تجزیہ
مستقبل کا بھارت
زیر تبصرہ کتاب انتہائی اہمیت کی حامل کتاب ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ راشٹریہ سویم سنگھ (جو اگر کہا جائے کہ فی الوقت ہندوستان کی سب سے بڑی تنظیم ہے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا) کیا کرنا چاہتی ہے اور کیوں کرناچاہتی ہے۔ان کے منصوبے کیا ہیں۔سنگھ کیوں ہندوتو کی بات کرتا ہے اور سنگھ کے سامنے بھارت کا وژن کیا ہے۔کتاب کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ یہ سربراہ تنظیم ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کی تقاریر ہیں۔ ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آرایس ایس ) کے سنگھ پالک (صدر) ہیں۔ وہ اس عہدہ پر کے ایس سدرشن کے بعد مارچ 2009 سے براجمان ہیں۔ ان کی پیدائش 11 ستمبر 1950 کو چندر پور بمبئی (مہاراشٹر) میں ہوئی۔ انھوں نے ویٹنری سائنس اینڈ انیمل ہز بنڈری میں گریجویٹ(Bvsc) کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیا ہے۔کتاب کا حسن ہے کہ اس کا ترجمہ ایک ذمےدار شخص ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب اردو کے ممتاز دانشور، معلم، فلسفی، مفکر اور معروف نثر نگار ہیں۔انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے ایم اے، ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ستیہ وتی کالج دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں درس و تدریس سے وابستہ رہے اور اس کے صدرشعبہ بھی رہے ہیں، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں ڈائرکٹر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ یہ کتاب آر ایس ایس کو سمجھنے میں بنیادی ماخذ ہے۔ڈاکٹر منموہن وید، سیکرٹری آر ایس ایس لکھتے ہیں: “مستقبل کا بھارت – راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا نظریہ کے موضوع پر قابل احترام سر سنگھ چالک ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کے ذریعے 19 تا17 تمبر 2018 وگیان بھون میں ایک لیکچر سیریز کا انعقاد کیا گیا تھا۔ سماج کے مختلف حلقوں کی نمائندہ اور بااثر شخصیات کو اس میں مدعو کیا گیا تھا۔ سماج کی ان قابل قدر شخصیات نے لگا تار تین دن آکر اس لیکچر سیریز کے تئیں جس گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا وہ بھارت کے روشن مستقبل کے تئیں ان کے اعتقاد اور فکر کی عکاسی کرتا ہے۔اس سے ہمارے حوصلہ اور یقین میں اضافہ ہوا ہے۔”(صفحہ x111) مترجم کتاب ڈاکٹر عقیل احمد لکھتے ہیں:”اس دوران انھوں نے جہاں دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی وہیں بالخصوص مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے موضوعات پر بھی کھل کر اپنی بات رکھی۔ ان کی یہ تقریر اپنے موضوع پر مکمل اور جامع ہے جس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مددملتی ہے کہ سنگھ بھارت کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور اس ملک کی تعمیر وترقی کے لیے اس کے پاس کیا منصوبے ہیں۔اسی طرح اس ملک میں پائے جانے والے دیگر مذہبی فرقوں کے تئیں سنگھ کے نظریات سے بھی ہمیں واقفیت ہوتی ہے۔ ان کی تقاریر اور اجلاس کے اواخر میں ہونے والے سوالات و جوابات کتابی شکل میں ہندی زبان میں شائع کیے گئے ہیں۔ چونکہ اردو زبان میں آر ایس ایس کے تعلق سے بہت کم مواد موجود ہے۔اس وجہ سے اردو طبقہ آر ایس ایس کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتا اور نہ جاننے کی وجہ سے بھی بہت سی بد گمانیاں پیدا ہوگئی ہیں، اس لیے ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کی اس تقریری مجموعے کا ہندی سے اردو ترجمعہ شائع کیا جارہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ سنگھ کو کما حقہ سمجھنے اور اس کے تعلق سے پھیلی ہوئی بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں یہ کتاب معاون ثابت ہوگی.”ڈاکٹر منموہن وید مزید لکھتے ہیں:”اس لیکچر سیریز میں پہلے دو دن کا خطاب اور تیسرے دن سامعین کے ذریعے دلچسپی کے ساتھ پوچھے گئے سوالات کے جوابوں کو ایک جگہ جمع کر کے کتا بچے کی شکل میں قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ اس لیکچر سیریز کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں اور سماج میں بھی اچھی اور صحت مند بحث چل پڑی ہے۔ اس کا ہم استقبال کرتے ہیں۔ اس کتابچے کے ذریعے بھی یہ بحث آگے بڑھے گی اور اپنے وطن عزیز کے تئیں ایک مساوی نظر میں ابھر کر سامنے آئے گا اور امید ہے کہ اس سے ہمیں بھارت کے روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کا رخ اور حوصلہ ملے گا۔”
