تازہ ترین
دفعہ370 کے خاتمے کے بعد ملی ٹینسی پر فیصلہ کن کنٹرول حاصل کرنا سب سے بڑی کامیابی/امیت شاہ
سری نگر، (یو این آئی): مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں دفعہ 370 تنسیخ کے بعد ملی ٹینسی پر فیصلہ کنٹرول حاصل کرنا ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے یونین ٹریٹری میں 33 ہزار کروڑ روپیوں کی سرمایہ کاری کو یقینی بنایا ہے اور یہاں جمہوریت کو بنیادی سطح تک پہنچایا گیا ہے۔
موصوف وزیر داخلہ نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز جموں میں سی آر پی ایف کے 83 ویں یوم تاسیس کے موقعے پر اپنے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’دفعہ370 کے خاتمے کے بعد ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ آج ہمیں دہشت گردی پر فیصلہ کن کنٹرول حاصل ہے‘۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے یونین ٹریٹری میں 33 ہزار کروڑ رپیوں کی سرمایہ کاری کو بھی یقینی بنایا ہے۔انہوں نے کہا: ’جموں و کشمیرمیں آج جمہوریت پھل پھول رہی ہے کیونکہ ہر گاؤں میں پنچ اور سرپنچ ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ یونین ٹریٹری میں قومی شہراؤں کا جال مزید پھیلایا جا رہا ہے اور جموں وکشمیر کی تعمیر ترقی کے لئے تمام تر جدید وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے اور تمام شعبوں میں ریکارڈ ساز کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔
موصوف مرکزی وزیر نے کہا کہ جموں وکشمیر میں سات نئے میڈیکل کالجوں اور دو اے آئی آئی ایم ایس کو عنقریب چالو کیا جائے گا جبکہ رشوت سے صاف انتظامیہ کو یقینی بنانے کے لئے کوششیں جاری ہیں۔سی آر پی ایف کے رول اور کارکردگیوں کی سراہنا کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’چاہئے امن و قانون کا قیام ہو، جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو یا نکسل واد کا خاتمہ ہو سی آر پی ایف نے ملک کے سب سے بڑے فورس ہونے کے اعزاز کو قائم رکھا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا: ’اس فورس کے عزم و استقلال کو کبھی بھولا نہیں جائے گا، فرائض کی انجام دہی کے دوران سی آر پی ایف کے اہلکاروں کی قربانیوں کو سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا اور ان شہدا کے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا‘۔امیت شاہ نے کہا مرکز سی آر پی ایف کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لئے پر عزم ہے اور اس فورس کو جدید ٹیکنالوجی و ساز وسامان سے مسلح کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں شام پرساد مکھرجی اور پنڈت پریم ناتھ ڈوگرا کا خواب ’ایک پردھان، ایک ودھان اور ایک نشان‘ شرمندہ تعبیر ہوا ہے۔قابل ذکر ہے کہ موصوف مرکزی وزیر داخلہ جمعے کی شام اپنے دو روزہ دورے پر جموں پہنچے۔
دنیا
ایران نے امریکہ کو سات دن میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کی
نیویارک، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے امریکہ کو ایک معاہدے کی پیشکش کی ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو ایک ہفتے کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق مسٹر عراقچی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے یہاں صحافیوں سے کہا کہ ایسا ’’ضروری شرائط پوری ہونے پر‘‘ کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ شرائط جون میں دستخط کیے گئے مفاہمت نامے (ایم او یو) میں شامل تھیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’اب فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے،‘‘ اور ساتھ ہی بتایا کہ یہ منصوبہ قطر کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا گیا تھا۔
ایران کی پیشکش کے بارے میں پوچھے جانے پر ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ثالثوں کے ذریعے مثبت بات چیت ہو رہی ہے، جس میں جوہری معاملات پر بھی گفتگو شامل ہے۔ اس سے قبل اس ہفتے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’’اسلامی جمہوریہ کو تباہ کرنے‘‘ کی دھمکی دی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملے کیے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیج میں امریکی ٹھکانوں اور امریکہ کے عرب خلیجی اتحادیوں پر حملے کیے، ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا۔
جنگ سے پہلے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل ایل جی) اسی آبنائے سے ہو کر گزرتی تھی اور اس کے بند ہونے سے توانائی کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ آیا ہے۔
اس سے ٹرمپ پر تنازع ختم کرنے کا راستہ تلاش کرنے کا دباؤ بھی بڑھ گیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ نومبر میں امریکہ میں کانگریس کے انتخابات ہونے والے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
