تازہ ترین
دہلی میں تشدد کے واقعات کی غیرجانبدارانہ جانچ ضروری: حزب اختلاف
حزب اختلاف کےرہنماؤں نے بیان میں کہا ہے کہ کسان مل کر تین زرعی مخالف قوانین کے خلاف لڑ رہے ہیں ، لیکن بی جے پی حکومت نے من مانے طریقے سے کسانوں پر نافذ کردیئے ہیں۔
کانگریس سمیت تقریبا 16 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے تینوں زرعی قوانین کو کسانوں کے مفادات پر حملہ قرار دیتے ہوئے کسان تحریک کو صیحح ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی میں یوم جمہوریہ پر ہوا تشدد سازش کا حصہ ہے اور اس کی غیرجانبدارانہ جانچ ہونی چاہئے۔
کانگریس ، نیشنلسٹ کانگریس ، نیشنل کانفرنس ، ڈی ایم کے ، ترنمول کانگریس ، شیوسینا ، سماج وادی پارٹی ، راشٹریہ جنتا دل ، مارکسی کمیونسٹ پارٹی ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ، آر ایس پی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سمیت 16 کے رہنماؤں نے کہا کہ تینوں قوانین کسانوں پر مسلط کئے جا رہیں اور اس کی مخالفت میں وہ تمام جماعتیں پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن سے قبل جمعہ کو صدر رام ناتھ کووند کے مشترکہ اجلا س سے کئے جانے والے خطاب کا بائیکاٹ کریں گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کسان مل کر تین زرعی مخالف قوانین کے خلاف لڑ رہے ہیں ، لیکن بی جے پی حکومت نے من مانے طریقے سے کسانوں پر نافذ کردیئے ہیں۔ یہ قوانین زراعت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں اوران سے تقریباََ 60 فیصد عوام اور کروڑوں کسانوں ، کاشت کاروں اور کھیت مزدوروں کی روزی روٹی ختم ہو جائے گی ۔
بیان کے مطابق کسانوں کی تحریک 64 دن سے جاری ہے اور اس دوران 155 کسانوں کی موت ہو چکی ہے ۔ یہ تحریک امن تھی ، لیکن بدقسمتی سے 26 جنوری کو دہلی میں تشدد کے کچھ واقعات رونما ہوئے جن کی ہر جگہ مذمت کی گئی۔
اپوزیشن جماعتوں نے یوم جمہوریہ کے موقع پر بھڑکے تشدد میں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ، لیکن کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ اگر اس کی غیر جانبدارانہ جانچ ہو تو ان واقعات کو انجام دینے کے لئے مرکزی حکومت کامذموم کردارسامنے آجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تینوں زرعی قوانین ریاستوں کے حقوق کی پامالی کرتے ہیں اور آئین کے وفاقی ڈھانچے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اگر ان قوانین کو ختم نہیں کیا گیا تو نیشنل فوڈ سکیورٹی نظام تباہ ہوجائے گا۔ بیان میں جن رہنماؤں کے دستخط ہیں ان میں راجیہ سبھا میں کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد ، لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری ، راجیہ سبھا کے نائب لیڈر آنند شرما ، راجیہ سبھا کے چیف وہپ جئے رام رمیش ، لوک سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ سریش ، این سی پی چیف شرد پوار ، لوک سبھا میں این سی پی کی لیڈر محترمہ سپریا سلے ، نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، لوک سبھا میں ڈی ایم کے لیڈر بالو ، راجیہ سبھا میں ڈی ایم کے لیڈر تروچی سیوا ، ترنمول کانگریس کے ترجمان ڈیرک او برائن ، لوک سبھا میں ترنمول کی لیڈر سودیپ بیندوپادھیائے ، راجیہ سبھا میں شیوسینا کے لیڈر سنجے راوت ، لوک سبھا میں شیوسینا کے لیڈر ویناک بھوراؤ راوت ، ایس پی لیڈر پروفیسر رام گوپال یادو ،آر جے ڈی لیڈر پروفیسر منوج جھا ، سی پی آئی (ایم) کے لیڈر اے کریم اور پی آر نٹراجن ، سی پی آئی کے لیڈر بنوئے وشام اور کے سبارائن ، پی کے کنہالیکٹی لیڈر آئی یو ایم ایل لوک سبھا ، عبدالوہاب لیڈر آئی یو ایم ایل ، راجیہ سبھا ، ان کے پریم چندرن آر ایس پی لوک سبھا ، نذیر احمد لاوے لیڈر پی ڈی پی راجیہ سبھا ، وائکو لیڈر ایم ڈی ایم کے راجیہ سبھا ، تھامس چازیکدان لیڈر کے سی ایم لوک سبھا اور بدر الدین اجمل لیڈر اے آئی یو ڈی ایف لوک سبھا شامل ہیں ۔(قومی آواز)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