کتاب کے پہلے باب جو ڈاکٹر موہن راو بھاگوت کی پہلے دن کی تقریر ہے “مستقبل کا بھارت، سنگھ کا نظریہ”میں ڈاکٹر صاحب نے آر ایس ایس کو 29 صفحات میں خوب سمیٹا ہے۔یہ 29 صفحات آر ایس ایس اور اس کے نظریات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب خطبہ کے آغاز میں کہتے ہیں: “اس پروگرام کا انعقاد سنگھ کو سمجھنے کے لیے ہوا ہے کیونکہ سنگھ آج ایک طاقت کے روپ میں اس ملک میں موجود ہے، ایسا تجربہ ساری دنیا کو ہورہاہے۔ فطری طور پر اس کی چرچا ہوتی ہے ہونی بھی چاہیے، مگر چرچا کرنے کے لیے صحیح صورت حال کا بھی پتا ہونا چاہیے۔ چرچا کیسی چلے وہ چرچا کرنے والوں کا حق ہے مگر حقیقت کیا ہے یہ جان کر چرچا ہوتی ہے تو اس کے غیر جانبدارانہ نتائج نکلتے ہیں۔”(صفحہ 1) مزید لکھتے ہیں:”ہمارے ریاست دہلی کے کارکنان نے سوچا کہ سنگھ کی حقیقت کیا ہے اس کے بارے میں باضابطہ طور پر دہلی کے با اثر قابل احترام طبقے کو بتایا جائے۔ اس پر کچھ سوال جواب ہو اور اس کے لیے یہ وقت منتخب کیا گیا۔ کیونکہ صحیح صورت حال جاننا ضروری ہے۔ یہی صورت حال میں آپ کے سامنے بیان کرنے والا ہوں۔ آپ کے سامنے صحیح صورت حال رکھتے وقت میرا مقصد آپ کو اپنی رائے کا موافق بنانا نہیں ہے۔ موافق ہونا یا نہ ہونا یہ آپ کا حق ہے۔ سنگھ جیسا ہے ویسا ہی میں بتاؤں گا۔ آپ کے سوالوں کا اپنے علم کے مطابق جواب دوں گا۔ اس پر ریسرچ یا ترمیم سب آپ کر سکتے ہیں یہ آپ کا حق ہے۔ لیکن اس کے بعد آپ کے ذریعے جو بھی چرچا ہوگی وہ سنگھ کی اتھرائزڈ جانکاری کی بنیاد پر ہوگی۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔”(صفحہ 2)
اس تقریب اور اس کتاب کا مقصد مندرجہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے،یہاں وہ سنگھ کے بانی ڈاکٹر ہیڈ گیوار کا تعارف کراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جس کو بھی آر ایس ایس سمجھنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ڈاکٹر ہیڈ گوار کو سمجھے، مصنف یہاں تنظیم کے بانی کا تعارف کراتے ہوئے ان کی طالب عالمانہ زندگی، ان کی عوامی زندگی، ان کی سماجی بیداری کے چار مراحل، ان کے تعلقات اور سنگھ کی تاسیس پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالتے ہیں، اس مختصر تعارف سے بانی آر ایس ایس کی زندگی کے اہم شعبہ جات کی جانکاری قاری کو ملتی ہے، تعارف کے بعد آر ایس ایس کیا ہے پر بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: “راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کیا ہے؟ یہ ایک طریقہ کار ہے اور کچھ نہیں ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نام کی تنظیم ہے؟ وہ شخصیت سازی کا کام کرتا ہے کیونکہ کام کاج کے اخلاق واطوار میں ہم آج بھی کئی طرح کی تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ ہمیں بھید بھاؤ سے فری سماج ہوا ہے، مساوات سماج چاہیے لیکن یہ جاننا چاہیے کہ صرف ایسا کہنے سے نہیں ہوگا۔سماج کا کردار نمونوں کی موجودگی سے بدلتا ہے۔ ہمارے یہاں آئیڈیلز میں عظیم لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔”(صفحہ 12)
سنگھ کے مقصد کے بارے میں لکھتے ہیں:”سنگھ کا مقصد ہر گاؤں ہر گلی میں اچھے رضا کار تیار کرنا ہے۔اچھے رضا کار کا مطلب ہے وہ جس کا اپنا کردار قابل اعتماد ہو، خالص ہو۔ جو پورے سماج اور ملک کو اپنا مان کر چلتا ہو۔کسی کو بھید بھاؤ سے عداوت کے جذبے سے نہیں دیکھتا ہو اور اس طرح جس نے سماج کی ہمدردی اور اعتماد حاصل کیا ہو۔ ایسے اطوار و کردار والے لوگوں کی ٹولی ہر ایک گاؤں میں ہر محلے میں کھڑی ہو۔ یہ منصوبہ 1925 میں سنگھ کے روپ میں شروع کیا گیا۔ سنگھ بس اتنا ہی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔”(صفحہ 13) تقریر کے دوران وہ ہندتو کیوں، مختلف نظریات میں توازن، جوڑنے والی تہذیب اور سنگھ کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی ہے، سنگھ کے طریقہ کار کے تحت بتاتے ہیں: “سنگھ ایسی اوپن تنظیم ہے۔ یہاں ہر سویم سیوک پوچھ سکتا ہے۔ ہر سویم سیوک سوچتا ہے۔ تبادلہ خیال کرتا ہے۔ ہر سویم سیوک کی بات چرچا میں آنے کی روایت ہے۔ اب لاکھوں سیوئم سیوک ہیں،ان سب کی میں اکیلا نہیں سنتا ہوں لیکن شاکھا کی سطح پر ایسا انتظام ہے کہ ہر ایک کی رائے اوپر تک پہنچتی ہے اور پھر عام اتفاق رائے ہوتا ہے، جس راۓ پر اتفاق ہوتا ہے اسی میں سب لوگ اپنی اپنی رائے کو ضم کر دیتے ہیں۔سب سے زیادہ جمہوری تنظیم اگر آپ کو دیکھنی ہے تو آپ سنگھ میں آئیے۔”(صفحہ 22) یہاں وہ تنظیم کو چلانے والے وسائل پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “سنگھ میں خرچ خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ سنگھ کا کام کرنے کے لیے باہر سے ہم ایک پائی بھی نہیں لیتے۔ کسی نے لاکر دیا تو ہم لوٹا دیتے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سویم سیوکوں کے باہمی تعاون سے چلتا ہے۔ سال میں ایک بار بھگوادھوج کو گرو مان کر اس کی پوجا میں اس کو نذر گزارتے ہیں۔”(صفحہ 23) مزید لکھتے ہیں: “سویم سیوک سماجی خدمت کا جو کام کرتے ہیں ان کے لیے لوگوں کا تعاون لیتے ہیں، ان کے ٹرسٹ بنے ہوۓ ہیں، وہ با قاعدہ نجی طور پر آڈٹ کر تے ہیں، اس کا حساب رکھتے ہیں، ساری باتیں وہ قانون کے حساب سے کرتے ہیں لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ باہر سے پیسہ نہیں لیتا ہے۔ دیا جائے تو بھی نہیں لیتا ہے۔ سنگھ کو چلا رہے ہیں سنگھ کے سویم سیوک؛ ایسی خود کفیل ہماری تنظیم اور ثقافتی کام ہے۔”(صفحہ 25 )
