تازہ ترین
میں نے کبھی انتشار کی بات نہیں کی: عمران خان، سپریم کورٹ کی کسٹڈی میں عمران خان چلے گئے ہیں۔بابر اعوان
اسلام آباد، 11 مئی (یو این آئی) پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے کھبی انتشار کی بات نہیں کی، انتشار وہ چاہتے ہیں جو الیکشن میں جانا نہیں چاہتے۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گرفتاری کے وقت میں نے کہا کہ مجھے وارنٹ دکھائیں مگر نہیں دکھائےگئے گرفتاری کے وقت مجھے ڈنڈے مارے گئے ایسا تو کسی کریمنل کیساتھ بھی نہیں ہوتا۔
عمران خان نے کہا کہ کل مجھے اغوا کرنے کے بعد علم نہیں ملک میں کیا ہوتا رہا؟ یہاں میڈیا موجود ہے ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ میں نے کبھی انتشار کی بات نہیں کی ملک میں انتشار وہ چاہتے ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے تحریک انصاف کی بنیاد ہی انصاف ہے۔
واضح رہے کہ اب سے تھوڑی دیر قبل سپریم کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے عمران خان کو دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کو کل ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اسلام آبادہائیکورٹ کا فیصلہ ماننا ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں آپکی گرفتاری کے بعد تشدد کے واقعات ہورہے ہیں ہم ملک میں امن چاہتے ہیں یہ بات کی جارہی ہے کہ آپ کےکارکنان غصے میں باہر نکلے ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں بتائیں۔
اسی کے ساتھ سابق وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ سے گھر (بنی گالہ) جانے کی درخواست کی جسے مسترد کر دیا گیا۔
عمران خان کو سخت سکیورٹی میں سپریم کورٹ لایا گیا جہاں ان کی گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے کر انہیں فوری رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
سپریم کورٹ میں عمران خان نے گھر جانے کی اجازت مانگ لی جس پر عدالت نے آئی جی اسلام کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا کہ جہاں عمران خان کو رکھا گیا وہ کیا جگہ ہے؟ کوئی گیسٹ ہاؤس ہے؟ آئی جی نے بتایا کہ عمران خان کو پولیس لائن گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔اس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریماکس دیے کہ عمران خان وہیں رہتے ہیں تو ملاقاتوں کی اجازت ہوگی، ان کے فیملی ممبر اور ساتھی ارکان کو ملنے کی اجازت ہوگی، ہم ان کی مکمل سکیورٹی چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان 10 سے 12 بندے ساتھ رکھیں جو ان کے ساتھ ہی رہیں گے اور وہیں سوئیں گے، کیا عمران خان کل 11 بجے عدالت پیش ہو سکتے ہیں؟ انہیں جہاں رکیں گے اس کی سکیورٹی سخت رکھی جائی۔
آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ جہاں عمران خان کو رکھا گیا وہاں بہت سے سکیورٹی معاملات ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے لیے آپ اہم ہیں آپ کی سکیورٹی کے انتظامات کریں گے، کوئی بھی عمران خان کو گرفتار کرنے اب پولیس لائن نہیں جائے گا، وہ جس سے ملنا چاہیں اس کی فہرست دیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان جب بھی کسی کو ملنا چاہیں مل سکیں گے، ہم مختصر آرڈر جاری کریں گے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ماہر قانون بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ہائیکورٹ میں کارروائی کل سے اسی جگہ سے شروع ہوگی جہاں سے عمران خان کو اغوا کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نیب کی تحویل میں نہیں رہے اب ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے۔
بابر اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ عدالت میں جو بھی آئے گا اسے گرفتار نہیں کیا جاسکتا، کسی کا اختیار نہیں ہے کہ وہ احاطہ عدالت سے کسی کو بھی گرفتار کرلے۔انہوں نے مزید کہا کہ پرنسپل طے کردیا گیا کہ عدالت سے کسی کو اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔
واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل سپریم کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دیا اور انہیں کل دوبارہ اسلام آبادہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔
دنیا
غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
غزہ، گوگل میپس کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر نے محصور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے تقریباً تین سال بعد ہونے والی بڑے پیمانے کی تباہی کی واضح تصویر پیش کی ہے۔
