تازہ ترین
جموں وکشمیر سرکار نے مزید 300سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی ہے،جی ٹونٹی اجلاس سے سیاحتی شعبے کو فروغ ملے گا : چیف سیکریٹری
سری نگر،21مئی (یو این آٰئی)جموں وکشمیر کے چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا نے اتوار کے روز کہا کہ جی ٹونٹی سربراہی اجلاس کا یونین ٹریٹری کے لوگ بے صبری کے ساتھ انتظار کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ایک کروڑ 88لاکھ ملکی اور غیر ملکی سیاح وارد کشمیر ہوئے اورا مسال اس میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر سرکار نے مزید 300سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی ہیں ۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ جی ٹونٹی سربراہی اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے او راس سے یہاں کے سیاحتی شعبے کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر انتظامیہ نے صرف سری نگر میں ہی تعمیر وترقی کے کام شروع نہیں کئے بلکہ دیگر اضلاع میں بھی بڑے پیمانے پر کام ہو رہے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ وادی کشمیر میں سیاحتی شعبے سے کافی لوگ جڑے ہیں اور سات فیصد معیشت اسی شعبے سے جڑی ہوئی ہے ۔
چیف سیکریٹری نے بتایا کہ گزشتہ سال ایک کروڑ 88لاکھ سیاحوں نے کشمیر کے قدرتی نظاروں سے لطف اُٹھایا اور امسال اس میں مزید اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت کشمیر میں بین الاقوامی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور اس سے ہی یہاں کے حالات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق اگلے سال کشمیر سے کنیاکماری تک ریل کے ذریعے جوڑا جائے گا جس سے سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔
چیف سیکریٹری کے مطابق جموں وکشمیر انتظامیہ نے یونین ٹریٹری میں مزید تین سو سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی ہیں اور انہیں بھی سیاحوں کے لئے کھول دیا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں صرف گلمرگ ، پہلگام اور سونہ مرگ ہی سیاحتی مقامات نہیں بلکہ اس سے بھی خوبصورتی جگہیں یہاں پر موجود ہیں۔
ڈاکٹرارون کمار مہتا نے کہاکہ سری نگر کو مزید خوبصورت بنانے کی خاطر موجودہ انتظامیہ نے ریور فرنٹ پولیو ویو اور جھیل ڈل کو مزید جاذب نظر بنایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ مرکزی حکومت نے سری نگر میں جی ٹونٹی اجلاس کا انعقاد کرنے کافیصلہ لیا جو یہاں کے لوگوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وادی کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد سیاحتی مقامات پر قدرتی نظاروں کا لطف اُٹھا رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر میں حالات کافی بہتر ہوئے ہیں۔
موصوف چیف سیکریٹری نے کہاکہ میٹنگ میں امریکہ سمیت کئی اور بین الاقوامی ممالک کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔
ہندوستان
بحرِ ہند میں سب سے پہلے مدد کا ہاتھ بڑھانے والا ہندوستان پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر : راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان بحرِ ہند کے خطے میں آفت یا بحران کے وقت سب سے پہلے مدد کا ہاتھ بڑھانے والے نیز پسندیدہ سکیورٹی پارٹنر کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن اسٹریٹجک صورتِ حال کے پیشِ نظر اس کی ذمہ داری بھی بڑھ رہی ہے اور بحریہ کو سمندری شعبے میں بدلتے چیلنجوں کے پیشِ نظر نگرانی اور جوابی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مسٹر سنگھ نے منگل کے روز یہاں ہندوستانی بحریہ کے اعلیٰ کمانڈروں کی کانفرنس کے دوسرے انعقاد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی بحیرہ چین، بحیرۂ روم اور بحرِ اوقیانوس میں ہندوستانی جنگی جہازوں کی موجودگی ملک کی ‘سمندر’ میں بحری صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ حکمتِ عملی کے اعتبار سے مضبوط علاقائی طاقت کے طور پر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ سمندری شعبے میں جہازوں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ، دھوکہ دہی اور ‘گرے-زون’ سرگرمیوں نے صورتِ حال کو پہلے سے زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے سمندری نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے اور بڑھتی ہوئی سمندری آمد و رفت کے تجزیے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ ‘وکست بھارت 2047’ کے تصور میں حکمتِ عملی کی بنیاد ہے۔ بحریہ کا کردار صرف سمندری سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ معاشی سکیورٹی، علاقائی استحکام اور طاقت کے مظاہرے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔ بحریہ کو حکومت کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی سمندری طاقت کا مقصد صرف سمندر میں ترنگا لہرانا نہیں، بلکہ جہاں بھی ترنگا نظر آئے وہاں سکیورٹی، بھروسے اور اعتماد کا پیغام دینا ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر سمندر محفوظ ہیں، تو ہندوستان محفوظ ہوگا اور اگر ہندوستان محفوظ ہے، تو وکست بھارت کا عزم مزید مضبوط ہوگا”۔