اس تقریر میں انہوں نے ایک اہم بات کی ہے جس پر سب کو عمل کرنا ہوگا۔مصنف”شہرت کی بھوک “کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں: “کبھی کبھی لوگ کہتے ہیں کہ آپ سبھی اچھے لوگوں کو بے شناخت بنا رہے ہو ہاں بھئی بات صحیح ہے۔ ہم بے چہرہ بنتے ہیں تا کہ یہ بھی غرور نہ ر ہے کہ فلاں کام میں نے کیا ہے۔ اس کی وجہ سے کچھ مشکلات بھی آتی ہیں لیکن ایک خاص قسم کا انسان سماج میں تیار ہو، اس کے لیے ہم نے یہ کام شروع کیا ہمیں اور کچھ نہیں چا ہیے۔”(صفحہ 26) مزید لکھتے ہیں: “ اگر سنگھ کے لوگ بڑے بڑے کام کرتے ہیں تو یہ کسی پر احسان ہے کیا؟ یہ تو اپنا سماج ہے اس کے لیے کرنا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اپنے سماج کے لیے قربانی کی بھی تیاری رکھنی چاہیے۔ تو زندہ رہ کر اگر دو چار اچھے کام کر لیے تو اس میں پیٹھ تھپتھپانے جیسی بات کیا ہے؟ بے غرضی کے ساتھ ملک کی خدمت کرو سب مل کر کرو اور اس لیے اجتماعیت سنگھ میں آپ کو قدم قدم پر ملے گی۔ سنگھ کے کتنے سویم سیوک ہیں، کام بھی بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ لیکن مشہور سب نہیں ہوتے۔ دنیا داری میں چلتا ہے تو سنگھ کا ذمے دار ہونا پڑتا ہے پھر بڑا بن گیا ہے تو میڈیا کے لوگ پیچھے پڑتے ہیں دکھاتے ہیں، اس لیے کسی کو سامنے آنا پڑتا ہے۔ نہیں تو ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت سر سنگھ چالک بن گیا اور روز اس کی تصویریں چھپ رہی ہیں۔ یہ ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کے لیے بہت پریشانی کا سبب ہے۔ کیونکہ یہ سنگھ کی روایت نہیں ہے۔”(صفحہ 26) تقریر میں انہوں نے سنگھ میں خواتین کی صورتحال پر بھی بحث کی ہے۔
دوسرے باب میں سنگھ کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، سنگھ اور سیاست، خواتین کے بارے میں سنگھ کا نظریہ، ہندتو، ہندو لفظ کیوں، دھرم، ریلیجن، ترقی کا نظریہ، دستور کے تحت بہت ساری غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہیے, واضح رہے کہ سنگھ کے کاموں میں مردوں کے لیے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے رہنمائی ملتی ہے جبکہ خواتین کو راشٹریہ سیویکا سمیتی سے ملتی ہے۔ یہ دونوں ایک ساتھ چلیں گے۔ ایک دوسرے کے شعبہ عمل میں دخل نہیں دیں گے۔ ایک دوسرے کی ہمیشہ مدد کریں گے۔ یہ اس وقت طے ہوا۔ ایک لاکھ ستر ہزار سے اوپر چھوٹے بڑے خدمت کے پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں۔ یہ آٹھ سال پہلے کے اعداد و شمار ہیں، آر ایس ایس چونکہ اپنے آپ کو معاشرتی تنظیم کہتی ہے لیکن بی جے پی کو آر ایس ایس کی سیاسی تنظیم کہا جاتا ہے، سیاست کے بارے میں سنگھ کیا کہتی ہے، وہ کہتے ہیں: “میں یہ بات تھوڑے لفظوں میں پھر اس لیے بتا رہا ہوں کہ کئی بار ہم سے سوال کیا جاتا ہے کہ سنگھ کا سیاست سے کیا تعلق ہے؟ کیا سنگھ کے سیاسی عزائم ہیں؟ کیونکہ آج کل کے تقریباً عام رحجان سے ایسا لگتا ہے کہ انسان کسی قابل ہو جاتا ہے اور اس شعبے میں کچھ کرلیتا ہے۔ جہاں سے اسے یہ قابلیت ملی ہے۔ تو وہ سیاست میں جانا چاہتا ہے۔ لیکن سنگھ کو پورے معاشرے کو جوڑنا ہے اور سیاست معاشرے اور زندگی کے بہت سے موضوعات کو لیتی ہے۔ ان موضوعات میں اختلافات پائے جاتے ہیں، یہ ہونا فطری بھی ہے۔ کیونکہ خیالات مختلف اقسام کے رہتے ہیں جس کی وجہ سے گروپ بندی ہوجاتی ہے الگ الگ پارٹیاں بن جاتی ہیں اور ان کے درمیان آپسی مخالفت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ سیاست، جماعت اور پورے معاشرے کو جوڑنے کا کام ایک محدود دائرے میں ہی ایک ساتھ چل سکتا ہے۔ وہ مزید بتاتے ہیں اس لیے سنگھ نے اپنے قیام کے بعد سے ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہماری تنظیم سیاست سے دور رہے گی۔ مسابقت کی سیاست نہیں کرے گی، انتخابات نہیں لڑے گی، سنگھ کا کوئی بھی عہدے دار کسی بھی سیاسی پارٹی میں عہدے دار نہیں بن سکتا، سنگھ کو الیکشن اور ووٹوں کی سیاست سے دور رہنا ہے۔”(صفحہ 32)
اس سوال کے جواب میں کہ آخر سنگھ کے لوگ کیوں بی جے پی میں ہی جاتے ہیں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں:”سویم سیوک ایک خاص پارٹی میں ہی کیوں ہیں؟ اس پارٹی کے بہت سے عہدے داران، موجودہ وزیر اعظم صدر سویم سیوک ہیں؟ اس لیے لوگ جب یہ قیاس لگاتے ہیں کہ نا گپور سے فون جاتا ہوگا اور بات ہوتی ہوگی، یہ بالکل غلط ہے۔ ایک تو وہاں کام کرنے والے سیاسی کارکنان یا تو میری عمر کے ہیں یا مجھ سے بھی سینئر ہیں اور سنگھ کے کاموں کا میرا جتنا تجربہ ہے اس سے کہیں زیادہ تجربہ انھیں سیاست کا ہے۔ ان کو اپنی سیاست کے لیے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہم انھیں کوئی مشورہ دے بھی نہیں سکتے۔ جان پہچان ہے تو حال چال پوچھ لیتے ہیں۔ ان کو کوئی مشورہ چاہے تو وہ کچھ لیتے ہیں اور ہم اگر کوئی مشورہ دے سکتے ہیں تو دے دیتے ہیں مگر ان کی سیاست پر ہمارا کوئی اثر نہیں ہے۔ سرکار کی پالیسیوں پر ہمارا کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ ہمارے سویم سیوک ہیں ان کو نظر و فکر حاصل ہے اور وہ اپنے اپنے شعبہ عمل میں انھیں استعمال کرنے کی صلاحیت اور اختیار رکھتے ہیں۔ اس آزادی، استقلال اور خود انحصاری کے ساتھ ان کا کام چلتا ہے اور چلنا چاہیے ہم یہی چاہتے ہیں۔ ملک میں اور ملک کے سسٹم میں پاور نام کی جو چیز ہے اس کا جو مرکز دستور سے طے ہوا ہے وہی رہے گا۔ کوئی باہر کا دوسرا مرکز کھڑا ہو ہم اسے غلط لکھتے ہیں۔ اس لیے ایسا ہم کرتے بھی نہیں ہیں”سب جانتے ہیں 2014 سے بی جے پی اپنے عروج پر ہے اس کے باوجود آر ایس ایس کوئی ایسا بیان نہیں دیتی جس سے یہ ظاہر ہو کہ بی جے پی اس کی سیاسی ونگ ہے بلکہ اس کے برعکس مسلمان جذباتی قوم ہے، ہم اگر اپنے آس پاس مجموعہ دیکھتے ہیں تو اپنے آپ کو امیر المومنین کے منصب پر فائز سمجھتے ہیں اور لوگوں سے اس کا عہد لیتے ہیں، ہندوستان کی تعریف اور باقیوں کی تنقید یوں کرتے ہیں “ہم دنیا میں جہاں بھی گئے ہیں لڑے نہیں، ہم نے کسی کا ملک فتح نہیں کیا۔ ہم نے کسی کی جائیداد نہیں لوٹی۔ جہاں بھی گئے علم دیا تہذیب دی۔ دوسرے ممالک کے لوگ آ کر اپنے ملک میں بااثر بن جاتے ہیں اور بعد میں واپس چلے جاتے ہیں۔ تو ان کی یادگار اچھی نہیں رہتی۔ دوسرے ممالک سے لوگ آئے، انھوں نے ہم پر حکومت کی، چلے گئے۔ ممالک کے لوگ آئے، ہم پر اثر انداز ہوئے، چلے گئے۔ اس کو اچھا نہیں کہا جاتا لیکن واحد ہندوستان ہے، جس کا دنیا کے جن ممالک میں ظہور ہوا، اس کی یادوں کو وہاں کے لوگ خوشی سے احترام کرتے ہیں۔ آج بھی اس کی باقیات چل رہی ہیں۔ کہیں مجھے ملتے ہیں، کہیں دستکاری نئے سرے سے کھڑی کی گئی ہیں، مہا بھارت اور رامائن کی کہانیاں چلائیں۔ رام لیلائیں چلائیں، خوشی سے چلتی ہیں۔ عبادت کا طریقہ بدل گیا۔ بعد میں وہ شیور ہے، نہ بودھ رہے۔ وہ آج مسلمان ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے اسلاف نہیں بدلے۔”(صفحہ 43)
باربار ڈاکٹر صاحب کوشش کرتے ہیں کہ سب ان کا ساتھ دیں، سب لوگ ہندوستان کی ترقی میں اپنا رول نبھائیں، اس سلسلے میں جو وہ کہتے ہیں بڑا پن دکھائی دیتا ہے۔ دستور کے تحت لکھتے ہیں:”ہندتو عالمی کہنے کی بات کرتا ہے۔ جس دن ہم کہیں گے کہ صرف یہ چلیں گے وید کو نہ ماننے والا بدھ مذہب نہیں چلے گا، اس دن وہ ہندتو نہیں رہے گا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں سچائی کی مستقل تلاش جاری ہے اور اس وجہ سے بہت سارے فلسفے اور نظریات پیدا ہوئے ہیں۔ ان سب کی اپنی اہمیت اور قدر و قیمت ہے، وہ سب سچ ہیں، ایسا سب مانتے ہیں اور ماننا چاہیے۔ ہم اس ہندتو کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہی واحد نظریہ ہے جو اس بھائی چارے کو نظریاتی بنیاد دیتا ہے۔”(صفحہ 48)۔
ملک کا پورا سماج تمام تر امتیازات و مفادات کو فراموش کر کے منظم ہوکر اپنے ملک کے لیے جینے مرنے کا عہد کرتا ہے۔ تب ہی ملک کی تقدیر بدلتی ہے۔ جو ممالک آج تک دنیا میں ترقی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، آپ سب کی تاریخ دیکھ لیجیے کم از کم سو سال ایسی کوششیں مسلسل کی گئیں۔ اس کے بعد وہ ملک زوال سے عروج کی طرف گامزن ہوا اور ساری دنیا کے سر کا تاج بن گیا۔ چاہے وہ انگلینڈ ہو، امریکہ ہو، فرانس ہو، کیوبا ہو، جاپان ہو یا چین ہو۔ ان سب کی اپنی تاریخ لکھی گئی ہے۔ میں نے خود پڑھا ہے۔ اس کے حتمی نتائج کی بنیاد پر میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں۔”(صفحہ 49)
اس کتاب میں اہم معلومات بھی ہیں۔عام طور پر آر ایس ایس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سب کو دینا چاہتے ہیں۔دوسروں سے کچھ نہیں لیتے اس سلسلے میں وہ جاپان کے بارے میں لکھتے ہیں:”میں ایک مثال دوں گا جاپان کے بارے میں ایک کتاب لکھی گئی ہے ‘دی انکریڈیبل جاپانیز’ جاپان اس وقت دنیا کے بازاروں کا بادشاہ تھا۔ اس کا مطالعہ دو ماہرین سماجیات اور دو معاشی ماہرین نے کیا اور ایک کتاب لکھی۔ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔ کتاب کے آخری صفحے پر انھوں نے نو نتائج بیان کیے ہیں۔ ان نو نتائج میں سے پہلے پانچ معاشیات سے متعلق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جاپان کے عوام نظم و ضبط کے عادی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اتنے ترقی پذیر ہیں۔ دوم وہ کہتے ہیں کہ جاپان کے عوام جب اپنے مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں، تو وہ صرف اپنے مفاد کو نہیں سوچتے۔ کم از کم وہ اپنے گاؤں کی بھلائی سوچ کر کوئی منصوبہ بناتے ہیں۔ تیسری بات انھوں نے یہ لکھی ہے کہ جاپان کے عوام اپنے ملک کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ چوتھی بات انھوں نے لکھی کہ جاپان کے عوام اپنے ملک کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو ہمیشہ آمادہ رہتے ہیں اور پانچویں بات یہ کہ جاپان کے عوام اپنے ملک کا ہر کام بہترین اور اعلی طریقے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں”۔(صفحہ 50)
