تازہ ترین
کیا اسددین اویسی بی جے پی کی بی ٹیم میں شامل ے؟
یوکرین کی جنگ ہوئی یا پھر حال ہی میں بھارت کی کئی ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی الیکشن. کشمیر کے لوگ اپنے آپ کو ان مسائل سے کیسے علیحدہ کرسکتے ے ۔
کشمیری ہر مسلے پر اپنی ایک راے رکھتے ے اور کی نہ کی ان کی یہ راے ایک سٹرانگ اپینین کے طور پر سوشل میڈیا پر ٹرنڈ کرتی ے۔
اسی طرح سے اتر پردیش میں ۱۰ تاریخ کو اسمبلی انتخابات میں نتیجے آنے کے بعد کشمیر میں AIMIM کے چیف اسد دیں اویسی ٹرنڈ کرنے لگا اور لوگ ان کی جماعت کو بی جے پی کی بی ٹیم کہنے لگے۔
نتیجوں کے بعد پتا چلا کہ لگبگ ۱۵۰ کے قریب نشستو پر بی جے پی نے ۲۰۰ سے لیکر ۱۰۰۰ ووٹوں سے یہ سیٹیں جیت لی۔ اور ان تمام سیٹوں پر اسی کے آس پاس ووٹ AIMIM نے حاصل کے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان سماج وادی پارٹی کو اٹھانا پڈا جس نے ان نشستوں پر بی جے پی کو کڈی ٹکر دی۔ تاہم مسلم ووٹ تقسیم ہونے کی وجہ سے بی جے پی نے بازی مار لی۔
ان ہی نتیجوں کو سامنے رکھ کر کشمیر میں اکثر لوگ یہ مانتے ے کہ اسددین اویسی بی جے پی کے لے کام کرتے ے اور انہیں بی جے پی ہر اس جگہ چناوں لڈنے کے لے بھیجتی ے جہا انہیں مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنا ہوتا ے۔
کھچ لوگوں کا یہ بھی سوال ے کہ اویسی اگر اتنے پر اعتماد ے تو وہ اپنی ریاست تلنگانا میں صرف ۱۰ نشستوں پر الیکشن کیوں لڈتے ے اور اتر پردیش میں ۵۰ سے زیادہ سیٹو پر۔ ان کا کہنا ے کہ بی جے پی کو ان کی اس وفاداری کے لے بھارت رتنہ ایوارڈ سے نوازا جانا چاہئے۔
اسلام کو سنٹرل پوائنٹ بنا کر راجنیتی کرنے والے اویسی اپنے آپ کو ہندوستان کے مسلمانوں کا مسیحا سمجھتے ے۔ اور اتر پردیش کے ساتھ ساتھ تمام مسلم اکثریتی علاقوں میں یہ اپنی چھاپ ڈالنے میں لگے ے۔
اس سے پہلے اویسی نے مغربی بنگال، بہار ، مہاراشٹرا اور کرناٹکا کے ساتھ ساتھ کی اور چناوں میں حصہ لیا اور بھارت میں لیفٹ ونگ کے لوگ اسے مشکوک سیاست دان کے نظروں سے دھیکتے ے۔
نیشنل میڈیا بھی اسے خوب کوریج دیتا ے اور ان کی ہر بات کو پرایم ٹائم میں جگہ مل جاتی ے۔ کی سارے مقدمات درج ہونے کے باوجود اویسی اور ان کے بھائی کھلے طور پر راجنیتی بھی کرتے ے۔ اور جو من میں آے بولنے کی ہمت کرتے ے جو ایک عام انسان کے لے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ے۔ لیکن قانون کے سامنے ان کی حاضری نا ہونے کے برابر ے۔
کیا اویسی واقعی بی جے پی کی بی ٹیم میں ے یا پھر ان پر محض الزام لگاے جارہے ے۔
معروف صحافی سیما مصطفی نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ بھارت کے مسلمانوں نے کھبی بھی مسلم سیاسی جماعتوں کو ووٹ نہیں دیا ے جبکہ انہیں انتہا پسند لوگ نشانہ بناتے ے۔ اس بار اویسی کو بھی اتر پردیش میں کھچ ہاتھ نہیں آیا جو ایک مشکوک سیاست دان ے اور ان کی پارٹی محض0.50 فیصدی ووٹ لینے میں کامیاب ہوئی۔
اویسی کے تمام امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئی۔
انہوں نے ایک سوالیہ انداز میں لکھا کہ کیا میڈیا اس چیز کو دکھائی گئ۔ بلکل نہیں کیونکہ ان کو اس الیکشن میں سوچ سمجھ کر کھڈا کردیا گیا تھا جبکہ اویسی اور یہ میڈیا کھچ بھی نہیں بھارت کے مسلمانو کے بارے میں جانتے ے۔
اب سوال یہ ے اویسی آج تک کشمیر میں الیکشن کیو نہیں لڈے جبکہ جموں کشمیر ایک مسلم اکثریتی یونین ٹیروٹری ے۔
ٹائمز آف انڈیا نے بھی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی جس کے مطابق اویسی نے بی جے پی کو اتر پردیش جیتنے میں کافی مدد کی۔
انہوں نے اس رپورٹ کے آخر میں لکھا کہ تجزیہ نگاروں کے مطابق اویسی یقینی طور پر اتر پردیش میں بی جے پی کو مدد کرنے کے لے آے تھے۔
دنیا
کینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
اوٹاوا، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے ملک کے خلاف امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے انتہائی کم مگر سنگین خطرے کا جائزہ لینے اور اس کے لیے تیاری کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ بی بی سی نے جمعہ کو ’دی نیویارک ٹائمز‘ کو دیے گئے ان کے انٹرویو کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس انتہائی سنگین صورتحال کا محتاط جائزہ لیا ہے جس میں امریکہ کینیڈا کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری ذمہ داری ہے کہ انتہائی کم امکان والے لیکن انتہائی سنگین خطرات پر بھی توجہ دیں۔ یہ صرف خطرے کا انتظام ہے۔ یہ معمول کی صورتحال نہیں ہے، لیکن اس کے لیے تیاری نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ کے دوران دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔ امریکی فوج میں 20 لاکھ سے زیادہ فعال اور ریزرو اہلکار ہیں، جبکہ کینیڈا کے پاس دو لاکھ سے بھی کم فوجی ہیں۔ 2024 تک امریکہ کے پاس 65 فوجی آبدوزیں تھیں، جبکہ کینیڈا کے پاس صرف چار تھیں۔