وزیرِ دفاع نے مغربی ایشیا کے بحران کے دوران بحریہ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپریشن اورجا سرکشا’ کے تحت آبنائے ہرمز سے ہندوسانی پرچم والے تجارتی جہازوں، خاص طور پر ایل پی جی ٹینکروں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانا بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے خام تیل کا تقریباً 85 سے 90 فیصد اور قدرتی گیس کا تقریباً 50 فیصد سمندری راستوں سے درآمد کرتا ہے۔ اس لیے سمندری راستوں کی سکیورٹی ملک کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور دفاعی تیاریوں سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔
بحریہ کومقامی بنانے کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ ہندوستان جنگی جہاز سازی کا نظام اب عالمی معیار کو پورا کر رہا ہے۔ حال ہی میں کمیشن کیے گئے جنگی جہازوں میں 75 فیصد سے زیادہ دیسی سامان کا استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہندوستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کو جنگی جہازوں کی برآمد بھی کرنی چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے موجودہ سال کو بحریہ کے لیے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سال 18 جنگی جہازوں کو بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا جا رہا ہے جو بحریہ کی تاریخ میں ایک سال میں سب سے بڑی تعداد ہے۔
انہوں نے اسے ملک کے گھریلو بحری جہاز سازی کے نظام کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا اشارہ بتایا۔
انہوں نے ‘آل رینکس، آل رولز’ کے تحت خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے بحریہ کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے فرنٹ لائن جنگی جہازوں اور طیاروں پر خواتین افسران کی تعیناتی اور ‘ناوِکا ساگر پریکرما’ میں ان کی شرکت کا بھی ذکر کیا۔
وزیرِ دفاع نے مشترکہ بحری افواج کے تحت ‘کمبائنڈ ٹاسک فورس-154’ کی کمان سنبھالنے پر بحریہ کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کوچی میں ہندوستان کی کمان کے دوران ہوئے ‘آپریشن سدرن ریڈینس’ کا بھی ذکر کیا، جس میں 27 ممالک کے 276 اہلکاروں، 76 ماہرین اور چار بین الاقوامی تنظیموں نے حصہ لیا۔
انہوں نے ‘لوکاین-26’ کے لیے آئی این ایس سدرشنی کی تعیناتی کو بھی ہندوستان کی سمندری سفارت کاری اورہندوستانی تارکینِ وطن کے ساتھ لگاؤ کے لحاظ سے اہم بتایا۔
بحریہ کے کمانڈروں کی تین روزہ کانفرنس یکم اکتوبر تک چلے گی۔ اس میں بحریہ کی اعلیٰ قیادت آپریشنل تیاریوں، سمندری سکیورٹی اور مستقبل کی صلاحیتوں کی ترقی کا جائزہ لے رہی ہے۔
یواین آئی ایف اے
دنیا
غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تین سال بعد تباہی کی ہولناک تصویر، سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا پیمانہ نمایاں
غزہ، گوگل میپس کی تازہ سیٹلائٹ تصاویر نے محصور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے تقریباً تین سال بعد ہونے والی بڑے پیمانے کی تباہی کی واضح تصویر پیش کی ہے۔
ایک کے بعد ایک پورے محلے ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں اور بیشتر مقامات پر صرف اہم سڑکوں کے مدھم نقوش باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث اب غزہ کے ایک علاقے کو دوسرے سے الگ کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ زرعی زمینیں جھلس چکی ہیں، جبکہ صدیوں پرانی عبادت گاہیں بھی نقصان کا شکار ہوئی ہیں یا منظرنامے سے مکمل طور پر مٹ چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر (یو این او ایس اے ٹی) کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کی تعداد میں تقریباً ایک سال قبل جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایجنسی (انروا) کے مطابق غزہ کی تقریباً 82 فیصد عمارتیں، یعنی لگ بھگ دو لاکھ عمارتیں، نقصان کا شکار ہوئی ہیں، جن میں سے تقریباً دو تہائی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔
الجزیرہ نے گوگل میپس پر حال ہی میں جاری کی گئی سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے جنگ سے پہلے کے غزہ اور موجودہ صورتحال کا تقابلی جائزہ لیا ہے، جس میں جنوبی علاقے رفح سے شمالی غزہ تک کے علاقے شامل ہیں۔ رفح کی تصاویر رواں سال کی ہیں، جبکہ شمالی غزہ کی تصاویر 2025 اور 2024 کی ہیں۔