تیسرے باب”تجسس – حل “میں ڈاکٹر موہن راو بھاگوت نے ان سوالات کا جواب دیا ہے جو سنگھ کی پالیسیوں کے بارے میں کیے جاتے ہیں۔ ذات پات کے بارے میں کہتے ہیں:”پہلی بین ذات شادی 1942 میں مہاراشٹر میں ہوئی۔ یہ پہلا واقعہ تھا اور اچھے پڑھے لکھے لوگوں کا تھا، اسی وجہ سے یہ مشہور ہوا۔ اس وقت ان کے پاس جو اچھے اور مبارکبادی کے پیغامات آئے تھے، ان میں قابل احترام ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا پیغام بھی شامل تھا اور شری گرو جی کا بھی۔ گرو جی نے اس پیغام میں کہا تھا کہ آپ کی شادی کی وجہ صرف جسمانی کشش نہیں ہے، آپ یہ بھی بتانا چاہ رہے ہیں کہ سماج میں ہم سب ایک ہیں، اسی وجہ سے آپ یہ شادی کر رہے ہیں۔ میں اس کے لیے آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ کے لیے ازدواجی زندگی میں ہر خوشی کی تمنا کرتا ہوں۔”(صفحہ 57) کیا سنگھ صرف اپر کاسٹ ہندوؤں کی تنظیم ہے، اس سلسلے میں وہ سنگھ کے ماحول کا نقشہ ایک واقعہ سے یوں کھینچتے ہیں:”جب میں پہلی بار سرکار یہ واہ منتخب ہوا۔ تو ہمارے سریش جی سونی معاون سرکار یہ واہ مقرر ہوئے تھے تو میڈیا نے یہ کہا کہ یہ بھاگوت گروپ کی جیت ہے لیکن اوبی سی کو نمائندگی دینی ہے۔ لہذا سونی کا تقرر کیا گیا ہے۔ تو میں نے سونی جی سے پوچھا کہ سونی جی! آپ او بی سی سے آتے ہیں؟ تو وہ تھوڑا سا مسکرائے اور جواب نہیں دیا۔ ابھی بھی مجھے نہیں معلوم کہ سونی جی کس برادری سے آتے ہیں۔ یہ سنگھ کا ماحول ہے۔ لہذا اگر ہم اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو تبدیلی واقع ہوگی۔ میں ناگپور میں پڑھتا تھا۔ تو اس وقت ناگپور سنگھ کے تقریبا تمام افسر ادھیکاری ایک ہی ذات کے، یعنی برہمن تھے۔ لیکن جب میں 80 کی دہائی میں ناگپور پر چارک کی حیثیت سے واپس آیا تو جگہ جگہ جتنی بستیاں تھیں، وہاں اس طرح کا ایک ایگزیکٹو تھا۔ اسی لیے ہماری شاخیں بڑھا دی گئیں، ہم اس بستی میں پہنچ گئے، ہم نے کام بڑھایا، اس میں سے کارکنان تیار ہوئے، وہ آگے آئے۔ اگر کوٹہ سسٹم کریں گے تو ذات پات باقی رہے گی۔ آسان عمل کے ذریعے لاتے وقت لانے والوں کے دل میں یہ احساس ہونا چاہیے کیونکہ فطری طور پر ایک انسان کا مزاج اپنے جیسے کو پکڑنے کا ہوتا ہے۔ ہمیں صرف اپنے جیسے کو نہیں، سب کو پکڑنا ہے۔ یہ دھیان رکھ کر اگر کام چلتا ہے تو ایسا ہوتا ہے۔”(صفحہ 59)
کتاب میں excellence پر بہت زور دیا گیا ہے۔تلک جی کے حوالے سے لکھتے ہیں: “تلک جی کے لڑکے نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں چیز پڑھنی ہے تو تلک جی نے انھیں ایک خط لکھا کہ زندگی میں کیا پڑھنا ہے اس کے بارے میں خود سوچو۔ تم اگر کہتے ہو کہ میں جوتے بنانے کا کاروبار کروں گا تو وہ بھی مجھے قبول ہوگا۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھو کہ تمھارا سلا ہوا جوتا اتنا عمدہ ہونا چاہیے کہ پونے شہر کا ہر آدمی کہے کہ جوتا خریدنا ہے تو تلک جی کے بیٹے سے خریدنا ہے۔پھر بتاتے ہیں: “لوگ ہمارے اعلی تعلیمی اداروں سے ڈگری لے کر آتے ہیں لیکن وہ ملازمت کے قابل نہیں رہتے۔ ڈگریاں بہت مل رہی ہیں، اعلی تعلیم کے انسٹی ٹیوٹس چل رہے ہیں۔ لیکن تحقیق کم ہورہی ہے۔ مضمون کو پڑھانے والے اساتذہ کم ہور ہے ہیں۔اس نقطہ نظر سے ہمیں جامع نظریہ اختیار کر کے ہر سطح پر تعلیم کا ایک اچھا ماڈل بنانا ہوگا۔ لہذا تعلیم کی پالیسی کا ایک بنیادی خاکہ ہونا چاہیے اور اس میں ضروری تبدیلیاں لانی چاہئیں، یہی سنگھ کئی سالوں سے کہہ رہا ہے۔ اور اس کے لیے مقرر تمام کمیشنوں کی رپورٹس بھی ایسی ہی ہیں۔ اب امید ہے کہ ان سب چیزوں کا اثر نئی تعلیمی پالیسی پر پڑے گا۔'(صفحہ 62)
ایک ہی زبان کیوں کے بارے میں کہتے ہیں: “آخر ایک زبان کی بات ہم کیوں کر رہے ہیں، اس لیے کہ ہمیں ملک کو جوڑنا ہے۔ ایک زبان بنانے سے اگر ملک میں ایک یورپ کھڑا ہوتا ہے تو اس سے ہمارے درمیان تلخی پیدا ہوگی، تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اپنا ذہن کیسے بنائیں۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ ہندی ٹھیک ہے۔ لیکن زیادہ تر حصوں میں ہندی میں کام کرنا پڑتا ہے اس لیے دوسرے صوبوں کے لوگ بھی ہندی سیکھ رہے ہیں۔ ہندی صوبوں کے لوگوں کا کام ہندی میں چل جاتا ہے، لہذا وہ دوسری زبانیں نہیں سیکھتے۔ ہندی بولنے والے لوگوں کو دوسرے صوبے کی زبان سیکھنا چاہیے۔ تو یہ من ملاپ جلد ہوجائے گا، ہماری ایک قومی زبان اور اسی میں سارا کاروبار ہو، یہ کام جلد ہی ہو جائے گا۔ ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔”(صفحہ 65)
اب رہی بات “بنچ آف تھاٹس” کی تو جو باتیں بولی جاتی ہیں وہ خاص حالات و اشخاص کے تعلق سے بولی جاتی ہیں؛ وہ ابدی نہیں رہتی ہیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ گروجی کے جو لازوال افکار ہیں ان کا ایک مجموعہ مشہور ہوا ہے؛ “شری گرو جی، وژن اینڈ مشن“۔اس میں ہم نے ان تمام چیزوں کو حذف کر دیا ہے جو فوری سیاق و سباق میں تھیں اور ان کے ان خیالات کو جمع کیا ہے جو دائمی معنویت کے حامل ہیں۔ آپ اسے پڑھیے، اس میں آپ کو وہ باتیں ملیں گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ سنگھ کوئی بند تنظیم نہیں ہے۔ ڈاکٹر ہیڈ گیوار نے کچھ کہا، اب ہم ہمیشہ اس کو لے کر چلیں ایسا نہیں ہے۔ وقت بدلتا ہے تنظیم کے حالات میں تبدیلی ہوتی ہے۔”(صفحہ 78) اسی طرح دفعہ 370، یکساں سول کوڈ، دفعہ 377 کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔
یہ کتاب ایک منظم اور مضبوط تنظیم کو سمجھنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔اردو داں طبقہ ڈاکٹر شیخ عقیل کا شکر گزار ہے کہ اس اہم کتاب کا انہوں نے ترجمہ کیا۔یہ کتاب ‘قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان’ نئی دہلی نے شائع کی ہے۔قیمت 70 روپے بھی مناسب ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب ‘ای کتاب ایپ’ پر پڑھی جاسکتی ہے۔کتاب فون نمبر 49539000 سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ
کیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، جیسے جیسے برکس سربراہ اجلاس قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑیوں سے لے کر طاقتور مرکزی بینکوں کے سربراہوں تک سبھی کی نظریں ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کے رہنماؤں کی میٹنگ میں سامنے آنے والے کسی بھی ایسے اقدام پر ہوں گی جن سے عالمی تجارت اور مالی لین دین میں امریکی ڈالر کی برتری کو خطرہ لاحق ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ڈی ڈالرائزیشن کا عمل اپنی سست رفتاری کے باوجود اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے برکس ممالک کے گروہ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے عالمی تجارت میں ڈالر کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ماسکو، نئی دہلی یا بیجنگ کے رقم اور تجارتی منڈیوں کا انتظام سنبھالنے والے تمام متعلقہ وزراء اور حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ برکس ممالک میں سے کوئی بھی ڈالر کے خلاف کسی قسم کی نظریاتی جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ تاہم، جغرافیائی اورسیاسی خطرات سے تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی پالیسیوں کا عملی اثر یقیناً اس مالیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بین الاقوامی نظام کی بنیاد رہا ہے۔
اگرچہ رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں ڈی ڈالرائزیشن پر واضح طور پر گفتگو نہ ہو، لیکن کانفرنس کے حاشیے پر ملک بہ ملک مذاکرات میں کرنسی کی منتقلی اور تجارتی نظام کے چھائے رہنے کا قوی امکان ہے۔ اصل رکن ممالک – ہندوستان، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ – کے رہنماؤں کی اپنے درمیان اور حال ہی میں برکس میں شامل ہونے والے متعدد دیگر ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا کے رہنماؤں کے ساتھ کئی اہم دوطرفہ بات چیت کی توقع ہے۔
برکس کے اندرونی ارکان کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں 1.17 کھرب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ تھا اور اس میں 13 فیصد کے سالانہ اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کل برآمدات کے لحاظ سے دنیا میں برکس کا حصہ 24 فیصد ہے۔ قومیت کی بنیاد پر قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں کو طے کرنے کے لیے برکس ممالک کی مختلف کوششیں، جیسے ہندوستان اور روس کے درمیان روپیہ-روبل معاہدہ، یا چین کی جانب سے ڈالر کے بجائے یوآن میں خرید و فروخت کی کوششیں، اب تک بین الاقوامی تجارتی لین دین میں کسی بڑے ڈی ڈالرائزیشن کو تیز کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2026 تک، عالمی سطح پر تجارت کی انوائسنگ اور تصفیے کا تقریباً 54 فیصد حصہ ڈالر میں ہی ہوتا ہے اور یہ صورتحال کئی سال سے برقرار ہے۔ درحقیقت یہ سال 2000 کے تقریباً 50 فیصد سے بڑھ کر یہاں تک پہنچا ہے۔
تاہم، تجارتی انوائسنگ اور تصفیے مستحکم رہنے کے باوجود غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کے حصے میں تدریجی لیکن یقینی کمی واقع ہو رہی ہے۔ سال 2000 میں تمام ممالک کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 71 فیصد حصہ ڈالر کی شکل میں تھا۔ 2026 تک یہ کم ہو کر تقریباً 57 فیصد پر آ گیا ہے، جو ایک صدی کے چوتھائی حصے میں 14 فیصد کی کمی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی بنانے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “یہ واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ متعدد ممالک کے مرکزی بینکرز ڈالر کا بڑا ذخیرہ رکھنے میں جیو پولیٹیکل خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیگر کرنسیوں یا محفوظ ترین راستے یعنی سونے کی خریداری کے ذریعے اس خطرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔”
عدم اعتماد کا یہ سلسلہ اب خود امریکہ میں مرکزی بینکوں کے ذریعے سونے کا بلین رکھنے تک پھیل چکا ہے۔ ڈچ سینٹرل بینک نے اس سال مارچ اور اگست کے درمیان شمالی امریکہ سے لندن میں 10 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا تقریباً 86 ٹن سونا منتقل کیا۔ اس سے قبل، جنوری 2026 میں فرانس نے امریکہ میں موجود اپنے 129 ٹن سونے کو فروخت کر دیا، جو کہ اس کے ذخائر کا تقریباً 5 فیصد تھا۔ اس فروخت سے ملنے والی رقم سے فرانس نے یورپ میں بلین خریدا اور اسے اپنے مرکزی بینک کے والٹس میں محفوظ کر لیا۔ یہ عمل صدارت کے پہلے دور میں اٹھائے گئے اس قدم کی عکاسی کرتا ہے جب جرمنی کے بنڈس بینک نے 300 ٹن سونا فرینکفرٹ میں واقع اپنے والٹس میں منتقل کر دیا تھا.
