تازہ ترین
یہاں کے مقامی لیڈروں نے ہی کشمیریوں کیساتھ دھوکہ کیا ،یہ مفاد پرست لوگ ہیں :سلمان نظامی
رضوان سلطان:
صحافی اور کانگریس کے نو جوان لیڈر سلمان نظا می کے ساتھ جموں و کشمیر اور بھارت کی سیاست کے علاوہ ان کے علاوہ انکے متنازعہ ٹوئٹس پر ’’خبراردو ‘‘ کے مدیر اعلیٰ عاصم محی الد ین کے ساتھ خصوصی انٹرویو ۔
عاصم :آپ دلی کی سیاست میں رہ کے بھی متنازعہ کیوں رہتے ہیں ؟
سلمان نظامی :متنازعہ آپ مجھے مانتے ہیں ،لیکن میں اسے اپنی ایک رائے مانتا ہوں،میرے دس سال کے صحافی کرئیرکو آپ دیکھ لیں، میں نے مضامین جو لکھے ہیں بہت سخت لکھے ہیں اور میں جب بھی بولتا ہوں سخت ہی بولتا ہوں،سچائی کی بنیاد پر بولتا ہوں ،تو مخالف پارٹیوں کے لوگ یا بی جے پی کے لوگوں کو کڑوا لگتا ہے ،تو وہی کڑوا ان کو متنازعہ لگتا ہے ۔
عاصم :گجرات انتخابات کے دوران آپ کے خلاف مودی نے ایک بیان بھی دیا ،آپ نے جو ٹوئٹ کئے تھے ان میں جس زبان کا آپ نے استعمال کیا تھا مودی کے خلاف وہ ٹوئٹ کیا تھے ؟
سلمان نظامی :دیکھئے پی ایم صاحب اتنے پڑھے لکھے نہیں ہیں ،ان کی ڈگریاں ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں ،میں نے صاف سا ٹوئٹ کیا تھا دسویں پاس لڑکا بھی سمجھ سکتا تھا ،میں نے صرف مودی جی اور گاندھی خاندان کا موازنہ کیا تھا کہ گاندھی خاندان نے دیش کو کیا دیا ،اور مودی نے کیا دیا ۔تو مودی نے اپنی زبان میں اسے توڑ مڑوڑ کے پیش کیا ،بعد میں مجھے وضاحت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ میرے کچھ ساتھی بھی ناراض ہوئے ۔
لیکن بعد میں جب حقیقت سامنے آئی تو اس ٹوئٹ میں کچھ ایسا تھا نہیں جس کو مودی نے اتنا بڑھا چڑھا کے پیش کیا ، وہ بالکل پریشان ہو گئے تھے کیونکہ میں ایک مہینے کیلئے گجرات میں تھا تو مودی کو جس طریقے سے ہم نے اپنی ریلیوں میں بے نقاب کیا ،جس کے بعد آپ نے کرناٹک کے نتائج بھی دیکھے ۔
عاصم: یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ سیاست کے لئے مظلوم مسلمانوں کو بیچتے ہیں ،جبکہ جمہوریت توخیالات کی جنگ ہے ؟
سلمان نظامی : دیکھئے بات صرف مسلمانوں نہیں ہے ،میں بات اقلیتوں کی بھی کرتا ہوں اور اقلیت کوئی مذہب نہیں ہوتا ،جموں کشمیر میں اقلیت میں ہندو ،سکھ اور عیسائی آتے ہیں ،اصل میں بات زیادتی کی ہے ۔آج جو سیاست ہے وہ چاہے بھارت کی ہو یا امریکہ کی ہو ، آج اسلاموفوبیا (اسلام اور مسلمانوں سے خوف ) ہے ۔مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا ہے ان کا قتل عام کیا جاتا ہے۔
وہیں بھارت میں جو ماب لنچنگ(ہجوم میں اکھٹا ہوکے کسی کی پٹائی کرنا ) ہوئی ،میں نے مودی سے کہا کہ جو گاؤ خانے ہیں ان کے مالک تو ہندو ہیں اور جو گوشت پاکستا ن اور دوسرے ملکوں میں بھیجاجاتا ہے اس سے تو سرکار کڑوڑوں پیسے کماتی ہے تو ان غریب لوگوں کو کس جرم میں مارا جاتا ہے ۔قتل عام ان کا ہونا چاہیے جو گوشت پر پیسہ کماتے ہیں ۔
عاصم : کیا آپ چاہتے ہیں کہ بیف پر پابندی لگنی چاہیے؟
سلمان نظامی: ہاں مذہب کی جہاں بات آئے ہم مذہب کے خلاف نہیں جا سکتے،ہم نے بہت جگہوں پر شراب کے خلاف آواز اٹھائی لیکن میں نے کسی ہندو کو اس کے خلاف بات کرتے نہیں دیکھا ۔اسی طریقے سے اگر کسی ہندو کو بیف سے پریشانی ہے تو ہمیں اسے اکسانا نہیں چاہیے اسکے لئے قانون ہے اور قانون کی پیروی کریں ،وہیں اگر بھاجپا قانون کو نہیں مانتی تو وہ ہندوستانی کہاں ہیں۔
عاصم :آپ نے کشمیر میں ہو رہے قتل عام کی بات کی،نہ تو یہ اب بھاجپا کے دور میں شروع ہوا ، اور نہ ہی ختم ہو گا کیونکہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی تاریخ ہے ۔ تو 2008 میں یہاں کانگر یس کی سرکار تھی ، اس سے پہلے 1990کے ملی ٹنسی کے دور میں بھی تھی ،کیا آپکو نہیں لگتا کانگریس بھی اس کیلئے ذمہ دار ہے ۔
سلمان نظامی: دیکھئے اسوقت کے دور میں اور آج کے دور میں بہت فرق ہے ،اُس وقت ایک الگ ماحول تھا ور آج ایک الگ ماحول ہے ،آج پی ڈی پی معذور ہو گئی ہے کیوں کہ ان کو بھاجپا نے یتیم کی طرح چھوڑ دیا ،لیکن جب یہاں عمر عبد اﷲ وذیر اعلیٰ تھے تو کانگریس نے مرکز سے ان کو پورا سپورٹ دیا،کانگریس نے کبھی بھی کشمیریوں سے یہ نہیں کہا کہ آپ آرمی کیمپ میں ٹافی لینے گئے تھے؟