غزہ کا سب سے جنوبی شہر رفح غزہ کے مختلف علاقوں سے بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے ایک بڑا پناہ گاہ بن گیا تھا، تاہم مئی 2024 میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد تقریباً 10 لاکھ افراد کو یہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ان میں سے بیشتر پہلے ہی متعدد بار بے گھر ہو چکے تھے۔ انہیں رفح کے شمال میں واقع خان یونس اور وسطی غزہ کے دیر البلح کی جانب منتقل ہونا پڑا، جبکہ رفح میں انروا کے پناہ گزین مراکز بھی خالی کرا لیے گئے۔
مغربی رفح کا کبھی گنجان آباد رہنے والا تل السلطان محلہ تقریباً مکمل طور پر صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ان مقامات پر جہاں کبھی مکانات موجود تھے، اب بیشتر جگہ صرف ریت دکھائی دیتی ہے۔
المواصی کبھی رفح اور خان یونس گورنریٹس کے ساحلی علاقے میں پھیلی ہوئی نسبتاً کم آبادی والی ریتلی اور زرعی پٹی تھی۔ اسرائیل نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسے ’’انسانی بنیادوں پر محفوظ علاقہ‘‘ قرار دیا تھا اور بے گھر فلسطینیوں سے وہاں پناہ لینے کو کہا تھا۔
مئی 2024 میں جب اسرائیل رفح میں فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا تھا، اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا، ’’اگر وہ رفح میں داخل ہوئے تو… میں انہیں ہتھیار فراہم نہیں کر رہا ہوں۔‘‘
اس کے باوجود اسرائیل نے کارروائی جاری رکھی، جس کے نتیجے میں مزید لاکھوں افراد المواصی منتقل ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے اس علاقے پر متعدد بار بمباری کی ہے۔
تازہ سیٹلائٹ تصاویر میں کبھی تقریباً خالی نظر آنے والا یہ علاقہ اب خیموں سے بھرا ہوا ہے، جہاں ایسے خاندان بڑی تعداد میں مقیم ہیں جن کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں۔
یو این او ایس اے ٹی کے اکتوبر 2025 کے جائزے کے مطابق خان یونس گورنریٹ میں غزہ کے کسی بھی گورنریٹ کے مقابلے میں سب سے زیادہ عمارتیں، یعنی 51,885، نقصان کا شکار ہوئی تھیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں منگل کے روز اس وقت زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی جب قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے ریاست کے درجے کی بحالی پر قرارداد منظور کرنے میں ایوان کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے اسپیکر عبد الرحیم راٹھور کو عہدے سے ہٹانے کا دوبارہ مطالبہ کیا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کے روز بی جے پی قانون سازوں کے شور شرابے اور واک آؤٹ کے درمیان ریاست کے درجے کی بحالی کی قرارداد منظور کی تھی۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، شرما اور بی جے پی کے دیگر اراکین نے قرارداد کے کچھ حصوں بالخصوص 2000ء کی خودمختاری کی قرارداد سے جڑے حوالوں پر اعتراض کیا۔ بی جے پی کا موقف ہے کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کی حامی ہے لیکن خودمختاری کے حوالوں کی مخالفت کرتی ہے۔
شور شرابے کے دوران شرما نے قرارداد پر کارروائی کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا جس پر اسپیکر کو مداخلت کرنی پڑی۔ مسٹر راٹھور نے کہا کہ قواعد کے مطابق انہیں عہدے سے ہٹانے کی تحریک کو 14 دنوں کے بعد فہرست میں شامل کر کے اس پر غور کیا جائے گا۔ ہنگامہ جاری رہنے پر اسپیکر نے ایوان میں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے احتجاجی اراکین کو کارروائی میں خلل ڈالنے کے خلاف خبردار کیا۔ مسٹر راٹھور نے حزب اختلاف کو یاد دلاتے ہوئے کہ وہ پہلے ہی طریقہ کار کی وضاحت کر چکے ہیں اور ضروری نوٹس جاری کر چکے ہیں، کہا کہ میں غنڈہ گردی کی اجازت نہیں دوں گا۔
مسٹر راٹھور نے احتجاجی اراکین سے کہا کہ آپ نے میری ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں، وہ ٹھیک ہے۔ لیکن مجھے سکھانے کی کوشش نہ کریں۔ میں اپنا کردار اور فرض جانتا ہوں۔ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے حزب اختلاف پر پلٹوار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب نمائندوں کو جموں و کشمیر کے عوام نے ان کے مفادات سے جڑے مسائل اٹھانے کے لیے اسمبلی میں بھیجا ہے۔
چودھری نے بی جے پی اراکین پر بحث میں حصہ لینے کے بجائے کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب آپ یہاں بحث کے لیے آئے تو آپ نے ایوان کو معطل کیا اور بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا استعمال نعرے بازی کے بجائے عوام سے جڑے مسائل بشمول ترقی، روزگار، تعلیم، کھیل اور انتخابات پر بحث کے لیے ہونا چاہیے۔ اس تلخ کلامی نے اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان تصادم کو مزید تیز کر دیا اور بار بار کی رکاوٹوں نے کارروائی میں خلل ڈالا۔ بی جے پی کے قانون ساز بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ وہ کچھ دیر بعد ایوان میں واپس آ گئے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا7 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
ہندوستان6 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
