جموں و کشمیر
خشک موسمی صورتحال کا شاخسانہ: سیاحتی مقام گلمرگ کے ہوٹلوں میں سیاح بکنگ منسوخ کر رہے ہیں
سری نگر، وادی کشمیر میں بھاری برف باری کے لئے مشہور چالیس روزہ چلہ کلان کا نصف سے زیادہ حصہ گذر جانے کے با وجود بھی برف باری نہ ہونے کے نتیجے میں شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ کے ہوٹلوں میں سیاح بکنگ منسوخ کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سال گذشتہ کے مقابلے میں رواں سیزن کے دوران گلمرگ میں سیاحوں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
سرکاری ڈاٹا کے مطابق سال گذشتہ کے ماہ جنوری میں گلمرگ میں 95 ہزار 9 سو 89 سیاح موجود تھے جن میں سے 547 غیر ملکی سیاح تھے تاہم سرکار کی طرف سے رواں ماہ جنوری کا ڈاٹا ابھی جاری نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلمرگ میں سال گذشتہ کے مقابلے میں امسال سیاحوں کی تعداد میں قریب 60 فیصد کمی دیکھی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ امسال چلہ کلان کا نصف حصہ گذر جانے کے باجود بھی گلمرگ کے وسیع و عریض میدان و ڈھلوان سوکھے ریگزاروں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں اس سیزن میں میدانوں سے لے کر پہاڑوں تک اور ہوٹلوں، ہٹوں سے لے کر درختوں تک ہر سو بس برف کی سفید چادر ہی دکھائی دیتی تھی وہاں آج تلاش کرنے کے بعد ہی برف کے نشان نظر آتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر میں 23 جنوری تک موسم خشک رہنے کا ہی امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران 16 اور 20 جنوری کو کمزور مغربی ہواﺅں کے داخل ہونے سے مطلع ابر آلود ہونے کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی برف باری ہوسکتی ہے۔
گلمرگ امسال فی الوقت بھاری برف باری سے محروم رہنے کے نتیجے میں وہاں موجود سیاحوں میں بھی مایوسی دیکھی جا رہی ہے اور دوسری طرف وہاں کے ہوٹل مالکان اور اس شعبے سے جڑے دوسرے افراد بھی دلگیر نظر آ رہے ہیں۔
مشتاق الحسن نامی ایک ہوٹل مالک نے یو این آئی کو بتایا: ‘برف باری نہ ہونے سے سیاحوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے گرچہ گنڈولاہ میں دن بھر رش رہتا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘سیاح اپنی بکنگ منسوخ کر رہے ہیں اگر سیاح دن کو آتے ہیں لیکن رات کے لئے ہوٹلوں میں نہیں رہتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘اس سے ونٹر کھیل بھی متاثر ہو سکتے ہیں اور اس وقت ہوٹلوں میں سیاحوں کے نائٹ سٹے میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے’۔
تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر برف باری ہوگی تو سیاح دوبارہ بکنگ کرنا شروع کریں گے۔
ایک ہوٹل کے منیجر نے بتایا: ‘سیاحوں کی 45 سے 50 فیصد بکنگ منسوخ ہو رہی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ اگر برف باری نہیں ہوئی تو اس شرح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
غیر مقامی سیاحوں کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں برف باری کے پیش نظر کشمیر بالخصوص گلمرگ کی سیر کو ترجیح دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘جب برف باری ہی نہیں ہو رہی ہے تو یہاں آنے کا وہ مزہ ہی نہیں رہتا ہے’۔
ان کا کہنا ہے کہ گلمرگ کے بالائی حصے افروٹ اور کونگڈوری جو اسکیئرز کے لئے مشہور ہیں، میں بھی بھر پور برف موجود نہیں ہے۔
گلمرگ میں سیاحوں کی خدمت کرنے والے دوسرے لوگ بھی برف باری کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ سیاحوں کی بھر پور آمد سے ان کا کام کاج بھی بڑھ سکے۔
غلام محمد نامی ایک قہوہ فروش نے بتایا کہ سیاحوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے جس سے ہمارا کام بھی متا ثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھاری باری کے بیچ جو یہاں مقامی و غیر مقامی سیاحوں کی چہل پہل رہتی ہے وہ مفقود نظر آ رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘مجھ جیسے دوسرے لوگوں کا کام بھی کم ہو رہا ہے تاہم ہم برف باری کے لئے پر امید ہیں’۔
وادی کشمیر میں امسال خشک موسمی سورتحال کا سلسلہ دراز ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق رواں سیزن کے ماہ دسمبر میں بارش معمول سے 79 فیصد کم ریکارڈ کی گئی جب ماہ جنوری کا نصف حصہ بھی خشک ہی گذرا اور آنے والے دنوں میں بھی وسیع پیمانے پر موسم خراب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
حکام کا ماننا ہے کہ گلمرگ میں اب تک وینٹر ٹورزم بام عروج پر تھا تاہم سیاح برف باری کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس سیزن میں یہاں بھاری برف باری نہیں ہوئی ہے لیکن جو سیاح یہاں موجود ہیں وہ انجوائے کر رہے ہیں۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