ایک کے بعد ایک پورے محلے ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں اور بیشتر مقامات پر صرف اہم سڑکوں کے مدھم نقوش باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث اب غزہ کے ایک علاقے کو دوسرے سے الگ کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ زرعی زمینیں جھلس چکی ہیں، جبکہ صدیوں پرانی عبادت گاہیں بھی نقصان کا شکار ہوئی ہیں یا منظرنامے سے مکمل طور پر مٹ چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر (یو این او ایس اے ٹی) کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کی تعداد میں تقریباً ایک سال قبل جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایجنسی (انروا) کے مطابق غزہ کی تقریباً 82 فیصد عمارتیں، یعنی لگ بھگ دو لاکھ عمارتیں، نقصان کا شکار ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً دو تہائی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
الجزیرہ نے گوگل میپس پر حال ہی میں جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے جنگ سے پہلے کے غزہ اور موجودہ صورتحال کا تقابلی جائزہ لیا ہے، جس میں جنوبی علاقے رفح سے شمالی غزہ تک کے علاقے شامل ہیں۔ رفح کی تصاویر رواں سال کی ہیں، جبکہ شمالی غزہ کی تصاویر 2025 اور 2024 کی ہیں۔
غزہ کا سب سے جنوبی شہر رفح غزہ کے مختلف علاقوں سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے ایک بڑا پناہ گاہ بن گیا تھا، تاہم مئی 2024 میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد کو یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ان میں سے بیشتر پہلے ہی متعدد بار بے گھر ہو چکے تھے۔ انہیں رفح کے شمال میں واقع خان یونس اور وسطی غزہ کے دیر البلح کی جانب منتقل ہونا پڑا، جبکہ رفح میں انروا کے پناہ گزین مراکز بھی خالی کرا لیے گئے۔
مغربی رفح کا کبھی گنجان آباد رہنے والا تل السلطان محلہ تقریباً مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ان مقامات پر جہاں کبھی مکانات موجود تھے، اب بیشتر جگہ صرف ریت دکھائی دیتی ہے۔
المواصی کبھی رفح اور خان یونس گورنریٹس کے ساحلی علاقے میں پھیلی ہوئی نسبتاً کم آبادی والی ریتلی اور زرعی پٹی تھی۔ اسرائیل نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسے ’’انسانی بنیادوں پر محفوظ علاقہ‘‘ قرار دیا تھا اور بے گھر فلسطینیوں سے وہاں پناہ لینے کو کہا تھا۔
مئی 2024 میں جب اسرائیل رفح میں فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا تھا، اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا، ’’اگر وہ رفح میں داخل ہوئے تو… میں انہیں ہتھیار فراہم نہیں کر رہا ہوں۔‘‘
اس کے باوجود اسرائیل نے کارروائی جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مزید لاکھوں افراد المواصی منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے اس علاقے پر متعدد بار بمباری کی ہے۔
تازہ سیٹلائٹ تصاویر میں کبھی تقریباً خالی نظر آنے والا یہ علاقہ اب خیموں سے بھرا ہوا ہے، جہاں ایسے خاندان بڑی تعداد میں مقیم ہیں جن کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں۔
یو این او ایس اے ٹی کے اکتوبر 2025 کے جائزے کے مطابق خان یونس گورنریٹ میں غزہ کے کسی بھی گورنریٹ کے مقابلے میں سب سے زیادہ عمارتیں، یعنی 51,885، نقصان کا شکار ہوئی تھیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز اس وقت زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے ریاست کے درجے کی بحالی پر قرارداد منظور کرنے میں ایوان کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسپیکر عبد الرحیم راٹھور کو عہدے سے ہٹانے کا دوبارہ مطالبہ کیا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کے روز بی جے پی قانون سازوں کے شور شرابے اور واک آؤٹ کے درمیان ریاست کے درجے کی بحالی کی قرارداد منظور کی تھی۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، شرما اور بی جے پی کے دیگر اراکین نے قرارداد کے کچھ حصوں بالخصوص 2000ء کی خودمختاری کی قرارداد سے جڑے حوالوں پر اعتراض کیا۔ بی جے پی کا موقف ہے کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کی حامی ہے لیکن خودمختاری کے حوالوں کی مخالفت کرتی ہے۔
شور شرابے کے دوران شرما نے قرارداد پر کارروائی کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا جس پر اسپیکر کو مداخلت کرنی پڑی۔ مسٹر راٹھور نے کہا کہ قواعد کے مطابق انہیں عہدے سے ہٹانے کی تحریک کو 14 دنوں کے بعد فہرست میں شامل کر کے اس پر غور کیا جائے گا۔ ہنگامہ جاری رہنے پر اسپیکر نے ایوان میں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجی اراکین کو کارروائی میں خلل ڈالنے کے خلاف خبردار کیا۔ مسٹر راٹھور نے حزب اختلاف کو یاد دلاتے ہوئے کہ وہ پہلے ہی طریقہ کار کی وضاحت کر چکے ہیں اور ضروری نوٹس جاری کر چکے ہیں، کہا کہ میں غنڈہ گردی کی اجازت نہیں دوں گا۔
