تازہ ترین
’حکومت سے اختلاف کرنے والوں کو قتل کردینا چاہیے‘:طالبان کمانڈر کےبیان پرعوام میں غصہ
افغانستان برسر اقتدار طالبان قیادت کی طرف سے آئے روز ایسے متنازع بیانات سامنے آتے رہتے ہیں جن کے نتیجے میں عوام میں غم وغصے کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
ایک ایسا ہی متنازع بیان طالبان کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر ندا محمد ندیم نے کہا ہے کہ جو بھی حکومت کی مخالفت کرے اسے مار دیا جانا چاہیے۔
اتوار کے روز انہوں نے کہا کہ “جو لوگ حکومت کو الفاظ، قلم یا عمل سے غیر مستحکم کرتے ہیں، انہیں قتل کیا جانا چاہیے۔”
طالبان تحریک میں پھوٹ
ایسا لگتا ہے کہ طالبان تحریک کے اندر پھوٹ زوروں پر ہے۔
گذشتہ موسم گرما سے افغانستان پر قابض طالبان حکومت میں وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے حکومت کے لیے شوریٰ کونسل کے قیام کے لیے تحریک کے اندر کچھ سرکردہ رہ نماؤں کے ساتھ ایک اندرونی تحریک کی قیادت کرنا شروع کی تھی۔ سراج الدین حقانی طالبان امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کی طرف سے اقتدار کی اجارہ داری پر ان کی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ طالبان رہ نماؤں کی اکثریت طالبان تحریک کے سربراہ کی جانب سے انہیں جواب دینے میں ناکامی اور ان سے ملنے یا ان سے خطاب کرنے سے انکار پر ناراض ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں کچھ فیصلوں سے باز رکھنے کی کوششوں کے باوجود اخوندزادہ ان سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
وزیر دفاع کا اعتماد
ذرائع نے انکشاف کیا کہ سراج الدین حقانی طالبان تحریک کے بانی ملا عمر کے بیٹے وزیر دفاع محمد یعقوب کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب رہے۔ انہیں حکمرانی کے لیے شوریٰ کونسل کی تشکیل پر سنجیدگی سے کام کرنے کے لیے رہ نماؤں سے مشاورت کرنے پر آمادہ کیا۔
ذرائع نے کہا کہ حقانی اور یعقوب نےعسکری محاذ آرائی کے ذریعے قیادت تبدیل کرنے سے انکار کر دیا اور “طالبان امیر” کے رویے کو تبدیل کرنے کے لیے پرامن طریقے پر کاربند رہے۔
اس نے یہ بھی طاہر ہوتا ہے کہ حقانی اور یعقوب عسکری طور پر قیادت کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے ، اور “لیڈر” کے رویے کو تبدیل کرنے کے لیے پرامن طریقہ کار پر کاربند ہیں۔
خواتین کی اسکول واپسی
لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے کے فیصلے کے حوالے سے ، جس کے باعث ملک کے اندر اور باہر شدید تنقید ہورہی ہے، ذرائع نے ان حالیہ افواہوں کی تردید کی جن میں موسم بہار کے سمسٹر کے دوران لڑکیوں کی سکولوں اور یونیورسٹیوں میں واپسی کے متوقع فیصلے کی نشاندہی کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کی کہ طالبان حکومت کے کچھ وزراء نے ہیبت اللہ کو ایک خط بھیجا، جس میں ان سے لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے کام پر پابندی پر نظر ثانی کرنے کو کہا گیا۔
تاہم، انہوں نے ایک جملے میں جواب دیا: “اگر آپ یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلام 12 سال سے بڑی عمر کی لڑکیوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت دیتا ہے، تو میں لڑکیوں کو تعلیم اور کام کرنے کی اجازت دوں گا۔”
یہ صرف شروعات ہیں
“العربیہ” کے ذرائع کے مطابق حقانی نے دیگر قیادت کو بتایا ہےکہ اقتدار پر اجارہ داری کے بارے میں ان کے حالیہ بیانات قندھار سے جاری کیے جانے والے فیصلوں کو مسترد کرنے کا آغاز ہیں جن کے باعث افغان حکومت اور عالمی برادری کے درمیان ایک بڑا خلا پیدا ہورہا ہے۔ اور عالمی برادری طالبان حکومت کو قبول کرنے میں ہچکچا رہی ہے۔
حقانی نے کہا کہ اگر آئندہ مارچ تک تعلیمی سال کے آغاز پر تعلیم کے بارے میں کوئی فیصلہ جاری نہ کیا گیا ، شوری کونسل ، وزارتوں اور فوجی عہدوں پر تقرریوں اور برطرفیوں میں ہیبت اللہ کی مداخلت کو نہ روکا گیا، تو وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ قندھار میں تحریک کے سپریم رہنما اور ان کے قریبی ساتھیوں پر کھل کر تنقید کریں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کے بعد وہ خود کو اور اپنے اتحادی رہنماؤں کو افغان عوام اور بین الاقوامی برادری کے سامنے ان فیصلوں سے بری کرنے کی کوشش کریں گے جو حکومت اور افغان عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرتے ہیں، اور واضح طور پر اعلان کریں گے کہ فیصلے ایک رہنما جاری کرتے ہیں، اور یہ بتائیں گے کہ انہوں نے شوریٰ کے نظام میں خلل ڈالا ہے۔
مذہب سے نفرت مت پھیلائیں
گذشتہ ہفتے حقانی نے طالبان کے سپریم لیڈر اور الگ تھلگ رہنے والے رہنما پر تنقید کی اور کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ان کے کندھوں پر ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اس لیے مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا پڑے گا، طالبان کو شہریوں کو اطمینان دلانا چاہیے اور اس طرح کام کرنا چاہیے کہ لوگ طالبان سے نفرت نہ کریں اور پھران کی وجہ سے مذہب سے بھی نفرت نہ کریں۔
واضح رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد، طالبان نے وعدوں کے باوجود، خواتین کی تعلیم سمیت کچھ معاملات پر لچک دکھانے کی بجائے پچھلے دور حکومت کی طرح شدت پسندی کا مظاہرہ کیا۔
دھیرے دھیرے خواتین کو عوامی زندگی سے باہر کر دیا اور انہیں گھر پر رہنے کے لیے کم اجرت دینے کے بعد ملازمتوں سے ہٹا دیا۔ گزشتہ نومبر میں خواتین کے پارکوں، باغات، جم اور عوامی سوئمنگ پولز پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
خواتین کے لیے کسی مرد رشتہ دار یا محرم کے بغیر سڑکوں پر گھومنے پر بھی سزا رکھی گئی ہے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کو پاکستان کے ایجنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اسمبلی کو ان کے بقول پاکستان کے ایجنڈے کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننے دے گی۔
سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسمبلی سے منظور قرارداد میں دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن کے حوالوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے تک محدود رہتی تو بی جے پی اس کا خیرمقدم کرتی۔
انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی محض مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتی۔ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہیں۔ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کے نام پر پیش کی جاتی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے۔‘‘
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کی ہر تجویز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس ایوان سے غریب عوام کو بہت سی توقعات ہیں۔ اسمبلی کا یہ پانچواں دن ہے اور کئی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے کی مخالفت کرے۔‘‘
تاہم، انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر ان کے بقول ایسے مسائل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کا
الزام لگایا جو پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اچن میں 361 کروڑ روپے کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ ٹینڈر کے مرحلے میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ سری نگر کے اچن میں مجوزہ 800 ٹن یومیہ (ٹی پی ڈی) مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ (آئی ایس ڈبلیو ایم) پروجیکٹ، جس کی تخمینی لاگت 361 کروڑ روپے ہے، فی الحال ٹینڈر کے مرحلے میں ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کا قلمدان بھی سنبھالتے ہیں، نے جاری خزاں اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں رکن اسمبلی مبارک گل کے سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ابھی تک کسی ایجنسی یا ٹھیکیدار کو یہ پروجیکٹ الاٹ نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ فی الحال ٹینڈر کے عمل سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ پروجیکٹ میں روزانہ 800 ٹن کچرے کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ہوگی اور اس کی مدت 25 سال مقرر کی گئی ہے، جس میں تعمیراتی کام کے لیے 24 ماہ شامل ہیں۔
مجوزہ مربوط پروجیکٹ میں کمپوسٹنگ سہولیات، بایو-سی بی جی پلانٹ، میٹریل ریکوری فیسیلٹیز (ایم آر ایف)، ریفیوز ڈیریوڈ فیول (آر ڈی ایف) سہولت، سائنسی سینیٹری لینڈ فل، ٹرانسفر اسٹیشنز، لیچیٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر اور دیگر ماحولیاتی بنیادی سہولیات شامل ہوں گی۔
دریں اثنا، ایوان کو بتایا گیا کہ نئے مربوط پروجیکٹ کے شروع ہونے تک سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کی جانب سے اچن میں میونسپل کچرے کے سائنسی انتظام، ماحولیات کے تحفظ اور پرانے جمع شدہ کچرے کی صفائی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یواین آئی۔ طا۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ میں اسکارپیو کھائی میں جا گری، پانچ افراد ہلاک، سات زخمی
سری نگر، شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ٹنگڈھر علاقے میں پیر کو ایک اسکارپیو گاڑی سڑک سے پھسل کر دریا میں جا گری، جس کے نتیجے میں نو ماہ کے شیر خوار بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ حادثہ لائن آف کنٹرول کے قریب اس وقت پیش آیا جب اسکارپیو گاڑی ٹیٹوال سے سمیری کی جانب جارہی تھی۔ راستے میں گاڑی سڑک سے پھسل گئی اور نیچے جا کر کشن گنگا دریا میں جا گری۔
حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد ادریس (30)، حمزہ (نو ماہ)، سعیدہ بیگم (28)، شبیر احمد (50)، سمیری کے تمام رہائشی، اور ٹیٹوال کے رہائشی راجہ ارشد (30) کے طور پر ہوئی ہے۔
حادثے میں ڈرائیور سمیت چھ دیگر مسافر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال (ایس ڈی ایچ) ٹنگڈھر منتقل کیا گیا، جہاں سے پانچ زخمیوں کو مزید بہتر علاج کے لیے اعلیٰ طبی مرکز منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔
پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 281 اور 125(a) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ حادثے میں لوگوں کی جان جانے سے ’’شدید رنجیدہ‘‘ ہیں اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور ضلعی انتظامیہ کو انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے کرناہ-ٹنگڈھر علاقے میں پیش آنے والا ایک المناک واقعہ قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحومین کی روح کے سکون اور غم زدہ خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی قوت عطا ہونے کے لیے دعا کی۔
عمر عبداللہ نے ضلعی انتظامیہ اور طبی حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج اور تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے حکام سے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو بھی کہا۔
جیل میں قید رکن پارلیمنٹ اور عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے رہنما انجینئر رشید نے بھی اس المناک سڑک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
پارٹی کے ترجمان انعام النبی نے حکام سے اپیل کی کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو ہر ضروری مدد فراہم کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حادثے کے بعد کسی بھی متاثرہ خاندان کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان5 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
