تازہ ترین
اسامہ القصیبی نے مختلف ملکوں میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے زندگی وقف کردی
دنیا بھر میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے آپریشنز میں حصہ لینے والے سعودی عرب کے اسامہ القصیبی نے کہا ہے کہ اپنی زندگی دنیا کے بہت سے ممالک میں مائننگ آپریشنز میں حصہ لینے کیلئے وقف کر دی تھی۔”
’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2017 میں مجھے یمنی زمینوں سے بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور صاف کرنے کے لیے ”مسام” پراجیکٹ کا انتظام کرنے کا اعزاز حاصل ہوا جو اب مسلسل پانچویں سال یمنی زمینوں کے اندر بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہا ہے۔ کورونا بحران کے دوران بھی مسام پراجیکٹ نے معصوم جانوں کو بچانے کے آپریشنز جاری رکھے۔ اور انسانی ہمدردی کے اس کام کو بہتر بنایا۔ یہ پراجیکٹ سعودی عرب کی طرف سے یمنی عوام کو فراہم کیے جانے والے اہم ترین انسانی کاموں میں سے ایک ہے۔
بات چیت کے دوران اسامہ القصیبی نے وضاحت کی کہ ”مسام” منصوبے کا خیال یمنی عوام کی مدد کرنے کے لیے آیا ہے تاکہ یمن کی متعدد گورنریوں میں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز آلات کے پھیلاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والے سانحات پر قابو پایا جا سکے۔ ”مسام“ کا آغاز جون 2018 کے وسط میں یمن میں بارودی سرنگوں کو ہٹانے کے لیے شاہ سلمان سینٹر فار ریلیف اینڈ ہیومینٹیرین ایکشن کی چھتری تلے کیا گیا تھا۔ سعودی اور بین الاقوامی ماہرین اور یمنی کیڈرز نے ان بارودی سرنگیں ہٹانے کی تربیت لی جن کو حوثی ملیشیا نے یمنی زمینوں پر لگایا تھا۔
اسامہ نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ”مسام“ پراجیکٹ ’بارودی سرنگوں کے بغیر زندگی‘ ہے۔ یہ جملہ یمنی زمینوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے منصوبے کے بلند مقصد کا خلاصہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک انسان دوست منصوبہ ہے۔ یہ بارودی سرنگیں کئی بے گناہ شہریوں، بچوں، خواتین اور بوڑھوں کی جانیں لے چکی ہیں۔
القصیبی نے انکشاف کیا کہ ”جب سے یہ منصوبہ جون 2018 کے وسط میں شروع ہوا ہے، ”مسام” پروجیکٹ کی انجینئرنگ ٹیمیں 3 لاکھ 58 ہزار 863 بارودی سرنگیں، نہ پھٹنے والے آرڈنینس اور دھماکہ خیز آلات کو صاف کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں۔ ان میں 467 بارودی سرنگیں بھی شامل ہی۔ 2 لاکھ 13 ہزار 930 نہ پھٹنے والے آرڈنینس، ایک لاکھ 31 ہزار 890 اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں، 5 ہزار 576 اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں بھی صاف کی گئی ہیں۔ انجینئرنگ ٹیمیں یمن میں 38 ہزار 488 مربع کلومیٹر زمین کو صاف کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ان تمام بارودی سرنگوں، آئی ای ڈیز اور گولوں کو ”مسام” پروجیکٹ کی انجینئرنگ ٹیموں نے یمن کے 11 علاقوں سے ہٹاٹا ہے۔ ان گیارہ علاقوں میں صنعاء، الجوف، شبوۃ، مأرب، الحدیدۃ، تعز، عدن، البیضاء، صعدۃ، الضالع، لحج شامل ہیں۔
مسام پروجیکٹ کی ٹیمیں دو قسم کی معروف بارودی سرنگوں سے نمٹتی ہیں۔ مقامی بارودی سرنگیں جو ملیشیا اپنی فیکٹریوں میں تیار کرتی ہے۔ یہ کل بارودی سرنگوں کا 85 فیصد ہیں۔ تیار کیے گئے دھماکہ خیز آلات سے بھی نمٹا جاتا ہے۔ اسے بغاوت کرنے والی ملیشیا نے پتھروں، لوہے کے کنکریٹ اور دیگر جانی پہچانی اور دھوکہ دینے والی شکل میں چھپایا ہوتا ہے۔ دھماکہ خیز مواد کو ایک الیکٹرک کیپسول سے منسلک کردیا جاتا ہے۔کار کے ٹائروں میں دھماکا خیز آلات سے بھی نمٹا جاتا ہے۔ ٹیمیں بڑی مقدار میں چھپائی گئی اور خطرناک دھماکہ خیز بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں کامیاب رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں باغی ملیشیاؤں کے ذریعہ استعمال کی جانے والی خطرناک شکلوں میں گانٹلیٹ بارودی سرنگیں بھی صاف کی گئی ہیں۔ اسی طرح فش مائنز اور دیگر مائنز کو ہٹایا گیا۔
اسامہ القصیبی نے مزید کہا کہ آج ہمیں روایتی معنوں میں ڈیمائننگ آپریشنز کا سامنا نہیں ہے، بلکہ ہمیں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز آلات کی جنگ کا سامنا ہے جس سے ہم جدید تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے نمٹتے ہیں۔ نئی بارودی سرنگوں سے سے نمٹنے کے لیے ٹیموں کی مسلسل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیمو فلاج کی گئی بارودی سرنگیں سامنے آرہی ہیں، نئی اور جدید طرز کی بارودی سرنگیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ عالمی معیار کے مطابق ان بارودی سرنگوں سے نمٹنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جو سرنگ گزشتہ سال بچھائی گئی تھی وہ آج کی سرنگ سے مختلف ہوگی۔ آج کی سرنگ اس سے زیادہ پیچیدہ اور بہتر کام کرنے والی ہوگی۔