منگل کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ برکس کسی ڈی ڈالرائزیشن کی پالیسی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے رکن ممالک—جن میں سے کئی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر میں لین دین نہیں کر سکتے—”صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے عین مطابق ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ “امریکی اقدامات نے ہی ڈالر پر اعتماد کو مجروح کیا ہے”۔ پیسکوف نے اشارہ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے مغربی مالیاتی منڈیوں سے تیزی سے الگ تھلگ کیے جانے کے مسئلے پر روس کا جواب متبادل ادائیگی کے ذرائع تیار کرنا رہا ہے۔
ہندوستان کے نقطہ نظر سے، یہ مسئلہ خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ نئی دہلی ایک طرف روسی خام تیل کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے تو دوسری طرف وہ مغربی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور سرمائے تک اپنی رسائی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہیں سے برکس زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے پاس کوئی ایک مشترکہ کرنسی، مرکزی بینک یا یورو زون جیسا ادارہ جاتی اتحاد نہیں ہے، لیکن یہ اپنے ارکان کو قومی کرنسیوں میں تجارت طے کرنے اور قومی کرنسیوں میں طے شدہ کرنسی تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تدریجی تبدیلیاں قومی کرنسیوں کو دوطرفہ اور کچھ کثیر جہتی تجارتی تصفیوں میں زیادہ قابل استعمال بناتی ہیں، اور اس کے ساتھ ادائیگی کا نظام زیادہ متنوع ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ لین دین موجودہ مغربی کنٹرول والے مالیاتی تصفیے کے ڈھانچے کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
جینت رائے چودھری
یواین آئی ایف اے
تجزیہ
نیپال کا تباہ کن سیلاب: وجوہات اوراثرات
خصوصی مضمون: ظفراقبال
نیپال اپنی جغرافیائی ساخت کے اعتبار سے دنیا کے انتہائی حساس ممالک میں شمار ہوتا ہے، ایک طرف ہمالیہ کی بلند و بالا برف پوش چوٹیاں، گلیشیئرز اور برفانی جھیلیں ہیں تو دوسری طرف گہری اور تنگ وادیاں، تیز بہاؤ والے دریا اور پہاڑی ڈھلوانیں، یہی جغرافیہ نیپال کو قدرتی حسن عطا کرتا ہے، لیکن اسے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور زلزلوں جیسے خطرات سے بھی دوچار رکھتا ہے، حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی نے ان خطرات کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
26 اگست 2026 کو نیپال کے رسووا ضلع اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آنے والے اچانک سیلاب نے اس حقیقت کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بھوٹے کوشی اور ترشولی دریائی نظام میں پانی کا ایک انتہائی تیز اور اچانک ریلا آیا، جس سے مکانات، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے، بازار اور سرحدی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق رسووا، نواکوٹ، دھادنگ، چتوان، گورکھا اور تنہون سمیت کئی اضلاع متاثر ہوئے اور تقریباً 10 ہزار گھرانوں کو فوری امداد کی ضرورت پیش آئی۔
اس واقعے کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ یہ روایتی مون سون سیلاب جیسا نہیں تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں کسی غیر معمولی شدید بارش کو بنیادی سبب نہیں پایا گیا، بلکہ برفانی تودے، برف اور چٹانوں کے ملبے سے دریا کے عارضی طور پر بند ہونے اور پھر اس بندش کے اچانک ٹوٹنے کو اہم ممکنہ سبب قرار دیا گیا۔
عام سیلاب میں پانی کی سطح بتدریج بلند ہوتی ہے اور لوگوں کو کسی حد تک محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا وقت مل جاتا ہے۔ اس کے برعکس اچانک سیلاب (Flash Flood) چند منٹ یا مختصر مدت میں انتہائی تیزی سے آتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں اس کی رفتار اور تباہ کن قوت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے کیونکہ پانی بلندی سے ڈھلوان کی طرف تیزی سے بہتا ہے اور راستے میں مٹی، پتھر، درخت، برف اور دیگر ملبہ بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔
نیپال کی جغرافیائی ساخت ایسے سیلاب کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ یہاں بلند پہاڑوں کے درمیان دریا انتہائی تنگ اور گہری وادیوں سے گزرتے ہیں۔ جب اچانک بڑی مقدار میں پانی ان وادیوں میں داخل ہوتا ہے تو وہ ایک قدرتی “سرنگ” کی طرح پانی کے بہاؤ کو مرتکز کرکے اس کی رفتار اور طاقت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔
26 اگست کے واقعے کے بارے میں ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ہمالیہ کے بلند علاقے میں برفانی تودہ یا برف و چٹان کا ملبہ دریائے لہینڈے کھولا میں گرا اور اس نے دریا کے بہاؤ کو عارضی طور پر روک دیا۔ اس رکاوٹ کے نتیجے میں پانی جمع ہوتا گیا۔ بعد ازاں جب عارضی بند ٹوٹا تو پانی، برف، چٹان اور مٹی کا ایک زبردست ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا۔
نیپال کے محکمہ آب و ہوا و آب پاشی سے متعلق حکام نے سیٹلائٹ تصاویر کی ابتدائی بنیاد پر بتایا کہ دریا سے تقریباً 20 کلومیٹر اوپر ملبے نے پانی کا راستہ روکا، جس سے ایک عارضی جھیل بن گئی اور پھر وہ اچانک ٹوٹ گئی۔ پانی میں بڑی مقدار میں ملبہ شامل ہونے کی وجہ سے سیلاب کی تباہ کن طاقت کہیں زیادہ ہوگئی۔ابتدائی مرحلے میں ایک زلزلے کو بھی ممکنہ محرک سمجھا گیا تھا، لیکن بعد کی امریکی جیولوجیکل سروے کی تحقیقات نے اس مفروضے کو تبدیل کردیا۔ اضافی سیسمک ڈیٹا اور سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے یہ نتیجہ نکلا کہ جس لرزش کو ابتدا میں زلزلہ سمجھا گیا تھا، وہ دراصل گلیشیئر کے انہدام اور ملبے کے بہاؤ سے پیدا ہوئی تھی۔اس واقعے کی یہ خصوصیت خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر اچانک پہاڑی سیلاب لازماً شدید بارش یا زلزلے کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ کبھی گلیشیئر کے ایک بڑے حصے کا ٹوٹنا بھی ایسا سلسلہ شروع کرسکتا ہے جس کا اختتام ایک تباہ کن سیلاب پر ہوتا ہے۔
نیپال کے حالیہ سیلاب کو صرف ایک مقامی قدرتی حادثہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، برفانی جھیلوں کا حجم بڑھ رہا ہے اور بلند پہاڑوں کی چٹانوں اور برف کے درمیان استحکام متاثر ہو رہا ہے۔درجہ حرارت میں اضافے سے برف اور گلیشیئر کے اندر پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ یہ پانی دراڑوں کے ذریعے اندر پہنچ کر برف اور چٹان کے درمیان رگڑ کم کرسکتا ہے۔ نتیجتاً وہ برفانی یا چٹانی ڈھانچے جو طویل عرصے تک مستحکم رہے ہوں، اچانک حرکت کرسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہمالیہ کے گرم ہوتے ماحول میں گلیشیئرز کے عدم استحکام، برفانی تودوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کا باہمی تعلق مستقبل میں مزید اہم ہوسکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سیلاب براہِ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ کسی مخصوص واقعے کے لیے محرک برفانی تودہ، جھیل کا پھٹنا، شدید بارش یا دوسری جغرافیائی تبدیلی ہوسکتی ہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی ان پہاڑی نظاموں کے بنیادی استحکام کو متاثر کرکے ایسے واقعات کے لیے سازگار حالات پیدا کرسکتی ہے۔
