تازہ ترین
آزاد کا کشمیر مارچ
کانگریس پارٹی کو خیرباد کہنے کے بعد کل یعنی اتوار کو غلام نبی آزاد نے جموں میں ایک شاندار ریلی سے خطاب کیا۔ آزاد کا کانگریس چھوٹے کے بعد یہ پہلی ریلی تھی جس میں ہزاروں لوگ پورے جموں خطے سے شامل ہوے اور کھچہ کارکن کشمیر سے بھی جموں پینچ گے۔
اس ریلی کے ساتھ ہی آزاد نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا جموں کشمیر میں آغاز کیا اور ایک آزاد پارٹی کی حسیت سے سیاسی میدان میں کودھ پڈا۔ حلانکہ ابھی تک آزاد نے اپنی سیاسی جماعت کا نام نہیں رکھا لیکن سیاسی کارکنانِ خصوصی طور پر کانگریس سے ان کے ساتھ جوگ در جوگ شامل ہورہے ے۔
آزاد کی جموں کشمیر میں سیاسی واپسی نے کہی ساری سیاسی جماعتوں کی نیند حرام کردی اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ے کہ مقامی سیاسی جماعتوں سے بہت سارے لوگ آنے والے وقت میں آزادکے ساتھ اپنی شمولیت کا اعلان کرینگے۔ یہاں تک کہ نیشنل کانفرنس سے بھی کھچہ لوگ ایسے ہونگے جن کا لوگوں کو تصور بھی نہیں ہوسکتا ے۔
اپنی پارٹی، پیپلز کانفرنس جیسی جماعتوں میں پہلے سے ہی تشویش پایا جا رہا ے۔
خیر یہ تو بعد کی بات ے۔
ابھی کے لے سب سے بڈا سوال یہ کہ غلام نبی آزاد نے آخر کانگریس کیو چھوڈ دی اور جموں کشمیر میں ایک آزاد جماعت کی حسیت سے الیکشن کیوں لڈنا چاہتے ے۔
غلام نبی آزاد کی موجودہ کاوشوں کو جانے کے لے ہمیں تھوڈا پیچھےجانا ہوگا اور اس کی شروعات ہمیں ۲۰۱۹ کے بعد بدلی ہوئی صورتحال سے دھیکنا ہوگا۔
مرکزی سرکار کی طرف سے ۵ اگست ۲۰۱۹ کو یکطرفہ طور پر دفعہ ۳۷۰ کو ہٹانے اور صابقہ ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد ایک سیاسی خلا پیدا ہو چکا تھا۔ مقامی سیاسی جماعتوں نے پہلے یہ طے کیا کہ اب وہ الیکشنز کا بایکاٹ کرینگے اور کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لینگے۔
مرکزی سرکار نے ان باتوں کو سنجیدہ لیتے ہوے مارچ ۲۰۲۰ میں ایک نئی سیاسی جماعت کو جموں کشمیر میں ایک الٹرنیٹیو پولیٹیکل فورس کے طور پر کھڈا کیا۔ اس جماعت میں زیادہ تر ان لوگوں نے شمولیت کی جو پی ڈی پی میں شامل تھے اور اس طرح سے سیاسی سرگرمیاں ایک بار پھر جموں کشمیر میں شروع ہونے لگی۔
لیکن یہ جماعت وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ کھچہ زیادہ ثابت نہ کرپای۔ تاہم اس جماعت نے ایک بہت بڈا کام کر کے دکھایا اور پی ڈی پی سے بیشتر لیڈران کو اپنے صفو میں شامل کر دیا جو اس وقت کی اشد ضرورت تھی۔
دوسری جانب اور ایک جماعت کو بھی ٹھیک ٹھاک پزیرائی ملی لیکن اس کا منشور اور لیڈران لوگوں کے زہنو پر اپنی چھاپ نہ ڈال سکی۔
اب اگر چہ جموں کشمیر کی ایک بڈی سیاسی جماعت پی ڈی پی بھکر چکی ے تاہم نیشنل کانفرنس کی سیاسی پوزیشن پورے جموں کشمیر میں ابھی بھی مستحکم ے جس کا توڈ واظع طور پر بھاجپا نہ کرسکی۔
بھاجپا کے بعد جموں کشمیر میں ایک بڈا الٹرنیٹیو فورس کی ضرورت سمجھی جاتی ے جس کی پزیرائی تینوں خطے جموں، کشمیر اور پیر پنجال میں ہوں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ے کہ بھاجپا کتنی بھی محنت کرے لیکن اس کہ سیاسی سرحدیں محدود ے اور یہ اب کھبی بھی ایسا نہیں چاہیے گی کہ بچا ہوا سیاسی میدان اس کے پرانے حریف نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی جماعتوں کو مل جاے۔
عام آدمی پارٹی کی جموں کشمیر میں انٹری سے کوئی زیادہ نقصان ان جماعتوں کو نہیں ہوا بلکہ الٹا بھاجپا خود ہی اس کا شکار جموں میں ہونے لگی۔
اب جبکہ غلام نبی آزاد جو ایک سیزینڈ سیاستدان ے اور مرکز میں ان کے تعلقات ہر سیاسی جماعت کے ساتھ بہتر ے ایک متبادل پولیٹیکل فورس کے طور پر ابھر سکتا ے۔
جو مرکز اور جموں کشمیر کے بھیچ ایک پل کے طور پر کام کرسکتا ے ۔ اس بات کا بھی امکان ے کہ آزاد کی سربراہی میں مرکزی سرکار کھچہ چیزیں جموں کشمیر کو واپس لوٹا سکتی ے جس سے ان کی سیاسی پوزیشن آنے والے وقت میں مزید مستحکم ہو جاے۔
کیونکہ یہ بات ہم ہرگز نہ بولے مرکزی سرکار موجودہ سیاسی سسٹم کو جموں کشمیر میں بدلنا چاہتی ے اور اس کے لے یہ آوٹ آف وے بھی سوچ سکتی ے۔
ہندوستان
راہل گاندھی اور کھڑگے کا بھگت سنگھ کو خراج عقیدت ، ان کی ہمت اور نظریات کو اجاگر کیا