عاصم:1988میں جو کشمیر کے انتخابات میں جمہوریت پر دھبہ لگا وہ کانگریس کے دو ر میں لگا ،افسپا کا نگریس کے دور میں یہاں آئی ،اسکے علاوہ انسرجنسی جو ہوئی وہ بھی کانگریس کے دور میں ہوئی ،بھاجپا نے صرف یہاں پے تین سال کی حکومت کی،تو آپ یہ سارا گھما پھرا کے بھاجپا پر کیوں لاتے ہیں ؟
سلمان نظامی: اس وقت کا آپ کانگریس پرالزام نہیں لگا سکتے اسوقت تو وی پی سنگھ (سابق وزیر اعظم ہند ) کی حکومت تھی اور مرحوم مفتی صاحب مرکز میں وزیر داخلہ تھے ،تو کا نگریس کہاں سے بیچ میں آئی ،کانگریس نے یہاں حکومت ہی کب کی ، ریاست میں تو کانگریس کو کم وقت ملا ،غلام نبی آزاد کو صرف دو سال ملے جس میں آپ نے دیکھا انہوں نے کیا انقلاب لایا ۔
کشمیری ہونے کے ناطے اور ایک مقامی لیڈر ہونے کے ناطے میں یہ کہوں گا کہ یہاں کے مقامی لیڈروں نے ہی کشمیریوں کے ساتھ دھوکا کیا ،چاہے وہ پی ڈی پی یا این سی ہو یہ مفاد پرست لوگ ہیں ،سجاد لون ۲۰ سال سے بھارت کو گالیاں دیتے تھے ،اور آج وہ بھاجپا کی گود میں بیٹھ گئے ہیں ۔یہ سارے دوغلے لوگ ہیں آپ دیکھ رہے ہیں کہ پی ڈی پی کے خلاف عمران رضا انصاری کے علاوہ باقی لیڈر بغاوت کر رہے ہیں ،یہ چار سال سے کہا ں تھے ۔
عاصم : 2008 میں این سی نے کانگریس کے ساتھ ریاست میں سرکار بنائی تو تب کون سے ترقی کے پہاڑ توڑے گئے ؟
سلمان نظامی :غلام نبی آزاد نے مرکزی و زیر صحت ہوتے ہوئے پانچ میڈیکل کالج دلوائے ۔
عاصم : لیکن وہ تو آج تک قائم نہیں ہو پائے ؟
سلمان نظامی : وہ تو عمر عبداﷲ کو فالو کرنا تھا مرکز نے تو کوئی کمی نہیں رکھی ،غلام نبی آزاد نے تو پانچ میڈیکل کالج کی منظوری دلوائی لیکن وہ آج تک نو سال کے بعد بھی نہیں بنے ،آزاد صاحب مرکز کو دیکھتے یا ریاست کو دیکھتے ،یہ عمر صاحب سے لاپر واہی ہوئی ۔
عاصم : آپ نے جب ان کے ساتھ سرکار بنائی تھی تب آواز کیوں نہیں اٹھائی ،جیسے آج ایسا مانا جا تا ہے کہ بھاجپا نے کہا کہ سرکار ناکام ہو گئی اسی لئے اتحاد توڑا ؟
سلمان نظامی : ہمارا این سی کے ساتھ اتحاد ٹھیک چل رہا تھا ،ہم نے کالج اور پرائمری ہلتھ سنٹرس وغیرہ کی منظوری دلوائی لیکن پھر نئی سرکاروں نے فالو نہیں کیا ،اب اگر عوام نے موقع دیا تو ہم ان کاموں کو آگے برھائیں گے ،لیکن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے ،اگر لوگوں کا قتل عام ہو اور لوگ ہی نہ بچیں تو سڑکیں اور عمارتیں بنا کے کیا کریں گے ۔
عاصم : تو پھر اس مسئلے کا حل کیا ہے ؟
سلمان نظامی : بھاجپا نے یہاں گھمنڈ دیکھایا اور مودی نے اپنا ہی چلایا ،یہ گھمنڈ اٹل جی نے نہیں دیکھایا انہو ں نے پاکستان سے بات کی ،حریت کے لیڈران کو دلی بلایا ،لیکن مودی اپنی ہی چلا رہے ہیں ۔
عاصم : کشمیر کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایک کشمیر ی مسلمان ہو نے کے ناطے پھر مین سٹریم میں آنا وہ بھی دلی میں تو آپ کیسے اپنا مستقبل دیکھتے ہیں؟
سلمان نظامی : دیکھئے کشمیری مسلمان کا مین سٹریم میں آنا ہندوستان کی لیڈرشپ آپ کو نہیں نکاررہی، آزاد صاحب نے آج ایک اچھا بیان دیا کہ آپ جنگجوؤں کو مارے لیکن آپ عام شہریوں کو کیوں مارتے ہیں اس میں ان کا کیا قصور ہے ۔ لیکن بھاجپا کا آپ دیکھئے منسٹر تک کہتے ہیں کہ عام لوگوں کو بھی مار ڈالو ،اس سے لوگ آپ سے دور جا رہے ہیں ، لوگ بھارت کیساتھ ایک پل کا کام کرتے ہیں۔
لیکن جب آپ نے غلام نبی آزاد صاحب جیسے لوگوں کو بھی دیش دروہی بنا دیاجس نے 40سال بھارت کو دئے ،اور کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ جوڑ کے رکھا ،اور اس کرئیر میں لیڈر آف اپوزیشن بنے ،مرکزی وزیر بنے ،چیف منسٹر بنے ،اور اب چالیس سال کے بعد آپ بولتے ہیں کہ آزاد صاحب دیش دروہی ہیں تو پھر کشمیر میں نیشنلسٹ کون ہے ،سجاد لون نیشنلسٹ ہیں کیا ،جس نے ۲۵ سال بھارت کو گالیاں دیں اور آج بھاجپا کیساتھ جڑ گیا ،اور سجاد لون نیشنلسٹ بن گیا ۔
اور چالیس سال تک جس نے بھارت کا جھنڈا تھام کے رکھا وہ آج دیش دروہی بن گیا ۔تو مین سٹریم میں جو کشمیر کے نوجوان آنا چاہتے ہیں وہ ان باتوں سے دور ہوتے ہیں ۔
جموں و کشمیر
پیرا نے جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی وحید پیرا نے بدھ کو جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اور قانون سکریٹری کے خلاف مراعات کی تحریک پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں اعلیٰ افسران نے اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرارداد کے متن اور زبان پر سوال اٹھایا تھا۔