نیپال کی ایک بڑی کمزوری اس کی انتہائی پیچیدہ جغرافیائی ساخت ہے۔ ملک کے شمال میں بلند ہمالیہ، درمیان میں پہاڑی علاقے اور جنوب میں نسبتاً ہموار ترائی کا خطہ ہے۔ بہت سے دریا بلند پہاڑوں سے نکل کر انتہائی تنگ وادیوں سے گزرتے ہیں۔اس صورتحال میں اگر اوپر کہیں پانی کا اچانک ذخیرہ بن جائے اور پھر وہ ٹوٹ جائے تو نیچے آباد علاقوں تک پانی پہنچنے میں بہت کم وقت لگ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی سیلابی انتباہی نظام ایسے واقعات میں ناکافی ثابت ہوسکتا ہے۔عام طور پر سیلاب کی نگرانی بارش اور دریا کی سطح کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ لیکن اگر آسمان صاف ہو، بارش نہ ہورہی ہو اور اچانک کسی گلیشیئر یا ملبے کی رکاوٹ ٹوٹ جائے تو بارش پر مبنی نظام خطرے کی پیشگی اطلاع نہیں دے پاتا۔ حالیہ نیپالی سیلاب نے اسی کمزوری کو نمایاں کیا ہے۔اچانک سیلاب کا سب سے نمایاں اثر بنیادی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ حالیہ واقعے میں سڑکیں، پل، گھر، بازار، سرحدی تنصیبات اور پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں میں مواصلاتی رابطے اور بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
نیپال کے لیے پن بجلی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ملک کے پہاڑی دریا بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور متعدد منصوبے دریاؤں کے قریب تعمیر کیے گئے ہیں۔ لیکن یہی منصوبے اچانک آنے والے برفانی سیلاب، ملبے اور چٹانوں کے بہاؤ کی زد میں آسکتے ہیں۔ 2025 میں بھی اسی دریائی نظام میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب نے متعدد پن بجلی منصوبوں کو متاثر کیا تھا۔
قدرتی آفت کا سب سے بڑا نقصان انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ اچانک آنے والے سیلاب میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ پانی کے ساتھ آنے والا ملبہ مکانات کو تباہ کرتا، گاڑیوں کو بہا لے جاتا اور سڑکوں کو ناقابل استعمال بنا دیتا ہے۔سیلاب کے بعد خطرات ختم نہیں ہوتے۔ صاف پانی کی فراہمی متاثر ہونے سے ہیضہ، اسہال اور دیگر آبی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تباہ شدہ صحت مراکز کے باعث زخمیوں اور بیماروں کو علاج کی سہولت ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے حالیہ سیلاب کے بعد غیر محفوظ پانی و خوراک، متعدی بیماریوں، مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں اور ذہنی دباؤ جیسے خطرات کی نشاندہی کی ہے۔
نیپال کی معیشت میں سیاحت، تجارت، زراعت، پن بجلی اور سرحدی تجارت اہم شعبے ہیں۔ جب سڑکیں اور پل تباہ ہوتے ہیں تو نہ صرف مقامی آبادی متاثر ہوتی ہے بلکہ اشیا کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں بھی رک جاتی ہیں۔سرحدی راستوں کی بندش کا اثر دونوں جانب پڑتا ہے۔ سیاح، زائرین، تاجر اور مقامی مزدور راستوں کے بند ہونے سے پھنس سکتے ہیں۔ پن بجلی منصوبوں کو نقصان پہنچنے سے بجلی کی پیداوار اور قومی آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔ یوں ایک مختصر دورانیے کا سیلاب طویل مدت تک اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
نیپال میں آنے والے اچانک سیلاب کے اثرات صرف نیپال تک محدود نہیں رہتے۔ نیپال سے نکلنے والے کئی دریا ہندوستان میں داخل ہوتے ہیں اور گنگا کے وسیع دریائی نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ بھوٹے کوشی، ترشولی اور ناراینی سمیت دریائی نظاموں میں اچانک بڑے پیمانے پر پانی اور ملبے کا اخراج ہندوستان کے بہار، اتر پردیش اور دیگر نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ حالیہ واقعے کے بعد ہندوستان کے بعض نشیبی علاقوں میں بھی سیلابی انتباہ جاری کیے گئے۔یہ صورتحال ہندوستان اور نیپال کے درمیان سرحد پار آبی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ سیلاب، گلیشیئر اور دریائی پانی سیاسی سرحدوں کا احترام نہیں کرتے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان حقیقی وقت میں موسمیاتی، سیٹلائٹ اور دریائی معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہے۔
سب سے اہم ضرورت جدید ابتدائی انتباہی نظام کی ہے۔ صرف بارش اور دریا کی سطح کی نگرانی کافی نہیں۔ گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور ممکنہ برفانی تودوں کی بھی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔مصنوعی سیاروں، ڈرونز، سیسمک آلات، ریموٹ سینسنگ اور خودکار پانی ماپنے والے آلات کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ایسے مقامات کی نشاندہی کی جانی چاہیے جہاں برفانی جھیل کے پھٹنے یا گلیشیائی انہدام کا امکان زیادہ ہے۔دوسری طرف ہمالیائی علاقوں میں تعمیرات کی منصوبہ بندی بھی نئے سرے سے کرنا ہوگی۔
دریاؤں کے قدرتی راستوں، سیلابی میدانوں اور انتہائی خطرناک وادیوں میں بے ہنگم تعمیرات مستقبل کی تباہ کاریوں کو کئی گنا بڑھا سکتی ہیں۔ سیلابی خطرے کے نقشے تیار کرکے نئی آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ضروری ہے۔
نیپال کا حالیہ اچانک سیلاب اس بات کا واضح انتباہ ہے کہ ہمالیائی خطے میں قدرتی آفات کی نوعیت تبدیل ہورہی ہے۔ یہ محض مون سون کی بارش سے پیدا ہونے والا روایتی سیلاب نہیں تھا بلکہ برفانی انہدام، ملبے کے بہاؤ، عارضی دریائی بندش اور اچانک پانی کے اخراج جیسے عوامل نے اسے انتہائی تباہ کن بنا دیا۔اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمالیہ کو صرف سیلاب کے نہیں بلکہ “اچانک اور غیر متوقع” سیلابوں کے خطرے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کا عدم استحکام اور پہاڑی علاقوں میں بڑھتی انسانی سرگرمیاں ایک دوسرے سے جڑ کر نئے خطرات پیدا کررہی ہیں۔
نیپال کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید سائنسی نگرانی، مؤثر ابتدائی انتباہ، محفوظ تعمیرات اور مقامی آبادی کی تربیت پر سرمایہ کاری کرے۔ ہندوستان، چین اور نیپال کو بھی مشترکہ ہمالیائی خطرات کے لیے باقاعدہ معلوماتی اور امدادی نظام قائم کرنا چاہیے۔ اگر پیشگی انتباہ، سائنسی تحقیق اور علاقائی تعاون کو ترجیح دی جائے تو قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہونے کے باوجود ان سے ہونے والی انسانی اور معاشی تباہی کو بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
(یواین آئی)
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
ہندوستان1 week agoملن پردھان کی گرفتاری جمہوریت کا قتل: راہل ، کھرگے، نندی گرام میں بی جے پی پر ‘ووٹ چوری’ کا الزام
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
