پاکستان
ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں معاملات طے، زرداری صدر اور شہباز شریف وزیراعظم ہوں گے
اسلام آباد، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں حکومت سازی کیلیے معاہدہ طے پاگیا، جس کے مطابق وزیراعظم ن لیگ کا اور صدر پیپلزپارٹی کا ہوگا۔
اسحاق ڈار کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر بلاول بھٹو کی قیادت میں پی پی وفد سے مسلم لیگ ن کے حکومت سازی کے حوالے سے کامیاب مذاکرات ہوئے۔
مذاکرات میں ن لیگ اور پی پی کی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین اور صدر ن لیگ شہباز شریف جبکہ بلاول بھٹو نے بھی شرکت کی۔ دیگر اراکین میں اسحاق ڈار ، مراد علی شاہ، قمر زمان کائرہ اور احسن اقبال بھی موجود تھے۔
اجلاس میں دونوں جماعتوں نے عوامی ریلیف اور توقعات پر پورا اترنے کا عزم کیا جبکہ اختتام پر دعائے خیر بھی کروائی گئی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے بتایا کہ نامزد وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ جس میں دونوں جماعتوں میں حکومت سازی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں دونوں جماعتوں نے شرائط تسلیم کر کے شراکت اقتدار کا معاہدہ طے کیا۔ جس کے مطابق صدر مملکت کا عہدہ پیپلزپارٹی کے پاس ہوگا جبکہ وفاق میں ن لیگ کا وزیر اعظم ہوگا۔
معاہدے کے تحت صدر پاکستان آصف زرداری جبکہ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف ہوں گے۔ اس کے علاوہ قومی کا اسپیکر ن لیگ جبکہ سینئٹ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی سے ہوگا۔ چاروں صوبوں کے گورنرز کے حوالے سے بھی دونوں جماعتوں میں بات چیت طے ہوگئی، جس کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں ن لیگ جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کا گورنر ہوگا۔
معاہدے کے تحت دونوں جماعتیں بلوچستان میں مخلوط حکومت قائم کریں گی، حکومت عرصے کا آدھا وقت ن لیگ جبکہ آدھا وقت وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی کا ہوگا۔
پاکستان پیپلزپارٹی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی وزارت لے گی البتہ وزارت عظمیٰ کیلیے شہباز شریف کو ووٹ دے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ہمارے پاس مطلوبہ تعداد ہے، ہم نئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں، جبکہ آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل سے اتحاد کیا اُس کے باوجود وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، زرداری، بلاول اور ن لیگ کے قائد کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمارے پاس مطلوبہ تعداد ہے کہ ہم وزیراعظم اور اپنا صدر منتخب کروائیں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر نے اپنی دیگر اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، آئی پی پی، ق لیگ سمیت دیگر کا شکریہ بھی ادا کیا اور بتایا کہ تمام اتحادی جماعتیں ووٹ دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مل کر قوم کو مہنگائی اور معاشی چلینجز سے نکالیں گے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی اور مہنگائی سے جنگ کرنا ہے، حکومتی اتحاد معاشی ترقی اور چلینجز سے نکالے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہم 76 سال بعد بھی قرضوں پر زندگی بسر کررہے ہیں، ہم بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی، یہ چلیجز ہیں جن کا ہمیں سامنا ہے اور وفاق کی اتحادی حکومت ان سے ملکر لڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کو اپنے پیر پر کھڑا کرنا اور اس کو آگے لے کر جانا ہے، یہ ہمارے لیے خوشی کا نہیں بلکہ فکر کا لمحہ ہے کیونکہ اللہ ہمیں ایک بار پھر اقتدار دے کر خدمت کا موقع دے رہا ہے، ہمارے ساتھ نوجوان بھی ہوں گے اور بوڑھے، نوجوان ملکر ملک کو آگے بڑھائیں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کانٹوں بھرے سفر میں کامیاب کرے، اس سفر میں دریا اور ہمالیہ نما پہاڑ آئیں گے، ہم اپنی ہمت سے سمندر کا سینہ چاک کریں گے اور ہمالیہ کو بھی سر کریں گے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