مسٹر راٹھور نے احتجاجی اراکین سے کہا کہ آپ نے میری ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں، وہ ٹھیک ہے۔ لیکن مجھے سکھانے کی کوشش نہ کریں۔ میں اپنا کردار اور فرض جانتا ہوں۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے حزب اختلاف پر پلٹوار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کو جموں و کشمیر کے عوام نے ان کے مفادات سے جڑے مسائل اٹھانے کے لیے اسمبلی میں بھیجا ہے۔
چودھری نے بی جے پی اراکین پر بحث میں حصہ لینے کے بجائے کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب آپ یہاں بحث کے لیے آئے تو آپ نے ایوان کو معطل کیا اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا استعمال نعرے بازی کے بجائے عوام سے جڑے مسائل بشمول ترقی، روزگار، تعلیم، کھیل اور انتخابات پر بحث کے لیے ہونا چاہیے۔ اس تلخ کلامی نے اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان تصادم کو مزید تیز کر دیا اور بار بار کی رکاوٹوں نے کارروائی میں خلل ڈالا۔ بی جے پی کے قانون ساز بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ وہ کچھ دیر بعد ایوان میں واپس آ گئے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
دنیا
ایران کے وزیر خارجہ عراقی کی قطری ثالثوں سے ملاقات، امریکہ کا جوہری معاملہ حل کیے بغیر معاہدے سے انکار
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقی نے نیویارک میں قطری ثالثوں سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز پر بات چیت کی ہے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
عراقی نے پیر کو ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ قطری ثالث ملاقات میں زیر بحث آنے والی تجاویز امریکہ کے سامنے پیش کریں گے اور انہیں امید ہے کہ واشنگٹن کا حتمی جواب منگل تک موصول ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا، ”ہم نے خیالات اور ایران کی شرائط پوری کرنے کے لیے حل تلاش کرنے اور ان شرائط پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات کی۔ ان کے پاس کچھ تجاویز تھیں اور ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ وہ انہیں امریکی فریق کے سامنے بھی پیش کریں گے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جواب کا انتظار کرنے کے لیے نیویارک میں قیام کریں گے، عراقی نے کہا کہ وہ چند گھنٹوں میں تہران روانہ ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا، ”جب بھی قطریوں کے پاس کوئی جواب ہوگا، وہ جانتے ہیں کہ اسے ہم تک کیسے پہنچانا ہے۔”
عراقی نے ان ملاقاتوں کو قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ذریعے جاری پیغامات کے تبادلے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ایران کی جانب سے اپنی تجویز پیش کیے جانے کے بعد یہ رابطے ”زیادہ سنجیدہ شکل” اختیار کر گئے ہیں۔
ایران نے جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تجویز پیش کی تھی، جس میں امریکہ سے ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے، پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عراقی کے مطابق ان اقدامات کو چار یا پانچ دن کے اندر مکمل کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے اور ساتویں روز ایران کے جوہری پروگرام سمیت حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ”ناقابل قبول” قرار دیا تھا۔
الجزیرہ سے بات کرنے والے امریکی عہدیدار نے کہا کہ بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
عہدیدار نے مذاکرات کو ”مثبت اور تعمیری” قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملہ حل کیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ٹرمپ جوہری معاملے میں پیش رفت کے بدلے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہیں۔
عہدیدار نے کہا، ”ایران نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جوہری معاملات پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہے، تاہم فریقین اب بھی وعدوں پر عمل درآمد کے وقت اور اس معاملے پر اختلاف رکھتے ہیں کہ پہلے کون سا فریق کون سا قدم اٹھائے گا۔”
امریکی عہدیدار نے ایران کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ تہران نے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی کی اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے کیے۔ تہران اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے لبنان پر اسرائیلی حملے روکنے کی اپنی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے قائم کرنے کی کوشش کرکے خود اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ع ا۔
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
