تازہ ترین
فیضان نادرو: ایم سی اے کی ڈگری حاصل کرنے والا پہلا جسمانی طور معذور کشمیری طالب علم
بارہمولہ، 7 دسمبر (یو این آئی) قوت گویائی و سماعت سے محرومی نے ان کے بڑے خواب دیکھنے کے حوصلے اور جذبے کو پسپا نہیں کیا بلکہ انہوں نے مشکلات کو موقع میں بدل کر کمپیوٹر ایپلی کیشنز میں ماسٹرس ڈگری امتیازی پوزیشن کے ساتھ حاصل کرکے یہ ثابت کر دیا کہ جسمانی معذوری کسی مقصد کو حاصل کرنے میں کبھی بھی حائل راہ نہیں بن سکتی ہے۔
یہ ہونہار اور حوصلہ مند طالب علم شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ فیضان نادرو ہیں جو وادی کشمیر کے قوت گویائی و سماعت سے محروم پہلے طالب علم ہیں جنہوں نے ایم سی اے کی ڈگری مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔یہ ابھی ان کے اعلیٰ تعلیمی سفر کا آغاز ہی ہے اب وہ نیشنل ایلی جبلٹی ٹیسٹ (این ای ٹی) کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
جسمانی طور معذور افراد کے ایک معروف کارکن اور پدم شری ایوارڈ یافتہ جاوید ٹاک کا کہنا ہے کہ فیضان نادرو جموں وکشمیر کے لاکھوں جسمانی طور معذور طالب علموں کے لئے ایک مثال اور ایک تحریک ہیں۔انہوں نے کہا: ‘وہ ہم سب کے لئے ایک تحریک ہیں انہوں نے یہ بات ثابت کر دی کہ والدین کے سپورٹ سے جسمانی طور معذور بچے مشکل ترین منزل کو عبور کرکے کامیابی کا جھنڈا گاڑ سکتے ہیں’۔
فیضان اور ان کے خاندان کے لئے یہ سفر خار دار اور انتہائی کٹھن رہا تاہم عزم و استقامت اور ہمت و حوصلے نے اس کو آسان بنا دیا۔ان کے والد فیاض احمد جو بارہمولہ قصبے میں ایک میڈیکل سٹور چلا رہے ہیں، نے بتایا: ‘فیضان ہمارے خاندان کا جسمانی طور معذور واحد بچہ ہے اس کا چھوٹا بھائی ایم بی بی ایس کی ڈگری کر رہا ہے’۔
فیضان نے اسکول سے لے کر ایم سی اے کی ڈگری حاصل کرنے تک ہر امتحان میں شاندار کار کردگی کا مظاہرہ کیا اور پٹیل انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ ٹیکنالوجی راج پور پنجاب سے ایم سی اے کی ڈگری زائد از 90 فیصد نمبرات سے حاصل کی۔یوں تو ان کی کامیابی میں پورے خاندان کا بڑا رول ہے تاہم ان کی والدہ شمیمہ کا کردار سب سے اہم اور نمایاں ہے۔
فیاض احمد نے کہا: ‘میری اہلیہ (شمیمہ) ایک پرائیویٹ اسکول ٹیچر تھی جب فیضان چار برس کے تھے تو انہوں نے نوکری کو خیر باد کہہ کر زیادہ سے زیادہ وقت ان کے لئے ہی وقف کرنا شروع کیا’۔انہوں نے کہا: ‘شمیمہ نے اپنے آپ کو فیضان کے لئے ہی وقف کر دیا، وہ ہر وقت فیضان کے ساتھ رہتی ہیں تاکہ فیضان اپنی زندگی کے کسی بھی مقام پر نہ لڑ کھڑائے’۔
فیضان نادرو نے ابتدائی تعلیم بارہمولہ کے سینٹ جوزف اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں نویں اور دسویں جماعت بارہمولہ ہایئر سکنڈری اسکول سے پاس کئے۔انہیں ہر سکول میں مشکل سے ہی داخلہ ملتا تھا کیونکہ ہر کسی کا یہ خیال تھا کہ ان کا ایک نارمل اسکول میں تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔
شمیمہ اپنے بیٹے کے اسکول کے دنوں کو یاد کر تے ہوئے کہتی ہیں: ‘اسکولوں میں تعینات اساتذہ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ فیضان جیسے بچوں کو کیسے پڑھایا جائے، ان کو کسی طرح کا کوئی خاص دھیان نہیں دیا جاتا تھا لیکن ہم ان مسائل سے حوصلہ شکن نہیں ہوئے’۔
فیضان کے والد فیاض احمد نے کہا: ‘چونکہ یہاں بارہمولہ میں ایسے طالب علموں کی پڑھائی کے لئے کوئی الگ بند وبست نہیں ہے لہذا ہم نے اس کا داخلہ راج پور پٹیالہ پنجاب میں واقع قوت سماعت سے محروم سپیکنگ ہینڈس انسٹی ٹیوٹ میں کرایا’۔انہوں نے کہا: ‘فیضان اس انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لینے والے پہلے کشمیری طالب علم ہیں بعد ازاں انہوں نے گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے امتحانات نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ سے پاس کئے’۔ان کا کہنا تھا: ‘فیضان نے لولی پروفیشنل یونیورسٹی جالندھر کے تحت بی سی اے کیا’۔
