تازہ ترین
پاکستان کے ساتھ ‘معمولی اور ہمسایہ تعلقات’ چاہتے ہیں:مودی
پاکستان کے بارے میں مسٹر مودی نے کہا کہ نئی دہلی ’’معمولی اور ہمسایہ تعلقات‘‘ چاہتا ہے۔ تاہم ان کے لیے دہشت گردی اور دشمنی سے پاک ایک سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرے۔‘‘
جاپان کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جاپان اور ہندوستان کی جمہوریت، آزادی اور قانون کی حکمرانی کی مشترکہ اقدار نے قدرتی طور پر انہیں قریب لایا ہے۔ اب ہم اپنے سیاسی، اسٹریٹیجک، سیکورٹی اور اقتصادی مفادات کے بڑھتے ہوئے ہم آہنگی کو دیکھ رہے ہیں۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ہندوستان یوکرین اور روس کے درمیان تنازعہ میں ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازعہ پر ان کے ملک کا موقف ‘واضح اور غیر متزلزل’ ہے۔ ہندوستان امن کے ساتھ کھڑا ہے اور مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔ ہم ان لوگوں کی مدد کے لیے پرعزم ہیں جنہیں اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں چیلنجز کا سامنا ہے، خاص طور پر خوراک، ایندھن اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہم نے روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارے وقت کی تعریف تعاون اور شرکت سے ہونی چاہیے، نہ کہ تنازعات سے۔”
امریکہ کے ‘اہم اسٹریٹجک پارٹنر’ ہونے اور امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ چار فریقی سیکورٹی ڈائیلاگ یا کواڈ کا حصہ ہونے کے باوجود چین اور روس کی قیادت والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا رکن ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر مودی نے کہاکہ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان نے کبھی بھی خود کو سیکورٹی اتحاد کے ساتھ منسلک نہیں کیا۔ اس کے بجائے ہندوستان اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر دنیا بھر کے دوستوں اور ہم خیال شراکت داروں کی ایک وسیع رینج کے ساتھ مشغول ہے۔ انہوں نے کہا کہ کواڈ ممالک کی اجتماعی توجہ ‘آزاد، کھلے، خوشحال اور جامع ہند-بحرالکاہل خطے کو فروغ دینے’ پر ہے۔ دوسری طرف ایس سی او اہم وسطی ایشیائی خطے کے ساتھ ہندوستان کی مصروفیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہندوستان کا ان دونوں گروپوں میں شرکت کرنا متضاد نہیں ہے۔
سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے لیے ہندوستان کی بولی اور اقوام متحدہ میں اصلاحات کے معاملے پر مسٹر مودی نے عالمی گورننس اداروں کی ‘حدودوں’ کی بات کی، جو ‘فرسودہ ذہنیت تک محدود’ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ “یہ خامیاں دور حاضر کے چیلنجوں جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، کووڈ-19 کی وبا، دہشت گردی اور مالیاتی بحران سے نمٹنے میں سامنے آئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساکھ اور اس کے فیصلہ سازی کے عمل پر ہمیشہ سوال اٹھتے رہیں گے کیونکہ اس عالمی ادارے نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ ساتھ افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسے پورے براعظموں کو مستقل بنیادوں پر نمائندگی دینے سے انکار کیا ہے۔
مسٹر مودی سے جب ان کی گھریلو ترجیحات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی معیشت دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ “ہماری ترقی واضح ہے، کیونکہ ہم 2014 میں دسویں سب سے بڑی معیشت سے دنیا کی پانچویں بڑی معیشت پر پہنچ گئے ہیں۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ عالمی سر گرمیوں کی وجہ سے ترقی کو چیلنج درپیش ہیں، ہم نے حالیہ برسوں میں ایک مضبوط بنیاد بنائی ہے، جو ہمیں ایک سازگار پوزیشن میں رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کا مقصد آزادی کے 100 سال مکمل ہونے پر اگلے 25 سالوں میں ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کرنا ہے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