انہوں نے اپنی تقریر کا اختتام یہ کہہ کر کیا کہ ”جب بھی میرا کوئی ساتھی بارودی سرنگوں سے زمین صاف کرنے اور صاف کرنے کی کارروائیوں میں شہید ہوتا ہے، میں اپنا ایک حصہ کھو بیٹھتا ہوں اور یہ صورت حال یاد میں اٹکی رہتی ہے جسے برسوں بھلایا نہیں جا سکتا۔ ہم سب کا ماننا ہے کہ بارودی سرنگیں ہٹانے کے میدان میں ہم وہ قربانی دیتے ہیں جو کام کو جاری رکھنے کے لیے دکھوں کو دفن کر دیتے ہیں۔ یہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے قربانی اور اخلاص کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ ڈیمائننگ کا میدان ایک خطرناک میدان ہے، اور ہم اس صورتحال کی سنگینی کو جانتے ہوئے ہر روز میدان میں جاتے ہیں جہاں ہمیں اپنی جان سے ہاتھ دھونے، مہلک چوٹ یا مستقل معذوری کا خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن جب آپ جانتے ہیں کہ ہر نہ پھٹنے والا بم یا گولہ بارود سے بدلے میں آپ زمین پر ایک جان بچا رہے ہیں تو آپ کو اپنا مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔
اساامہ نے بتایا کہ 2018 میں اس منصوبے کے آغاز سے لے کر اب تک مائننگ آپریشنز کے نتیجے میں 5 غیر ملکی ماہرین سمیت 30 ”مسام“ ورکرز ہلاک ہوچکے ہیں۔ 52 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
یہ وہ اسامہ ہیں جنہوں نے زندگی کو درپیش خطرات کے باوجود اپنے کام کو جاری رکھنے کی ترجیح دی ہے۔ خلیجی جنگ کے دوران انہوں نے برطانوی بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کے ماہر گائے لاکز سے تربیت حاصل کرکے وہ دس سال تک بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے کام میں لگے رہے۔ یہ سلسلہ اس کے بعد بھی چلتا رہا اور اس وقت وہ یمنی زمینوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے منصوبے ”مسام“ کے جنرل مینجر کے عہدے پر فائز ہیں۔
اسامہ نے اکتوبر 2001 میں جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے ساتھ کام کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مائننگ آپریشنز کے انتظام میں سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے پہلے عرب کے طور پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنا تجربہ بتایا۔ انہوں نے اپنے سائنسی اور عملی کیریئر کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں ”مسام“ پروجیکٹ کے انتظام سنبھالتے ہوئے پیش آنے والے چیلنجز سے بھی آگاہ کیا ہے۔
دنیا
ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں :ایرانی میڈیا
تہران، بتایا گیا ہے کہ ایران کا امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکراتی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک جانے والے ایرانی وفد کے ایک اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ اس وقت امریکہ میں موجود وزیر خارجہ عباس عراقچی باقاعدہ طے شدہ ملاقاتیں مکمل کرنے کے بعد منگل کو ایران واپس لوٹیں گے اور امریکہ کے ساتھ کسی نوعیت کا مذاکراتی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ قطر کی ثالثی کے ذریعے ایران کی طرف سے امریکہ کو پہنچائے گئے شرائط کے بارے میں ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایران کی جانب سےآبنائے ہرمز میں آمدورفت کے لیے پیش کردہ شرائط کو انہوں نے مسترد کر دیا ہے اور اس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس ہفتے ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کی توقع رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
کٹھوعہ میں ٹرک ڈرائیور سے مبینہ انٹری فیس وصول کرنے والے پولیس اہلکار کی ویڈیو وائرل، پولیس تحقیقات میں مصروف
جموں، جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں وردی پہنے ایک پولیس اہلکار کی جانب سے ٹرک ڈرائیور سے مبینہ طور پر انٹری فیس وصول کرنے کی ویڈیو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگئی ہے، جس کے بعد آن لائن حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ٹرک ڈرائیور کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو میں مبینہ طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ لکھن پور چیک پوائنٹ پر ایک پولیس اہلکار اس سے رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ڈرائیور بلٹی پیش کرنے میں ناکام رہا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ٹرک میں لدا سامان بلٹی کا متقاضی نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ انٹری پوائنٹ کٹھوعہ ضلع کے اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ ونگ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
