جموں و کشمیر
جموں و کشمیرسال 2023: دفعہ 370 کے متعلق عدالت عظمیٰ کا فیصلہ اور سری نگر میں منعقدہ تاریخی جی ٹونٹی ٹورزم اجلاس
سری نگر، جموں وکشمیر میں سال 2023 جن خصوصی فیصلوں اور اقدام کے باعث یاد گار اور تاریخی حیثیت کا حامل ہے ان میں سے سری نگر میں تاریخی جی ٹونٹی ٹورزم اجلاس کا انعقاد اور دفعہ 370 کی تنیسخ کے لئے دائر عرضیوں کے بارے میں عدالت عظمیٰ کا فیصلہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
تاہم یہ امر بھی یہاں لائق ذکر ہے کہ ایک اور برس بیت گیا کہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کا بگل نہیں بجایا گیا بلکہ بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کے انعقاد کو بھی فی الوقت ملتوی کیا گیا ہے۔
سال 2023 کے ماہ مئی میں سری نگر میں تاریخی جی ٹونٹی ٹورزم اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا گیا اس اجلاس میں مختلف ممالک سے وابستہ زائد از 70 مندوبین نے شرکت کی جن کا 22 دسمبر کو سری نگر ہوائی اڈے پر کشمیر کے روایتی انداز میں شاندار استقبال کیا گیا۔اس سہہ روزہ تاریخی اجلاس کے پیش نظر سری نگر شہر کی قابل دید آرائش و زیبائش کی گئی تھی۔
ان مندوبین نے متعدد سیشنز میں حصہ لینے کے علاوہ وادی کے مشہور زمانہ مغل باغات نشاط باغ،چشمہ شاہی، پری محل اور کشمیر آرٹس ایمپوریم کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے دورے کے آخری دن سر نو تزئین شدہ پولو ویو مارکیٹ میں شاپنگ کی۔اس اجلاس کو جموں وکشمیر کے لئے کئی اعتبار سے تاریخی اور منفعت بخش قرار دیا گیا۔
حکام کا ماننا ہے کہ سری نگر میں ماہ مئی میں منعقدہ جی ٹونٹی ٹورزم سربراہی اجلاس سیاحوں کے بے تحاشا رش کا ایک بڑا محرک ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ٹونٹی ٹورزم سر براہی اجلاس ہر لحاظ سے انتہائی کامیاب رہا ہے اس سے سیاحتی شعبے کو کافی دوام ملا۔ان کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کے انعقاد سے جموں وکشمیر میں غیر مقامی سیاحوں کی آمد میں 59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سال 2023 کے آخری ماہ میں عدالت عظمیٰ نے دفعہ 370 کی تنسیخ کے خلاف دائر عرضیوں کے متعلق اپنا فیصلہ سنایا۔مرکزی حکومت نے 5 اگست 2019 کو جموں وکشمیر کے دفعہ 370 کو ختم کیا تھا اور جموں وکشمیر کو دو حصوں میں منقسم کیا تھا۔
عدالت عظمیٰ کی پانچ رکنی آئینی بینچ نے 11 دسمبر کو دفعہ 370 کی تنیسخ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔تاہم عدالت نے حکومت کو جموں وکشمیر میں ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات کا انعقاد کرانے اور جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کو بحال کرنے کی ہدایت دی۔
علاقائی سیاسی جماعتوں خاص طور پر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے دفعہ 370 کی بحالی کے لئے جد وجہد کو جاری رکھنا کا عہد کیا۔عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘میں مایوس لیکن دل شکن نہیں ہوا ہوں، ہماری جدو جہد جاری رہے گی’۔
ان کا پوسٹ میں مزید کہنا تھا: ‘بی جے پی کو اس مقام تک پہنچنے کے لئے کئی دہائیاں لگ گئیں اور ہم اس طویل جد وجہد کے لئے تیار ہیں ہم دفعہ 370 کے حوالے سے کامیاب ہوں گے’۔
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ ایک پڑائو ہے منزل نہیں ہے۔انہوں نے سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا: ‘میرے پیارے ہم وطنو: ہمت مت ہارو،امید مت چھوڑو جموں وکشمیر نے کئی اتار چڑھائو دیکھے ہیں اور سپریم کورٹ کا آج کا یہ فیصلہ ایک پڑائو ہے منزل نہیں ہے’۔
ڈیموکریٹک پروگرسیو آزاد پارٹی (ڈی پی اے پی) کے چیئر مین اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر میڈیا کو بتایا: ‘بنیادی طور پر جو 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی تنسیخ کا فیصلہ تھا وہ غلط تھا وہ جلدی میں لیا گیا فیصلہ تھا اور اس کے متعلق سیاسی جماعتوں کو پوچھا جانا چاہئے تھا’۔
عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر جہاں جموں میں کچھ جماعتوں نے جشن منایا وہیں فیصلہ سنانے کے روز وادی کشمیر میں معمولات زندگی حسب معمول رواں دواں تھے چہ جائیکہ انتظامیہ نے سری نگر مین سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے۔سال 2023 کے دوران سری نگر سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت کئی اہم پروجیکٹوں کا افتتاح کرکے ان کو عام کے نام وقف کیا گیا۔
سال کے اوائل میں ہی سری نگر میں پولو ویو مارکیٹ کو سر نو تزئین کے بعد عوام کے لئے وقف کیا گیا وہیں تجارتی مزکز لال چوک میں واقع تاریخی گھنٹہ کی سر نو تعمیر مکمل کی گئی اور ماہ مئی میں ہی راج باغ میں جہلم ریور فرنٹ کا بھی افتتاح کیا گیا۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ماہ نومبر میں ای-بس سروس کا افتتاح کیا اور سمارٹ سٹی اقدام کے تحت خریدی گئی بیٹری سے چلنے والی 100 گاڑیوں کے بیڑے کا آغاز کیا۔حکام کے مطابق سال 2023 کے دوران جموں وکشمیر کی سیکورٹی صورتحال میں بہتری واقع ہوئی ہے۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 23 اکتوبر کو جموں شہر کے مضافات میں واقع ماتا بھدرکالی کی عبادت گاہ میں کشمیری پنڈتوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
‘مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سیکورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے دہشت گردی یہاں اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے’۔
سابق پولیس سر براہ دلباغ سنگھ نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں 29 اکتوبر کو جموں وکشمیر کا پانچ سالہ رپورٹ کارڈ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یونین ٹریٹری میں گذشتہ چند برسوں سے شہری ہلاکتوں، امن و قانون اور کولیٹرل ڈمیج کے واقعات صفر کے برابر رونما ہوئے ہیں جبکہ ملی ٹنسی کا گراف بھی صفر کی طرف آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہڑتال، پتھر بازی بھی ختم ہوئی ہے اور ملی ٹنٹ صفوں میں بھرتی کا عمل بھی رک گیا ہے۔تاہم سال 2023 میں سیکورٹی صورتحال میں بہتری کے با وصف ملی ٹنسی سے متعلق کئی واقعے پیش آئے۔
سال کے پہلے ہی مہینے میں راجوری کے ڈانگری میں ملی ٹنٹوں کے حملے میں 4 افراد از جان جبکہ اسی علاقے میں آئی ای ڈی دھماکے میں مزید دو افراد جاں بحق ہوگئے۔
ماہ دسمبر کے 21 تاریخ کو راجوری کے بفلیاز علاقے میں ملی ٹنٹوں کے گھات لگا کر حملے میں 4 فوجی جوان جان بحق ہوگئے جبکہ اسی جگہ تین عام شہریوں کو پر اسرار حالت میں مردہ پایا گیا۔ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر سرحدی اضلاع پونچھ اور راجوری میں اس سال کے دوران کئی حملوں میں زائد از 15 فوجی جواں جاں بحق جبکہ 6 عام شہری ہلاک ہوگئے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گڈول کوکر ناگ کے جنگلی علاقے میں ماہ ستمبر میں تلاشی آپریشن کے دوران تاک میں بیٹھے ملی ٹینٹوں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی ہمایوں بٹ، کرنل منپریت سنگھ اور میجر آشیش دھونک سمیت جاں بحق ہوئے تھے۔
گرمائی دارلحکومت سری نگر کے عید گاہ علاقے میں سال رواں کے 29 اکتوبر کو جنگجوئوں کے حملے میں زخمی ہونے والا پولیس انسپکٹر 40 روز بعد دہلی کے ایک ہسپتال میں زندگی کی جنگ ہار گیا۔
اور شمالی ضلع بارہ مولہ کے گانٹہ مولہ شیری علاقے میں24 دسمبر کو ملی ٹینٹوں نے ریٹائرڈ ایس ایس پی محمد شفیع پر نزدیک سے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی۔
ذرائع کے مطابق سال 2023 کے دوران مجموعی طور پر جموں وکشمیر میں ملی ٹنسی کے واقعات میں زائد از 134 ہلاکتیں ہوئیں جن میں زائد از 87 ملی ٹنٹ، 33 سیکورٹی فورسز اہلکار اور 12 عام شہری شامل ہیں۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
ہندوستان1 week agoگروپ ‘سی’ کے ریلوے ملازمین اب ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت غیر کیڈر عہدوں پر نہیں لے سکیں گے ڈپوٹیشن
