جموں و کشمیر
منڈلا آرٹ: ترال کی طالبہ کا نا م’ انٹرنیشنل بک آف ریکارڈس‘ میں شامل
سری نگر،14 مئی(یو این آئی)جنوبی کشمیر کے پنگلش ترال سے تعلق رکھنے والی منڈلا آرٹ آرٹسٹ ماہرہ شاہ نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر منڈلا آرٹ میں دنیا کا سب سے چھوٹا شکارا بنا کر’انٹرنیشنل بک آف ریکارڈس’ میں اپنا نام شامل کیا ہے۔
ماہرہ شاہ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہاکہ میں بچپن سے ہی اسکول میں ڈرائینگ اور پینٹنگ مقابلوں میں حصہ لیتی تھی اور وقت گذرنے کے ساتھ اس فن کے ساتھ میری دلچسپی بھی بڑھتی گئی’۔
انہوں نے کہا کہ’منڈلا آرٹ’ کے ساتھ میری خاص طور پر دلچسپی بڑھتی گئی اور میں نے اسی فن کو سنوارنے میں اپنا وقت صرف کرنا شروع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ : منڈلا آرٹ میں دنیا کا سب سے چھوٹا شکارا بنایا جس پر میں نے انڈین بک آف ریکارڈس میں جگہ حاصل کی۔
انہوں نے بتایا کہ میں منڈلا آرٹ کی وساطت سے کشمیر کو دنیا بھر میں مشہور کرنا چاہتی ہوں۔
ماہرہ نے مزید بتایا کہ آج مجھے انٹرنیشنل بک آف ریکارڈس کی طرف سے گولڈ میڈیل ، سرٹیفکیٹ ملی ہے جو پورے کشمیر کے لئے خوشی کا مقام ہے۔
انہوں نے کہاکہ دنیا کا سب سے چھوٹا شکارا بنا کر انٹرنیشنل بک آر ریکارڈس میں اپنا نام درج کرکے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میں کشمیر کے کلچر اور ہرٹیج کو اونچائی پر لیجانا چاہتی ہوں کیونکہ ہماراکلچر دب گیا ہے جس کو باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔
نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا: ‘ہر کسی کی زندگی میں اتار چڑھاﺅ آتے رہتے ہیں لیکن ان سے دلبراشتہ ہونے کے بجائے سیکھنے کی ضرورت ہے اور اپنے فیلڈ میں آگے بڑھنے کے لئے راہیں تلاش کرنی ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ اپنے شوق کو پورا کرنے کے لئے محنت کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔تاہم ماہرہ شاہ کو حکومت سے شکایت ہے، ان کا کہنا ہے: ‘حکومت کی طرف سے مجھے کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی جس کا مجھے دکھ ہے’۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کوئی مجھے ملنے آیا نہ کسی نے کوئی حوصلہ افزا بات کی اور اس پر مجھے کافی دکھ ہے۔
بتادیں کہ قومی خبر رساں ایجنسی یو این ائی نے 29مارچ کو ماہرہ شاہ کا ایک انٹرویو شائع کیا جو جموں وکشمیر کے ساتھ ساتھ ملک کے معروف روز ناموں میں فرنٹ پیج پر شائع ہو ا تھا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز اس وقت زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے ریاست کے درجے کی بحالی پر قرارداد منظور کرنے میں ایوان کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسپیکر عبد الرحیم راٹھور کو عہدے سے ہٹانے کا دوبارہ مطالبہ کیا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کے روز بی جے پی قانون سازوں کے شور شرابے اور واک آؤٹ کے درمیان ریاست کے درجے کی بحالی کی قرارداد منظور کی تھی۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، شرما اور بی جے پی کے دیگر اراکین نے قرارداد کے کچھ حصوں بالخصوص 2000ء کی خودمختاری کی قرارداد سے جڑے حوالوں پر اعتراض کیا۔ بی جے پی کا موقف ہے کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کی حامی ہے لیکن خودمختاری کے حوالوں کی مخالفت کرتی ہے۔
شور شرابے کے دوران شرما نے قرارداد پر کارروائی کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا جس پر اسپیکر کو مداخلت کرنی پڑی۔ مسٹر راٹھور نے کہا کہ قواعد کے مطابق انہیں عہدے سے ہٹانے کی تحریک کو 14 دنوں کے بعد فہرست میں شامل کر کے اس پر غور کیا جائے گا۔ ہنگامہ جاری رہنے پر اسپیکر نے ایوان میں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجی اراکین کو کارروائی میں خلل ڈالنے کے خلاف خبردار کیا۔ مسٹر راٹھور نے حزب اختلاف کو یاد دلاتے ہوئے کہ وہ پہلے ہی طریقہ کار کی وضاحت کر چکے ہیں اور ضروری نوٹس جاری کر چکے ہیں، کہا کہ میں غنڈہ گردی کی اجازت نہیں دوں گا۔