نئی دہلی، کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس صدر و راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے پیر کو عظیم انقلابی اور مجاہد آزادی بھگت سنگھ کے یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ان کی ہمت، قربانی اور ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ان کی خدمات کو یاد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الگ الگ پوسٹوں میں راہل گاندھی اور کھڑگے نے بھگت سنگھ کو ہندوستان کی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف تحریک کی ایک عظیم شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کے نظریات اور اصولوں کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کیا، خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے بھگت سنگھ کی جدوجہد، ان کی ناقابل تسخیر ہمت اور عظیم قربانی آنے والی نسلوں کے لیے تحریک کا ذریعہ بنی رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی جدوجہد، ان کی غیر متزلزل ہمت اور عظیم قربانی ہمیشہ ملک کے لوگوں کو تحریک دیتی رہے گی۔
کھڑگے نے اپنے خراج عقیدت میں بھگت سنگھ کے انقلابی جذبے کو یاد کیا ۔بھگت سنگھ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ بھگت سنگھ نے اپنی پوری زندگی ہندوستان کی آزادی کے مقصد کے لیے وقف کر دی تھی۔
کھڑگے نے کہا، ’’بھگت سنگھ نے صرف برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد نہیں کی بلکہ اپنے قلم اور نظریات کے ذریعے سماجی عدم مساوات اور معاشرے کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ بھگت سنگھ کی ہمت، نظریاتی پختگی اور ایک منصفانہ معاشرے کا تصور آج بھی لاکھوں نوجوانوں کو تحریک دیتا ہے۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ٹرمپ نے کانگریس کے انتخابات سے قبل ایران پر حملوں کا امکان برقرار رکھا
نیویارک، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل ایران پر دوبارہ حملے کیے جانے کے امکان کو برقرار رکھا ہے۔
جب فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان سے انتخابات سے قبل دوبارہ حملے کیے جانے کے امکان کے بارے میں پوچھا گیا تو مسٹر ٹرمپ نے کہا، ’’یہ ممکن ہے، لیکن میں صرف یہ کہنا نہیں چاہتا۔‘‘
اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے اطلاع دی تھی کہ مسٹر ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
مسٹر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ انہیں اس ہفتے ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کی توقع ہے۔
یو این آئی ۔ ایم جے
ہندوستان
امبالہ میں زیر تعمیر عمارت گرنے سے 6 افراد ہلاک
پنچکولا، ہریانہ کے امبالہ ضلع میں 3 منزلہ زیر تعمیر عمارت کا ایک حصہ گرنے سے 6 مزدور ہلاک ہوگئے۔ حکام نے پیر کو بتایا کہ امدادی ٹیمیں پوری رات ملبے میں تلاش کا کام کرتی رہیں۔
یہ عمارت اتوار کو دوپہر تقریباً 3 بجے امبالہ شہر کے قریب دھلکوٹ گاؤں میں اس وقت منہدم ہوئی، جب مزدور تیسری منزل پر کنکریٹ کی چھت ڈالنے کا کام کر رہے تھے۔ ابتدا میں ہلاکتوں کی تعداد 4 بتائی گئی تھی، لیکن ملبے سے مزید لاشیں ملنے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 6 ہوگئی۔
قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف)، ریاستی آفات سے نمٹنے والی فورس (ایس ڈی آر ایف)، پولیس، فائر سروس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیموں کو جائے حادثہ پر تعینات کیا گیا۔ حکام کو خدشہ تھا کہ مزید مزدور ملبے میں پھنسے ہو سکتے ہیں، اس لیے رات بھر تلاش کا کام جاری رہا۔
پیر کی صبح دستیاب اطلاعات کے مطابق، 4 زخمی مزدور امبالہ سٹی سول اسپتال میں زیر علاج تھے۔ سول سرجن رینو بیری نے اس سے قبل بتایا تھا کہ 12 زخمی مزدوروں کو اسپتال لایا گیا تھا، جن میں سے کچھ کو علاج کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔
امبالہ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اجیت سنگھ شیخاوت نے کہا کہ عمارت گرنے کی وجہ اور تعمیر کی قانونی حیثیت کی تحقیقات کی جائیں گی۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ عمارت کی ملکیت اور تعمیر سے متعلق دستاویزات کی بھی جانچ کر رہی ہے۔
شیخاوت نے کہا، ’’اگر کسی غیر مجاز تعمیر یا لاپروائی کا پتہ چلا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
