تازہ ترین
سوئس پارلیمنٹ میں دھماکہ خیز مواد سمیت مشتبہ شخص گرفتار
سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن میں پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ گرفتار کرنے کے بعد پارلیمنٹ اور متعلقہ دفاتر کو خالی کرا لیا۔
برن پولیس نے منگل کو ایک بیان میں کہاکہ “کل دوپہر وفاقی سیکورٹی اہلکاروں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے جنوبی دروازے پر بلٹ پروف جیکٹ اور ہولسٹر پہنے ایک شخص کو دیکھا۔” بلٹ پروف جیکٹ کے اندر چھپائے گئے دھماکہ خیز مواد کا پتہ چلا۔‘‘
پولیس نے اپنے بیان میں دھماکہ خیز مواد کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہوسکی ہے اور اس کا مقصد معلوم نہیں ہے۔ اس کی جسمانی اور ذہنی صحت کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ مشتبہ شخص کے پاس سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کی خبر کے بعد پارلیمنٹ کی عمارت اور آس پاس کی سڑکوں کو فوری طور پر گھیرے میں لے لیا گیا۔ سیکیورٹی ٹیم، فائر بریگیڈ اور ڈی مائننگ ماہرین نے جائے واقع پر پہنچ کر دھماکہ خیز مواد کو قبضے میں لے لیا اور ناخوشگوار واقعہ سے بچا لیا۔ اس دوران مشتبہ شخص کی گاڑی کو بھی چیک کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی میں کوئی خطرناک مواد نہ ملنے پر حفاظتی اقدامات ہٹا دیے گئے۔ سوئٹزرلینڈ میں انتہا پسندانہ تشدد کے بہت کم واقعات ہوتے ہیں، لیکن وفاقی پولیس باقاعدگی سے خطرے سے خبردار کرتی ہے۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس میں احتجاج کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس کے عجائب گھر بند
پیرس، فرانس میں گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر لوٹ مار، آتش زنی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے بعد سکیورٹی کی خامیاں سامنے آنے اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر دباؤ بڑھنے کے درمیان، حکام نے نئے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ہفتہ کو ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیرس کے کئی بڑے عجائب گھر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
تشدد کے دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر لوور، اورسے میوزیم، پکاسو میوزیم اور گرینڈ پیلے سمیت کئی ثقافتی ادارے بند رہے۔ پیرس میں منعقد ہونے والے عصری فنون کے بڑے میلے آرٹ باسل کے منتظمین نے بھی جمعہ کو افتتاح کے بعد ہفتے کے اختتام کے پروگرام منسوخ کر دیے۔
پیرس سے تقریباً 110 کلومیٹر جنوب میں واقع اورلیاں میں انتہائی دائیں بازو کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی تیاری کی گئی۔ یہ مظاہرہ میرین لے پین کی جماعت نیشنل ریلی کی قومی کانگریس کے ساتھ ہی منعقد ہونے والا ہے۔
ٹریڈ یونینوں، بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نسل پرستی مخالف انجمنوں سمیت تقریباً 50 تنظیموں نے اس مظاہرے کی اپیل کی ہے۔ حکام کو اس میں 20 ہزار سے 30 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے تقریباً 3 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ سکیورٹی انتظامات میں فساد مخالف پولیس، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن شامل ہوں گے۔
نونیز نے جمعہ کو کہا، ”ہم تشدد کرنے والے ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ حکام کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گے۔
طلبہ تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں کی جانب سے پیرس میں بھی احتجاجی مظاہروں کی توقع ہے۔ فرانسیسی اخبار ‘لوموند’ کے حوالے سے پیش کیے گئے انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق، پیرس کی سڑکوں پر 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار تک افراد اتر سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے فرانس بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوٹ مار کی گئی، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار کاروباری اداروں کو نقصان پہنچا یا انہیں لوٹ لیا گیا۔
حکام نے خصوصی پولیس دستوں، سراغ رساں کتوں کی ٹیموں، گھڑسوار اہلکاروں اور ڈرون مخالف ٹیموں کی مدد سے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ نیشنل جنڈارمری کے زیر استعمال تقریباً 15 واٹر کینن گاڑیوں اور 20 بکتر بند گاڑیوں کو بھی تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
احتجاج سے قبل پیرس کے دکانداروں نے اپنی دکانوں کے شٹر اور دروازے مضبوط کیے اور سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بدامنی سے متاثر ہونے والے پلیس دے لا ریپوبلیک کے قریب کاروباری اداروں اور بینک کی ایک شاخ نے اپنے احاطے کو محفوظ بنانے کے لیے لکڑی کے تختے لگا دیے۔
یہ احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے جنوب مشرق میں واقع ایک ہائی اسکول سے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین نے عملے کی کمی اور تعلیمی حالات کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن بعد میں اس تحریک میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ناراضگی بھی شامل ہو گئی۔
اسکولوں میں ناکافی فنڈنگ، پسماندہ علاقوں میں عملے کی کمی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے مسائل نے بھی طلبہ کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
لیون، نیس اور مونٹ پیلیئر میں مجوزہ بعض مظاہروں پر مقامی حکام نے پابندی عائد کر دی، جبکہ پیرس اور مارسیے میں ریلیاں نکالے جانے کی توقع ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔
صدر میکرون، جنہیں اپنی صدارت کے دوران عوامی ناراضگی میں اضافے کا سامنا ہے، نے سکیورٹی کے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقوں، کاروباری اداروں اور سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہیں۔
یواین آئی۔ ع ا۔
دنیا
علاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
استنبول، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اپنے سوشل اکاؤنٹ پر استنبول میں آر4 (ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب) اور اٹلی کی شرکت کے ساتھ منعقدہ آر4 ای3 (برطانیہ، جرمنی، فرانس) وزرائے خارجہ کی ملاقاتوں کے بارے میں ایک بیان جاری کیا۔
وزیر فیدان نے کہا کہ استنبول میں پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ ہونے والے آر4 مذاکرات کے بعد، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ کی شرکت کے ساتھ آٹھ ممالک کو یکجا کرنے والے ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی گئی۔
اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے آپس میں جڑے تمام مسائل اور تنازعات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اختلافات کو علاقائی ملکیت کے تصور کے تحت، گفت و شنید اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں شریک ہم منصبوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر فیدان نے کہا:ہم امید کرتے ہیں کہ جس اقدام کی ہم رہنمائی کر رہے ہیں وہ مستقل مزاجی اختیار کرے اور ہمارے خطے میں اور اس سے باہر امن اور استحکام میں حصہ ڈالے۔ ترکیہ دو جغرافیوں کے درمیان مرکزی مقام کے ساتھ علاقائی مسائل کے حل میں اپنی ذمہ
داریوں کو جاری رکھے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
