تازہ ترین
پاکستان میں عدم استحکام خطے میں جنگ کا سبب بن سکتا ہے، زلمے خلیل زاد
واشنگٹن، 19 مئی (یو این آئی) سابق امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں عدم استحکام پورے خطے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور جنگ کا باعث بن سکتا ہے، ساتھ ہی بتایا کہ وہ ملک میں ہونے والی حالیہ پیش رفت میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق طالبان کے ساتھ امریکی معاہدے کے حوالے سے بات چیت اور اس کے نتیجے میں افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا میں اہم کردار ادا کرنے والے زلمے خلیل زاد نے حال ہی میں پاکستان کی صورتحال پر کئی ٹوئٹس پوسٹ کی ہیں، ان ٹوئٹس میں انہوں نے پاکستانی سیاست دانوں اور اسٹیبلشمنٹ پر زور دیا کہ وہ حالات کو ہاتھ سے نکلنے نہ دیں اور اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
ڈان کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح پاکستان کے مقامی تنازعات نے انہیں خیالات کے اظہار پر مجبور کر دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں ان کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ کیا ہے تو انہوں نے کہا کہ میں پاکستان میں تیزی سے خراب تر ہوتے اقتصادی، سیاسی اور سلامتی کے بحران کے بارے میں فکر مند ہوں، پاکستان غیر مستحکم، غریب اور کم محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ عدلیہ اور فوج سمیت ریاستی ادارے اندرونی طور پر سیاست کا شکار ہو رہے ہیں اور اگر ملک اسی طرح چلتا رہا تو یہ پاکستان اور اس کے عوام کے لیے ایک المیہ ہوگا، معاشی سرگرمیاں ٹھپ ہو جائیں گی، غربت بڑھے گی، شہری بدامنی روزمرہ کی زندگی کو درہم برہم کر دے گی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس لیے بھی پریشان ہیں کہ پاکستان کے حجم اور اہمیت کے پیش نظر اس کے مسائل خطے میں طاقت کے توازن کو بھی خراب اور جنگ کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر دشمنوں کو پاکستان کے اس انتشار سے موقع مل سکتا ہے یا اس کی اپنی فوج تنازع کو بیرونی شکل دینے کا حربہ استعمال کر سکتی ہے۔
زلمے خلیل زاد نے کہا کہ اس بحران کی فوری وجہ پاکستان کی اہم سیاسی اور فوجی طاقتوں کے درمیان رابطے کا فقدان ہے جس نے اقتدار کے لیے ایک کے فائدے اور دوسرے کے نقصان کی سوچ کو جنم دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان بغیر کسی نقصان کے اس بحران سے نکل سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ ممکن ہے، لیکن صرف اس صورت میں ممکن ہے اگر اہم افراد اور ادارے قومی مفاد کو اپنے ذاتی عزائم، رنجشوں اور چال بازیوں سے بالاتر ہو کر کام کرنا شروع کردیں۔
سابق اعلیٰ امریکی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اس بحران کے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، انتہائی حد تک یہ علاقائی توازن کو خراب کر سکتا ہے جس سے پاکستان کا نقصان ہو سکتا ہے اور یہاں تک کہ دہشت گردی، بڑی تعداد میں پناہ گزینوں وغیرہ کے مسائل میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ جوہری اثاثوں کے تحفظ کے بارے میں فکر مند نہیں ہیں کیونکہ اس معاملے پر پاکستان کا ریکارڈ اچھا رہا ہے لیکن، یقیناً پاکستان میں خدانخواستہ سیاسی تباہی اس مسئلے پر دنیا بھر میں تشویش پیدا کرے گی۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
