تازہ ترین
سابق کریکٹر اور ممبر پارلیمنٹ گوتم گھمبیر کو آئی ایس آئی ایس کی جان سے مارنے کی دھمکی
سرینگر:معروف بھارتی کرکٹ کھلاڑی گوتم گھمبیر کو آئی ایس آئی ایس نے جان سے مارنے کی مبینہ دھمکی دی ہے۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف دلی کے ایک پولیس سٹیشن میں ایک تحریری شکایت میں کیا ہے۔ اس ضمن میں دہلی پولیس کے عہدیدار نے کہا کہ فی الحال معاملہ کی جانچ کی جا رہی ہے، نیز احتیاط کے طور پر گوتم گمبھیر کی رہائش کے باہر حفاظتی انتظامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔
کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ایسٹ دہلی حلقہ انتخاب سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور سابق کرکٹر گوتم گمبھیر نے دہلی پولیس میں شکایت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ’آئی ایس آئی ایس کشمیر‘ کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ڈی سی پی سینٹرل شویتا چوہان نے کہا کہ شکایت موصول ہونے کے ساتھ انہوں نے معاملہ کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتیاط کے طور پر گوتم گمبھیر کی رہائش کے باہر حفاظتی انتظامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق گوتم گمبھیر نے دہلی پولیس میں گزشتہ رات شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت میں انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس کشمیر کی جانب سے انہیں فون اور ای-میل کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ گوتم گمبھیر اکثر حزب اختلاف کے لیڈران کے خلاف بیان بازی کر کے زیر بحث رہتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے نوجوت سنگھ سدھو اور اروند کیجریوال کو ہدف تنقید بنایا تھا۔
ہندوستان
مودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت ’غیر قانونی‘ انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے، اس لیے اسے برطرف کرکے ملک میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
مسٹر کھڑگے نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے جمہوریت کو برباد کر دیا ہے۔ ملک میں انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور تمام انتخابات غیر قانونی ہیں، لہٰذا ایسے انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی حکومتیں اور ان کے وزرا بھی غیر قانونی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ملک میں ’غیر قانونی انتخابات‘ ہو رہے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی ’غیر قانونی وزیر اعظم‘ اور امیت شاہ ’غیر قانونی وزیر داخلہ‘ ہیں۔ حکومتوں کو برطرف کیا جانا چاہیے اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔‘‘
کانگریس صدر نے کہا کہ ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی وجہ سے پورا انتخابی عمل برباد ہو گیا ہے۔ جمہوریت میں جاری اس غیر قانونی عمل کے پیش نظر ہی انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی گئی تھی، جس میں 20 جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ قانونی ماہر کپل سبل کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس میں سبھی نے تسلیم کیا کہ ایس آئی آر غلط طریقے سے کیا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے غریب، پسماندہ اور خاص طور پر اقلیتی طبقے کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مسٹر کھڑگے نے کہا کہ ووٹ کاٹنے کا کام بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ کر رہے ہیں۔ ووٹر فہرست سے نام حذف کیے جانے کو غلط قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایک ایک بوتھ سے 500-500 افراد کے نام بھی حذف کر دیے جائیں تو اس سے بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ اب ان ناموں کو دوبارہ شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ اپنے لوگوں کے نام ووٹر فہرست میں برقرار رکھ رہے ہیں، جبکہ غریبوں کو اپنے نام شامل کرانے کے لیے وقت اور پیسہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت غیر قانونی انتخابات کرانے پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے انتخابی عمل پر قبضہ کرنے کے لیے وزیر اعظم ایسا قانون لائے ہیں جو ملک کی جمہوریت کو برباد کرنے والا ہے۔ اس قانون کو لانے سے پہلے الیکشن کمیشن کی تقرری کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی۔ اس عمل میں وزیر اعظم، اپوزیشن کے رہنما اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوتے تھے اور وہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کے عمل میں شریک رہتے تھے۔ مودی حکومت نے اس طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے کمیٹی سے چیف جسٹس کو ہٹا کر ایک وزیر کو شامل کر دیا ہے۔ مودی حکومت نے چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کے لیے نیا طریقہ کار وضع کیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر غلط کام بھی کرتے ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے اور جب تک وہ زندہ ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اس انتظام کی وجہ سے من مانی ہو رہی ہے اور دو دیگر الیکشن کمشنروں کی جانب سے اعتراض درج کرائے جانے کے باوجود ان کی بات نہیں سنی جا رہی ہے۔ ایک اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد کانگریس نے اس معاملے کو اٹھایا، جس کے بعد ماحول بنا اور اب پورے ملک میں احتجاجی تحریکیں چل رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے خلاف تقریباً 500 فوجی کارروائیوں میں 1540 افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوجی ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے کہا کہ فوج نے صنعا میں حوثیوں کے اہم فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں میزائل، ڈرون اور توپ خانے سے بھی حملے کیے گئے۔ ان کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں تعز گورنری میں ہوئیں، جہاں حوثیوں کی پیش قدمی روک دی گئی۔
الجزیرہ کے مطابق تعز کے مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے اور شہری علاقوں پر گولہ باری سے عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ صوبے کے ذُباب علاقے میں ایک گولہ رہائشی علاقے میں گرنے سے ایک شیرخوار بچہ ہلاک ہوگیا۔
دریں اثنا، حکومتی فوج نے حوثیوں کے زیر قبضہ الحوبان کو حکومتی کنٹرول والے تعز شہر سے ملانے والی اہم گزرگاہ بند کردی ہے۔ حکام کے مطابق یہ راستہ حوثیوں کی دراندازی کی کوشش، حملوں اور فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث بند کیا گیا۔
یمن میں حکومت اور حوثیوں کے درمیان 2022 میں قائم جنگ بندی رواں سال جولائی میں ختم ہونے کے بعد لڑائی میں تیزی آئی ہے۔ ستمبر کے وسط میں حوثیوں نے مغربی یمن کے بعض علاقوں، بندرگاہی شہر المخا اور باب المندب کے اہم جزیروں پر قبضہ کرلیا تھا۔ لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد لاکھوں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
راجوری میں لائن آف کنٹرول پار کرکے ہندوستانی حدود میں داخل ہونے والی 17 سالہ لڑکی کو فوج نے حراست میں لے لیا
جموں، جموں و کشمیر کے راجوری ضلع میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرکے بھارتی حدود میں داخل ہونے والی 17 سالہ لڑکی کو بھارتی فوج کے جوانوں نے حراست میں لے لیا ہے۔ حکام نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خوئی رٹہ علاقے کی رہنے والی اس لڑکی کی شناخت سامیہ عظیم کے طور پر ہوئی ہے۔ فوجی جوانوں نے اسے لام سیکٹر (نوشہرہ) میں لائن آف کنٹرول کے قریب گشت کے دوران حراست میں لیا۔
ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد لڑکی کو مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ نوشہرہ پولیس فی الحال اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران لڑکی نے کہا کہ وہ غلطی سے لائن آف کنٹرول پار کرکے بھارتی علاقے میں داخل ہوگئی تھی۔
حکام نے کہا کہ معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور سکیورٹی ایجنسیاں تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
-
دنیا1 week agoہم فتح کے قریب : نیتن یاہو نے بڑے پیمانے پر واک آؤٹ کے باوجود نسل کشی کے الزام کو مسترد کردیا
-
دنیا1 week agoکینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
-
جموں و کشمیر1 week agoبی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
-
دنیا1 week agoیو ایس ایس ابراہم لنکن اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی آٹھ سے زائد کوششیں
-
کھیل1 week agoسروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
-
ہندوستان1 week agoپی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
-
ہندوستان1 week agoووٹ چوری سے آئین اور جمہوریت ختم ہو رہی ہے، اقتدار مخالف لہر کا خاتمہ منصفانہ انتخابات پر بڑا سوال: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کی شی جن پنگ کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیے میں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اپیل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں 3 روزہ ہڑتال سے قبل بینک ملازمین کا مظاہرہ
-
دنیا4 days agoایران نے ثالثوں کے ساتھ مغربی ایشیا میں لڑائی ختم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا: عراقچی
