں سوموارکے روز موسم خشک مگر دن بھر ابر آلود رہا تاہم شبانہ درجہ حرارت میں بہتری واقع ہونے سے سردی کی شدت میں قدرے کمی محسوس کی گئی۔
وادی کشمیر میں اگرچہ تمام بڑی سڑکوں سے برف ہٹایا گیا ہے اور ٹریفک کی آمد و رفت کو بحال کیا گیا ہے لیکن سڑکوں کے کناروں پر برف کے بڑے ڈھیر جمع ہیں جس سے راہگیروں کو چلنے پھرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف سڑکوں پر پھلسن سے حادثات رونما ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں وہیں دوسری سڑک کے کناروں پر جمع برف راہگیروں کو چلنے میں مشکلات کھڑا کر رہا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ بیشتر گلی کوچوں سے برف نہیں ہٹایا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ خاص کر بچے اور عمر رسیدہ افراد گھروں سے باہر نکل نہیں پا رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ میں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 9.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.0ڈگری سینٹی گریڈ، ککر ناگ میں منفی 2.0 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں 0.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔وادی کشمیر میں یخ بستہ ہواؤں کے نتیجے میں سردی کی شدت برقرار ہے اور لوگوں کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر رابطہ سڑکیں بحال کی گئیں جبکہ بجلی کی سپلائی قریب قریب90فیصد بحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔یاد رہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے وادی میں ہوئی بھاری برفباری کو آفاتِ سماوی قرار دیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے برف ہٹانے کی کوششوں کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ میٹنگ کی صدارت کر رہے ہیں،جس میں صوبہ کشمیر کے تمام ڈپٹی کمشنران اور ایس ایس پیز نے بذریعہ ورچیول موڑ طریقہ کار شرکت کی۔
واضح رہے بھاری برفباری ایس ڈی آر ایف کے قواعد و ضوابط کے تحت آفاتِ سماوی کی فہرست میں شامل نہیں تھا جس کے سبب بھاری برفباری کی وجہ سے ہوئے نقصان کیلئے عبوری امداد کی فراہمی ڈسٹر کٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کیلئے ممکن نہیں تھی۔ بھاری برفباری کو آفاتِ سماوی قرار دینے سے ایس ڈی آر ایف کے تحت عبوری امداد کی فراہمی کی عمل میں سرعت آئے گی اور برف سے ڈھکے علاقوں کے متاثرہ لوگو ں کو راحت ملے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے درپیش مشکلات پر قابو پانے کے لئے ہر سطح پر اِنتظامیہ کے عملی اِقدامات کے دوران بھاری برفباری اور عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات کے بارے میں ایک مفصل رِپورٹ طلب کی۔ طبی اِمداد کی فراہمی بالخصوص دْور دراز اور تنگ گلیوں والے علاقوں کے لوگوں کی نقل و حمل کیلئے چھوٹی بچاؤ گاڑیوں کی قلت سے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے 4*4بچاؤ گاڑیاں اور ایمبولنسوں کو مشکل میں لوگوں کو فوری طور مدد کرنے کے لئے کہا۔ لیفٹیننٹ گورنرنے اَفسروں کو لوگوں کے مسائل اور مشکلات کے تئیں حساس اور فعال رویہّ اَپنا کر عام انسا ن کی مشکلات کو کم کرنے کی لازمی ہدایت دی۔ (کے این ایس)
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