کارنی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کینیڈا کی طویل ساحلی پٹی اور آرکٹک سے قربت کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ متعدد بار کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست قرار دے چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بھی جاری ہے اور گزشتہ ماہ متعدد مصنوعات پر ایک دوسرے کے خلاف محصولات میں اضافہ کیا گیا۔
کارنی نے کہا کہ اس کے باوجود وہ ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات بحال کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے مسلسل چوکس رہنے پر زور دیا
سری نگر، شمالی فوجی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے وادیٔ کشمیر میں یونٹوں اور فارمیشنز کے دورے کے دوران ابھرتے ہوئے خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل چوکس رہنے اور پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
شمالی کمان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے وادیٔ کشمیر میں یونٹوں اور فارمیشنز کا دورہ کرکے انسدادِ دہشت گردی کے نظام میں آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔
بیان کے مطابق، فوجیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے ان کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور فرائض سے وابستگی کی تعریف کی اور ابھرتے ہوئے خطرات کے پیش نظر مسلسل چوکسی اور پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
یواین آئی۔ ط ا
ہندوستان
پی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز بھارتیہ جن سنگھ کے نظریہ ساز پنڈت دین دیال اپادھیائے کے یومِ پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، ایک صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیز انسانیت کے علم بردار اور انتودیہ کے حامی کے طور پر ان کے تعاون کو یاد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر مودی نے کہا کہ پنڈت اپادھیائے کے خیالات شمولیت پر مبنی ترقی، سماجی انصاف اور تعمیرِ ملت کی ہندوستان کی کوششوں کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا، “میں پنڈت دین دیال اپادھیائے جی کو ان کی جینتی پر ادب کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔”
پنڈت اپادھیائے کو ایک “صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیزانسانیت کے علم بردا اور انتودیہ کے رہنما” کے طور پر بیان کرتے ہوئے، مسٹر مودی نے کہا کہ ان کے “عوام کو ترقی کے مرکز میں رکھنے اورقطار کے آخری شخص کو اوپر اٹھانے کے لازوال نظریات” ملک کے ترقیاتی سفر میں آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ نظریات جامع پیش رفت، سماجی انصاف اور قوم کی تعمیر کی طرف ہمارے اجتماعی سفر کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔”
25 ستمبر 1916 کو پیدا ہوئے پنڈت اپادھیائے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی پیشرو، بھارتیہ جن سنگھ کی اہم نظریاتی شخصیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے جن سنگھ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اس کے نظریاتی فریم ورک کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے انسانیت کے فلسفے نے متوازن سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی کے وسیع تر فریم ورک کے اندر فرد اور معاشرے کو رکھنے کی کوشش کی۔ انتودیہ کا تصور، جسے موٹے طور پر سماجی اور اقتصادی نظام کے سب سے نیچے والے شخص کی ترقی کے طور پر سمجھا جاتا ہے، بعد میں بی جے پی کی سیاسی اور پالیسی سے جڑی گفتگو میں ایک بار بار آنے والا موضوع بن گیا۔
پنڈت اپادھیائے کے یوم پیدائش پر مسٹر مودی کے خراج عقیدت نے آخری شخص کی فلاح و بہبود پر مسلسل زور دینے کو اجاگر کیا اور ان کی نظریاتی میراث کو جامع ترقی اور سماجی انصاف کے وسیع تر اہداف سے جوڑ دیا۔
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
دنیا1 week agoہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
-
دنیا7 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا7 days agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