اسپیکر کو دیے گئے اپنے نوٹس میں پیرا نے ایوان میں وزیر اعلیٰ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ ’’قانون ساز ادارے کے استحقاق سے متعلق ایک سنگین سوال‘‘ اٹھاتا ہے۔
پیر کو عمر عبداللہ نے ایوان میں کہا تھا کہ قانون سکریٹری نے اسپیکر کو ایک خط لکھ کر وزیر اعلیٰ کی ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد کو ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی ہے۔ قانون سکریٹری کی جانب سے لکھا گیا خط چیف سکریٹری کے ذریعے اسپیکر تک پہنچایا گیا تھا۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان اسمبلی کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی پیرا نے دلیل دی کہ کسی منتخب قانون ساز ادارے کو قراردادیں پیش کرنے، ان پر غور کرنے، ان میں ترمیم کرنے اور انہیں منظور کرنے کا اختیار پارلیمانی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کی جانب سے انتظامی یا قانونی مشورہ ایوان کے قانون سازی کے اختیار پر ’’سوال اٹھانے، اسے محدود کرنے یا اس میں مداخلت کرنے‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
پیرا نے اپنے نوٹس میں کہا، ’’اگر معزز وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیان کیے گئے حقائق درست ہیں تو یہ معاملہ قانون ساز ادارے کے استحقاق اور منتخب قانون ساز ادارے اور انتظامی بیوروکریسی کے درمیان آئینی علیحدگی سے متعلق ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی غیر منتخب افسر کو ایسی پوزیشن میں نہیں رکھا جانا چاہیے جہاں اس ایوان کے قانون سازی کے اختیار یا اس کے منتخب ارکان کے سامنے معاملات پیش کرنے اور ان پر بحث کرنے کے حق کو مؤثر طور پر بیوروکریسی کی منظوری سے مشروط کر دیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’لہٰذا میں اس ایوان کے وقار اور آئینی اختیار کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے مراعات کے دائرۂ اختیار کا استعمال کر رہا ہوں۔ یہ صرف ایک قرارداد یا ایک رکن سے متعلق معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس ایوان کے ادارہ جاتی حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہمیں دیے گئے نمائندگی کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘
ساتھ ہی پیرا نے واضح کیا کہ ان کی تحریک کو وزیر اعلیٰ کی قرارداد کی حمایت کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے اس کے متن، زبان اور وضاحت کی کمی پر شدید تحفظات ہیں اور میں نے ایک منتخب رکن کی حیثیت سے ان اعتراضات کو ایوان کے سامنے رکھنے کے اپنے حق کا استعمال کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے سامنے موجود معاملہ بنیادی طور پر مختلف ہے: سوال یہ ہے کہ کیا منتخب قانون ساز ادارے کو اپنے قانون سازی کے اختیارات استعمال کرتے وقت بیوروکریسی کی جانب سے جانچ، منظوری یا پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پیرا نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر سے معاملے کا نوٹس لینے، اعتراضات اٹھائے جانے کے حالات کا جائزہ لینے اور ایوان کے طریقۂ کار و کارروائی کے قواعد اور ایوان کے مراعات سے متعلق قابلِ اطلاق قانون کے تحت مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
پیرا نے کہا، ’’قانون ساز ادارے کے مراعات انفرادی ارکان کے مراعات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایوان کے اختیار اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔‘‘
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
فوج نہ صرف ملک کا دفاع کرتی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے: لیفٹیننٹ گورنر سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کو کہا کہ ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی ایک طاقت کے طور پر ابھری ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی بنی ہے۔ وہ ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت منعقدہ 11ویں میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ خدمت، ہمدردی، حوصلے اور عزم کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سری نگر کے کیمپ میں 144 کامیاب آپریشن کیے گئے، جبکہ کپواڑہ ضلع کے ٹنگدھر کیمپ نے سرحد پر منعقد ہونے والے پہلے میگا آنکھوں کے آپریشن کیمپ کے طور پر ایک تاریخی سنگ میل قائم کیا۔