مسٹر راٹھور نے احتجاجی اراکین سے کہا کہ آپ نے میری ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں، وہ ٹھیک ہے۔ لیکن مجھے سکھانے کی کوشش نہ کریں۔ میں اپنا کردار اور فرض جانتا ہوں۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے حزب اختلاف پر پلٹوار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کو جموں و کشمیر کے عوام نے ان کے مفادات سے جڑے مسائل اٹھانے کے لیے اسمبلی میں بھیجا ہے۔
چودھری نے بی جے پی اراکین پر بحث میں حصہ لینے کے بجائے کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب آپ یہاں بحث کے لیے آئے تو آپ نے ایوان کو معطل کیا اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا استعمال نعرے بازی کے بجائے عوام سے جڑے مسائل بشمول ترقی، روزگار، تعلیم، کھیل اور انتخابات پر بحث کے لیے ہونا چاہیے۔ اس تلخ کلامی نے اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان تصادم کو مزید تیز کر دیا اور بار بار کی رکاوٹوں نے کارروائی میں خلل ڈالا۔ بی جے پی کے قانون ساز بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ وہ کچھ دیر بعد ایوان میں واپس آ گئے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا، تین افراد گرفتار
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے چوواڑی علاقے میں جعلی نوٹ چھاپنے کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کرکے جعلی کرنسی کے ایک ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔
پولیس ذرائع نے منگل کو بتایا کہ شہر میں جعلی کرنسی کے نوٹ چھاپنے میں ملوث ایک گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے پولیس نے پیر کو دیر رات چوواڑی علاقے میں کارروائی کرکے تین ملزمان کو گرفتار کیا۔
انہوں نے بتایاکہ ’’ملزمان مبینہ طور پر ایک کرائے کے کمرے سے جعلی کرنسی کے نوٹ چھاپنے کا کام کر رہے تھے۔ چھاپے کے دوران 13,500 روپے مالیت کے جعلی نوٹ، اسکیننگ مشین، پرنٹر، کمپیوٹر اور دیگر سامان ضبط کیا گیا۔‘‘
ذرائع نے مزید بتایا کہ گرفتار کیے گئے تمام ملزمان سے یہ معلوم کرنے کے لیے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ انہوں نے کتنے جعلی نوٹ بازار میں چلائے ہیں۔
گرفتار ملزمان کی شناخت بہار کے رہنے والے وجے ساہنی، مدھیہ پردیش کے رہنے والے راہل اہروار اور جھارکھنڈ کے رہنے والے اندرپال کمار کے طور پر ہوئی ہے۔
ذرائع نے بتایاکہ ’’ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران گرفتار افراد نے پولیس کو بتایا کہ وہ چند روز قبل اس علاقے میں آئے تھے اور ایک کمرہ کرائے پر لیا تھا۔‘‘
پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کو پاکستان کے ایجنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اسمبلی کو ان کے بقول پاکستان کے ایجنڈے کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننے دے گی۔
سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسمبلی سے منظور قرارداد میں دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن کے حوالوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے تک محدود رہتی تو بی جے پی اس کا خیرمقدم کرتی۔
انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی محض مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتی۔ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہیں۔ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کے نام پر پیش کی جاتی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے۔‘‘
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کی ہر تجویز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس ایوان سے غریب عوام کو بہت سی توقعات ہیں۔ اسمبلی کا یہ پانچواں دن ہے اور کئی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے کی مخالفت کرے۔‘‘
تاہم، انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر ان کے بقول ایسے مسائل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کا
الزام لگایا جو پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
