تازہ ترین
کورونا وائرس کا قہر: 24 گھنٹوں میں 3780 افراد فوت، 3.82 لاکھ سے زیادہ نئے معاملے
قومی دارالحکومت دہلی میں کورونا کے ایکٹو کیسز 827 بڑھے ہیں اور ان کی تعداد 90,419 ہوگئی ہے۔ اس وبا سے اب تک 17,752 افراد کی موت ہوگئی ہے، جبکہ 11,24,771 مریضوں نے کورونا کو شکست دی ہے۔
نئی دہلی: ملک میں گزشتہ تین دنوں سے کورونا کیسز میں گراوٹ کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 3.38 لاکھ مریضوں کے صحتیاب ہونے سے شفایابی کی شرح میں اضافہ اور ایکٹو کیسز کی شرح میں کمی آئی ہے۔ اس دوران منگل کے روز 14 لاکھ 84 ہزار 989 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ ملک میں اب تک 16 کروڑ 04 لاکھ 94 ہزار 188 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے جاچکے ہیں۔ یکم اپریل کو کورونا کے چار لاکھ 01 ہزار 933 کیسزدرج کیے گئے تھے، جو دنیا بھر میں یومیہ کیسز میں سب سے زیادہ تھے۔ اس کے بعد یومیہ کیسز میں جزوی کمی کے ساتھ 2 اپریل کو یومیہ 3.92 لاکھ ، 3 اپریل کو 3.68 لاکھ اور 4 اپریل کو 3.57 لاکھ کیسز سامنے آئے۔
مرکزی وزارت صحت کی جانب سے بدھ کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 3,82,315 نئے کیسز سامنے آنے کے ساتھ متاثرہ افراد کی تعداد دو کروڑ 06 لاکھ 65 ہزار 148 ہوگئی ہے۔ ایکٹو کیسز کی تعداد بڑھ کر 34,87,229 ہوگئی ہے۔ وہیں ریکارڈ 3,38,439مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد ایک کروڑ 69 لاکھ 731 ہوگئی ہے۔ اسی دوران 3780 مریضوں کی موت ہونےسے اس وبا سے مرنے والوں کی تعداد 2,26,188 ہوگئی ہے۔
ملک میں شفایابی کی شرح بڑھ کر 82.03 فیصد اورایکٹو کیسز کی شرح کم ہو کر 16.87 فیصد پر آگئی ہے جبکہ شرح اموات 1.09 فیصد رہ گئی ہے۔ مہاراشٹرمیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹو کیسز 14,945 کم ہو کر 6,44,068 ہوگئے۔ اس دوران ریاست میں مزید 65,934 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد بڑھ کر 41,07,092 ہوگئی ہے۔ وہیں 891 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 71,742 ہوگئی ہے۔
ملک میں شفایابی کی شرح بڑھ کر 82.03 فیصد اورایکٹو کیسز کی شرح کم ہو کر 16.87 فیصد پر آگئی ہے جبکہ شرح اموات 1.09 فیصد رہ گئی ہے۔ مہاراشٹرمیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹو کیسز 14,945 کم ہو کر 6,44,068 ہوگئے۔ اس دوران ریاست میں مزید 65,934 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد بڑھ کر 41,07,092 ہوگئی ہے۔ وہیں 891 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 71,742 ہوگئی ہے۔
قومی دارالحکومت دہلی میں کورونا کے ایکٹو کیسز 827 بڑھے ہیں ، اور ان کی تعداد 90,419 ہوگئی ہے ۔ اس وبا سے اب تک 17,752 افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ 11,24,771 مریضوں نے کورونا کو شکست دی ہے۔ تلنگانہ میں ایکٹو کیسز 1816 کم ہو کر 77,704 ہو گئے ہیں جبکہ 2527 افراد کی موت ہوئی ہے ۔ وہیں3,89,491 افراد اس وبا سے صحتیاب ہوئے ہیں ۔ آندھرا پردیش میں ایکٹو کیسز7745 بڑھ کر 1,59,597 ہوگئے ہیں۔ ریاست میں کورونا کو شکست دینے والے لوگوں کی تعداد 10,16,182 ہوگئی ہے جبکہ 8289 افراد کی اس وباسے مو ت ہو گئی ہے ۔ تامل ناڈو میں ایکٹو کیسز کی تعداد بڑھ کر 1,25,230 ہوگئی ہے اور اب تک 14,612 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ وہیں 11,09,450 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایکٹو کیسز 13,264 کم ہوئے ہیں اور اب یہ تعداد 2,72,568 رہ گئی ہے ۔ ریاست میں اس وبا کی وجہ سے اب تک 13,798مریضوں کی موت ہو گئی ہے اور 10,81,817 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔ چھتیس گڑھ میں کورونا کےا یکٹو کیسز 3482 بڑھ کر 1,24,459 ہوچکے ہیں اور 6,53,542 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔ وہیں مزید 210 مریضوں کی موت ہونے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 9485 ہوگئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں ایکٹو کیسز 889 بڑھ کر 86,639 ہو گئے ہیں اور اب تک 5,20,024 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں ۔ وہیں6003 افراد کی اس وباسے موت ہوئی ہے۔
پنجاب میں ایکٹو کیسز 1226 بڑھ کر61,935 ہو گئےہیں اور صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 3,27,976 ہوگئی ہے۔ وہیں 9645 مریضوں کی موت ہو گئی ہے ۔ گجرات میں ایکٹو کیسز 798 بڑھ کر 1,48,297 ہوچکے ہیں اور اب تک 7779 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ ریاست میں 4,64,396 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ ہریانہ میں ایکٹو کیسز 4108 بڑھ کر 1,08,830 ہو گئے ہیں ۔ ریاست میں اس وبا کی وجہ سے 4779 افراد کی مو ت ہوئی ہے اور اب تک 4,29,950 افراد اس وبا سے صحتیاب ہوئے ہیں۔(قومی آواز)
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
دنیا1 week agoفلائی دبئی طیارے کے کاک پٹ حملے میں ایران کا تعلق ثابت ہوا تو ’بہت سخت‘ کارروائی ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