فیضان نے تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہوئے مختلف سپورٹس سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے انڈین ڈیف کرکٹ ایسو سی ایشن نئی دہلی کی طرف سے آگرہ میں منعقدہ قوت گویائی سے محروم کھلاڑیوں کی قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ چمپیئن شپ میں حصہ لیا۔
فیضان سے جب ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کی والدہ نے بیٹے کے ترجمان کے بطور کہا: ‘وہ (فیضان) جسمانی طور معذور بچوں کا مدد کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کو اس طرح کے چلینجوں کا سامنا نہ کرنا پڑے جن کا فیضان کو کرنا پڑا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘فیضان اپنی زندگی جسمانی طور معذور لوگوں کی مدد کے لئے وقف کرنا چاہتا ہے’۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کو پاکستان کے ایجنڈے کا پلیٹ فارم نہیں بننے دیں گے: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے سے متعلق قرارداد منظور کیے جانے کے چند گھنٹے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے پیر کو کہا کہ بی جے پی اسمبلی کو ان کے بقول پاکستان کے ایجنڈے کے لیے پلیٹ فارم نہیں بننے دے گی۔
سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے، لیکن اسمبلی سے منظور قرارداد میں دفعہ 370، دفعہ 35 اے اور 1953 سے قبل کی آئینی پوزیشن کے حوالوں کی سخت مخالفت کرتی ہے۔
جموں و کشمیر اسمبلی نے پیر کو بی جے پی ارکان کے احتجاج کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی۔
ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شرما نے کہا کہ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے تک محدود رہتی تو بی جے پی اس کا خیرمقدم کرتی۔
انہوں نے کہاکہ ’’بی جے پی محض مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتی۔ ہم ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہیں۔ اگر قرارداد صرف ریاستی حیثیت کے نام پر پیش کی جاتی تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے۔‘‘
شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور اپوزیشن کے لیے حکومت کی ہر تجویز کی مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس ایوان سے غریب عوام کو بہت سی توقعات ہیں۔ اسمبلی کا یہ پانچواں دن ہے اور کئی ایسے مسائل ہیں جن پر اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ یہ ضروری نہیں کہ اپوزیشن ہر معاملے کی مخالفت کرے۔‘‘
تاہم، انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر ان کے بقول ایسے مسائل دوبارہ اٹھانے کی کوشش کا
الزام لگایا جو پہلے ہی طے ہوچکے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
اچن میں 361 کروڑ روپے کا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پروجیکٹ ٹینڈر کے مرحلے میں
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ سری نگر کے اچن میں مجوزہ 800 ٹن یومیہ (ٹی پی ڈی) مربوط سالڈ ویسٹ مینجمنٹ (آئی ایس ڈبلیو ایم) پروجیکٹ، جس کی تخمینی لاگت 361 کروڑ روپے ہے، فی الحال ٹینڈر کے مرحلے میں ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کا قلمدان بھی سنبھالتے ہیں، نے جاری خزاں اجلاس کے دوران وقفۂ سوالات میں رکن اسمبلی مبارک گل کے سوال کے جواب میں یہ اطلاع دی۔
وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ابھی تک کسی ایجنسی یا ٹھیکیدار کو یہ پروجیکٹ الاٹ نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ فی الحال ٹینڈر کے عمل سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ پروجیکٹ میں روزانہ 800 ٹن کچرے کو پروسیس کرنے کی صلاحیت ہوگی اور اس کی مدت 25 سال مقرر کی گئی ہے، جس میں تعمیراتی کام کے لیے 24 ماہ شامل ہیں۔