مشکل جغرافیائی حالات اور مسلسل خطرے کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجیوں نے زیر زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف 2 دن میں 220 مریضوں کی بینائی بحال کی۔
انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں نے ٹنگدھر کے جغرافیائی حالات دیکھے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ وہاں مدد لے کر پہنچنا بھی ایک چیلنج ہے۔ پہاڑوں کو عبور کرنا، دشوار گزار علاقوں سے گزرنا اور بعض اوقات خطرے کے درمیان بھی آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اسی مشکل اور غیر یقینی ماحول میں بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے امید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جدید جراحی آلات کو فضائی راستے سے ٹنگدھر پہنچایا گیا، جس سے ایسے علاقے میں آنکھوں کا جدید علاج ممکن ہوا جہاں پہلے اس طرح کی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا۔
کھیورپورہ، تنگدھر، باگ بیلا اور آس پاس کے گاؤں کے مریضوں نے اس کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہی حقیقی حوصلہ، فرض کے تئیں لگن اور خدمت کا حقیقی مفہوم ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات بلا شبہ ثابت کر دی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو، وہاں کتنی ہی بڑی مشکل کیوں نہ ہو، وہ ہندوستانی فوج کی انسانی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر اور ٹنگدھر میں کیے گئے 364 آپریشن محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ بدلی ہوئی زندگیوں کی علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کے ڈاکٹروں کی قیادت میں ہر آپریشن عزتِ نفس کی بحالی اور امید کے دوبارہ جاگنے کی ایک داستان بن گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ قومی سطح پر ’آپریشن درشٹی‘ کے تحت 10 شہروں میں اب تک 1.5 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا جا چکا ہے اور 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’آپریشن درشٹی‘ نے فوج اور مقامی برادریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستانی فوج نہ صرف دفاعی طاقت ہے بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے معاون عملے، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجیوں کی بہادری کو سلام پیش کیا جنہوں نے آلات پہنچانے، زیر زمین آپریشن تھیٹر تیار کرنے اور نامساعد حالات میں پیچیدہ آپریشنوں کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستانی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی طاقت ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ بینائی بحال کرکے فوج نے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا نظریہ دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر میں منعقدہ 11واں کیمپ اختتام نہیں بلکہ اس سفر کا ایک تسلسل ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ’آپریشن درشٹی‘ ملک بھر کے مزید گاؤں اور قصبوں تک پہنچے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹنگدھر کیمپ ہندوستان کے دور دراز علاقوں کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپریشن درشٹی کے تجربے سے ہمیں اعتماد ملتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طب کو ملک کے ہر کونے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا عزم ہے اور معزز وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی بھی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران قابل قدر خدمات انجام دینے والے دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اعزاز سے نوازا۔
انہوں نے مستفید ہونے والوں کو آپریشن کے بعد استعمال ہونے والی طبی کٹس بھی حوالے کیں۔
لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی)، چنار کور؛ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا، سینئر کنسلٹنٹ اور شعبۂ امراضِ چشم، آرمی ہاسپٹل آر اینڈ آر کے سربراہ؛ بریگیڈیئر بی وی راؤ، کمانڈنٹ، 92 بیس ہاسپٹل، اور سینئر سول و دفاعی افسران نے اختتامی تقریب میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
دنیا
ایران کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز کی تجویز پر امریکی جواب موصول
تہران، — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا جواب موصول ہوگیا ہے۔ ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
مہاجرانی نے واشنگٹن کے جواب کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ تہران اب کیا اقدامات کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ عراقچی نے کابینہ کو یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنی ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی شرائط بھی شامل تھیں۔ یہ شرائط ثالثوں کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچائی گئی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے دوران عراقچی نے امریکی تجویز صدر مسعود پزشکیان کے سامنے پیش کی۔
دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ تہران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر کامیاب عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے یہ بات کہی۔
پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کے فوائد اور حاصل ہونے والی پیش رفت کی وضاحت کو ایران کے مخالفین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایران نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی کسی بھی شق میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
پزشکیان نے معاہدے کو ’’باعثِ فخر‘‘ اور ایران سے متعلق پیش رفت کے دوران ’’فیصلہ کن اور انتہائی مؤثر دستاویز‘‘ قرار دیا۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کی شرائط میں امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ کا خاتمہ، منجمد یا محدود ایرانی اثاثوں کی رہائی اور محفوظ بحری راستے پر اتفاق شامل ہے۔ تہران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر کے ذریعے دو گھنٹے جاری رہنے والی بات چیت کے دوران یہ شرائط واشنگٹن تک پہنچائی تھیں۔
ایران نے آبنائے ہرمز سے آمدورفت پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں اور واشنگٹن سے جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری اور امریکی وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا۔
پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندری علاقوں میں ایران کی مضبوط موجودگی نے ملک کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو متاثر ہونے سے بچایا۔
عالمی یومِ بحری جہازرانی کے موقع پر بدھ کو پزشکیان نے سمندر کو ایران کے لیے محض پانی کا ذخیرہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک الٰہی نعمت اور ملک کی تاریخ، شناخت اور طرزِ زندگی کا لازمی حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اسے ایران کے حال اور مستقبل کے لیے مواقع کا ایک بڑا ذریعہ بھی قرار دیا۔
صدر نے کہا، ’’آبنائے ہرمز، جو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، خطے اور دنیا کی سلامتی اور معیشت میں خصوصی مقام رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ذمہ دارانہ ہے اور خطے کے ممالک کی سلامتی، استحکام اور مفادات کے تحفظ پر مبنی ہے۔‘‘
پزشکیان نے زور دیا کہ ’’خلیج فارس اور اس کی آبی گزرگاہوں میں پائیدار سلامتی کا انحصار سب سے بڑھ کر خطے کے ممالک کے تعاون، ذمہ داری اور فعال کردار پر ہے۔‘‘
انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کی اہم اقتصادی شاہراہوں کو برقرار رکھنے میں ملک کی بحری برادری کے کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ تاہم بعد میں اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں سکیورٹی انتظامات سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کا امریکہ سے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار، طاقت کے دباؤ کو مسترد کردیا
-
دنیا6 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