لاری رسید، جسے عام طور پر ٹرک بلٹی کہا جاتا ہے، ایک قانونی دستاویز ہوتی ہے جو ٹرانسپورٹ کمپنی یا مال بردار ادارہ سڑک کے ذریعے سامان کی ترسیل کے لیے سامان وصول کرنے کے ثبوت کے طور پر جاری کرتا ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرک ڈرائیور پولیس اہلکار کو 30 روپے دینے کی پیشکش کر رہا ہے، جبکہ اہلکار 100 روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ڈرائیور بلٹی پیش کرنے میں ناکام رہا تھا۔
ویڈیو کے مطابق، ڈرائیور نے بالآخر پولیس اہلکار کو مطلوبہ رقم ادا کی اور چیک پوائنٹ سے روانہ ہوگیا۔
کٹھوعہ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) سنیل کیسر نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’’یہ معاملہ ہمارے علم میں آیا ہے اور اس کی تصدیق کی جا رہی ہے۔‘‘
کٹھوعہ کے ڈپٹی کمشنر، اسٹیٹ ٹیکسز انفورسمنٹ، جوگندر سنگھ نے یو این آئی کو بتایاکہ ’’اس معاملے کا ہمارے محکمہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہماری ٹیمیں ای وے بلوں کی بے ترتیب جانچ اور تصدیق کے لیے تعینات ہیں اور انہیں مناسب وردی میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی نے مکمل ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کی قرارداد منظور کرلی
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے حکومت ہند سے مرکز کے زیر انتظام خطے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری اور بلاتاخیر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
خودمختاری اور خصوصی حیثیت کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد صوتی ووٹ سے منظور کی گئی۔ بی جے پی کو چھوڑ کر تمام جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی۔
قرارداد کی منظوری سے قبل جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر پر مرکز سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اسے ’’جلد از جلد‘‘ بحال کرنے کی ہدایت کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کے لیے دو سال انتظار کیا جائے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی حکومت اسمبلی انتخابات کے بعد سے مرکز کی جانب سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کے وعدے کی تکمیل کا انتظار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اسپیکر صاحب، مجھے بتائیے کہ کس انگریزی میں ’جتنی جلد ممکن ہو‘ کا مطلب دو سال ہوتا ہے؟ کس انگریزی میں ’جلد از جلد‘ کا مطلب دو سال ہوتا ہے؟‘‘
عمر عبداللہ نے دسمبر 2023 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جموں و کشمیر میں ستمبر 2024 تک انتخابات کرانے اور ریاستی حیثیت ’’جلد از جلد‘‘ بحال کرنے کی ہدایت دی تھی۔
موجودہ اسمبلی اکتوبر 2024 میں منتخب ہوئی، جبکہ عمر عبداللہ کی جانب سے 25 ستمبر کو پیش کی گئی قرارداد میں ریاستی حیثیت ’’فوری اور بلاتاخیر‘‘ بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا ریاستی حیثیت کی بحالی کو جموں و کشمیر کی سکیورٹی صورت حال سے جوڑا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ اسے (ریاستی حیثیت کی بحالی کو) ملی ٹنسی سے جوڑ رہے ہیں؟ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ جب تک جموں و کشمیر میں بندوقیں خاموش نہیں ہوجاتیں، ریاست کا درجہ بحال نہیں کیا جائے گا؟‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر ریاستی حیثیت کی بحالی کو ملی ٹنسی کے مکمل خاتمے سے مشروط کیا گیا تو اس فیصلے کا اختیار بالآخر نئی دہلی کے بجائے پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ’’مرکزی حکومت بار بار کہتی ہے کہ ملی ٹنسی پاکستان سے شروع ہوئی اور گزشتہ 35 برس سے یہاں ملی ٹنسی جاری ہے۔ لہٰذا جب آپ کہتے ہیں کہ بندوقیں خاموش ہونے پر ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی تو آپ یہ فیصلہ پاکستان کے حوالے کر رہے ہیں کہ جب بھی بندوقیں خاموش ہوں گی، آپ ہمیں ریاستی حیثیت بحال کریں گے۔ کیا ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہماری ریاست کے بارے میں فیصلہ ہماری اپنی حکومت نہیں کرے گی؟ کیا ہم نے یہ طے کرلیا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ہمارے وزیر اعظم نہیں دیں گے؟ کیا یہ فیصلہ کسی دوسرے ملک میں ہوگا؟ اگر ایسا طے کیا گیا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ کیونکہ ہمارا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ اگر یہ فیصلہ کہیں ہونا ہے تو نئی دہلی میں ہوگا۔ یہ فیصلہ کہیں اور نہیں ہوگا۔‘‘
جاری۔یواین آئی۔ ط ا
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