مجوزہ مربوط پروجیکٹ میں کمپوسٹنگ سہولیات، بایو-سی بی جی پلانٹ، میٹریل ریکوری فیسیلٹیز (ایم آر ایف)، ریفیوز ڈیریوڈ فیول (آر ڈی ایف) سہولت، سائنسی سینیٹری لینڈ فل، ٹرانسفر اسٹیشنز، لیچیٹ مینجمنٹ انفراسٹرکچر اور دیگر ماحولیاتی بنیادی سہولیات شامل ہوں گی۔
دریں اثنا، ایوان کو بتایا گیا کہ نئے مربوط پروجیکٹ کے شروع ہونے تک سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کی جانب سے اچن میں میونسپل کچرے کے سائنسی انتظام، ماحولیات کے تحفظ اور پرانے جمع شدہ کچرے کی صفائی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یواین آئی۔ طا۔
جموں و کشمیر
کپواڑہ میں اسکارپیو کھائی میں جا گری، پانچ افراد ہلاک، سات زخمی
سری نگر، شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ٹنگڈھر علاقے میں پیر کو ایک اسکارپیو گاڑی سڑک سے پھسل کر دریا میں جا گری، جس کے نتیجے میں نو ماہ کے شیر خوار بچے سمیت پانچ افراد ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوگئے۔
حکام نے بتایا کہ حادثہ لائن آف کنٹرول کے قریب اس وقت پیش آیا جب اسکارپیو گاڑی ٹیٹوال سے سمیری کی جانب جارہی تھی۔ راستے میں گاڑی سڑک سے پھسل گئی اور نیچے جا کر کشن گنگا دریا میں جا گری۔
حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت محمد ادریس (30)، حمزہ (نو ماہ)، سعیدہ بیگم (28)، شبیر احمد (50)، سمیری کے تمام رہائشی، اور ٹیٹوال کے رہائشی راجہ ارشد (30) کے طور پر ہوئی ہے۔
حادثے میں ڈرائیور سمیت چھ دیگر مسافر زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال (ایس ڈی ایچ) ٹنگڈھر منتقل کیا گیا، جہاں سے پانچ زخمیوں کو مزید بہتر علاج کے لیے اعلیٰ طبی مرکز منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔
پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 281 اور 125(a) کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ حادثے میں لوگوں کی جان جانے سے ’’شدید رنجیدہ‘‘ ہیں اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور ضلعی انتظامیہ کو انہیں بہترین ممکنہ علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے کرناہ-ٹنگڈھر علاقے میں پیش آنے والا ایک المناک واقعہ قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحومین کی روح کے سکون اور غم زدہ خاندانوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی قوت عطا ہونے کے لیے دعا کی۔
عمر عبداللہ نے ضلعی انتظامیہ اور طبی حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ علاج اور تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے حکام سے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو بھی کہا۔
جیل میں قید رکن پارلیمنٹ اور عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے رہنما انجینئر رشید نے بھی اس المناک سڑک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
پارٹی کے ترجمان انعام النبی نے حکام سے اپیل کی کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو ہر ضروری مدد فراہم کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حادثے کے بعد کسی بھی متاثرہ خاندان کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا7 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان7 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر7 days agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
-
دنیا1 week agoسعودی اپیل کے بعد حوثیوں پر حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں کی تیاری شروع ہو گئی تھی، لیکن ٹرمپ نے فیصلہ بدل دیا
-
ہندوستان5 days agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا6 days agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا7 days agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
